New Age Islam
Fri Jul 01 2022, 06:03 AM

Urdu Section ( 13 Jun 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

In These Two Expressions Lies Peace in This World and the Next..........Hafiz Shirazi ان دو فقروں میں دنیا اور آخرت کا امن مضمر ہے..........حافظ شیرازی

 سمت پال، نیو ایج اسلام

 13 جون 2022

  "ان دو فقروں میں دنیا اور آخرت کا امن پوشیدہ ہے/ دوستوں کے ساتھ، فراخ دلی؛ دشمنوں کے ساتھ رواداری۔"

-حافظ شیرازی

 -----

Khwāje Shams-od-Dīn Moammad āfe-e Shīrāzī, known by his pen name Hafez and as "Hafiz", was a Persian lyric poet. A tentative portrait of Hafez Shirazi.

-----

 جب بھی میں اپنی مادری زبان فارسی میں دیوانِ حافظ پڑھتا ہوں تو اس شعر کا مجھ پر بڑا گہرا اثر ہوتا ہے۔ حافظ نے عالی ظرفی کے لیے ما قبل قرون وسطیٰ کے فارسی لفظ عمافت (جو کہ عرفان کی طرح عربی کے حرف عین سے شروع ہوتا ہے) کا استعمال کیا ہے، (جس کے لیے سنسکرت میں ویدانتا یا آیوداریا جیسے الفاظ آتے ہیں)۔ عمافت فراخ دلی یا سخاوت کا مظہر ہے۔ صرف بے لوث اور ہمہ گیر محبت کی بنیاد پر ہی ہم اپنے دوستوں کو گلے لگا سکتے ہیں اور رواداری کے ساتھ اپنے دشمنوں پر فتح حاصل کر سکتے ہیں۔

 ایک ایسے دور میں کہ جب دنیا تشدد کی طرف بڑھ رہی ہے اور مذہب مصائب وآلام کی وجہ بنتا جا رہا ہے، انسانوں کو عالی ظرفی اور رواداری کے روح اور جذبے کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ فراخ دلی اور رواداری دونوں ایک ساتھ چلتے ہیں۔ جب آپ فراخ دل ہونگے، تو ظاہر ہے کہ آپ روادار بھی ہوں گے۔

 انسانوں کو اس وقت عظیم رواداری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن آج دنیا مختلف مسائل پر جس انداز میں اپنے ردعمل کا اظہار کر رہی ہے، ایسا لگتا ہے کہ تقریباً تمام انسان فراخ دلی اور رواداری کو اختیار کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ آج کے اس پرتشدد دور میں معاف کرنے، بھولنے اور آگے بڑھنے کے لیے دل اور دماغ کی وسعت ایک ناپید چیز بن گئی ہے۔

شیخ سعدی نے اسے خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا ہے: جب کوئی آپ کے مذہب اور مقدس مذہبی شخصیات کے بارے میں کوئی ناگوار بات کہے تو اس پر ردعمل ظاہر نہ کریں۔ جب کتا انسان کو کاٹتا ہے تو کیا وہ کتے کو بھی کاٹتا ہے؟ رد عمل ظاہر کرنا اپنی عدم برداشت اور اپنے ذہن کی تنگی کو ظاہر کرنا ہے۔ جب آپ عظمت اور رواداری کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو آپ اپنے کردار کا گھٹیا پن ظاہر کر دیتے ہیں۔ جب آپ کسی کو گالیاں دیتے ہیں یا کسی کی لعنت و ملامت کرتے ہیں تو کیا آپ نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ اگر آپ کے کہے گئے الفاظ آپ کی جلد پر ظاہر ہو جائیں تو کیا آپ تب بھی اتنے ہی خوبصورت لگیں گے؟ فراخ دلی اور رواداری یہ بھی بتاتی ہے کہ آپ ایک شائستہ انسان ہیں۔

 ایک بار مولانا رومی کو ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ لیکن متعصب یہودی نے چیلنج کیا کہ تم ہم سے اس بات پر مناظرہ کرو کہ کون سا مذہب، یہودیت یا اسلام، بہتر ہے۔ مولانا رومی نے اطمینان سے کہا کہ جب تمام مذاہب کا جوہر ایک ہی ہے تو کسی بھی مذہب کی برتری اور کمتری پر بحث کی کیا ضرورت ہے، اور وہ جوہر انسانیت ہے جو تمام انسانوں میں رواں دواں ہے چاہے وہ توحید پرست ہو، یا مشرک یا ملحد ہی کیوں نہ ہو۔ اقبال نے بہت خوبصورت انداز میں کہا تھا "حقیقت ایک ہے ہر شئی کی خاکی ہو یا نوری/ لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریں" دل کا کھلا ہونا۔ فراخ دلی اور رواداری کا فقدان انتقام کو جنم دیتا ہے۔ یہ انسانوں کو انتقامی بناتی ہے۔

 یہ انتقامی جذبہ وہی ہے جس کا ہم آج کی دنیا میں مشاہدہ کر رہے ہیں۔ چاہے وہ مذہب ہو، سیاست ہو، سماجی معاملہ ہو یا عمومی معاملات، ہم ہر وقت ہنگامہ آرائی کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اردو شاعر رؤف لیلا پوری نے بجا طور پر کہا تھا، 'قوّت بردشت اب انسان میں کہاں؟ /غصہ آیا تو عرش پہ جا پہونچا'۔ مذہبی گھٹیا پن کے اس دور میں فراخ دلی اور رواداری کا سب سے بڑا نقصان ہوتا ہے۔ مذہب اور سیاست نے ہماری آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے اسے لیے ہم حقیقت کو دیکھنے سے اندھے ہو چکے ہیں۔

ہم نے منصور الحلاج کا منہاج کھو دیا ہے (یعنی فراخ دلی سے بخشش، اس اصل عربی لفظ کا معنی بھی 'راستہ'/صحیح راستہ ہے) جب ان لوگوں کے اندر، جو منصور کی مبینہ توہین کے الزام میں ان کی کھال چھیل رہے تھے، اچانک توبہ، تکلیف اور صدمے کا احساس پیدا ہوا، اور ان لوگوں نے منصور کا کچا گوشت دیکھ کر ان سے معافی مانگی۔ تو اس عظیم فارسی صوفی نے دبے ہوئے لہجے میں کہا "میں تم سے ناراض ہی کب ہوا تھا کہ اب میں تمہیں معاف کروں؟ ذرا بھی تامل کیے بغیر مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دو۔" ۔ یہ فراخ دلی اور بالکل بے لوث رواداری کی معافی ہے۔ اس کا ایک ذرہ بھی انسانیت کو بچا سکتا ہے۔ لیکن کیا ہم اس کا ایک قطرہ بھی پینے کے لیے تیار ہیں؟

 افسوس، کہ ہمارے سروں پر خون کا دریا بہانے کا جنون سوار ہے۔ آخر بات، جدید استعمال میں، لفظ "رواداری" متعدد مذاہب اور نظریات کے درمیان باہمی احترام اور پرامن ہم آہنگی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

English Article: In These Two Expressions Lies Peace in This World and the Next..........Hafiz Shirazi

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/expressions-peace-world-hafiz-shirazi/d/127242

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..