New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 09:53 PM

Urdu Section ( 11 Jan 2017, NewAgeIslam.Com)

Deoband- Bareilly Unity: Cosmetic and Dangerous دیوبندی- بر یلی اتحاد ایک خطرناک دکھاوا








سلطان شاہین، بانیو ایڈیٹر، نیو ایج اسلام

5 جنوری 2016

مسلکی اتحاد یقینی طور پر ایک قابل ستائش مقصد ہے۔ تاہم،اس کے پیچھےکار فرما نیت بھی بہت اہم ہے۔ ایک دوسرے کو کافرکہنے والے وہابی دیوبندی اور صوفی بریلوی فرقے گزشتہ چند ماہ سے متحد ہونےکی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن کس سمت میں اور کن بنیادوں پر؟

اس کی پہل سب سے پہلے مولانا توقیر رضا خان نے مارچ میں انٹرنیشنل صوفی کانفرنس کے بعد کہ جس میں وزیر اعظم نے بھی شرکت کی تھی اور جس میں انہیں مدعو نہیں کیا گیا تھا، مئی 2016 میں دیوبند کا دورہ کر کےکی تھی۔اس کے جواب میں جمعیت العلماء سے تعلق رکھنے والے دیوبندی مولانا محمود مدنی نےچند ماہ بعد نومبر میں چند بریلوی علماء کے ساتھ مل کر اجمیر شریف میں ایک عظیم الشان اجتماع منعقد کیا۔

دیوبندی تصوف میں پیدا ہونے والی اپنی نئی محبت کی خوب تشہیر کر رہے ہیں اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے پیروکار ہونے کا دعوی کر رہے ہیں۔یہاں تک کہ انہوں نے صوفی شیخ حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے ساتھ اپنے بڑے بزرگوں کی قربت دکھانے کے لیےاردو اخبارات کےسرورق پر اشتہارات کے ذریعہ ان کا شجرہ نسب بھی شائع کیا ہے۔وہ صوفی بریلویوں کے ساتھ ایک صدی تک جاری رہنے والی اس فرقہ وارانہ جنگ کے بعد کہ جس میں انہوں نے تصوف کو ایک "آلودگی" اور اسلام کے اندر "بدعت" کا نام دیا تھا اس فرقہ وارانہ کشمکش کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مارچ 2016 میں ہی جمعیت کے سربراہ مولانا ارشد مدنی نےورلڈ صوفی فورم تنقید کی تھی اور ا نہوں اسے تصوف بمقابلہ وہابیت کی بنیاد پر امت مسلمہ کو تقسیم کرنے کی بی جے پی کی قیادت والی حکومت کی سازش قرار دیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ: "تصوف کچھ بھی نہیں ہے: یہ کوئی اسلامی فرقہ نہیں ہے اور قرآن میں اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔یہ ان لوگوں کا کام ہے جوقرآن و حدیث سے کوئی واقفیت نہیں رکھتے۔ "یہاں تک کہ اجمیر کانفرنس میں بھی دیوبندی رہنماؤں نے تصوف کے اوپر اپنی غلط بیانیوں پر کوئی افسوس ظاہر نہیں کیا۔اور دیوبندیوں نےتصوف کے بارے میں اپنی دینی تفہیم میںکسی تبدیلیکا بھی اشارہ نہیں دیا۔

صوفیوں اور بریلویوں کے ساتھ اپنی ایک صدی پرانی فرقہ بندی کو ختم کرنے کی دیوبندیوں کی یہ کوشش یاگاری ہو سکتی تھی۔ لیکن انہوں نے محض مسلم پرسنل لاء میں کسی بھی تبدیلی سے لڑنے لئے یہ اتحاد قائم کیا تھا۔اس سے صرف یہی نتیجہ اخذ کیاجا سکتا ہےکہ دیوبند محض بی جے پی کی قیادت والی حکومت کے خلافحتی المقدور مسلمانوں کا ایک عظیم محاذ قائم کرنے اور اس کی قیادت کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔اسے یہ معلوم ہے کہ حالیہ دہائیوں میں سعودی پیٹرو ڈالر کی بنیاد پر وہابیت کے فروغ کے باوجود اب بھی دیوبندکے پیروکاربہت کم ہیں۔ مجموعی طور پر اب بھی ہندوستانی مسلمان تصوف پر ہی یقین رکھتے ہیں۔تاہم، صرف دیوبندہی نہیں ہے جو محض سیاسی وجوہات کی بنا پر صوفی بریلویوں کےساتھ اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔بلکہ مولانا توقیر رضا بریلوی نے بھی اپنے دیوبندکے دورہ میں کہا تھا کہ : "ہمیں اپنے مذہبی (فرقہ وارانہ؟) معتقدات پر قائم رہتے ہوئے اپنے مشترکہ دشمن سے لڑنے کے لئے متحد ہونا چاہیے، یہی ایک واحد راستہ ہے۔"

دشمن کون ہے؟ یقیناً بی جے پی کی قیادت والی حکومت۔ لیکن اب کیوں؟کیوں کہ یہ مسلم پرسنل لاء میں صنفی انصاف پر مبنی اصلاحات کے اشارے دے رہی ہے۔اب جب کہ اس نے صوفی علماء اور مشائخ بورڈ کو شرمندہ اور خاموش کر دیاہے جس نے وزیر اعظم کو اپنےفورم سے بات کرنے کی دعوت تھی، دیگر تمام جماعتیں فوری طور پر تین طلاق پر پابندی کے امکان کی مخالفت کرنے کے لیےمتحد ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔

تاہم،دیوبند کے لئے اس میں ایک اضافی محرک ہے۔یہ ہماری آزادی کے بعد اکثر حکومتوں کے قریب رہا ہے۔ اب یہ خود کو بے اختیارمحسوس کر رہا ہے۔ لہذا، یہ مسلم پرسنل لاء میں ممکنہ اصلاحات کی مخالفت کر کے حکومت کو یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہے کہ ہم بھی صوفیاءکی ہی صفوں میں شامل ہیں کہ جن کے بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ہمارے حلیف ہیں۔

دین کی حفاظت اور کافر کے خلاف جنگ کے ایک مبینہ پلیٹ فارم پر مسلمانوں کو جمع کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اسلامی بالادستی کا ایک عقیدہ صدیوں سے مسلمانوں کے درمیان فروغ دیا گیا ہے۔ تمام مدارس خواہ وہ بریلوی ہوں یا دیوبندی رسم المفتی نامی کتاب سے فتوی کے اصولوں کی تعلیم دیتے ہیں۔جس میں انہیں مسلسل ان دو اصولوں کی تعلیم دی جاتی ہے۔

1)اسلام ہمیشہ اعلی اور غالب رہے گا؛ اسے نہ تو کبھی دبایا جا سکتا ہے اور نہ ہی کبھی اسے شکست دی جا سکتی ہے۔

2)تمام عالم کفر ایک ہی قوم ہیں۔

توقیر رضا خان "کافر" حکومت کے خلاف لڑنے کے لئے دیوبندیوں کے ساتھ متحد ہونے کی بات کرتے ہیں تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ بریلوی مفتیوکو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ لیکن جب خود ان کے اپنے پاکستانی عالم مولانا طاہر القادری جب حقیقی فرقہ وارانہ اتحاد کے طریقوں کی تجویزات پر مبنی ایک کتاب "فرقہ پرستی کا خاتمہ کیسے ہو"شائع کرتے ہیں تو یہی بریلوی مفتیان کے خلاف فتوی جاری کردیتے ہیں۔

ہر فرقے کےمسلمان دوسرے فرقوں کے علماء کی نظر میں کافر ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہونے کے لیےنظریاتی تنازعات کا حل ناقابل تصور ہے۔ لیکن وہ ایک مختلف مذہب کے کافر سے لڑنے کے لئے متحد ہوسکتے ہیں۔

جب تک مسلم اور کافر کا یہ گٹھ جوڑ علماء کی ایک ہم آہنگ اسلامی روایت تیار نہیں کرتا مسلمانوں کی ایک آپسی خوش اسلوبی زندگی کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا مشکل ہے۔ عارضی فرقہ وارانہ اتحاد جو کہ مستقل فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے خطرہ پیدا کر سکتا ہے، کوئی حل نہیں ہے۔بحیثیت مسلمان ہمیں نہ صرف یہ کہ اپنےاندرونی تفرقہ کو ختم کرنا ضروری ہے، بلکہ کافر اور مومن کی سوچ کو بھی ختم کرنا ضروری ہے۔ ہم بالادستی اور علیحدگی پسندی کے اپنےفرسودہ تصورات کے ساتھ 21ویں صدی کی کثیرثقافتی دنیا میں ایک مسلمان کی حیثیت سے زندگی نہیں گزار سکتے۔

---

سلطان شاہین دہلی میں ایک ترقی پسند اسلامی ویب سائٹ NewAgeAislam.comکے بانی و ایڈیٹر ہیں۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam-and-politics/sultan-shahin,-founding-editor,-new-age-islam/deoband--bareilly-unity--cosmetic-and-dangerous/d/109667

URL: http://newageislam.com/urdu-section/sultan-shahin,-founding-editor,-new-age-islam/deoband--bareilly-unity--cosmetic-and-dangerous--دیوبندی--بر-یلی-اتحادایک-خطرناک-دکھاوا/d/109686

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..