New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 10:22 AM

Urdu Section ( 11 Aug 2016, NewAgeIslam.Com)

Why Are Indian Ulema Silent over Islamic State’s Challenge ہندوستانی علماء اسلامی ریاست کے چیلنج پر خاموش کیوں ہیں؟


سلطان شاہین، بانیو ایڈیٹر، نیو ایج اسلام

6 جون 2016

 

ہندوستانی علماء کے نام اسلامی ریاستکے براہ راست چیلنج پر مکمل خاموشی کا مظاہرہ کیا گیا۔ ایک سال پہلے اپنے خلیفہ ہی کی طرح ایک ہندوستانی جہادی کا کہنا ہے کہ "اسلام کبھی بھی امن کا مذہب نہیں رہا ہےبلکہ اسلام ایک مستقل جنگ کا مذہب رہا ہےاور خود حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ساری زندگی جنگ کرتے ہوئے بسر کی ہے" ۔علماء داعش کے اس صریح جھوٹ پربالکل خاموش رہے اور انہوں نے اس پر کسی بھی رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔داعش کے اس دعویٰ کے برعکس، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی قیام امن اور مصالحت کی تلاش میں بسر کی۔اپنے ایک اشارے پر7،000مستعد سپاہیوں کی ایک فوج جمع کرنے کی صلاحیت حاصل کر لینے کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بظاہر مسلمانوں کے لیے ذلت آمیز شرائط کے ساتھ انصاف پر امن کو ترجیح دیتے ہوئےمکہ والوں کے ساتھ حدیبیہ میں ایک امن معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔ اور آج جب نہاد اسلامی ریاست کے دہشت گرد اسلام کو "مستقل جنگ و جدال کا مذہب" کہہ رہے ہیں تو تمام علماء خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ان کی زبان پر تو اس وقت بھی تالے پڑے ہوتے ہیں جب داعش انہیں علما ئے سواور منافقین قرار دیتے ہیں۔

کچھ لوگ کہیں گے کہ ہمارے علماء پہلے ہی مناسب اقدامات کر چکےہیں۔ انہیں ہی ہر فتنے کا جواب کیوں دینا چاہئے؟کیا1050 ہندوستانی علماء نے ایک ایسے فتوی پر دستخط نہیں کیاجس میں داعش کی سرگرمیوں کو اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف قرار دیا گیا ہے؟اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انہوں نے ایسا کیاہے جیسا کہ دنیا بھر کے 120 علماء اور یہاں تک کہ سعودی عرب کے مفتی اعظم نے بھی ایسا ہی ایک فتویٰ جاری کیا تھا۔لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ ان کی تمام تر کوششیں مکمل طور پر غیر موثر کیوں ہیں؟ کیوں داعش اب تک اپنی جماعت میں نوجوانوں کا شامل کر رہا ہے؟ 100 ممالک سے ایک سال کے اندر30،000 مسلمان اسلامی ریاست پہنچ چکے ہیں۔

اس کا جواب داعش کے خلاف جاری کیے گئے فتوں کی نوعیت میں مضمر ہے۔ہندوستانی علماء کا فتوی قرآن مجید کی ایک آیت پر مکمل طور پر انحصار کرتے ہوئے، بنیادی طور پر یک طرفہ ہے: "جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانےیعنی خونریزی اور ڈاکہ زنی وغیرہ کی سزا) کے (بغیر ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے اسے (ناحق مرنے سے بچا کر) زندہ رکھا "(5:32)۔ دیگر فتووں میں بھی قرآن سے اسی طرح کی دوسری آیتوں کو نقل کیا گیا ہے۔قرآن مجیدمیں کم از کم 124 ایسی ابتدائی مکی آیتیں ہیں جن میں مصیبت اور ظلم و ستم کے وقت میں امن، تکثیریت پسندی، صبر اور استقامت کی تعلیم دی گئی ہے۔لہذا، یہاں یہ سوال پیداہونا ناگزیر ہے کہ: اسلام کی بنیادی کتاب قرآن میں امن اور کثرتیت پسندی کے حق میں اتنی کثیر تعداد میں شواہد موجود ہونے کے باوجود کس طرح ایک مسلم نظریہ ساز کھلے عام دہشت گردی، اجنبیوں سے نفرت اورعدم رواداری کی تبلیغ کر سکتا ہے اور اس کے بعد پوری دنیا میں اتنی بڑی تعداد میں مسلمانوں کی جانب سےایک مثبت ردعمل بھی حاصل کر سکتا ہے؟ اور ان سب حالات میں کس طرح علماء مکمل طور پر خاموش رہ سکتے ہیں؟کس طرح جدید خوارج ہمارے علماء کو علما ئے سو اور منافق کہہ سکتے ہیں جن کے لئے اسلام میں جہنم کا سب سے نچلاحصہ مخصوص ہے، اور وہ کس طرح ہمارے علماء کی جانب کے کسی بھی رد عمل کا سامنا کیے بغیرہی بچ کر نکل سکتے ہیں؟

یہ وہ سوالات ہیں جن پر ہمارے علماء توجہ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔کیا وہ اس کے لیے تیار نہیں یاوہ اس کے قابل ہی نہیں ہیں؟ میرا یہ ماننا ہے کہ نہ تو وہ اس کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی ان کے اندر اس کی صلاحیت۔اگر وہ اس کے لیے تیار ہوتے ہیں تو اس کے لیے انہیں ایک عظیم کوشش درکار ہوگی۔انہیں تقریبا پوری اسلامی تعلیمات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہو گی۔ انہیں امام غزالی، ابن تیمیہ، مجدد الف ای ثانی، شیخ سرہندی، شاہ ولی اللہ دہلوی، محمد بن عبد الوہاب، سید قطب اور ابوالاعلیٰ مودودی جیسےممتاز نظریہ سازوں پر گفتگو کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔

یہ تمام نامور فقہا مذہبی رجحان رکھنے والے مسلم نوجوانوں کو اسلام تفوق پرستی، علیحدگی پسندی، اجنبیوں سے نفرت، عدم برداشت اور قتل (مسلح جدوجہد) کے معنوں میں جہاد کی ان کیذمہ داری کا پیغام دیتے ہیں۔امام غزالی جنہیں اسلام کی تفہیم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بڑا عالم مانا جاتا ہے ان کا یہ کہنا ہے کہ"مسلمانوں کوہر سال کم از کم ایک بار جہاد پر جانا چاہیے"۔یقیناً جہاد سے مراداسلام کے غلبے کی خاطر لڑا جانے والاجارحانہ جہادہے۔ اٹھارویں صدی کے ایک ممتاز اور عظیم الشاناسکالر، عالم دین، محدث اور فقیہ، شاہ ولی اللہ دہلوی لکھتے ہیں: " دوسرے تمام ادیان پر اسلام کے غلبے کو قائم کرنا اور کسی بھی فرد کو اسلام کے تسلط سے باہر نہ چھوڑنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری ہے خواہ لوگ رضاکارانہ طور پر اسلام کو قبول کرلیں یا ذلت و رسوائی کے بعد اسے قبول کریں........ "آج کون ہندوستانی عالم امام غزالی، ابن تیمیہ، عبد الوہاب اور شاہ ولی اللہ دہلویسے اختلاف کرنے کی ہمت کریں گے؟

اسلامی دہشت گردیکا نظریہ حسب ذیل غیر لچکدار مفروضات پر قائم ہے اور ہمارے تمام علماء انہیں تسلیم کرتے ہیں:

1۔ جنگ کی اجازت پر مشتمل بعد کے زمانے میں نازل ہونی والی قرآن کی مدنی آیتوں نے اس سے پہلے مکہ میں نازل ہونے والی ان تمام قرآنی آیتوں کومنسوخ کر دیا ہےجن میں صبر و تحمل اور استقامت، امن اور تکثیریت پسندی کی تعلیم دی گئی ہے۔ ہمارے علماء منسوخی کے اس باطل نظریہ سے اختلاف نہیں کرتے۔وہ واضح طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ اسلام کے دور اوائل میں نازل ہونے والی مکی آیتیں اسلام کے بنیادیاصول و قوانین پر مبنی ہیں اور نہ تو وہ منسوخ ہوئی ہیں اور نہ ہی انہیں منسوخ کیا جا سکتا ہے؛ اور یہ کہ جنگ کےوقت میں نازل ہونے والی آیتیں ہی صرف اس زمانے کے لیے مخصوص تھیں اور اب ان کا اطلاق ہم پر نہیں ہوتا۔لہٰذآ، انہیں منافق کہنے والے سلفی اور جدید خوارج حق بجانب ہیں۔

دوسری چیزوں کے درمیان بے گناہ افراد کے قتل کے معنیٰ میں دہشت گردی ایک دیگر حدیث کی بنیاد پر جائز ہے۔روایت ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے جنوب مشرق میں واقع ایک چھوٹے سے شہر طائف پر ایک منجنیق کے ذریعہ حملہ کرنےکا حکم دیاتھا جس کے نتیجے میں لامحالہ معصوم شہری قتل کیے جاتے۔جب ایک صحابی نے انہیں معصوم شہریوں کے قتل کے خلاف قرآنی ممانعت یاد دلائی تو آپ نے مبینہ طور پر یہ کہہ کر عورتوں اور بچوں کے قتل کاجواز پیش کیا کہ: "وہ بھی انہیں میں سے ہیں"۔​​یہ حدیث اسلام کی روح اور قرآن کے بعض احکام کی واضح خلاف ورزی۔ لیکن علماء کا یہ ماننا ہے کہ "احادیث وحی کے مساوی ہیں"۔ یہاں تک کہ عالمی سطح پر120 علماء نے14،000 الفاظ پر مشتمل بغدادی کے نام لکھے گئے ایک کھلے خط میں بھی اس حدیث کا حوالہ پیش کیا۔یہ مکمل طور پر غیر معقول ہے۔ حدیثوں کونبی صلی اللہ علیہ وسلم کےانتقال کے 300 سالکے بعد جمع کیا گیا تھا۔جس حدیث کا حوالہ جہادی اکثر دیتے ہیں وہ حسب ذیل ہے:

 راوی صعب بن جثامہ ہیں

1۔ "الابوہ یا ودن نامی ایک مقام پر میرے قریب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوامیں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا عورتوں اور بچوں کو خطرے میں ڈالنے کے امکان کے ساتھ رات کے وقت میں کافر سپاہیوں پر حملہ کرنا جائزہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا"وہ (یعنی عورتیں اور بچیں)بھی انہیں(یعنی مشرکوں)میں سے ہیں۔"

حوالہ: صحیح بخاری کتاب الجہاد، حدیث 3012

یہ بالکل ناممکن لگتا ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معصوم شہریوںکے قتل کے خلاف مخصوص قرآنی احکام اور اپنے ہی سابقہ طرز عمل کی خلاف ورزیکریں گے۔ لیکن علماء یہ کہتے ہیں کہ: "یہ حدیث صحاح ستہ(حدیثکی تمام چھ مستند کتابوں) میںموجود ہے۔"آپ انکی چاہے جتنی بھی دل جوئی کر لیں اس سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتاوہ کبھی بھی اس سے زیادہ کچھ نہیں کہیں گے۔اور اس کا مطلب بھی صاف ہے: "حدیث پر اعترض نہیں کیا جا سکتا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خود اپنے سابقہ ​​طرزعمل سےکتناخلاف ہے۔اگر اس خاص حدیث کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےبے گناہ خواتین اور بچوں کے قتل کی اجازت دی ہےجسے آج دہشت گردی کا طرہ امتیازشمار کیا جاتا ہے، تو پھر ایسا ہی ہے۔ "

علماءکافی اثر و رسوخ کے حامل ہوتے ہیں۔کسی مسئلے میں ان کی خاموشی سے بھی اتنا ہی فرق پڑتا ہے جتنا ان کے بیانات سے فرق پڑتا ہے۔ وہ لوگ جو اسلامی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان سے مدد کی توقع رکھتے ہیں غلط فہمی کا شکارہیں۔جس حقارت و توہین کے ساتھ سلفی اور جدید خوارج ان کے ساتھ پیش آتے ہیں وہ اسی کے مستحق ہیں۔ اور نہ ہی کوئی سیکولر، لبرل اعتدال پسندوں سے بھی بہت کچھ کی توقع کی جا سکتی ہے۔وہ دہشت گردی کے سخت خلاف ہیں اور ایک مشتبہ شخص کے طور پر پوری چوکسی کے ساتھ زندگی گزا رتے ہیں جیسا کہ آج ہر مسلمان کی حالت ہے جبکہ وہ اسلام پسند تعلیمات کی طرف توجہ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔اس کے لیے انہیں پر تشدد موت کے ناگزیر خوف پر قابو پانا ضروریہے۔ ہمسایہ ملک بنگلہ دیش کے لبرل افراد سے پوچھیں۔ چاروں طرف افراتفری کا ماحول ہونے کے باوجود بہت کم لوگوں کے اندر اتنا حوصلہ اور اتنا جوش و جذبہ برقرار رہتا ہے۔مسلم اور غیر مسلم سیاسی رہنماؤں کا معاملہ یہ ہے کہ جتنا کم کہا جائے اتنا بہتر ہے۔ سیاستدانوں کورہنماکہا جاتا ہے لیکن وہ اصل میں ریوڑ کی پیروی کرتے ہیں۔ شاید ہی کوئی 'رہنما' نظر میں ہے۔

تاہم،لوگوں کوتاریخ سے امید رکھنی چاہئے۔ انتہا پسندی ہمیشہ اسلامی تاریخ کا ایک حصہ رہی ہے۔ لیکن مسلمانوں نے ہمیشہ اسے شکست دی ہے۔ اس زمانے میں انتہا پسندی خاص طور پر مؤثر ہےاور تقریبا پورے معاشرے میں بنیاد پرستی کا زہر گھول رہیہےاور اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران اس منصوبے پر دسیوں اربپیٹرو ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ لیکن اسلامی روحانیت، امن اور تکثیریت کی روح دوبارہ اپنا غلبہ حاصل کرنے کا راستہ تلاش کر ہی لے گی۔ اس عمل میں مدد کرنے کے لئے فکر مند مسلمانوں کو امن اور کثرتیت پسندی پر مبنی ایک نئی فقہ تیار کرنی ہوگی اور علماء کے بغیر براہ راست امت مسلمہ تک رسائی حاصل کرنی ہوگی۔ تکثیریت پسند فقہ کی بنیاد اس امر پر ہونا چاہیے کہ اسلام نجات حاصل کرنے کے لیےایک روحانی راستہ ہے،نہ کہ دنیاپر تسلط حاصل کرنے کے لیے ظلم و جبر پر مبنی کوئی نظریہ ہے،کہ جس پر آج علماء کی اتفاق رائےہے۔جیسا کہ آج کچھ لوگوں کا وطیرہ ہے، محض اسلام کی مثبت خصوصیات پر توجہ مرکوز کرنے سے کوئی مدد حاصل نہیں ہوگی۔یہ انٹرنیٹ کا دور ہے۔ کچھ بھی چھپایانہیں جا سکتا ہے۔اب ہمیں علی الاعلان اسلام پسند اور سلفی اور خارجی فقہ کا سختی کے ساتھ مقابلہ کرنا ہوگا۔اب ہمارے پاس نرم راستہ اختیار کرنے کا کوئی چارہ نہیں ہے۔

URL of English Article: http://newageislam.com/the-war-within-islam/sultan-shahin,-founding-editor,-new-age-islam/why-are-indian-ulema-silent-over-islamic-state’s-challenge---unwillingness-or-inability?/d/107548

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/sultan-shahin,-founding-editor,-new-age-islam/why-are-indian-ulema-silent-over-islamic-state’s-challenge--ہندوستانی-علماء-اسلامی-ریاست-کے-چیلنج-پر-خاموش--کیوں-ہیں؟/d/108248

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 


Loading..

Loading..