New Age Islam
Mon Jul 04 2022, 09:41 PM

Urdu Section ( 18 May 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Islam Doesn't Believe In Black Magic, Sorcery And Astrology اسلام کالے جادو، سفلی عملیات اور علم نجوم سے روکتا ہے

سمت پال، نیو ایج اسلام

16 اپریل 2022

قارئین اس بات سے واقف ہوں گے کہ پاکستان کے بدنام زمانہ وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کالا جادو (سحر) اور سیفلی علم (جادو) کی طرف میلان رکھتی ہیں۔ افواہ تو یہ ہے کہ ان کے پاس دو 'ناقابل تسخیر' جن تھے جو ہمیشہ ان کی پشت پر رہتے اور اس کی خدمت کرتے تھے۔ افسوس، کہ وہ بھی وزیر اعظم کی کرسی بچانے میں عمران کی مدد نہیں کر سکے۔ جب عمران حکومت کی کرسی پر تھے تبھی پاکستانی ایٹمی ماہر طبیعیات اور کارکن پرویز ہودبھائے جیسے عقلیت پسندوں نے اس توہم پرستی والی بات کو بیوقوفانہ اور احمقانہ قرار دیا تھا۔

درحقیقت جادو ٹونے کی بات بالکل ہی لایعنی ہے اور اس کا اسلام سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے۔ سر کاروتھ ریڈ نے کالے جادو کو ماقبل مذہب فرقوں کی ایک توہم پرستی قرار دیا جو 'جدید' مذاہب میں چپکے سے داخل ہو گیا (پڑھیں، ' Man and his superstitions' مصنفہ سر ریڈ)۔ سیفلی علم جادو اور نسمیت کا ایک قدیم مظہر ہے جو ماقبل اسلام رائج میں تھا۔ پوری دنیا میں اسلام کے ایک جامع مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ برصغیر اور شمالی افریقہ کے مسلمانوں میں جادو کا رواج اب بھی موجود ہے۔

ماقبل اسلام شمالی افریقی قبائل کے ووڈو اور برصغیر کے جاڈو ٹونا کارواج اسلام میں اس وقت داخل ہو گیا جب اسلام ان خطوں میں پھیلا۔ چونکہ انسان فطری طور پر کمزور اور توہم پرست ثابت ہوا ہے، اس لیے وہ اس طرح کے گھٹیا اور غیرمعقول عملیات کی طرف مائل ہو جاتا ہے کیونکہ وہ یہ مانتا ہے کہ اس طرح کے غیرمعتبر اعمال اسے اس کے مقصد میں کامیابی سے ہمکنار کر سکتے ہیں۔ یہ بالکل غلط ہے۔ قدیم اسلام میں ان توہم پرستانہ تحریفات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسلام فطری طور پر ان تمام توہمات سے نفرت کرتا ہے اور ان کے قریب جانے سے مسلمانوں کو منع کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام نے علم فلکیات کی حوصلہ افزائی کی ہے لیکن علم نجوم سے مسلمانوں کو روکا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب یورپ فکری طور پر تاریکی میں ڈابا ہوا تھا، اسلامی سلطنت جو اپنے ’’سنہرے دور‘‘ میں داخل ہو رہی تھی، موریش اسپین سے مصر اور یہاں تک کہ چین تک پھیلی ہوئی تھی۔ علم الفلکیات ایران اور عراق کے علمائے اسلام کے لیے خاص دلچسپی کا باعث تھی اور اس وقت تک تقریباً 800 عیسوی تک فلکیات کی واحد درسی کتاب بطلیموس کی المجسطی تھی جو تقریباً 100 عیسوی میں یونان میں لکھی گئی۔ یہ عظیم کتاب آج بھی علمی حلقوں میں قدیم فلکیات کے باب میں اہم حوالہ کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔

مسلم علماء نے اس بنیادی یونانی کتاب کے عربی میں ترجمہ کا 700 سال تک انتظار کیا اور ایک بار جب یہ عربی میں ترجمہ کیا جا چکا تو وہ اس کے مندرجات کو سمجھنے میں لگ گئے۔ لیکن اسلام نے علم نجوم کو کبھی فروغ نہیں دیا کیونکہ اس میں بےیقینی اور انسانوں کے اندر جمود دائمی پیدا کرنے کی طاقت ہے۔ اسلام عمل اور تحریک کا داعی ہے اور ان لوگوں کو حقیر نظر سے دیکھتا ہے جو ستاروں کی قوت پر یقین رکھتے ہیں۔ اردو کے ایک رباعی سے یہ اچھی طرح واضح ہوتا ہے:

نہ رہا چاند ستاروں کا میں محتاج کبھی

اپنی محنت کے صدا میں اُجالے دیکھے

تذکرہ اس نے لکیروں کا وہیں چھوڑ دیا

جب نجومی نے میرے ہاتھ کے چھالے دیکھے

اسلام پروشارتھ (کرما) پر یقین رکھتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ 'لکیروں میں نہیں محدود و مقید انسان کی قسمت'۔ جزیرہ نمائے عرب میں علم نجوم اور علمِ رمل موجود ہونے کے باوجود اسلام میں مستقبل کی پیشین گوئی کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی ہے کیونکہ یہ انسان کو تقدیر پرست بنا دیتا ہے۔ لہذا، علم نجوم کو اسلام میں اگرچہ توہم پرستی قرار دیا گیا ہے لیکن اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کہ علم نجوم درحقیقت ایک سیڈو سائنس ہے۔ اسلام فطری طور پر بہتر کل کے لیے حال اور اس کی بہتری پر یقین رکھتا ہے۔ بطور انسان کسی فرد کی ترقی کی خاطر مستقبل کو نامعلوم ہی رہنے دیا جائے۔ الیگزینڈر پوپ کا کہنا ہے کہ، "خالق نے تمام مخلوقات سے قسمت کی کتاب کو چھپا دیا ہے مگر حال کو انسانوں کے سامنے رکھا گیا ہے۔"

----

English Article: Islam Doesn't Believe In Black Magic, Sorcery And Astrology

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/black-magic-sorcery-astrology/d/127038

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..