New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 01:46 AM

Urdu Section ( 19 Nov 2014, NewAgeIslam.Com)

A Carpenter who became President of Indonesia ایک بڑھئی جو انڈونیشیا کا صدر بن گیا

 

 

سید عاصم محمود

19 نومبر، 2014

اگر کوئی یہ کہے کہ آپ محض دوسروں کی مدد کرنے سے صدر بن سکتےہیں ’ تو شاید آپ یقین نہ کریں ۔ مگر یہ کرشمہ انڈونیشیا میں ظہور پذیر ہوچکا ۔

20 اکتوبر کو اس اسلامی مملکت میں ایک ایسے عوامی رہنما  نے حلف  صدارت اٹھایا جو صرف دکھی انسانیت کو سہارا دینے سیاست میں آئے ۔ وہ سیاسی رہنما بن کر دولت چاہتے تھے اور نہ عزت و شہرت جس کے پیچھے بیشتر لیڈر پاگلوں کی طرح بھاگتے ہیں ۔ جو کوویدودو  (Joko Widodo) کی بے مثال داستان  حیات  یہ سبق دیتی ہے کہ ایک سیاست داں کو کس انداز میں ملک و قوم کی خدمت کرنی چاہئے ۔ 53 سالہ جو کوویدودو 21 جون 1961 کو انڈونیشی شہر’ سوراکارتا (Surakarata) میں پیدا ہوئے ۔ والد نوتو مہر دیجو معمولی بڑھئی تھے ۔ انہیں فرنیچر بنا کر بہ مشکل اتنی آمدنی ہوتی کہ روز مرہ آخراجات پورے ہوسکیں ۔ خاندان کرائے کے گھر میں مقیم تھا ۔ جو کوکی پیدائش کے چند سال بعد نوتو مقروض  ہوگیا ۔ حتیٰ کہ کرایہ ادا کرنے کو رقم نہ رہی۔ جوکو کی والدہ سد جیا متی  نے شوہر کو وہ قیمتی  برتن دیئے جو انہیں اپنے باپ سے پہلے بیٹے کے پیدائش پر تحفتاً ملے تھے ۔ مدعایہ تھا کہ شوہر انہیں بیچ کر رقم حاصل کرلیں ۔ یہ ایک خاتون خانہ کی طرف سے بڑی قربانی تھی ۔

نوتومہر دیجو برتن لیے سائیکل میں انہیں بیچنے  نکلے ۔ افسوس کہ راستے میں برتن گرے اور چکنا چور ہوگئے ۔ اس نقصان پر قدرتاً اہل خانہ کو بڑا افسوس ہوا۔ نوتو کے والد کی ایک گھڑی بیٹے کے پاس محفوظ تھی ۔ وہ باپ بیٹے کی محبت کی انمول نشانی تھی ۔ اب نوتو نے دل پر پتھر رکھ کر وہ جان سے زیادہ پیاری  گھڑی گروی  رکھ دی ۔ لیکن گھڑی کے بدلے جو رقم ملی وہ ناکافی تھی ۔ چنانچہ کرایہ ادا نہ ہونے پر انہیں گھر چھوڑنا پڑا۔ وہ پھر وسط شہر میں بہتے دریائے  سولو کے کنارے بنی کچی آبادی میں رہنے لگے ۔ انہوں نے درخت کاٹ کر وہاں ایک جھونپڑی بنائی اور یوں سر چھپانے کا  ٹھکانا میسّر آگیا ۔

اس بے سرو سامانی کے عالم میں بھی نوتو کی خواہش  تھی کہ وہ اپنے بیٹے کو تعلیم دلوائیں ۔ وہ سمجھتے تھے کہ ترقی کے لیے تعلیم ضروری ہے۔ ان کے ایک رشتے دار فرنیچر بنانے کا چھوٹا سا کارخانہ چلاتے تھے ۔ نوتو کو وہاں ملازمت مل گئی ۔ وہ محنتی انسان تھے ۔ انہوں نے دن رات محنت کرکے  اتنی رقم جمع کرلی کہ اپنی دکان کھول سکیں ۔ وہیں 12 سالہ جوکو بھی باپ سے بڑھئی کا کام سیکھنے لگا ۔ وہ صبح اسکول جاتا، سہ پہر کو باپ کا ہاتھ  بٹاتا۔ اللہ تعالیٰ نے کام میں برکت دی اور چل پڑا۔ جلد ہی جمع پونجی  کے ذریعے نوتو نے ذاتی گھر تعمیر کرلیا ۔

1980 میں جوکو نے میٹرک پاس کیا ۔ اب کالج میں پڑھائی کا مرحلہ آیا ۔ اعلیٰ تعلیم  کے لیے زیادہ سرمایہ بھی درکار تھا۔ ادھر دکان  سے اتنی آمدنی ہوتی کہ گھر کے اخراجات پورے ہوجائیں ۔ تب تک جوکو کی دو بہنیں بھی پیدا ہوچکی تھیں ۔ سو خرچ بڑھ گیا ۔ اس کڑے وقت میں خاندان والے پھر باپ بیٹے کی مدد کو پہنچے ۔ مشترکہ خاندانی نظام کا یہ بہت بڑا وصف ہے کہ اس میں سب لوگ مشکل وقت میں  ایک دوسرے کی بھرپور مدد کرتے ہیں۔چنانچہ نوتو کے بھائیوں نے بھتیجے کی فیس کا بندو بست کیا ۔ یوں جوکو جکارتہ چلے آئے او روہاں     گاجا مادا یونیورسٹی کے شعبہ جنگلات میں تعلیم پانے لگے۔

1985 میں جوکو نے بی  ایس سی فاریسٹری کرلیا ۔ تب تک وہ اپنے ایک دوست کی بہن ارینا سے محبت کرنے لگے تھے ۔ انہوں نے اگلے سال شادی کرلی ۔ ان  کے ہاں تین بچے تولد ہوئے ، دو بیٹے اور ایک بیٹی  ۔ جوکو نےبعد ازاں کچھ  عرصہ سرکاری ملازمت کی ، مگر وہ اہل خانہ سے دور نہ رہ سکے ۔ چنانچہ پرُ کشش  تنخواہ کو لات مار کر واپس سورا کارتا چلے آئے ۔ وہاں پہلے اپنے رشتے دار کی فرنیچر فیکٹری میں کام کیا ۔ پھر 1988 میں فرنیچر بنانے و بیچنے  کا اپنا کاروبار  کرنے لگے ۔ افسوس کہ ان کی سادگی و معصومیت سے ایک شیطان صف انسان نے فائدہ اٹھایا اور جوکو کی ساری رقم لے اڑا۔ تاہم انہوں نے ہمت نہ ہاری اور بیوی کا زیور بیچ کر نئے  سرے سے کاروبار شروع کیا ۔ محنت اور دیانت داری کے باعث اللہ تعالیٰ نے پھل بھی میٹھا دیا اور کاروبار مستحکم ہوگیا ۔ بچپن سے اب تک جو کو نے غربت کے مختلف تکلیف دہ مظاہر دیکھے تھے ۔ کبھی انہیں ماں باپ  کے ساتھ در بدر کی  ٹھوکریں  کھانا پڑیں۔ کبھی دن بھر پیٹ بھرنے  کو ایک  ہی کھانا ملتا ۔ کبھی ایک لباس زیب تن کیے کئی  ہفتے گزر جاتے جب ان کی  مالی  حیثیت  مستحکم ہوئی تو جوکو سوچنےلگے کس طرح
غریب ہم وطنوں کی حالت بدلی جائے؟ تب انہیں احساس ہوا کہ وہ حکومت میں پہنچ کر ایسے اقدامات کرسکتے ہیں جو غربا کو کم از کم تین فوائد پہنچائے

1۔ سرچھپانے  کو جگہ دی

2۔ پیٹ بھرکھانا کھلائے اور

3۔ تن ڈھانپنے کو کپڑا دئے

وہ اپنی سوچوں میں  گم تھے کہ دوستوں نے بھی انہیں سیاست میں جانے کا  مشورہ دیا ۔ ان کی خواہش تھی کہ ایماندار ، اہل اور مخلص نوجوان انڈونیشی سیاست میں  حصہ لیں ۔ جوکو نے ان کی آواز پہ لبیک کہا اور 2004 سے سوراکارتا کی بلدیاتی سیاست  میں حصہ لینے لگے۔ ان کی سیاست روایتی سیاست  دانوں  سے بالکل  مختلف تھی جو صرف بہ موقع الیکشن ووٹ مانگنے غریبوں کی بستیوں میں چلے آتے۔ مصنوعی طور پر بوڑھوں سے ملتے او ربچوں کو گود میں اٹھاتے ، لیکن گھر پہنچ کر غیر ملکی صابنوں سے مل مل کے نہاتے تاکہ خود پاک کر سکیں ۔ وہ پر آسائش زندگی گذارتے اور ان مصائب سے بے پرواہ تھے  جن سے غریب روزانہ نبرد آزما ہوتے ۔

ادھر جو کو شہر کے چپّے چپّے میں گئے اور ہر قسم کے لوگوں سےملے ۔ یوں انہیں  مزید واقفیت ملی کہ عام آدمی کس قسم کی مشکلات میں مبتلا ہے ۔ جوکو نے شہریوں  کو یقین دلایا کہ اگر وہ مئیر شہر بن گئے ، تو ان کے مصائب دور یا کم کرنے کی ہر ممکن سعی کریں گے ۔ ان نوجوان رہنما کا خلوص و سچائی  باتوں اور آنکھوں سے ظاہر تھی اس لیے جوکو دیکھتے  ہی دیکھتے سوراکارتا  میں جانے پہچانے عوامی رہنما بن گئے ۔ آخر 2005 میں وہ شہر کے میئر منتخب ہوئے ۔ انہوں نے حکمران جماعت کے نمائندے کو شکست دے کر سبھی کو حیران کردیا ۔ مگر ابھی جوکو کےکارنا موں نے پورے ملک کو چونکا دینا تھا ۔ وہ سات برس  شہر کے میئر رہے اور اس دوران سوراکارتا کی کایا پلٹ ڈالی۔

2005 میں سوراکارتا مجرم پیشہ گروہوں کا گڑھ بنا ہوا تھا ۔ قانون کانام و نشان نہیں تھا کیونکہ انتظامیہ کرپشن کی دلدل میں پھنسی تھی ۔ جوکو نے برسر اقتدار آتے ہی  بلدیہ کے کرپٹ ملازمین کو گھر بھجوایا اور ایماندار ملازمین بھرتی کئے ۔ پھر شہر میں اعلان کرادیا کہ بلدیہ کا جو ملازم رشوت مانگے ، اس کی خبر انہیں  دی جائے ۔ چنانچہ  چندماہ میں بلدیہ کے ملازمین ، افسران سے لےکر خاکرو بوں او رمالیوں تک اپنے فرائض دیانت داری سے انجام دینے لگے۔

اب جوکو دیگر عوامی مسائل کی طرف متوجہ ہوئے ۔ انہوں نے شہر میں نئی بسیں چلائیں اور ٹرانسپورٹ نظام بہتر بنایا ۔ غریبوں کےلیے کم قیمت مکانات بنوائے ۔ مخصوص مقامات میں مارکیٹیں بنائیں جہاں غریب چھابڑی والوں کو مفت دکانیں دی گئیں۔ جن پارکوں میں مجرموں کا بسیرا تھا، وہاں  نئے درخت و پودے لگوائے اور انہیں بہترین تفریحی مقام بنادیا ۔ شہر میں جتنے بھی ترقیاتی  منصوبے شروع کئے گئے، ان کا ٹھیکہ جوکو کے کسی رشتے دار حتیٰ کہ دوست کو بھی نہیں ملا ۔ جوکو نے یوں شہر میں وی آئی پی کلچر ، کرپشن اور اقربا پروری  کے بخیے ادھیڑ ڈالے اور میرٹ و قانون کی حکمرانی کو پروان چڑھایا ۔ وہ روزانہ کسی محلے یا کچی آبادی  جاتے اور لوگوں سے گفت و شنید کرتے ، ان کے مسائل سنتے ۔ یوں انہوں نے براہ راست عوام سے  تعلق رکھنے کا سلسلہ شروع کیا جو آج بھی جاری ہے۔

جب جوکو عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہے تو پھر انہوں نے مجرم پیشہ گروہوں کے خاتمے کا سوچا۔ اب شہری پولیس اوور ہالنگ سے گزری اور سبھی کرپٹ افسر و سپاہی برخاست کردیئے گئے ۔ نئے پولیس افسروں نے پوری طاقت سے مجرموں کو کچلا اور جو کو کی حمایت سے کسی سفارش کو خاطر میں نہیں لائے ۔ چنانچہ چند ہی ماہ میں   سوراکارتا میں امن و امان قائم ہوگیا اور قانون کی حکمرانی طاقتور ہوئی ۔ ماحول دوست  ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے جوکو نے درخت کاٹنے پر پابندی  لگادی ۔ سرکاری دفاتر میں متبادل ذرائع توانائی سےحاصل کردہ بجلی  کو رواج دیا ۔ شہریوں کے لیے ہیلتھ انشورنش شروع کی ۔ غرض انہوں نے وہ تمام اقدامات کیے جو ایک عادل اور عوام دوست حاکم کو کرنے چاہیں ۔

بلدیہ میں کرپشن ختم ہوئی ، تو لوگوں کو نیا کاروبار کرنے کے فوراً لائسنس ملنے لگے ۔ یوں شہر میں تجارتی و کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملا اور شہری خوشحال ہوگئے ۔ جوکو نے شہریوں کی ذہنی نشو و نما کے لیے بھی کئی کام کیے ۔ مثلاً فن و ثقافت اور علم و ادب کے میلے منعقد کرائے ۔ شہر میں آرٹ کی سرگرمیوں کو فروغ دیا ۔ انہی سرگرمیوں کے ذریعے انسان مادہ پرستی  سے دور ہوتا ہے اور اس میں خیر و بھلائی کی اعلیٰ انسانی اقدار پروان چڑھتی ہیں ۔

سوارکارتا میں بچے  بچے کو معلوم ہے کہ اس سات سالہ دور میں جوکو کی ماہانہ تنخواہ کیا رہی ....... کیونکہ وہ ہر سال اپنے اثاثوں  کی تفصیل عوام کے سامنے لاتے ۔ انہوں نے سارے عرصے صرف اپنی تنخواہ پر گزارہ کیا اور سادگی سےرہے ۔ جوکو کی طاقت  کا ایک راز یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ذات اور اپنے خاندان کے واسطے  کوئی بے جا تمنا نہیں کی اور  ضمیرکو پاک صاف رکھا ۔ وہ معمولی حلال کی کمائی کو حرام کی اربوں روپے والی  آمدنی پر ترجیح دیتےہیں۔  دامن میں کوئی گندا چھینٹا نہ ہونے کے احساس ہی نے جوکو کو ایسی غیر معمولی  قوت دی کہ وہ روزانہ سترہ اٹھارہ گھنٹے کام کرتے او رتھکن  قریب نہ آتی ۔

عوام میں بے پناہ  مقبولیت اور حقیقی  طرز حکمرانی اپنانے کے باعث 2012 تک جو کو پورے ملک میں مشہور ہوگئے ۔ چنانچہ صوبہ جکارتہ میں گورنر کا الیکشن  ہوا، تو جو کو با آسانی اسے جیتنے میں کامیاب رہے ۔ گورنر بن کر وہ زیادہ بااختیار ہوئے تو انہوں نے صوبہ بھر میں مزید عوامی منصوبے شروع کیے ۔ ان کا بنیادی  مقصد یہی   تھا کہ غریبوں کو غربت کے پنجوں سے رہائی ملے اور انہیں سہولیات دی جائیں ۔ مثلاً غریب طلبا و طالبات کے لیے ‘ اسمارٹ کارڈ’ جاری ہوا ۔ اس کا رڈ سے بذریعہ اے ٹی ایم سے رقم نکلوائی جاتی  ہے تاکہ فیس  یا دیگر تعلیمی اخراجات پورے ہوسکیں ۔ صوبے بھر میں غریبوں کو سستی طبی سہولیات دینے کا منصوبہ شروع  کیا گیا ۔ انہی غریب دوست منصوبوں کی وجہ سے صوبہ جکارتہ کا بجٹ دو برس میں 41 کھرب روپیہ سے  72 کھرب  روپیہ تک پہنچ  گیا ۔

اہم بات یہ کہ گورنر جوکو نے بڑھتے  اخراجات پورے کرنے کی خاطر بینکوں سے قرضے نہیں لیے نہ غیر ملکی  امداد بلکہ ٹیکس نظام کو بہتر بنایا ۔ کرپشن سے پاک اقدامات اور قانون پر عمل در آمد سے صوبے کا امیر طبقہ خود بخود ٹیکس  دینے لگا۔ یوں صوبائی حکومت کی آمدن بڑھ گئی ۔ جوکو نے دیگر حکمرانوں  کے برعکس عوام پر ٹیکس بھی نہیں  لگائے جو رقم جمع کرنے کا روایتی سرکاری طریقہ ہے۔

 گورنر بن کر بھی جوکو نے سادگی کا زیور پہنے رکھا ۔ وہ آئے دن کچی  بستیوں او رمحلوں میں جاکر غریبوں سے  ملتے اور ان کے دکھڑے سنتے ۔ تب ان کے ساتھ خوفناک گارڈوں کا ٹولہ ہوتا نہ  مصنوعی  اکڑفوں اور پھوں پھاں  کا ماحول! سادہ لباس میں ملبوس جو کو حقیقتاً نمائندے نظر آتے۔

جوکو نے عوام  کی بھلائی کا سوچا تو لوگوں نے بھی انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا او ربہت عزت دی۔ حتیٰ کہ جولائی 2014 میں صدارتی انتخابات ہوئے ۔ تو انڈونیشی عوام نے انہیں صدر بنوادیا ۔ وہ نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے پہلے انڈونیشی صدر ہیں۔ ان کا طبقہ امرا، بااثر سیاسی طبقہ اور فوج سے تعلق نہیں ۔ ان کے انتخاب سے انڈونیشی عوام نے  دکھایا دیا کہ عام آدمی ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔ جو رہنما عوام دوست اقدامات کرے، وہی حکمران بننے کابھی اہل ہے۔

خدا تعالیٰ سے دعا ہے کہ صدر بن کر جو کو صاحب کو ٹیم اچھی ملے ۔ کیونکہ بعض  اوقات بری ٹیم ایک اچھے انسان کے زوال کا سبب بن جاتی ہے۔ وہ بہترین کابینہ بنانے میں کامیاب رہے، تو انڈونیشیا ترقی و خوشحالی کی نئی منزلیں پا سکتا ہے۔

19 نومبر، 2014  بشکریہ : روز نامہ خبریں  ، نئی دہلی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/syed-asim-mahmood/a-carpenter-who-became-president-of-indonesia--ایک-بڑھئی-جو-انڈونیشیا-کا-صدر-بن-گیا/d/100094

 

Loading..

Loading..