New Age Islam
Fri Jul 01 2022, 05:47 AM

Urdu Section ( 29 May 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

A Prudent Recipe for Qaumi ITTIHAAD قومی اتحاد کا ایک شاندار نسخہ

 سمت پال، نیو ایج اسلام

 25 مئی 2022

 روحانیت کا تعلق روح اور باطنی شعور سے ہے۔ روحانیت آپ کے خالق کے ساتھ آپ کے دلی لگاؤ کا نام ہے۔ تو، زمین پر ایک مسلمان کو پتھر کی دیواروں والے روایتی ڈھانچے کی ضرورت کیوں ہے جسے مسجد یا مندر کہا جاتا ہے؟

 اہم نکات:

 1. اس خدا کی عبادت کریں جس کا مسکن آپ کا باطن ہے اور وہ خارج میں نہیں ہے

 2. انسانوں کو روحانی طور پر ترقی یافتہ ہونے کی ضرورت ہے

 3.  بس ایسی جگہوں کو چھوڑ دیں جو ہر طرح کے تنازعات میں گھرے ہوئے ہوں

 -----

بت بھی رکھے ہیں، نمازیں بھی ادا ہوتی ہیں۔

دل میرا دل نہیں اللہ کا گھر لگتا ہے۔

 بشیر بدر کا مذکورہ شعر قومی اتحاد کی بہترین مثال ہے اور فرقہ وارانہ مخاصمت کے اس انتہائی ہنگامہ خیز دور میں ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کے لیے علامت پرستی پر مبنی مذہبی ڈھانچوں  کی خلاف ورزی ہے۔ جب ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی بے دماغ شخص مسجد کے نیچے مندر تلاش کرنے کا دعویٰ کرتا ہے اور فرقہ وارانہ منافرت فوراً بڑھ جاتی ہے تو کیا یہ مناسب نہیں کہ ہندو اور مسلمان دونوں ہی اپنی اپنی عبادت گاہوں پر جانا چھوڑ دیں اور اپنے گھروں پر اپنی عبادتیں ادا کریں؟

 کیا آپ نے رومی کا فارسی میں یہ مشہور قول  نہیں سنا کہ 'دل دیرو حرم است' (دل مندر اور مسجد دونوں ہے) یا پشتو میں سنائی کا قول نہیں سنا "ترکِ افعار، خدا ذکار (تمام عبادت گاہوں کو چھوڑ دو، پھر بھی خدا کو پالو گے)۔ افعار افار کی جمع ہے جس کا معنی ہے (کوئی عبادت گاہ) اور کلاسیکی پشتو میں زکار معرفت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک بہت ہی سمجھدار مشورہ، جسے مجھے ضرور آپ کے سامنے رکھنا چاہیے۔ میں لوگوں کو اپنے مذاہب اور خداؤں کو چھوڑنے کی ترغیب نہیں دیتا۔ زمین پر زیادہ تر انسانوں کے لیے یہ قطعی ناممکن ہے۔ لیکن کم از کم، وہ اپنی عبادت گاہوں کو الوداع کہہ سکتے ہیں۔ خاص طور پر ایک ایسے دور میں کہ جب وہاں (دوسرے مذہب کی) عبادت گاہ کی افواہ بھی تباہی مچا سکتی ہے۔

مزید یہ کہ تمام عبادت گاہیں روحانیت کی ڈھانچہ جاتی علامت ہیں۔ جب ہم روحانیت کے بارے میں بات کرتے ہیں تو یہ قدیم اور لغوی مذہبیت سے بہت آگے کی بات ہوتی ہے۔ روحانیت کا تعلق روح اور باطنی شعور سے ہے۔ یہ آپ کے خالق کے ساتھ آپ کے قلبی تعلق کا نام ہے۔ تو پھر انہیں زمین پر ایک مسلمان کو پتھر کی دیواروں والے روایتی ڈھانچے کی مسجد اور ہندو کو مندر کی ضرورت کیوں ہے؟ قدیم کلیسائی مورخ یوسیبیئس آف سیزریا، کہا کرتا تھا، 'لیسٹ ایمی فلیما ایوتا' (میں اپنی عبادت گاہ خود لیکر چلتا ہوں)۔ ہاں، آپ اپنی عبادت گاہ خود لیکر چلتے ہیں۔

 آپ کو عبادت کے لیے کسی جگہ کی ضرورت نہیں ہے۔ اور یہی صدیوں سے تمام صوفیاء اور عرفاء کا نصب العین رہا ہے۔ عظیم صوفی کبیر نے بجا طور پر کہا، 'کنکر پتھر جوری کی مسجد لائی چُنے/تا چڑھی ملا بانگ دے کیا بہرا ہوا خدائے؟ (کنکریوں اور پتھروں کی مسجد بنانے کے بعد، مؤذن چھت سے پکارتا ہے/کیا اللہ سننے سے قاصر ہے؟)

 اتنی صدیاں بیت چکی ہیں، پھر بھی ملا نہیں بدلا اور اب وہ لاؤڈ اسپیکر کا سہارا لے کر عبادت گزاروں کو مسجد میں بلاتا ہے! ہندو ہوں یا مسلمان، سب لکیر کے فقیر ہیں۔ اب جب عبادت گاہیں جھگڑے کی جڑ بن چکی ہیں تو کیا انہیں چھوڑ نہیں دینا چاہیے؟ اپ اپنا مذہب، خدا، کتابیں وغیرہ یہ سب مت چھوڑیں۔ بس ایسی جگہوں کو چھوڑ دیں جو ہر طرح کے تنازعات میں گھری ہوئی ہیں۔ انسانوں کو روحانی طور پر ترقی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلمان میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ مکمل الفرقان کو یاد کرنے اور حافظ قرآن بننے کے پیچھے یہ وجہ تھی کہ اگر کتاب کے تمام طبعی نسخے ختم کر دیے جائیں تب بھی ایسے لوگ ہوں جنہیں قرآن کی تمام آیات حفظ ہوں، لیکن مسلمان اور خاص طور پر نوجوان اب بھی طوطے کی طرح قرآن مجید حفظ کرتے ہیں اور اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں جو کہ بالکل بے فائدہ ہے۔ اب میں اپنی بات مختصر کرتا ہوں، تقدس آپ کے دل میں ہے اور الوہیت داخلی ہے۔ آپ کا دل بذات خود ایک مقدس جگہ ہے: بیٹھ کے فرش دل پر پڑھ لی نماز میں نے۔ آپ کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ مزید برآں، آج کل تمام عبادت گاہیں خوبصورتی، شان و شوکت اور جاہ و جلال کی علامتیں ہیں۔ ندا فاضلی نے اپنے ایک دوہے میں بجا طور پر کہا:

بولا بچہ دیکھ کے مسجد عالی شان/اللہ تیرے رہنے کو اتنا بڑا مکان!

یہ ایک معصومانہ سوال، لیکن اس میں گہرائی کافی ہے۔ اس پر چہ غور و خوض کریں اور اس خدا کی عبادت کریں جس کا مسکن آپ کا باطن ہے اور وہ خارج میں نہیں ہے۔ آپ کا معبود یا اللہ، اگر موجود ہے تو آپ کی طرح بد مزاج، نک چڑھا اور نزاکت پسند تو نہیں ہوگا کہ اگر آپ اس کی عبادت کے لیے کسی عبادت گاہ کو نہ جائیں تو وہ ناراض ہو جائے۔

English Article: A Prudent Recipe for Qaumi ITTIHAAD

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/recipe-qaumi-national-unity/d/127124

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..