New Age Islam
Fri Jul 01 2022, 06:37 AM

Urdu Section ( 23 May 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

A Rejoinder with Proofs: Islam, Quran and Controversies ثبوتوں کے ساتھ جواب: اسلام، قرآن اور تنازعات

 سمت پال، نیو ایج اسلام

 10 مئی 2022

 بشر کے ذہنوں پر قرنوں سے جو مسلّط ہیں

بدل رہا ہوں گمانوں میں ان یقینوں کو -شبیر حسن خان 'جوش' ملیح آبادی

 میں عام طور پر جواب دینے سے گریز کرتا ہوں، جواب الجواب کی تو بات ہی چھوڑ دیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی بحث یا گفتگو کا حسن ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں نہ بدل جائے۔ لیکن، میں جناب نصیر احمد کے لمبے مضمون کا جواب دینا مجبوری سمجھتا ہوں جو کہ ایک ذاتی حملے کی طرح ہے۔ سب سے پہلے، میں واضح کر دوں کہ میرا جواب کوئی ذاتی حملہ نہیں ہے۔ یہ ایک پڑھے لکھے آدمی کا ایک ایسے شریف آدمی کو شائستہ جواب ہے جو اپنے مذہب اور اس کے صحیفوں سے باہر نہیں دیکھ سکتا، جسے وہ الہامی، نہیں، بلکہ ایک کتاب برحق سمجھتا ہے۔

 ویسے میں قرآن کے تراجم کا سہارا نہیں لیتا۔ میں اتنی عربی جانتا ہوں جو سامی زبان میں مضامین لکھنے کے لیے کافی ہے۔ اسی لیے، میں یہ کہنے کی جسارت کرسکتا ہوں کہ قرآن کوئی ایک زبان کا کلام نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مسٹر نصیر احمد ایک پیدائشی عربوں کی طرح عربی نہیں جانتے ہیں۔ لہٰذا، میرا مشورہ ہے کہ وہ کرسٹوف لکسنبرگ کی 'The Syriac-Aramaic Version of Quran' ضرور پڑھیں۔ ایک سنجیدہ قاری یا محقق اس وقت سمجھ سکتا ہے جب یہ تسلیم کر لے کہ بہت سے قرآنی الفاظ عربی کے بجائے شامی-آرامی زبان کے ہیں۔ عمدہ مثال یہ ہے: جنت میں "شہید" کے انعامات: جب پیش کیا جاتا ہے اور اس کی اصلاح کی جاتی ہے، تو آسمانی ہدیہ کنواریوں کی بجائے میٹھی سفید کشمش پر مشتمل ہوتا ہے!

 اب مجھے بتائیں، کیا یہ ایک (مخلص) مسلمان کے لیے گومگو کی صورتحال کی کلاسکی مثال نہیں ہے؟ اگر وہ دلیل دیتا ہے کہ نہیں، اس سے مراد کنواری ہے، تو کیا اللہ اس قدر غیر سنجیدہ ہے کہ آپ کو ایک انسان کی طرح کسی ایسی گوشت اور جسمانی چیز کی لالچ دیگا، اور اگر یہ واقعی 'میٹھی سفید کشمش' ہے، تو اس میں اتنی بڑی بات کیا ہے؟

مزید برآں، آپ کے اسلام کے خود ساختہ 'مجاہدین' محض 'میٹھی سفید کشمش' کے لیے خود کو اڑا رہے ہیں؟ یہ کتنی نیچ بات ہے! جب اس بات کا فیصلہ کرنے میں اتنا ابہام ہے کہ کفار کو قتل کرنے پر جنت میں کنواری حوریں ملتی ہیں یا صرف کشمش، تو کیا اس کتاب کو اس طرح کے معنوی الجھنوں اور معمات کے لیے تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے؟ اور جب قرآن کنواریوں کے بارے میں بات کرتا ہے تو میں سوچتا ہوں کہ کیا مجاہدوں کے ساتھ محبت کی لامتناہی خلوتوں کے باوجود ان کا پردہ بکارت ہمیشہ کے لیے برقرار رہے گا؟ ورنہ کنواری کا مطلب کیا ہے؟ کنارے پر، لیکن اندر نہیں؟ مختصراً، حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا بنیادی دعویٰ - یعنی اس کا کامل و اکمل اور حتمی ہونا - مضحکہ خیز اور قٹل ہے۔

 اس کے بے شمار متحارب اور متضاد فرقے، اسماعیلی سے احمدی تک، سب کے سب اسی اٹل دعوے پر متفق ہیں۔ قرآن کا دعویٰ ہے کہ خدا صمد ہے۔ وہ اپنی فیصلے میں کسی کو شامل نہیں کرتا۔ پھر بھی، میں ڈرتا ہوں، مسلم علماء تسلیم کرتے ہیں کہ خلیفہ ثانی عمر کے کم از کم پچاس اپنے نظریات الفرقان میں شامل کیے گئے تھے۔ ان میں خواتین کو نقاب پہننے کا حکم دینا، جو بازنطینی عیسائیوں سے منقول ایک رواج تھا، اور ایسے دیگر عقائد بھی شامل ہیں جن کا اسلام پر بہت زیادہ اثر ہے۔ ان تضادات کے باوجود قرآن خود کو تضادات سے پاک قرار دیتا ہے۔

 قرآن میں بہت سے 'وحی' جناب محمد کے اپنے ایجنڈے کے مطابق ہیں۔ قرآن خود ہمیں بتاتا ہے کہ جناب محمد کے کچھ پیروکار وحی میں ان کی دخل اندازی کو جعلسازی سے کم نہیں سمجھتے تھے۔ اور 'مقدس' کتاب میں پائی جانے والی زن بیزاری کے بارے میں کیا خیال ہے؟  قرآن کی اکثر عبارات ساتویں صدی کے عرب کی تاریخی حقیقت سے میل کھاتی ہیں۔

قرآن کی صنفی عدم مساوات اور جبر ساتویں صدی کے صحرائی خانہ بدوشوں کی ثقافت کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک دو مثالیں آپ کو اللہ یا محمد کی زن بیزار ذہنیت کو دیکھنے کے لیے کافی ہیں: سورہ 2:223 میں قرآن کہتا ہے: تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، لہٰذا تم جہاں سے چاہو اپنی کھیتوں میں جاؤ۔ . . . (MAS Abdel Haleem, The Quran, Oxford UP, 2004) ہمیں اس آیت کے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں پالنی چاہیے۔ اس میں صحبت کی پوزیشنیں کی بات کی جا رہی ہے۔ اس آیت کے حاشیہ میں، حلیم کہتے ہیں کہ مدینہ کے مسلمانوں نے یہودیوں سے سنا تھا کہ 'جس عورت کے ساتھ پیچھے سے جماع کیا جائے اس سے پیدا ہونے والے بچے کو بھینگا پن ہو جاتا ہے۔' غلام لڑکیاں اپنے مرد مالکان کے لیے جنسی ملکیت ہیں۔ سورہ 4:24 میں قرآن کہتا ہے: اور تم پر دوسرے لوگوں کی شادی شدہ بیویاں حرام ہیں سوائے ان کے جو تمہارے ہاتھوں [جنگی قیدیوں کے طور پر] کی ملکیت ہیں۔ . . (مودودی، ج1، ص319)۔ اور جناب محمد کے ماریہ قبطی جو نبی کی ازواج مطہرات کی لونڈیوں میں سے ایک تھیں، کے ساتھ بدنام زمانہ محبت کی کہانیوں کے بارے میں کیا خیال ہے۔ جناب محمد بغیر کسی تقریب کے اس کے ساتھ سو گئے، جس کی وجہ سے ان کی بیویوں میں ہنگامہ برپا ہوا اور اسے "خدائی وحی" کے ذریعے حل کیا گیا۔

 میں اپنے دلائل کو زیادہ طول نہیں دینا چاہتا۔ لہذا، میں اب اپنی بات ختم کرتا ہوں۔ کیا ہم یہ نہیں کہتے کہ اگر آپ کینچو کھودنے کی کوشش کریں گے تو سانپ نکلیں گے، وہ بھی زہریلے۔ لہٰذا، اس سے پہلے کہ بات زیادہ بڑھ جائے، ہمیں یہیں رک جانا چاہیے۔ صبر کرنے والے کے غصے اور حکمت سے بچیں۔ مناسب ہوم ورک کیے بغیر کبھی بھی کسی کو مشتعل نہ کریں۔ یاد رکھیں، شیشے کے گھروں میں رہنے والوں کو دوسروں پر پتھر نہیں پھینکنا چاہیے۔ آخر میں، جناب نصیر صاحب کا شکریہ کہ آپ نے میرے علم کو ایڑ لگائی۔ براہ کرم آپ سلطان شاہین اور غلام محی الدین صاحبان سے عاجزی اور قبولیت کا سبق سیکھیں۔ متعصب ہونا بند کریں۔

 ٹھیک ہے، اس سے پہلے کہ میں بھول جاؤں، میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں نے مذاہب کا مذاق اڑانے کے لیے ان کا مطالعہ نہیں کیا۔ بنی نوع انسان پر ان کے مجموعی برے اثرات کو جاننے کے لیے میں نے ان (مذاہب) کا مطالعہ کیا ہے۔ تمام انسان ساختہ مذاہب کے صحیفے پہلے ہی مضحکہ خیز ہیں۔ انہیں دیکھ کر کوئی اداس انسان بھی ہنس پڑے۔ میں اس سے مستثنیٰ نہیں ہوں۔ میں ایک بے پرواہ ہوں۔ میں خدا پرستی اور الحاد سے آگے نکل چکا ہوں۔ مذہب اور خدا میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے۔

 English Article: A Rejoinder with Proofs: Islam, Quran and Controversies

URL: https://newageislam.com/urdu-section/furqan-humanistic-interpretation-quran/d/127075

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..