New Age Islam
Wed Mar 18 2026, 09:37 PM

Urdu Section ( 9 Oct 2024, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Hate Speeches: "If You Have to Burn Effigies On Every Dussehra, Burn The Effigies Of Mohammad" Said Hindu Priest Narsinghanand نفرت کی بولی: "اگر تمہیں ہر دسہرہ پر پتلا جلانا ہے تو محمد کا پتلا جلاؤ " ہندو پجاری نرسنگھانند

 سید علی مجتبیٰ، نیو ایج اسلام

 8 اکتوبر 2024

ایک بار پھر ہندو پجاری کی نفرت انگیز بولی نے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو مشتعل کر دیا ہے۔ مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں، اور ایک ہندو پجاری، یتی نرسنگھانند سرسوتی کے خلاف پیغمبر اسلام محمد کے خلاف قابل اعتراض ریمارکس پر ایف آئی آر درج کی جا رہی ہیں۔

Yati Narsinghanand Saraswati, the ‘Peethadheeshwar’ of the famous Dasna Temple in Ghaziabad

------

 29 ستمبر 2024 کو ایک تقریب کے دوران، غازی آباد کے مشہور داسنا مندر کے پیٹھادھیشور، یتی نارسنگھانند سرسوتی نے کہا، "اگر تمہیں دسہرے پر پتلا جلانا ہی ہے تو محمد کے پتلوں کو جلاؤ۔" انہوں نے یہ نازیبا کلمات گاؤں سلطان پور، لسکر، ضلع ہریدوار، اتراکھنڈ میں کہے۔

حقائق کی جانچ کرنے والی سائٹ آلٹ نیوز نے ہندو پجاری کے ان غیر سنجیدہ تبصروں کی ویڈیو فوٹیج اور وائرل بیان کو صحیح قرار دیا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب نرسنگھانند نے اپنی نفرت انگیز زبان و بیان سے ایک تنازعہ کھڑا کیا ہو۔ بلکہ دسمبر 2021 میں بھی، نرسنگھانند نے ہندوؤں سے کہا تھا کہ وہ "مسلمانوں کے خطرے" کے خلاف بہتر ہتھیار استعمال کریں۔ انہوں نے ہریدوار میں مذاہب کے اجتماع 'دھرم سنسد' میں یہ بات کہی۔ نرسنگھانند کے خلاف کئی مقدمے درج ہیں، لیکن مودی راج میں سب چلتا ہے۔ اس میں ملک ہندوستان کے اندر مسلمانوں کی نسل کشی کی کھلی دھمکی بھی شامل ہے۔

پیغمبر اسلام کے بارے میں نرسنگھانند کے ان توہین آمیز تبصروں نے پورے ہندوستان کے مسلمانوں میں احتجاج کی ہوا چلا دی ہے۔ اس کا مشاہدہ اتر پردیش، مہاراشٹر، حیدرآباد، اور سری نگر جیسے شہروں میں کیا گیا۔

مسلم ہجوم نے اس ہندو پجاری کے خلاف ’گستاخ نبی کی ایک سزا - سر تن سے جدا‘ کا نعرہ لگایا۔

نرسنگھانند کو یوپی پولیس نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر چھپا رکھا ہے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی، یوگی آدتیہ ناتھ نے اس آگ کو بجھانے کی کوشش میں کہا ہے کہ دیوتاؤں، "عظیم شخصیات" یا کسی بھی ذات، مذہب یا فرقے کی مقدس ہستیوں کے خلاف توہین آمیز تبصے "ناقابل قبول" ہیں۔ ایسا کرنے والوں کے ساتھ، قانون کے تحت سختی سے نمٹا جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ احتجاج کے نام پر ’’توڑ پھوڑ‘‘ کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اور ایسا کرنے والوں کو اس کے نتائج بھی بھگتنا ہوں گے۔

حال ہی میں امریکی حکومت کی ایک کمیشن نے ہندوستان میں مذہبی آزادی کے بگڑنے کی بات کی ہے، اور اسے "ایک خاص تشویش والا ملک" قرار دیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے جواب میں، حکومت ہند نے امریکی کمیشن کو "متعصب" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے، اور اس کی رپورٹ کو "بد نیتی پر مبنی" قرار دیا ہے۔

ہندوستان نے بھی اسی قسم کا ردعمل ظاہر کیا جب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے یہ کہتے ہوئے امت کو بیدار کیا کہ مسلمان ہندوستان میں اپنے مسلک کے لوگوں کے مصائب سے غافل نہیں رہ سکتے۔

خامنہ ای نے کہا: "اسلام کے دشمنوں نے ہمیشہ ہمیں ایک امت اسلامیہ کے طور پر، ہمارے مشترکہ تشخص سے ہمیں قطع تعلق رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ہم خود کو مسلمان نہیں سمجھ سکتے، اگر ہم ان مصائب سے غافل ہیں، جو ایک مسلمان میانمار، غزہ، ہندوستان یا کسی اور جگہ برداشت کر رہا ہے۔"

ان تبصروں کی حکومت ہند کی وزارت خارجہ (MEA) نے شدید مذمت کی اور کہا، "ہم ایران کے سپریم لیڈر کے ہندوستان کی اقلیتوں کے بارے میں کیے گئے تبصروں کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ غلط معلومات ہیں اور ناقابل قبول ہیں۔"

27 مئی 2022 کو بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما نے گیانواپی مسجد تنازعہ پر ’ٹائمز ناؤ‘ ٹی وی پر ہونے والے ایک مباحثے میں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت عائشہ صدیقہ سے اس وقت شادی پر اعتراض کیا، جب وہ چھ سال کی تھیں۔ اور کہا کہ یہ شادی اس وقت مکمل ہو گئی، جب دلہن کی عمر نو سال تھی۔ نوپور شرما اس شادی کے بارے میں تبصرہ کر رہی تھیں، جو 623 عیسوی میں مدینہ، سعودی عرب میں ہوئی تھی۔

نوپور شرما نے 2022 میں پیغمبر اسلام پر ایک نابالغ لڑکی سے شادی کرنے کا الزام لگایا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار پر سوالیہ نشان لگا دیا تھا۔ اس کے ان ریمارکس سے دنیا بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس میں 50 سے زائد ایسے ممالک بھی شامل ہیں، جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں اور جہاں بہت سے ہندو اپنی روزی روٹی کما رہے ہیں۔

بی جے پی حکومت نے فوری طور پر نوپور شرما کو اس عہدے سے ہٹا دیا، اور سیکیورٹی افسران انہیں ایسے مسلم گروپ کے خوف سے کسی نامعلوم مقام پر لے گئے، جو ان کی زبان لینا چاہتا تھا۔

یہاں ایک کتاب کا تذکرہ کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے، جس کا نام ’’رنگیلا رسول‘‘ ہے، جسے دریا گنج دہلی کے ایک اشاعتی ادارے، راجپال اینڈ سنز نے مئی 1924 میں شائع کیا تھا۔ اس کتاب میں پیغمبر اسلام کی شادیوں اور ازواج کے متعلق باتیں کی گئی ہیں۔ اصل میں یہ کتاب اردو میں شائع ہوئی تھی، لیکن بعد میں اس کا ہندی میں ترجمہ پنڈت چموپتی نے کیا، اور اس کی تمام کاپیاں آن واحد میں فروخت ہوئیں۔

اس پر مسلمانوں کا ردعمل پرتشدد تھا۔ پشاور کے ایک پٹھان نے 1928 میں دہلی کا سفر کیا، اور دن کی روشنی میں گھنٹہ گھر چاندنی چوک کے قریب، اس کتاب کے مصنف کو چاقو مار دیا۔ اس جرم کی سزا کی کہانی 'گستاخ رسول کی ایک سزا- سر تن سے جدا' کا مشاہدہ، موقع واردات پر موجود بہت سے تماشائیوں نے کیا۔

 -----

English Article: Hate Speeches: "If You Have to Burn Effigies On Every Dussehra, Burn The Effigies Of Mohammad" Said Hindu Priest Narsinghanand

URL: https://newageislam.com/urdu-section/hate-speeches-burn-effigies-prophet-narsinghanand/d/133396

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..