New Age Islam
Fri Jul 01 2022, 06:29 AM

Urdu Section ( 28 Apr 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Muslims Need To Introspect Why So Many Muslims Are Leaving Islam And Proudly Declaring Themselves Apostate مسلمانوں کو خوداحتسابی کی ضرورت ہے کہ کیوں اتنے مسلمان اسلام چھوڑ رہے ہیں اور فخر کے ساتھ خود کو مرتد قرار دے رہے ہیں

سمت پال، نیو ایج اسلام

25 اپریل 2022

کیا ایک غیر مسلم کے لیے یہ جاننا حیرانی کی بات نہیں ہے کہ 6.7 ملین پاکستانی منشیات (ہیروئن، چرس، ایمفیٹامائن وغیرہ) کے عادی ہیں لیکن شراب کے نہیں؟ کیونکہ اسلامی صحیفوں میں شراب کو حرام قرار دیا گیا ہے لیکن منشیات کو نہیں۔ اگرچہ تمام انسان ساختہ مذاہب کی بنیاد صحیفوں پر ہی ہے، لیکن اسلام خاص طور پر اس معاملے میں مکمل غیرلچکدار اور غیرمتزلزل ہے۔ قرآن و حدیث میں جو کچھ لکھا ہے ان تمام پر عمل کرنا ضروری ہے اور یہ ایک عام ذہنیت ہے اور تقریبا تمام مسلمان اس ذہنیت کے حامل ہیں۔

چند سال قبل لندن میں، مجھے آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ ایک سابق مسلمان کے ساتھ کھانا کھانے کا اتفاق ہوا، جس کے اعلیٰ تعلیم یافتہ والدین سرگودھا، (پاکستان میں صوبہ پنجاب) سے ہجرت کر کے انگلستان میں آباد ہو گئے تھے۔ میں نے ان سے وجہ پوچھی کہ آپ اسلام چھوڑ کر مرتد کیوں ہو گئے؟ انہوں نے مجھے بتایا کہ جب میرے والدین نے اصرار کیا کہ میرے (اس سابقہ مسلمان کے) بچے کا ختنہ کرنا ہوگا تو میں نے کی مزاحمت کی اور مجھے لگا کہ اب حد ہو گئی ہے۔ اس کی بیوی ایک انگریز خاتوں تھی جس نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا تھا۔ زوجین کو ایسا محسوس ہوا کہ یہ مذہبی پابندیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک وہ اسلام کے دائرے میں رہتے ہیں کیونکہ ختنہ پر اصرار سے پہلے دونوں صرف حلال گوشت کھانے پر مجبور تھے کیونکہ جھٹکے کا گوشت گھر اور باہر دونوں جگہ سختی کے ساتھ ممنوع تھا۔ انہوں نے اس مذہبی مطلق العنانیت سے ناراض ہو کر نہ صرف اسلام بلکہ تمام مذاہب کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا، جنہیں ہمارے قدیم زمانے کے آباؤ اجداد نے بنائے تھے۔ وہ اب ملحد ہو چکے ہیں اور انہوں ہر طرح کے مذہبی بندھنوں اور گاڈ، بھگوان یا خدا سے آزاد رہنے کا عہد کیا ہے۔ کیوں کہ یہ غیر ضروری ہے۔ نکتہ یہ ہے کہ اگر آپ نے اپنی زندگی میں زمین پر انسانوں کو قتل کیا یا ان کو تکلیف دی اور ہر طرح کی برائیاں انجام دیں تو روزِ حشر (قیامت کے دن) اللہ آپ سے ختنے، حلال گوشت اور داڑھی کے بارے میں کیوں پوچھے گا؟ کیا تم ایسا انسان بنا کر اپنے خالق کو بے عزت نہیں کر رہے ہو جو روزمرہ کے معاملات میں انتہائی معمولی مسائل کی بنیاد پر دوسروں کا فیصلہ کرتے ہیں؟

اس کے علاوہ، اگر آپ اسلامی معمولات پر گہری نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ اسلام میں بہت سے معمولات سابقہ سامی مذہب یہودیت سے ماخوذ ہیں، اگرچہ یہ عجیب بات ہے کہ اسلام اور یہودیت اسلام کے آغاز سے ہی 1400 سال سے کچھ زیادہ عرصے سے ایک دوسرے کے ساتھ نبرد آزما ہیں۔ ختنہ، حلال (یہودیت میں کوشر) اور خنزیر کے گوشت سے پرہیز یہ ایسے عام معمولات ہیں جو دونوں سامی مذاہب میں مشترک ہیں۔ اب آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ آرتھوڈوکس یہودیوں کو چھوڑ کر چند ہی یہودی اب اپنی اولاد کا ختنہ نہیں کر رہے ہیں۔ اور نہ ہی اب وہ کوشر گوشت کی پابندی کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ تعداد میں بہت کم ہوں گے، لیکن کم از کم آغاز تو ہوا سہی، کیونکہ روایت شکنی ہی بہت ضروری ہے۔ لیکن اسلام میں اس کی ابتدا کہاں سے ہے؟ ہر مسلمان بچہ، خواہ اس کے والدین 'تعلیم یافتہ'، 'روشن خیال' یا 'ترقی یافتہ' ہی کیوں نہ ہوں، ایک قدیم ابراہیمی روایت پر عمل کرتے ہوئے اسے ختنہ ضرور کرانا ہوگا اور ہر مسلمان کو حلال گوشت کھانا ضروری ہے۔ مسلمان (اور دوسرے مذاہب کے پیروکار بھی) یہ نہیں سمجھتے کہ تمام رسومات کی جڑیں زمانے کے جغرافیائی اور حالات کے تقاضوں میں پیوست ہوتی ہیں اور یہ بتاتی ہی کہ ان کے مذہب کی ابتدا پتھروں کے دور میں ہوئی ہے۔

اسلام اور یہودیت کی ابتدا ان جگہوں سے ہوئی جہاں پانی کی شدید قلت تھی۔ جب کوئی مرد زیادہ دیر تک نہانے سے قاصر ہوتا اور عضو مخصوص کی صفائی کے لیے اسے پاس پانی دستیاب نہ ہوتے تو ایک سفید مادہ اس کی جلدکے نیچے جمع ہو جاتے تھے۔ اس صحرائی علاقے میں جہاں پینے کا پانی بھی بمشکل ہی میسر تھا ،نہانا تو ایک بہت بڑی بات تھی۔ لہٰذا، حشفہ میں بدبودار مادے کو جمع ہونے کے اس مستقل مسئلے کو ختم کرنے کے لیے حشفے کی اوپری جلد کو کاٹ کر ہٹا دیا جاتا تھا، جس کے نتیجے میں اکثر اموات بھی ہو جاتی تھیں۔ نہ رہے بانس نہ بجے بانسوری! لیکن اب جب کہ ہر جگہ پانی دستیاب ہے اور اسلام کی جائے پیدائش سعودی عرب میں بھی ہر روز غسل کیا جاسکتا ہے تو اس جلد کو کاٹ کر دور کرنے کی اب کیا ضرورت ہے؟ لیکن انسان برباد ہو جائیں گے مگر اپنے پرانے مذہبی طور طریقوں کو نہیں چھوڑیں گے، چاہے وہ جدید دور اور بدلتے ہوئے حالات میں کتنے ہی احمقانہ کیوں نہ معلوم ہوں۔ کوشر اور حلال کے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے۔

ماقبل سامی کافروں کا خیال تھا کہ انسانوں اور جانوروں کا خون مردہ دشمنوں کی تمام نجاستوں اور لعنتوں کو ختم کر دیتا ہے۔ لہذا، تمام جسم کا پورا خون نکالنے کے لیے جانوروں کو کوشیر کیا جاتا تھا۔ اب جدید طبی سائنس نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ گوشت خواہ حلال ہو یا جھٹکا، جب زیادہ درجہ حرارت پر پکایا جائے اور اسے اچھی طرح دھو لیا جائے تو اس کا کھانا صحت مند ہے۔ حلال گوشت کے پیچھے بھی وجہ یہی پانی کی قلت تھی کیونکہ مذبوحہ جانور کے گوشت کو دھونے کے لیے کافی پانی کی ضرورت تھی۔

مزید یہ کہ ذائقہ اور صفائی کے معاملے میں حلال کو جھٹکا گوشت پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے۔ اس لیے کسی بےچارے جانور کا کلمہ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھتے ہوئے انتہائی تکلیف دہ انداز میں ڈھائی بار گلا کاٹنے کی اب کوئی ضرورت نہیں۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنے مذہب کو فرسودہ معمولات اور رسومات سے پاک کرنے کے لیے خوداحتسابی کرنے کی ضرورت ہے۔

آخری بات، اگرچہ اسلام شراب کو ممنوع قرار دیتا ہے، لیکن قرآن کہتا ہے کہ جنت میں شراب کا بھی اہتمام ہوگا۔ اردو کے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے 'جنت کی طہور بھی آخر شراب ہے/مجھ کو نہ لے چلو وہاں میری نیت خراب ہے'۔ یہی نہیں، بلکہ برصغیر اور زیادہ تر پاکستان کے مضحکہ خیز مبلغین کے مطابق اللہ خود فردوس کے مکینوں کو شراب پیش کرے گا! توہین اگر یہ نہیں تو اور کیا ہے؟ کوئی باشعور مسلمان مجھے بتائے گا؟

English Article: Muslims Need To Introspect Why So Many Muslims Are Leaving Islam And Proudly Declaring Themselves Apostate

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/muslims-introspect-apostate/d/126890

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..