New Age Islam
Mon Jul 04 2022, 10:38 PM

Urdu Section ( 15 May 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Female Genital Mutilation Or Female Genital Cutting Among Bohras? بوہرا فرقے میں عورتوں کے جنسی اعضاء کی کٹائی یا ختنہ کی مسلمان کھلے عام مذمت کیوں نہیں کرتے؟

سمت پال، نیو ایج اسلام

12 مئی 2022

مذہب انسانی تہذیب میں نسبتاً ایک نیا رجحان ہے جبکہ روایات ماقبل مذاہب ہیں

اہم نکات:

1.     خواتین ختنے کی جڑیں روایات، خطوں اور ثقافتوں میں ہیں

2.     گجراتی بولنے والے بوہرا اب بھی clitoris کو حرام نی بوٹی کہتے ہیں

3.     وجہ کچھ بھی ہو، اسلام، ایک وسیع تر تناظر میں، خواتین کے ختنے کو بالکل بھی منظور نہیں کرتا

------

FGM (فی میل جینٹل میوٹی لیشن) یا FGC (فی میل جینٹل کٹنگ) مختلف مقاصد کے تحت عورت کے عضو مخصوص کے تمام بیرونی حصے یا اس کے بعض حصے کو کاٹ کر ہٹانے کا عمل ہے۔ یہ قابل مذمت عمل اب بھی بوہرا، ایک شیعہ ذیلی فرقہ (داؤدی بوہرہ کمیونٹی اور دیگر چھوٹے ذیلی فرقوں بشمول سلیمانی اور علوی بوہرہ) میں رائج ہے۔ اگرچہ اسلام اور اس کے صحیفے، قرآن اور حدیث میں کیلیٹورل کو کاٹنے یا اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو منظور نہیں کرتے ہیں، ساہیو کی 2017 کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ FGC (فی میل جینٹل کٹنگ) جنوبی ہندوستان میں کیرالہ کے کچھ حصوں میں سنی برادریوں میں بھی رائج ہے۔ اس میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

مذہبی ہونے سے زیادہ، اس مکروہ عمل کی جڑیں روایات، خطوں اور ثقافتوں میں ہیں۔ مذہب انسانی تہذیب میں نسبتاً ایک نیا رجحان ہے جس میں روایات ماقبل مذاہب ہیں۔

فرانسیسی فلسفی اور اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر، ہنری کوربن (1903-1978) کا کہنا ہے کہ فرقے اور ماقبل فرقے کے معمولات ان منظم مذاہب میں سرایت کر گئے جو تقریباً 4,000 سال پہلے وجود میں آئے تھے۔ یہاں تک کہ ختنہ اور کلیٹورل کٹنگ کا عمل بھی سامی مذاہب میں قبل از مذہبی رسم کے طور پر اور علامتیت کے طور پر بھی شامل ہو گیا (پڑھیں، Le Coran and L'Islam ،از، راجر آرنلڈیز)۔ اس بنا پر کہ ابراہیم کا ختنہ شدہ پیدا ہوئے تھے، لہٰذا تینوں ابراہیمی مذاہب کے پیروکاروں کا بھی ختنہ ہونا چاہیے، یہ مذہبی نقطہ نظر سے غلط ہے۔ ورنہ، کوئی کیسے سمجھائے گا کہ عیسائیوں نے 9ویں صدی کے بعد (مردوں کے) ختنہ کے عمل کو مکمل طور پر کیوں بند کر دیا؟ شمالی افریقی اور مشرقی افریقی قبائل اور کافر فرقوں کے ساتھ ساتھ مصر کے قبطی عیسائی بھی خواتین کے ختنے کرتے تھے اور ایک کلیٹوریس کو جسمانی خرابی کے طور پر دیکھتے تھے۔ اب بات بوہرا مسلمانوں کی کرتے ہیں جو اپنا نسب 11ویں صدی میں یمن کے فاطمی خاندان سے جوڑتے ہیں، اس خطے میں خفیہ کافر اور عیسائی فرقے اپنی لڑکیوں کے بزر (clitoris کے لیے عربی لفظ) کو ایک گناہ کی نشوونما (النمو الاثم)سمجھ کر ہٹا دیا کرتے تھے۔

 اسی لیے، گجراتی بولنے والے بوہرا اب بھی clitoris کو حرام نی بوٹی (گناہ کا گوشت) کہتے ہیں۔ لہذا، اسے کاٹنا یا نقصان پہنچایاضروری ہے۔ مذہبی حقوق نسواں کے نقطہ نظر سے، لوکاس اور گریر جیسے اینتھروپولوجسٹ کا خیال تھا کہ مرد ایک عورت کی متعدد آرگزمز سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت سے خوفزدہ ہو کر اس اس عضو خاص کو کاٹنے کا سہارا لیتا ہے کیونکہ یہ (clitoris) مکمل طور پر جنسی تسکین کے مقصد سے ہی موجود ہے جس میں اعصاب کا ایک گھنا نیٹ ورک ہے۔

وجہ کچھ بھی ہو، اسلام، ایک وسیع تر تناظر میں، خواتین کے ختنے کو بالکل بھی منظور نہیں کرتا۔ درحقیقت، محمد عبدالمزدار مہدون کے اردو/فارسی مقالے لذت النساء میں شفنق (clitoris کافارسی) پر ایک مکمل باب ہے۔ اس کا سنسکرت 'ششنکا' ہے۔ سنسکرت اور فارسی کے درمیان قریبی تعلق اور اس کی لذت دیکھیں۔ پرنیلا میرن کی ' Female Sexuality in the Early Medieval Islamic World: Gender and Sex in Arabic Literature' میں ہے کہ عرب، جو کہ زمین پر سب سے زیادہ مردانہ اور جنسی قوت کے حامل لوگ ہیں، عورت کے مٹر یعنی کلیٹورس کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔

لہٰذا، محبت سازی میں کلٹوریس کی اتنی اہمیت اور اسے برقرار رکھنے پر اصل اسلام کی اس قدر اہمیت کے پیش نظر، مسلمان بوہروں کے اس قدیم ترین رواج کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟ اس حساس معاملے پر سیدنا کیوں خاموش ہیں؟ کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ اسے ایک صریح غیر اسلامی عمل قرار دیکر مکمل طور پر اسے روک دیا جائے؟ دی ڈان میں پاکستان کے مشہور انگریزی کالم نگار، اردشیر کاواسجی، جو ایک بہت ہی امیر پارسی تھے، انہوں نے ایک بار بوہروں میں خواتین کے ختنہ کے عمل پر کھل کر لکھا تھا۔

اگرچہ بوہرہ، احمدیوں کی ہی طرح، پاکستان میں تقریباً غیر مسلم ہی مانے جاتے ہیں، لیکن عورتوں کے جنسی اعضا پر اس نیم ممنوعہ موضوع پر ایک تحریر لکھنے کے لیے ہمت کی ضرورت تھی۔ پاکستان میں بوہروں کو بات سمجھ آ گئی۔ یہاں ہندوستان میں اصغر علی انجینئر مرحوم نے اس طرز عمل پر تنقید کی لیکن ان کی التجائیں سب نے ان سنی کر دیں۔ اس کمیونٹی کو اصغر علی انجینئر جیسے مصلحین کی سخت ضرورت ہے۔

English Article: Why Don't Muslims Openly Condemn Female Genital Mutilation Or Female Genital Cutting Among Bohras?

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/muslims-female-genital-mutilation-bohras/d/127013

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..