New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 11:37 AM

Urdu Section ( 28 March 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Kashmir Event for Deradicalization اتنہا پسندی کے خاتمہ کے لیے کشمیر کانفرنس: علماء کو پرامن بیان بازی سے بالاتر ہوکر' جہاد کی غلط تشریح' کی مذہبی بنیادوں پر غور کرنے کی ضرورت

سلطان شاہین ، فاونڈر ایڈیٹر  نیو ایج اسلام

24 مارچ 2021

کشمیر میں کئی دہائیوں کی بنیاد پرست عسکریت پسندی کے بعد، پہلی بار ، بنیاد پرستی کا مقابلہ کرنے کے لئے سنجیدہ کوشش کی جارہی ہے۔  ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، کشمیر سے تقریبا ۵۵۰ مذہبی رہنما، ۲۰۰ خواتین اور ۲۰۰ نوجوان ۲۳ مارچ کو بے گناہ لوگوں کے قتل کا ‘‘جواز’’ پیش کرنے والی جہاد کی  ‘‘غلط’’ تشریح  کو مسترد کرنے کے لیے اکٹھے جمع ہوئے تھے،  اور اس کے ساتھ ساتھ  انہوں نے ‘‘پر امن بقائے باہمی’’ پر مبنی  ‘‘صحیح’’ جوابی بیانیہ بھی  پیش کیا۔    

تاہم اس رپورٹ میں جہاد کے اصول و نظریات کی گہرائی میں جانے کی کسی سنجیدہ کوشش کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ تعلیم یافتہ افراد ، اکثر پیشہ ور، ماہرین تعلیم ، ممکنہ طور پر اس چیز  کے عمل میں مشغول نہیں ہوسکتے جسے بقول قرآن قتال کہا جاتا ہے ، اور اسی طرح جہاد فی سبیل اللہ کی سطحی تفہیم کی بنا پر اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو چھوڑنے ، بے گناہوں کو مارنے اور مر جانے کے عمل میں مصروف نہیں ہو سکتے ۔  جب وہ تمام فرقوں کے اجماع یعنی اتفاق رائے پر مبنی  اسلامی تھیولوجی کا مطالعہ کرتے ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ جو پیغام جہادی نظریات کے مبلغین انہیں دے رہے ہیں وہ  اسلام کی صدیوں پرانی فقہ کی ٹھوس بنیادوں پر قائم ہے اس طور پر کہ اس سے عالمی تسلط اور غلبہ کے حصول  کے لیے سیاسی منصوبہ بندی  اور مطلق العنانیت  کا جواز ملتا ہے ۔  اگر علمائے کرام بغیر ان دلائل پر غور وفکر کیے جو صدیوں سے اسلام کے فقہی مذاہب کی بنیادی  غذ ارہی ہے ،  محض یہ بیان بیازی کرتے  رہیں کہ جہاد کی ایسی تشریح کرنا  غلط ہے تو اس پر کوئی بھی سنجیدہ طالب علم اعتماد و یقین نہیں کرے گا ۔

تاہم آئیے پہلے دیکھیں کہ اس ایونٹ   میں کیا ہوا تھا۔ ٹی او آئی (ٹائمز آف انڈیا) کے نمائندے بھارتی جین کی رپورٹ  ہے: " مفتی محمد اسلم نے سری نگر کانفرنس کے سائیڈ لائنز پر ٹی او آئی کو بتایا کہ قرآنی آیات کی صحیح تفسیر کے مطابق ، اسلام اپنے پیروکاروں کو ہمسایہ انسانوں کی جان لینے یا انہیں تکلیف پہنچانے کی تعلیم نہیں دیتا ہے، بلکہ اس کے بر عکس  اسلام  اپنے ماننے والوں کو تعلیم دیتا ہے کہ وہ  مذہب سے قطع نظر تمام لوگوں کی حفاظت کریں اور سب کے  ساتھ  امن و شانتی اور رواداری  کے ساتھ زندگی گزاریں ۔ انہوں نے کہا کہ  "جہاد" کا مطلب اپنی نفسانی خواہشات کے خلاف لڑنا ہے "۔

اگر یہ بات ہے تو ، مفتی صاحب ، کیا میں یہ عرض کرسکتا ہوں کہ آخر کیوں جہاد پر لکھی گئی تمام کتابوں نے اسے (یعنی نفسانی خواہشات کے ساتھ جنگ کو) محض چند الفاظ میں بیان کرکے نظر انداز کردیا جبکہ جہاد بالقتال کو بیان کرنے کے لیے ہزاروں الفاظ کی ضرورت پیش آئی؟ بے شک جہاد ایک جہد کا نام ہے ، ایک کوشش کا نام ہے  اور کسی بھی جہد اور کوشش کو جہاد کہا جا سکتا ہے۔زندگی خود ایک جہاد ہے ۔ اگرچہ  قرآن نے لڑنے، قتل کرنے اور جنگ  خواہ وہ دفاعی ہو یا ہجومی ، ان سب کے لیے لفظ قتال کا استعمال کیا ہے ،  مگر اس کے باوجود تمام مسلم ائمہ اور علما نے  لفظ جہاد کو خاص طور پر قتال کے معنی میں استعمال کیا ہے ۔

انتہاپسندی  کے خاتمے کی  اس ایونٹ  میں جہاد اصغر اور جہاد اکبر کا تذکرہ ضرور ہوا ہوگا۔یہ تو دنیا بھر میں کی جانے والی ایسی تمام کوششوں کا مرکزی حصہ ہوتا ہے ۔اس کی بنیاد ایک حدیث پر ہے جس میں یہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے لوٹنے کے بعد فرماتے ہیں کہ ہم جہاد اصغر سے جہاد اکبر کی طرف آ گئے ہیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ جہاد اکبر کیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے نفس کے خلاف لڑنا ہی جہاد اکبر ہے ۔ یقینا ایسا ہی ہے اور کوئی بھی صحیح و سالم عقل رکھنے والا شخص  اس بات سے متفق ہو جائے گا  کیونکہ  برے نفسانی خواہشات سے لڑنا  آسان نہیں بلکہ ایک عظیم جہد ہے ، ایک عظیم کوشش ہے اور یقینا  ایک جنگ میں لڑنے سے کہیں زیادہ بڑا جہاد ہے ۔

اس حدیث میں حق و صداقت کا رنگ ہے۔کیونکہ اگر ہم  آپ کی نبوت سے قبل اور نبوت کے بعد کی زندگی کا مطالعہ کریں تو ہمیں ضرور اس بات کا یقین ہو جائے گا کہ  ہمارے نبی علیہ السلام نے واقعی ایسا  کہا ہوگا۔ لیکن ہمارے بیشتر علما  اس بات پر متفق ہیں کہ یہ حدیث  اگرچہ موضوع (یعنی گڑھی ہوئی بات) نہیں لیکن  ضعیف ہے (یعنی اس کی سند میں کمزوری ہے )۔ لہذا اس طرح کی مرویات کشمیر میں ہونے والے ایونٹ (واقعہ) جیسے دیگر واقعات  کے لئے محفوظ ہیں۔ ورنہ تو ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ ایک ضعیف اور ناقابل اعتبار حدیث ہے۔ اسی طرح  کا معاملہ ایک اور حدیث کے ساتھ کیا جاتا ہے جس میں مسلمانوں کو علم  (بظاہر سیکولر علم) حاصل کرنا چاہیے اگرچہ انہیں چین جانا پڑے کیونکہ اس وقت چین میں کوئی مسلمان نہیں تھا۔

مجھے امید ہے کہ مفتی نصیر  الدین نے مندرجہ ذیل اقتباسات  میں جو باتیں ٹی او آئی کو بتائیں ہیں وہ باتیں واقع ہوں گی اور تمام مولوی اور مفتی صاحبان ویسا ہی کریں گے  جیسا  انہوں نے وعدہ کیا ہے  کہ : ‘‘اسلام امن ، ہم آہنگی اور حساسیت پر عمل کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام کی یہ صحیح ترجمانی ہے جس کی تشہیر جموں و کشمیر کی مساجد سے ، آج یہاں جمع ہونے والے تمام مفتیان اور مولوی صاحبان  اپنے  جمعہ کے خطبوں کے ذریعے لوگوں میں کریں گے۔ مفتی نصیر الدین نے ٹی او آئی کو بتایا کہ ‘‘ایسا ہی ایک  پیغام یہاں کے مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے والوں کو بھیجا جائے گا ، اس کے ساتھ ساتھ یہاں رہنے  والی تمام فیملیوں کو ، خاص طور پر  ماوں کو یہ پیغام  دیا جائے گا کہ  وہ اپنے بچوں کو اسلام کی صحیح تعلیم دیں تاکہ وہ 'جھوٹے' بیانیے کے بہکاوے میں آکر  انتہا پسند  اور متشدد نہ بن جائیں ’’۔

چونکہ  میں علمائے کرام کی طرف سے آنے والے پُرامن بیان بازیوں کے متعلق مشکوک ہوں ، یہ واضح ہونا چاہیے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کبھی بھی اسلامی نظریات  کے غالب موضوعات کے ساتھ مشغول نہیں ہوتے ہیں جن کو وہ اپنے مدرسوں میں پڑھاتے ہیں ، یہاں تک کہ اسلام کی سیاسی تفہیم سے بھی خود کو جدا نہیں کرتے جو برسوں سے  معتبر علمائے دین سکھاتے چلے آ رہے ہیں۔ میں ذیل میں کچھ اقتباسات پیش کر رہا ہوں  جن سے میرے کہنے کا مقصد واضح ہو جائے گا۔ میں نے اس سے پہلے بھی  نیو ایج اسلام ویب سائٹ پر  ان اقتباسات کو  اپنی  تحریروں اور جنیوا میں یو این ایچ آر سی کے باقاعدہ اجلاسوں میں اپنی تقریروں میں استعمال کر چکا  ہوں۔  میری بڑی توجہ یہاں صوفی نظریات کے حاملین علما پر ہے کیونکہ کشمیر کا صوفی ازم سے گہرا تعلق رہا ہے ۔ تمام  مصنفین  جن کا حوالہ دے رہا ہوں انہوں نے  اپنے ان  خیالات کو اپنی اپنی  کتابوں میں بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ دستیاب حوالوں کے ساتھ ، کوئی بھی  بعد میں  ان کا مطالعہ کرسکتا ہے۔

اگرچہ میں نے پہلے بھی ان مسائل پر روشنی ڈالی ہے ، اور  اسی طرح کے سوالات اٹھائے ہیں ، لیکن کبھی بھی کوئی عالم  یا اسکالر  ان سوالات کے ساتھ مشغول نہیں ہوا ہے۔ اس سے مجھے یہ اشارہ ملتا ہے  کہ وہ خود بھی مندرجہ ذیل اقتباسات میں بیان کردہ  افکار و نظریات  کی درستگی کے قائل ہیں ، لیکن وہ  کشمیر یا اس جیسی کسی اور جگہ میں ہونے والے ایونٹ کے لئے اپنی پرامن ، تکثیری بیان بازی کو محفوظ رکھتے ہیں۔ میرے علمائے کرام ، مجھے غلط ثابت کریں ، اور کہیں کہ آپ ان عظیم  تھیولوجینز (ائمہ ، مفسرین وغیرہم) سے اتفاق نہیں کرتے  جن کی آپ تعظیم کرتے ہیں اور اپنے طلباء کو تعظیم دلاتے ہیں۔ اولڈ ایج اسلام کو ضرور جانا چاہئے اور نیو ایج  اسلام کا پیدا ہونا ضروری ہے۔ تب ہی ہم اپنے نوجوانوں کو خاص طور پر اعلی تعلیم یافتہ ، نفیس نوجوان پیشہ ور افراد اور ماہرین تعلیم  کو جو پوری دنیا میں عسکریت پسندی کی  راہنمائی کرتے ہیں ، کے اندر سے انتہا پسندی کو ختم  کر سکتے ہیں۔

-----

میں ذیل میں صوفیاء اور فقہاء کے چند اقتباسات کو نقل کرنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ مسئلے کی نوعیت اور اہمیت و افادیت واضح ہو سکے، اور اس گورکھ دھندھے سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کے لئے مباحثے کو آگے بڑھایا جاسکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضمیمہ 1

گیارہویں صدی کے صوفی عارف، فقیہ، قانون دان اور فلسفی امام ابو حامد الغزالی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد اسلام کی سب سے بہتر تفہیم آپ کو ہی حاصل تھی۔ جہاد اور غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ان کے حوالے سے اکثر میڈیا میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ:

"جس طرح اہل علم و فکر کے ساتھ حق کے بارے میں گفتگو کرتے وقت علم و استدلال کا اسلوب اختیار کیا جاتا ہے اسی طرح ، حق کی خبر دینے کے بعد کافروں کے خلاف تلوار کااستعمال کیا جاتا ہے۔ لہٰذا جس طرح یہ نہیں کہا جا سکتا کہ تلوار ہی پیغمبر اسلام ﷺ کی سب سے زیادہ مستحکم دلیل تھی اسی طرح یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ علم و استدلال کا اسلوب ہی ایک حتمی دلیل ہے۔ "احیاء علوم الدین مصنفہ ابو حامد الغزالی، جلد 4 ص۔ 35

‘‘سال میں کم از کم ایک بار جہاد پر جانا ضروری ہے ............جب غیر مسلم کسی قلعے میں ہوں تو ان کے خلاف منجنیق کا استعمال کیا جا سکتا ہے، اگر چہ ان کے درمیان عورتیں اور بچیں ہی کیوں نہ موجود ہوں۔ کوئی شخص انہیں آگ میں جھونک سکتا ہے یا انہیں غرقاب کر سکتا ہے........ اگر کسی اہل کتاب کو غلام بنا لیا جاتا ہے تو اس کی شادی خود بخود منسوخ ہو جاتی ہے..... ان کے درختوں کو کاٹا جا سکتا ہے اور ان کی بیکار کتابوں کو جلا دیا جانا ضروری ہے۔مجاہدین ان کے مال سے جس قدر چاہیں مال غنیمت لے سکتے ہیں ..... اور انہیں غذا کی جتنی ضرور ت ہو وہ چوری کرسکتے ہیں.............. ذمی کے اوپر لازم ہے کہ وہ اللہ یا اس کے رسول کا نام نہ لے.......... یہودیوں، عیسائیوں اور مجوسیوں کے لئے جزیہ کی ادائیگی ضروری ہے.......... جزیہ ادا کرتے وقت ضروری ہے کہ ذمی اپنا سر چھکائے ہوئے ہو اور جزیہ وصول کرنے والا اہلکار اس کی داڑھی کو پکڑے اور اس کے جبڑے پر ضرب لگائے........... انہیں اپنی شراب یا چرچ کے گھنٹوں کی نمائش کرنے کی اجازت نہیں ہے .......... ان (ذمیوں) کے گھر مسلمانوں کے گھروں سے اونچے نہیں ہونے چاہئے، خواہ مسلمان کا گھر کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔ ذمی ایک خوبصورت گھوڑے یا خچر پر سوار نہیں ہو سکتا؛ وہ صرف گدھے پر سوار ہوسکتا ہے بشرطیکہ اس کی زین لکڑی سے بنی ہو۔ وہ سڑک کے اچھے حصے پر نہیں چل سکتا۔ ذمی مردوں اور عورتوں کو عوامی حمام میں بھی اپنے لباس پر ایک علامتی ٹکڑا لگانا ضروری ہے ..... [ذمیوں] کو اپنی زبان پر لگام رکھنا ضروری ہے.......۔

"صاحب قرآن اور نبی حق و صداقت محمد ﷺ کی موت کے بعد صحابہ کرام نے اسلام کے کمزور ہونے ، اس کے پیروکاروں کی تعداد میں تنزلی ، اور لوگوں کے اپنے سابقہ حالت کفر پر لوٹ جانے کے خوف سے [اس سے حرب الردہ- ارتداد کی جنگیں مراد ہیں جو خلیفہ اول ابو بکر کے دور حکومت میں لڑی گئیں اور جن کے پیش نظر کفار کے خلاف فتوحات کی جنگوں کو مؤخر کر دیا گیا تھا]، مقدس جنگوں اور اللہ کی خاطر دیگر ممالک کی فتوحات ، تلوار کے ذریعہ کافروں کے چہرے مسخ کرنے اور لوگوں کو اللہ کے دین میں داخل کرنے کی مہم کو تمام علوم کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی’’۔ احیاء علوم الدین مصنفہ ابو حامد الغزالی، جلد 4 ص۔ 35

----- امام ابو حامد الغزالی (1111 -1058)۔ کتاب الوغیز فی فقہ مذہب الامام الشافعی۔ بیروت، 1979، صفحہ 186، 91-190؛ 200-199؛ 203-202۔ [انگریزی ترجمہ : ڈاکٹر مائیکل شوب ۔]

--------

ضمیمہ 2

ہندوستان کے انتہائی معروف صوفی اور فقیہ مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی (1624-1564)، کہتے ہیں:

تلوار کے ذریعے شریعت کو فروغ دیا جا سکتا ہے.......

جب بھی کوئی یہودی قتل کیا جائے اس میں اسلام کا ہی فائدہ ہے۔

کفر اور اسلام ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ایک کی ترقی صرف دوسرے کے خاتمہ سے ہی ممکن ہے اور دونوں متضاد عقائد کے درمیان بقائے باہمی ناقابل تصور ہے........۔

اسلام کی عزت کفر اور کافروں کی تذلیل و توہین میں مضمر ہے۔ جو کافروں کا احترام کرتا ہے وہ مسلمانوں کی توہین کرتا ہے۔ ان کا احترام کرنے کا مطلب صرف انہیں اعزاز سے نوازنا اور انہیں کسی مجلس میں عزت کی جگہ بیٹھانا ہی نہیں ہے ، بلکہ اس کا مطلب ان کی مصاحبت اختیار کرنا اور ان کا خیال رکھنا بھی ہے۔ انہیں دائرہ بازو کے اندر رکھا جانا چاہئے جس طرح کتے رکھے جاتے ہیں۔ اگر کسی دنیاوی کاروبار کا ان کے بغیر چلانا مشکل ہو جائے ، تو اس صورت میں انہیں اعتماد میں لئے بغیر ہی ان کے ساتھ کم سے کم رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے.........۔

اعلیٰ ترین اسلامی جذبات کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے دنیاوی کاروبار کو ترک کر دینا ہی بہتر ہے اور کافروں کے ساتھ کوئی تعلق قائم نہیں کیا جانا چائے۔ ان پر جزیہ عائد کرنے کا اصل مقصد ان [ غیر مسلموں] کی اس حد تک توہین و تذلیل کرنا ہے کہ جزیہ کے خوف سے وہ اچھے لباس زیب تن کرنے اور جاہ و حشمت کی زندگی بسر کرنے کے قابل ہی نہ ہو سکیں۔ انہیں مسلسل لرزیدہ اور ترسیدہ رہنا چاہئے۔ اس کا مقصد ان کی تذلیل اور تحقیر کرنا اور اسلام کی ہیبت اور اسلام کا اقبال بلند رکھنا ہے۔

ہندوستان میں گائے کی قربانی عظیم ترین اسلامی معمولات میں سے ایک ہے۔ کافر جزیہ ادا کرنے کے لئے تیار تو ہو سکتے ہیں لیکن گائے کی قربانی وہ کبھی تسلیم نہیں کریں گے........

ملعون کافر گوبندوال [ایک سکھ جس نے اپنے معاشرے کی جابرانہ مسلم حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا] کی پھانسی ایک اہم کامیابی ہے اور ملعون ہندوؤں کی عظیم شکست ہے ......

اس کے پیچھے خواہ جو بھی محرک ہو کافروں کی ذلت و رسوائی مسلمانوں کے لئے افتخار کی بات ہے۔ اس کی پھانسی سے پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ شہنشاہ نے شرک کے سربراہ کا تاج توڑ دیا ہے۔ بے شک وہ مشرکوں کا سردار تھا اور کافروں کا رہنما تھا۔

--- سید اطہر عباس رضوی ، سولہویں اور سترہویں صدی میں شمالی ہند کی مسلم تجدیدی تحریکیں۔ آگرہ، لکھنؤ : آگرہ یونیورسٹی، بال کرشنا بک کمپنی، 1965، pp۔

یوہانن فریڈمن کی کتاب Yohanan Friedmann’s Shaykh Ahmad Sirhindi: An Outline of His Thought and a Study of His Image in the Eyes of Posterity pp. 73-74 بھی ملاحظہ ہو۔

-۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضمیمہ 3

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (1762-1703)، مسلمانو ں کے درمیان ایک عظیم صوفی اورفقیہ کی حیثیت سے ایک اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں کے کچھ اقتباسات جو انٹرنیٹ پر گردش کر رہے ہیں حسب ذیل ہیں:

میرے دماغ میں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ آسمان کی بادشاہت کافروں کے لئے ذلت و رسوائی مقدر کر چکی ہے۔ کیا بادشاہ (نظام الملوک) کو اپنے خزانے اور جرأتمندی کے ساتھ ایسی مہم کا عزم مصمم نہیں کرنا چاہئے تاکہ اسے پوری دنیا پر فتح حاصل ہو سکے.....۔ اس طرح ایمان کو مزید غلبہ حاصل ہو گا اور اس کی طاقت مضبوط ہو گی ؛ ایک چھوٹی سی کوشش سے عظیم اجر ملے گا۔ کیا انہیں کوئی کوشش نہیں کرنی چاہئے، اس لئے کہ وہ [مراٹھی] یقینا آسمانی مصیبتوں سے کمزور ہو کر نیست و نابود ہو جائیں گے اور ایسی صورت میں اس کا سہرا ان کے سر نہیں جائے گا.......۔ میرے قلب پر ان باتوں کا (آسمان) سے القاء ہوا ہے اور میں آپ کے سامنے موجود اس عظیم موقع کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرنے کے لئے بے ساختہ طور پر یہ مکتوب لکھ رہا ہوں۔ لہذا آپ کو جہاد کرنے میں غفلت سے کام نہیں لینا چاہئے.......۔ ائے بادشاہ! ملائے اعلی سے آپ کے لئے یہ حکم ہے کہ آپ اپنی تلوار میان سے نکال لیں اور دوبارہ اسے اس وقت تک میان کے اندر نہ رکھیں جب تک اللہ اللہ مشرکوں اور باغی کافروں سے مسلمانوں کو علیحدہ نہ کر دے اور گنہگار بالکل کمزور اور بے بس نہ ہو جائیں۔ '

خلیفہ اول حضرت ابو بکر نے حضرت عمر کے لئے اپنی وصیت میں اس بات سے آگاہ کیا تھا کہ اگر تم خدا سے ڈرو گے تو پوری دنیا تم سے خوف کھائے گی۔ عرفاء یہ کہہ چکے ہیں کہ یہ دنیا ایک سائے کی طرح ہے۔ اگر کوئی انسان اپنے سائے کے پیچھے بھاگتا ہے تو وہ سائے کا پیچھا کرتا ہے ، اور اگر کوئی اپنے سائے کی طرف پیٹھ کر لیتا ہے تو پھر سایہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔ خدا نے آپ کو سنیوں کے محافظ کے طور پر منتخب کیا ہے اس لئے کہ کوئی دوسرا ایسا نہیں ہے جو اس کام کو انجام دے، اور ضروری ہے کہ ہر وقت آپ اپنے کردار کو لازمی جانیں۔ اسلام کو غالب کرنے تلوار اٹھا کر کے ، اور اس مقصد کے حصول کے لئے اپنی ذاتی ضروریات کو اس کے ماتحت کر کے آپ بڑا نفع اٹھائیں گے۔

[افغان حکمران احمد شاہ ابدالی درانی کو خط میں شاہ ولی اللہ دہلوی لکھتے ہیں] ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر آپ سے یہ التجا کرتے ہیں کہ آپ اس خطے کے کافروں اور بےدینوں کے خلاف جہاد کریں۔ اس پر آپ اللہ عز و جل کی بارگاہ میں اجر عظیم کے مستحق قرار پائیں گے اور آپ کا نام ان لوگوں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا جنہوں نے اللہ کی خاطر جہاد کیں۔ اور رہ گیا سوال دنیاوی فائدے کا تو کثیر مال غنیمت غازیوں کے ہاتھ لگے گا اور مسلمان ان کی قید سے آزاد ہو جائیں گے۔ نادر شاہ کے حملے نے مسلمانوں کو تباہ کر دیا، مراٹھیوں اور جاٹوں کو محفوظ اور خوشحال ہی چھوڑ دیا ۔ اس کے نتیجے میں کافر و بے دین اپنی دوبارہ مضبوط ہو رہے ہیں اور دہلی کے مسلم حکمران صرف کٹھ پتلی بن کر رہ گئے ہیں۔

جب کوئی فاتح فوج مسلمان اور ہندو والی مخلوط آبادی کے علاقے میں پہنچے تو شاہی محافظوں کا کام یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو ان گاؤں سے شہروں میں منتقل کر دیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کی جائیداد کی دیکھ بھال بھی کریں۔ غریبوں ، محتاجوں ، سیدوں اور علماء کو بھی حکومتوں کے ذریعہ مالی امداد فراہم کی جانی چاہئے۔ اس کے بعد ان کی کامیابی کے لئے فوری دعاؤں کے ساتھ ان کی سخاوت مشہور ہو جائے گی۔ ہر شہر اسلامی فوج کی آمد کے لئے شدید منتظر ہو گا۔ اس کے علاوہ، جہاں کہیں بھی مسلمانوں کی شکست کا تھوڑا بھی اندیشہ ہو وہاں اسلامی فوج جائے تاکہ کافروں کو پوری دنیا کے کونے کونے میں منتشر کر دے۔ جہاد ان کی پہلی ترجیح ہونی چاہئے ، اور اس طرح انہیں ہر مسلم کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہئے۔

--- سید اطہر عباس رضوی۔ Shah Wali Allah and his times ۔ کینبرا، آسٹریلیا، معرفت پبلشنگ ہاؤس، 1980، صفحہ 294-296، 299، 301، 305۔

-۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضمیمہ 4

Shah Wali Allah and his times کے تجزیہ میں اطہر عباس رضوی لکھتے، صفحہ۔ 286۔ 285:

شاہ ولی اللہ کے مطابق اسلامی شریعت کے کامل نفاذ کی علامت جہاد کی ا دائیگی تھی۔ انہوں نے قانونی اعتبار سے مسلمانوں کے فرائض کا موازنہ ایسے لوگوں سے کیا ہے جن کے پاس ایک پسندیدہ غلام ہو جس نے گھر میں دوسرے غلاموں کے کڑوی دوا کا انتظام کیا ہو۔ اگر زور و جبر کے ساتھ یہ کام انجام دیا جاتا تو جائز تھا لیکن اگر کسی نے اس میں رحمت اور شفقت سے کام لیا تو یہ اور بھی بہتر ہوا۔ تاہم، شاہ ولی اللہ دہلوی نے کہا کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحتوں اور احکام کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے آبائی مذہب پر عمل کرتے ہیں۔ اگر کوئی اس طرح کے لوگوں کو اسلام سمجھانا چاہتا ہے تو یہ نقصان دہ ہے۔ شاہ ولی اللہ نے کہا کہ ایسے لوگوں کے لئے سب سے بہتر جبر واکراہ ہے، اسلام بہ جبر و اکراہ ان کے گلے کے اندر اسی طرح اتار دینا چاہئے جس طرح ایک کڑوی دوا کسی بچے کی حلق کے نیچے اتاری جاتی ہے۔ تاہم، یہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب غیر مسلموں کے وہ رہنما مار دئے جائیں جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا ہے ، غیر مسلموں کو کمزور کیا جائے ، ان کی املاک ضبط کر لی جائے اور ایک ایسی صورت حال پیدا کر دی جائے کہ ان کے پیروکار اور ان کی اولادیں اپنی مرضی سے اسلام قبول کر لیں۔ شاہ ولی اللہ کا ماننا تھا کہ جہاد کے بغیر عالمی سطح پر اسلام کا تسلط ممکن نہیں ہے۔

-----

ضمیمہ۵

اس طرح کے خیالات موجودہ دور کے  حالات سے  غیر متعلق معلوم ہوتے ہیں ۔لیکن یہ بھی ذہن نشین رہے کہ تمام  علماء  اپنے  زمانے کی پیداوار  ہوتے ہیں، جس میں انہیں اپنے شعورو احساس کے مطابق  حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے رکھ دیا جاتا ہے  ۔ بیسویں اور اب اکیسویں صدی میں کچھ علما ء و فقہاء اورقرآن کریم کے مفسرین ایسے بھی ہیں جنہوں نے   کلیۃ متضاد و مخالف مواقف اختیار کیا ہے، اگرچہ بد قسمتی سے اسلامی نظریات کا اجماعی موقف مسلسل  کلاسیکی علما و فقہا اور ان  کے متعصب افکار کی اتباع کرتے رہتے ہیں جو کسی طرح سے بھی عصر جدید کی شعور و آگہی سے تعلق نہیں رکھتا ۔

مثال کے طور پر قرآن کی  اپنی موضوعی تفسیر میں  شیخ محمد الغزالی السقا (۱۹۱۷ تا  ۱۹۹۶) نے یہ ثابت کرنے کی ہر کوشش کی ہے کہ قرآن کریم کا پیغام امن اور کثرت پسند ہے۔سورہ توبہ کی آیت ۵ کی جو تفسیر انہوں نے پیش کی ہے اس سے بہتر کچھ نہیں ہو سکتا ۔یہ وہ آیت ہے جس کے متعلق  رشید الدین میبودی جیسے نامور صوفی مفسرین  بھی یہ خیال پیش کرتے ہیں کہ یہ آیۃ السیف ہے جس نے  تقریبا ۱۲۴ آیات کریمہ کو منسوخ کر دیا ہے جو امن و سلامتی اور تکثیریت  اور مصائب و آلام کی  نازک حالت میں  صبر و تحمل کی دعوت دیتی ہیں۔ان کی تفسیر کا مختصر اقتباس  یہاں قارئین کے لیے پیش کرنا  بہت ہی  روشن کن ثابت ہوگا، مگر اس سے قبل اس اسکالر کا مختصر تعارف پیش کرنا زیادوہ موزوں و مناسب ہوگا ۔

شیخ محمد الغزالی السقا  ایک مشہور عالم دین اور اسکالر  تھے جن کی تحریروں نے "مصریوں کی نسلوں پر اثر انداز ہوئیں"۔  ۹۴ کتابوں کے مصنف شیخ غزالی سقا نےعصر جدید کی ضروریات و مقتصیات کو اپنے ذہن  کے نگار خانہ  میں رکھتے ہوئے   اسلام اور اس کی مقدس کتاب قرآن کریم کی تفسیر و تشریح پیش کی اور اس طرح  کے کارناموں سے انہوں نے متبعین کی ایک بڑی جماعت کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ۔حالیہ مصر میں بڑے پیمانہ پر اسلامی عقیدہ کااحیا کرنے کا سہرا ان کے سر جاتا ہے (۲)۔ایک مصدر کے  ذریعہ پیش کردہ قول کے مطابق وہ ‘‘مسلم دنیا کے سب سے زیادہ قابل قدر شخصیتوں میں سے ایک ہیں ’’ (۳)۔ویکیپیڈیا (مترجم)

شیخ محمد الغزالی السقا سورہ توبہ کی آیت 5 (9: 5) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"... لہذا بنیادی طور پر مسلمان جنگ کے مخالف ہیں اور کبھی بھی انہوں نے اس کی شروعات نہیں کی ۔ خود ان کے مذہب کی تعلیم نے ان کے اوپر لازم کیا ہے کہ وہ طاقت و قوت کا استعمال کرتے ہوئے دوسروں پر اپنا مذہب نافذ نہ کریں۔ ان کا مشن صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں تک اللہ کے پیغام کو پہونچادیں اور اس کا فیصلہ کرنے کے لئے لوگوں کو آزاد چھوڑ دیں کہ وہ چاہیں تو اس پر ایمان لائیں اور چاہیں تو اس سے انکار کریں۔ جو لوگ ایمان لانے سے انکار کرتے ہیں وہ امن کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے کے لئے آزاد ہیں جب تک کہ وہ اسلام اور ان مسلمانوں کے لئے کوئی رکاوٹ یا خطرہ پیدا نہ کریں، جو اپنے ایمان کو اللہ عز و جل اور انسانیت کے درمیان مضبوط ترین اور اہم ترین تعلق تصور کرتے ہیں ، اور یہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوسروں کو اسلام سے آگاہ کریں اور انہیں اسلام کو سمجھنے اور اس کی قدر کرنے کا موقع فراہم کریں۔

"اسلامی معاشرے کے اندر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلقات کی بنیادی یہی ہے۔ قرآن میں ایک اور مقام پر اللہ کا فرمان ہے:

"پس اگر وہ تم سے کنارہ کشی کر لیں اور تمہارے ساتھ جنگ نہ کریں اور تمہاری طرف صلح (کا پیغام) بھیجیں تو اللہ نے تمہارے لئے (بھی صلح جوئی کی صورت میں) ان پر (دست درازی کی) کوئی راہ نہیں بنائی،" [ النساء : 90]۔ جو لوگ کسی مسلم ریاست یا اس کے ایک حصے کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں ان کا مقابلہ کیا جانا چاہئے، اور اگر وہ شکست کھا لیں تو ان سے ہتھیار الگ کر لیا جائے۔ اور ایک بار جب یہ مراحل طئے کر لئے جائیں تو وہ مسلم حکام کے تحفظ میں امن اور سلامتی کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے اور اپنے عقائد و معمولات پر عمل کرنے کے لئے آزاد ہیں، جس کے بدلے میں انہیں ایک اجرت ادا کرنا پڑتی ہے۔

"یہ وہ پس منظر ہے جس کے تحت جزیہ یا خراج ان کے اوپر مشروع کیا گیا ہے۔ اس کی ادائیگی ان لوگوں کے اوپر نہیں ہے جو غیر جانبدار ہیں اور جنہوں نے کبھی بھی مسلم ریاست کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھایا ہے۔ اس خراج کے پیچھے جو وجہ ہے قرآنی آیت میں اس کی کافی وضاحت موجود ہے، کیوں کہ وہ آیت ایسے لوگوں کا تعین کرتی ہے جن کے لئے جزیہ مشروع ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں "جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ یومِ آخرت پر اور نہ ان چیزوں کو حرام جانتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام قرار دیا ہے اور نہ ہی دینِ حق اختیار کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ تابع و مغلوب ہو کر خراج ادا کریں۔"

--- شیخ محمد الغزالی ، "التفسیر الموضوعی" [The International Institute of Islamic Thought ، طبع ثانی، 2005]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضمیمہ ۶

مذکورہ بالا امن پسندانہ نظریہ، تاہم، غالب نظریہ نہیں رہا ہے اور نہ ہی اس کا بہت اثر و رسوخ ہے۔ شاید  بیسویں صدی کے مذہبی ماہرین میں سب سے زیادہ اثر و رسوخ، شیعہ روحانی اور ایران کے انقلابی رہنما ، آیت اللہ روح اللہ خمینی کا رہا ہے۔ ان کے خیالات مصر کے سید قطب اور ہندوستان کے مولانا مودودی (جو بعد میں پاکستان منتقل ہو گئے تھے) جیسے سنی سلفی مذہبی ماہرین کے نظریہ سے مختلف نہیں ہیں۔

 امام خمینی فرماتے ہیں:

اسلام کا جہاد بت پرستی ، جنسی بے راہ روی، لوٹ مار ، جبر اور ظلم کے خلاف جدوجہد ہے۔ [غیر اسلامی] فاتحوں کے ذریعہ شروع کی جانے والی جنگ کا مقصد ہوس اور جانوروں کی لذتوں کو فروغ دینا ہے۔ اگر پورے ممالک کا صفایا ہوجائے اور بہت سے خاندان بے گھر ہو جائیں تو بھی انہیں اس کی پرواہ نہیں۔ لیکن جو لوگ جہاد کا مطالعہ کریں گے وہ سمجھ جائیں گے کہ اسلام کیوں پوری دنیا کو فتح کرنا چاہتا ہے۔ اسلام کے ذریعہ فتح یا مستقبل میں فتح پانے والے تمام ممالک کو ہمیشہ کی نجات کے لئے نشان زد کیا جائے گا۔ کیونکہ وہ [خدا کے قانون] کے تحت زندگی گزاریں گے۔ ...

جو لوگ اسلام کے بارے میں کچھ نہیں جانتے وہ یہ دکھاوا کرتے ہیں کہ اسلام جنگ کے خلاف مشورہ دیتا ہے۔ وہ [جو یہ کہتے ہیں] بے وقوف ہیں۔ اسلام کہتا ہے: تمام کافروں کو اسی طرح مار ڈالو جیسے وہ آپ سب کو قتل کردیں! کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اس وقت تک پیچھے بیٹھے رہیں جب تک کہ وہ [کافروں] کے ہاتھوں بھسم نہ ہوجائیں؟ اسلام کہتا ہے: [غیر مسلموں] کو مار ڈالو، انہیں تلوار کی زد میں لاو اور [ان کی فوجوں کو] بکھیر دو۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک [غیر مسلم] ہم پر قابو نہیں پاتے بیٹھے رہیں گے؟ اسلام کہتا ہے: اللہ کے لیے ان کو مار ڈالو جو آپ کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں [دشمن کے سامنے] ہتھیار ڈالنا چاہیے؟؟ اسلام کہتا ہے: جو کچھ بھی اچھائی ہے وہ تلوار کی بدولت ہے اور تلوار کے سائے میں ہی ہے! لوگوں کو تلوار کے سوا فرمانبردار نہیں بنایا جاسکتا! تلوار جنت کی کنجی ہے ، جسے صرف مقدس جنگجوؤں کے لئے ہی کھولا جاسکتا ہے!

سیکڑوں دیگر [قرآنی] زبور اور احادیث [نبی کے اقوال] میں مسلمانوں کو جنگ کی قدر اور لڑنے کی تاکید کی گئی ہے۔ کیا اس سب کا مطلب یہ ہے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو مردوں کو جنگ لڑنے سے روکتا ہے؟ میں ان بے وقوف جانوں پر تھوکتا ہوں جو ایسا دعویٰ کرتے ہیں۔

(ماخوذ از ‘‘انٹی ٹیررزم اینڈ دی میڈل ایسٹ ’’ (ماخذ دستاویزات اور اہم عسکریت پسند اسلامی شخصیات کے بیانات کا مجموعہ) ۔ آیت اللہ روح اللہ خمینی مرحوم نے اس سوال کا جواب میں کہ، "کیا اسلام امن کا مذہب ہے؟)

ضمیمہ  ۷

مذکورہ بالا صوفی نظریات کے ماہرین کی تحریروں کا تقابلی مطالعہ کرنے کے لیے درج ذیل سلفی نظریات کے حاملین علما کی تحریروں سے چند  اقتباسات ملاحظہ فرمائیں:

امام ابن تیمیہ (1263 تا 1328) ایک حنبلی فقیہ اور عالم دین ہیں جنہیں وہابی سلفی مسلمانوں کے درمیان بہت زیادہ احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، اور حال ہی میں سعودی حکومت کی جانب سے جن کے مذہبی اصول و نظریات کی تبلیغ و اشاعت کی وجہ سے ان کے اثر و رسوخ میں کافی اضافہ ہوا ہے، وہ لکھتے ہیں:

"چونکہ جائز جنگ بنیادی طور پر جہاد ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ دین صرف اللہ کا ہی ہے، اور خدا کا کلام سب پر برتر و بالا ہے، اسی وجہ سے تمام مسلمانوں کے مطابق جو کوئی بھی اس مقصد کے حصول میں روکاوٹیں پیدا کرے اس سے مقابلہ کیا جانا ضروری ہے..... اور جہاں تک اہل کتاب اور آتش پرستوں کی بات ہے تو ان کے ساتھ جنگ کی جائے گی یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو جائیں یا جزیہ ادا کرنے کےلیے راضی ہو جائیں۔ اور ان کے علاوہ کے بارے میں فقہاء کے درمیان ان سے جزیہ لینے کے جواز پر اختلاف رائے ہے۔ ان میں سے بیشتر اس کے عدم جواز کے قائل ہیں....."(روڈولف پیٹرس، کلاسیکی اور جدید اسلام میں جہاد (پرنسٹن، NJ:۔ مارکس وینر، 1996)، صفحہ 44-54)

ایک ہندوستانی اسلامی عالم دین اور حنفی فقیہ شیخ احمد سرہندی (1564-1624) جنہیں مجدد الف ثانی، یعنی دوسری اسلامی صدی کے مجدد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، لکھتے ہیں:

1۔ ".....ہنددوستان میں گائے کی قربانی عظیم ترین اسلامی معمولات میں سے ایک ہے۔"

2۔ "کفر اور اسلام ایک دوسرے کے برعکس ہیں۔ ایک کی ترقی دوسرے کے خاتمہ سے ہی ممکن ہے، اور ان دو متضاد عقائد کے درمیان بقائے باہمی ناقابل تصور ہے۔

3۔ "اسلام کی عزت کفر اور کافروں کی توہین میں مضمر ہے۔ جو کافروں کا احترام کرتا ہے وہ مسلمانوں کی توہین کرتا ہے۔"

4۔ "ان پر جزیہ عائد کرنے کا حقیقی مقصد اس حد تک ان کو نیچا دکھانا ہے کہ وہ جزیہ کے خوف کی وجہ سے نہ تو اچھے پوشاک پہنیں اور نہ ہی شان و شوکت کی زندگی گزارنے کے قابل ہوں۔ انہیں ہمیشہ مسلمانوں کے خوف سے لرزہ براندام رہنا چاہئے۔

5۔ " جب بھی کوئی یہودی ہلاک کیا جاتا ہے تو اس میں اسلام کا فائدہ ہے۔"

([Muslim Revivalist Movements in Northern India in the Sixteenth and Seventeenth Centuries] ترجمہ؛ سولہویں اور سترہویں صدی میں شمالی ہندوستان میں مسلم تجدیدی تحریکیں، مصنف، سید اطہر عباس رضوی، (آگرہ، لکھنؤ، آگرہ یونیورسٹی، بال کرشنا کتاب کمپنی، 1965)، صفحہ۔247-50 اور یوہانہ فرڈ مین، [Shaykh Ahmad Sirhindi: An Outline of His Thought and a Study of His Image in the Eyes of Posterity] (مانٹریال، کیوبیک: میک گل یونیورسٹی، انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک سٹڈیز، 1971) صفحہ 73-74)۔

ہندوستان کے سب سے عظیم الشان عالم دین، محدث اور فقیہ شاہ ولی اللہ دہلوی (1703تا 1762) فرماتے ہیں:

 "دیگر تمام مذاہب پر اسلام کو غالب کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری ہے، خواہ لوگ اس مذہب کو رضاکارانہ طور پر قبول کر لیں یا ذلت و رسوائی کے بعد اسے قبول کریں۔ اس طرح لوگوں کو تین گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

"(ذلیل کافر)، جن سے بوجھ ڈھونے، کھتی کرنے جیسے وہ حقیر کام کروائے جائیں گے جن کے لیے جانوروں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کافروں پر ذلت و رسوائی کا قانون عائد کیا ہے اور ان پر غلبہ حاصل کرنے اور ان کی توہین کرنے کے لیے ان پر جزیہ عائد کیا ہے....... آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قصاص، دیت (خون بہا)، شادی اور سرکاری انتظامیہ کے معاملے میں مسلمانوں کے مساوی نہیں شمار کیا ہے، تاکہ وہ بالآخر مجبور ہو کر اسلام قبول کر لیں۔" (حجۃ اللہ البالغہ، جلد1،باب 69، صفحہ نمبر، 289)

محمد بن عبد الوہاب، (1703 تا 22 جون 1792)، سعودی عرب کے وہابی سلفی فرقہ کے بانی :

‘‘اگر فرزندان توحید (مسلمان) شرک سے بھی گریز کریں، تب بھی ان کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے قول وعمل کے ذریعہ غیرمسلموں کے تئیں نفرت اور دشمنی کا اظہار نہ کریں۔’’ (مجموعۃ الرسائل والمسائل النجدیۃ، 4/291)

ابو الاعلیٰ مودودی (25 ستمبر 1903 تا 22 ستمبر 1979)، جماعت اسلامی کے بانی ، لکھتے ہیں:

 "اسلام روئے زمین پر ان تمام ریاستوں اور حکومتوں کو تباہ کرنا چاہتا ہے جو اسلامی نظریات اور منصوبوں کی مخالفت کرتے ہیں، اس ملک یا قوم سے قطع نظر جو ان پر حکمرانی کرتی ہے ۔ اسلام کا مقصد اپنے نظریات اور اور منصوبوں پر مبنی ایک ریاست قائم کرنا ہے، اس بات سے قطع نظر کہ کون سا ملک اسلام کے معیاری کردار کا حامل ہے یا کس ملک کی حکمرانی نظریاتی طور پر اسلامی ریاست کے قیام کے عمل میں کمزور ہے۔ اسلام صرف ایک حصہ نہیں بلکہ پوری روئے زمین کا مطالبہ کرتا ہے ۔۔۔۔ پوری انسانیت کو اسلامی نظریہ اور اس کے فلاح و بہبود کے منصوبوں سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے ۔۔۔ اس مقصد کے حصول میں اسلام ان تمام قوتوں کے استعمال کا متمنی ہے جو ایک انقلاب پیدا کر سکیں ۔ ان تمام قوتوں کو استعمال کرنے کے لئے ایک جامع اصطلاح 'جہاد' ہے ۔ ۔۔۔۔ اسلامی 'جہاد' کا مقصد غیر اسلامی نظام حکومت کو ختم کرنا اور اس کے بجائے ایک اسلامی نظام قائم کرنا ہے۔ " (مودودی، الجھاد فی الاسلام

حیدر آبادی عالم مولانا عبدالعلیم اصلاحی اپنی کتاب ‘‘طاقت کا استعمال : قرآن کی روشنی میں ’’ میں اندھا دھند تشدد کا جواز پیش کرتے ہیں ۔ میں یہاں کچھ اقتباسات قارئین کے لئے پیش کروں گا  اس مولانا کی کتاب سے جو کہ لڑکیوں کا حیدر آباد میں ایک مدرسہ چلاتے ہیں  اور انڈین مجاہدین کو حوصلہ فراہم کرنے کے لئے جاتے ہیں :

 ‘‘ترجمہ: جان لو بلاشبہ کفار سے جہاد ان کے ملکوں میں فرض کفایہ ہے باتفاق علماء ...........’’

 ‘‘.......میں پورے یقین اور و ثو ق سےکہتا ہوں کہ بفرض علاء کلمۃ قتال کو نہ کہیں اعتداء اور عدوان کہا گیا ہے اور نہ اس سے منع کیا گیا ہے اس کے برخلاف اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے جہاد و قتال کا نہ صرف حکم دیا گیا  ہے بلکہ اس کے لئے ترغیب اور تخریص اور تبشیر کتاب و سنت میں ایک ایسی عام بات ہے جو ناخواندہ مسلمان بھی جاتنا ہے لیکن عصر حاضر کے دانشور اس کو جھٹلا نے پر تلے ہوئے ہیں۔’’

 ‘‘جس طرح اسلام قبول کرنے کی دعوت دینا واجب اور فرض ہے اسی طرح ادیان باطلہ پر اسلام کو غالب کرنے اور اہل کفر و شرک کو ماتحت اور زیر نگیں بنانے کی جد وجہد کرنی بھی فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو ذمہ داری شہادت حق اور اظہار دین کے عنوان سے مسلمانوں پر ڈالی ہے وہ صرف وعظ و نصیحت اور دعوت و تبلیغ سے ادا ہونے والی نہیں ہے ورنہ عزوات و سرایا کہ ضرورت پیش نہیں آتی۔’’

 ‘‘دین کو غالب کرنے اور بدیوں کے سر چشموں کو بند کرنے کےلئے جہاد فرض کیا گیا ہے اسی کا م کی اہمیت کے پیش نظر جہاد فی سبیل اللہ کے فضائل قرآن و احادیث میں بتائے گئے ۔ اور اسی لئے تمام کفار سے جنگ کرنے کاحکم صاف اور صریح لفظوں میں دیا گیا ہے۔’’ قرآن پاک میں ہے ‘‘تم سب مل کر مشرکین سے جنگ کرو جیسا کہ وہ سب مل کر تم سے جنگ کرتے ہیں۔’’(سورہ توبہ: 9:36) (ماخوز از : مولانا عبد العلیم اصلاحی  کی کتاب ‘‘طاقت کا استعمال قرآن کی روشنی میں )

مولانا وحید الدین خان (پیدائش: 1 جنوری، 1925)، امن و رواداری کی پرچارک ، لکھتے ہیں :

‘‘ہزاروں برس کی پیغمبرانہ کوشش ثابت کر چکی تھی کہ مجرد فکری اور دعوتی جد و جہد انسان کو توہمات کے اس دور سے نکالنے کے لیے ناکافی ہے ۔اس زمانہ کی حکومتیں بھی انہیں توہماتی عقائد(شرک و کفر) کی بنیاد پر قائم ہوتی تھیں۔ اس لیے حکمرانوں کا مفاد اس میں تھا کہ توہماتی دور دنیا میں باقی رہے ۔تاکہ عوام کے اوپر ان کی بادشاہی کا حق مشتبہ نہ ہونے پائے ۔اس لیے وہ اپنی فوجی اور سیاسی طاقت کو ہر اس دعوت کے خلاف بھرپور طور پر استعمال کرتے تھے جو شرک اور توہم پرستی کو ختم کرنے کے لیے اٹھی ہو۔ اب سوال یہ تھا کہ کیا جائے ۔یہی وہ وقت ہے جب کہ چھٹی صدی عیسوی میں پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا ۔اللہ تعالی نے اپنے خصوصی فیصلہ کے تحت آپ کو ‘‘داعی’’ بنانے کے ساتھ ‘‘ماحی’’ بھی بنایا ۔یعنی آپ کے ذمہ یہ مشن سپرد ہوا کہ آپ نہ صرف اس توہماتی نظام کے باطل ہونے کا اعلان کریں بلکہ اس کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی خاطر اس کے خلاف فوجی کارروائی (میلیٹری آپریشن) بھی فرمائیں۔ انسانوں کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لانے کا یہی کام تمام پیغمبروں کے سپرد ہوا تھا ۔تاہم پیغمبر اسلام کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ آپ کے لیے اللہ تعالی نے فیصلہ کیا کہ آپ صرف پیغام پہنچا کر انسانیت کو اس کے حال پر نہ چھوڑ دیں بلکہ اقدام کرکے ان کی حالت کو عملا بدل ڈالیں۔ اس عملی اقدام کو کامیاب بنانے کے لیے جو ضروری اسباب درکار تھے ، وہ سب اللہ تعالی نے آپ کے لیے مہیا فرمائے۔ نیز یہ ضمانت بھی دے دی کہ دنیوی اسباب کی ہر کمی فرشتوں کی خصوصی مدد سے پوری کی جائے گی ۔ یہ بات حدیث میں مختلف انداز سے بیان ہوئی ہے۔ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں: وانا الماحی الذی یمحو اللہ تعالی بی الکفر (یعنی میں مٹانے والا ہوں جس کے ذریعے سے اللہ تعالی کفر کو مٹائے گا ) گویا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم صرف داعی نہ تھے۔اسی کے ساتھ وہ ماحی بھی تھے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر کے مشن کی تکمیل کے لیے صالح انسانوں کے علاوہ اللہ اور فرشتے تک اس کے مددگار ہیں۔ ایسا اس لیے ہوا کہ اللہ تعالی کو جو نیا دور ظہور میں لانا تھا ، اس کا ظہور ممکن ہو سکے ۔ (ماخوذ از ، مولانا وحید الدین خان : اسلام دور جدید کا خالق مطبوعہ :2003)

پوسٹ اسکرپٹ

یہ ستم ظریفی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان امن و بھائی چارگی کی اشاعت کرنے والے مولانا وحید الدین خان کو اسلامی تھیولوجی کی بنیاد پر کہنا پڑتا ہے کہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم) کا عمل دنیا سے کفر و شرک  کا خاتمہ کرنا تھا  حتیٰ کے اس کے لئے انہیں فوجی ذرائع بھی  استعمال کرنا پڑا۔ اگر یہ ایسا ہی ہے تو کیا چیز اس زمانے  کے بن لادن اور بغدادیوں کے حامیوں کو روکے گی جن کا دعویٰ ہے کہ وہ محض نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا نا مکمل مشن پورا کرنے میں لگے ہیں ۔

مذکورہ بالا تمام حوالوں کا تقابلی تجزیہ اس بات  کو ظاہر کرے گا کہ شیعہ ، سنی ، سلفی ، صوفی ، دیوبندی ، وہابی ، اہلحدیث ، اخوان المسلمون یا جماعت اسلامی کے نظریات میں کوئی فرق نہیں ہے۔

ان تمام خطبوں سے یہ پیغام واضح ہے کہ اسلام کو دنیا پر غلبہ حاصل کرنا ضروری  ہے  اور ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ اس میں وہ ہر ممکن تعاون پیش کرے۔ جب ایک مسلمان بالغ ہوتا  ہے تو اسے اسلام سپر میسزم کا یہی پیغام ملتا ہے ۔ اسلامی تھیولوجی پر سب سے زیادہ مستند کتب میں تازہ ترین کتاب موسوعہ فقہیہ ہے جو ۴۵ جلدوں پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب اوقاف و اسلامی امور ، کویت  کی وزارت کی طرف سے مصروف کئے گئے تمام مذاہب  اسلام کے علماء کے ذریعہ تقریباً نصف صدی کے عرصے میں  تیار کیا گیا تھا ۔اس کتاب کےاردو ترجمہ کا افتتاح  ۲۳ اکتوبر ۲۰۰۹ کو سابق نائب صدر حامد انصاری کے ہاتھوں دہلی میں  ہوا تھا ۔

اسلامی تھیولوجی کے سب سے زیادہ با اثر اس  کتاب میں ۲۳ ہزار الفاظ پر مشتمل جہاد کے موضوع پر ایک باب قائم کیا گیا ہے  ۔ ہم  اعتدال پسند مسلمان اور صوفی حضرات  اس موضوع پر  بات کرتے رہتے ہیں کہ جہاد بالنفس جہاد اکبر ہے اور جہاد با لقتال جہاد اصغر ہے۔ مگر کتاب کے شروع میں  صرف ایک جملہ کے سوا پورا باب دشمنوں یعنی کافروں، مشرکوں اور مرتدوں کو قتل کرنے اور ان سے لڑنے کے متعلق موضوعات پر ہے۔ اس کی شروعات ہوتی ہے اس سنگین اعلان کے ساتھ کہ ‘‘ جہاد کا مطلب دشمنوں کے خلاف قتال کرنا ہے ’’۔اس کتاب میں حقیقی جہاد یا  جہاد اکبر کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔

پھر ابن تیمیہ کے ایک قول کاحوالہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ   ‘‘....اس طرح سے جہاد مسلم پر ، اس کے صلاحیت و قدرت کے مطابق، واجب ہے’’ ۔ پھر آخری اور حتمی تعریف پیش کی جاتی ہے : ‘‘ اصطلاح میں جہاد کا مطلب ہے کسی ایسے  غیر ذمی کافر کے خلاف قتال کرنا جو اسلام کی دعوت کا انکار کر دیتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کے کلمات کو بلند اور قائم کیا جاسکے’’ ۔(عربی سے ترجمہ)

کسی ذہین ، تعلیم یافتہ مسلمان کے لئے ہماری منافقت کو دریافت کرنا مشکل نہیں ہے ۔ ہم اعتدال پسند مسلمان جن انتہا پسند تعلیمات کی واضح طور پر مذمت کرتے ہیں وہ حقیقت میں موجودہ اسلامی نظریات جنہیں اسلام کے تمام مکاتب  فکر اور مذاہب کی اجماعی  تائید حاصل ہے سے مختلف نہیں ہے۔

مرحوم اسامہ بن لادن یا اس کے نظریاتی سر پرست عبداللہ یوسف عزام جنہیں اب عالمی جہاد کا بانی کہا جاتاہے اور اس کےموجودہ جانشین ابو بکر بغدادی  نے کسی نئی تھیولوجی کا ایجاد نہیں کیا تھا ۔ ان کے متفقہ نظریات کا استعمال ہی ان کی عظیم کامیابی کا باعث ہے کہ وہ ہزاروں مسلم نوجوانوں کو مختصر لمحہ میں اپنی طرف متوجہ کرلیتے ہیں ۔وہ لوگ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے رہیں گے جب تک کہ ہم مرکزی دھارے کے مسلمان اپنی منافقت کااحساس  اور اپنی راہ تبدیل  نہ کرلیں ۔

صوفی مذہبی ماہرین خاص طور پر وہ جنھیں اکیسویں صدی میں اسلام کی امید کا ایک وسیلہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اپنے اپنے نظریات میں دیکھیں اور بالادستی اور سیاسی اسلام کے ایسے عناصر کو ختم کریں جو اب بھی موجود ہیں۔ اسلام کو نجات کے روحانی راستوں میں سے ایک راستہ کے طور پر پیش کیا جائے  اور بتایا جائے کہ اسلام  ایسا دین نہیں جس کا تعلق مخصوص سیاسی اور مطلق العنان نظریہ سے ہو جو اسلام کو غلبہ اور دنیا پر حکمرانی کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اسلامی صحیفوں میں بہت سی باتیں ہیں جو دوسرے مذاہب کے ساتھ کثرتیت اور بقائے باہمی کی حمایت کرتی ہیں ، حالانکہ  ایسی بہت سی چیزیں بھی ہیں جو استثنیٰ اور سیاسی تسلط کی تائید کرتی ہیں۔

پہلے کے  مذہبی ماہرین اپنے زمانے کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے اپنے دور میں پائے جانے والے سماجی و سیاسی حالات کی بنیاد پر اپنے دلائل تیار کرتے تھے۔ اکیسویں صدی کے مذہبی ماہرین کو اصولی طور پر ان کی پیروی کرنے اور اپنے دور کی تقاضوں کی بنیاد پر اپنے دلائل اور صحیفوں کی ایسی توجیہ پیش کرنے سے کوئی مانع نہیں جو دہشت گردی اور صنفی ناانصافی جیسے چیلنجوں کا مقابلہ کر سکے۔

مجھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک معروف حدیث  کے ساتھ اپنی بات پوری کرنے دیا جائے  ، جس کی صحت پر  تیسری صدی ہجری یا دسوی صدی عیسوی کے متعدد محدثین متفق ہیں۔  بقائے باہمی ، رواداری اور ایک خدا ئے وحدہ لا شریک کے ذریعے قائم کردہ  دوسرے مذاہب کی قبولیت کے تعلق سے جو قول  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حدیث میں ارشاد فرمایا ہے، آئیے ہم سب اس بات پر تھوڑا وقت گزاریں اور غور وفکر کریں:  

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد  فرمایا:میری اور تمام انبیاء کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک عمده اور خوبصورت عمارت بنائی اور لوگ اس کے آس پاس چکّر لگا کر کہنے لگے :ہم نے اس سے بہترین عمارت نہیں دیکھی مگر یہ ایک اینٹ ( کی جگہ خالی ہے جو کھٹک رہی ہے) تو میں (اس عمارت کی) وہ (آخری) اینٹ ہوں۔(مسلم،ص۹۶۵،حدیث:۵۹۵۹، بخاری ،  مسند احمد ابن حنبل ، ترمذی ، مسند ابوداؤد)۔

URL for English article: https://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/sultan-shahin-founder-editor-new-age-islam/kashmir-event-for-deradicalization-ulema-need-to-go-beyond-peaceful-rhetoric-into-the-deep-theological-roots-of-the-flawed-interpretation-of-jihad/d/124600

URLhttps://www.newageislam.com/urdu-section/kashmir-event-deradicalization-/d/124616


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..