New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 08:57 AM

Urdu Section ( 6 Sept 2012, NewAgeIslam.Com)

Face to Face with the Critics of Modern Islam اعتدال پسند اسلام کے ناقدین کا سامنا


سلطان شاہین، ایڈیٹر، نیو ایج اسلام

4 ستمبر، 2012

 ایسا لگتا ہے کہ  نیو ایج اسلام کے کچھ قارئین، مختلف موضوعات پر بحث کے دوران  پہلی بار  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی  ابتدائی    سیرت کی کتابوں   سے متعارف ہوئے جسے  سلفی عربوں نے  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے انتقال کے چند دہائیوں کے اندر ہی  تحریر کی تھی۔  اس کے علاوہ، شاید انہیں  مستند  مانی  جانے والی احادیث جیسے  بخاری اور مسلم کے فحش حصے کے بارے میں بھی  معلومات نہیں تھی۔

مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار  انہیں پڑھا تھا تو کس قدر غم و  غصہ محسوس کیا تھا۔ لیکن میں نے پایا کہ اگرچہ ایک معزز عرب مئورخ نے  اس زمانے میں ابن ہشام کو جھوٹا کہا ہے جبکہ   ہشام، ابن اسحاق اور طبری اسلامی تاریخ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے معاملے میں معزز ذرائع ہیں ۔  قرآن کی تفسیر کے معاملے میں بھی  طبری معزز ذرائع رہیں ہیں۔ کوئی بھی اسلامی لائبریری ان  قابل نفرت  شخصیتوں کی کتابوں یا ان کے دئے گئے حوالے  کے بغیر مکمل نہیں ہوتی  ہے۔  سعودی جج حضرات نے   ان کتابوں سے جو کچھ سیکھا ہے،  وہ اس پر  مبنی فیصلے دیتے ہیں اور نوجوان بچیوں کی عصمت دری کی اجازت دیتے اور  حققیت میں انہیں  اس کے لئے مجبور کرتے ہیں۔  اس زمانے کے  ان اور دیگر  حقیر سلفی عرب مئورخین نے  جو بتایا ہے ، شرعی قوانین انہیں پر مبنی ہے۔

 وہ لوگ جنہوں نے  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے بارے میں  توہین آمیز باتوں کو  جمع کیا ہے انہیں آج تقریبا تمام مسلمانوں کی طرف سے مستند مئورخ تصور کیا جاتا ہے اور امام کے طور پر ان کا احترام کیا جاتا ہے۔ "مولانا" ابو اعلی مودودی  (آج پوری دنیا میں بہت سے مسلمان ان کے نام  کے ساتھ رحمتہ اللہ علیہ لگاتے ہیں) نے جنہیں  ضعیف احادیث کہا جاتا ہے ان کی بنیاد پر   اسلام میں عورتوں  کی حیثیت  پر اپنی پوری کتاب لکھی ہے۔

   اگر ہم کسی بھی حدیث کی معتبریت پر سوال اٹھاتے ہیں تو ہم انہیں   ضعیف حدیث  کہتے ہیں نہ کہ جھوٹی اور  من  گھڑت۔ اس طرح ان کی  "حرمت" کو برقرار رکھتے ہیں جبکہ کچھ حد تک ان کی  معتبریت  کو کم کرتے ہیں۔ لیکن بخاری اور مسلم کے علاوہ   ان کو  عام طور پرحدیث کی  غیر  مستند کتاب   سمجھا جاتا ہے۔ مدارس میں  عالم اور فاضل  کی سطح پر صحائے ستہ   کا پڑھایا جانا  اور اس پر بحث کرنا جاری ہے۔  

اسلام کے دشمنوں کے ساتھ ساتھ ان مسلمانوں کے جنہوں نے اسلام کو کم از کم اپنے من میں   ترک  کر دیا ہے یہ  صرف ان کے لئے قدرتی ہے کہ  وہ ان کتابوں کو ہمارے منھ پر دے ماریں گے اور اسلام  میں یقین رکھنے والوں سے کہیں گے کہ  اگر نہیں پڑھا ہے تو  انہیں پڑھو ۔ فوری طور پر غصے میں جواب کے علاوہ، ان پر شدت سے حملہ کرنے اور  ان کی منشاء پر سوال کرنے سے  کوئی مقصد حل نہیں ہوگا۔ اگرمغرب یا کہیں اور  کےپرعزم اسلام ہراسی پھیلانے والوں ( Islamophobes ) کی طرف سے ان کی مالی مدد بھی کی جاتی ہو تب بھی ! کیا  یہ ان کے اقتباسات کو  غلط  ثابت کر   دے گا؟

ابتدائی زمانے کی  سیرت  کتابوں   اور تاریخ کے ہر تحقیقی کام میں  جس  موضوع کو  ہم پڑھ رہے ہوں وہ یا تو ہم عصر لوگوں یا  قریب ترین نسل کے لوگوں کے  ذریعہ  لکھی ہوتی ہیں، ان کا ہم بہت احترام کرتے ہیں۔ ہم معتدل مسلمان کیوں بار بار یہ  کہتے ہیں کہ ابن ہشام کے ایک  ہم  عصر نے  انہیں جھوٹا کہا ہے؟ ظاہر ہے اگر ہم ابن ہشام کو بدنام کرنا چاہتے ہیں تو یہ اس کے  بہت ہی قریب ترین ذریعہ  ہے اور ہمارے نقطہ نظر کو تقویت پہنچاتا ہے۔ تو جو کچھ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے  ہم عصر یا قریب تر ہم عصر نے آپ صلی اللہ  علیہ وسلم کے بارے میں کہا  یا آپ کے فرمان کے طور پر بتایا ہے، وہ موزو ں ہوتا ہے اور جن لوگوں کو یہ  مناسب لگتا ہے  وہ اسے   اپنی تسلیم  فراہم کریں گے۔ ہم کیوں خود احادیث کا  احترام کرتے ہیں؟ کیونکہ یہ مبینہ طور پر  تواریخ  ، روایتی افسانہ  اور یہاں تک کہ   اسلام کے ابتدائی  نسلوں  کی روایت والی فرضی داستان کا ایک مجموعہ  ہے۔

 ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اسلام کے اندر آج سب سے زیادہ متحرک اور بڑھتی ہوئی طاقت سلفی اور اہل حدیث لوگوں کی ہے۔ یہ لوگ مختلف ناموں سے  سرگرم  ہیں۔ ان لوگوں کو  عرب پیٹرو ڈالر کی مالی مدد حاصل ہو رہی ہے اور  مغربی ممالک  کا تحفظ   بھی حاصل ہے۔  اس گروپ کی ایک شاخ مسلح، عسکریت پسند، بنیاد پرستوں کی ہے  جسے عرب پیٹرو ڈالر  اور مغربی طاقت کی طرف سے حاصل حمایت کے ساتھ مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے زیادہ تر حصوں میں اقتدار میں شامل کیا جا رہا ہے۔

  دوسرا بڑھتا ہوا گروپ ان   اعتدال پسند اور غور و فکر کرنے والے مسلمانوں کا ہے جن میں سے کچھ  خاموشی کے ساتھ ، کم از کم اپنے دلوں میں  اسلام کو ترک کر رہے ہیں۔ عملی وجوہات کی بناء پر یہ  لوگ  اپنی  مسلم وابستگی کو برقرار رکھ رہے ہیں۔ کچھ کو ڈر  ہے کہ  ان کی بیوی ان کو  چھوڑ سکتی ہے۔ (سلفی لوگ عورت سے نفرت کرنے والے ہو سکتے ہیں لیکن بہت سی  خواتین ان سے محبت کرتی ہیں)،  کچھ کو خوف ہے کہ  ان کی بیٹیوں کی شادی نہیں ہو پائے گی،   کچھ لوگ  کچھ وقت کے لئے  برائے نام مسلمان رہنے میں  اپنی حفاظت دیکھ سکتے ہیں، وغیرہ۔ ان لوگوں نے یہ  یقین کرنا  شروع کر دیا ہے کہ  جو سعودی، سلفی، حدیثی اور تبلیغی لوگ  جسے اسلام کے طور پر پیش کرتے ہیں وہی اسلام ہے اور چونکہ وہ ایسا مذہب نہیں ہے جسے کوئی سمجھدار انسان قبول کر سکے،  اس لئے  اسے چھوڑنا سب سے بہتر ہے۔   جتنا زیادہ  اعتدال پسند مسلمانوں کو ٹی وی دیکھنے اور موسیقی سننے کے لئے پیٹا جائے گا جیسا کہ  گزشتہ دنوں   کراچی میں تبلیغیوں کے ذریعہ کیا گیا، ان لوگوں کی تعداد  میں اتنا ہی اضافہ ہوگا۔

 ان لوگوں میں سے زیادہ تر نے   ہشام اور طبری، بخاری یا مسلم کو نہیں پڑھا ہے، لیکن دنیا کے مختلف حصوں میں   مسلمان کیا کر رہے ہیں، ان کے عمل کے مطابق  اسلام کے بارے میں رائے بناتے ہیں۔   جسے یہ مسلم کردار کے طور پر مانتے ہیں اس سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔  ان لوگوں کو بچپن میں  بتایا گیا تھا کہ  اسلام کا مطلب  اچھا کردار  اور مہذب تعلیم والے ہونے کے ہیں۔ رَّبِّ زِدْنِى عِلْمًا یہ  وہ ایک دعا تھی  جسے بچوں کو دن میں سو بار پڑھنے کو کہا جاتا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا میرے علم میں اضافہ کر دے۔   اب وہ پوری اسلامی دنیا میں  عام ہو چکی بد عنوانی اور جہالت کو  دیکھتے ہیں۔  اسلام نے مسلمانوں میں کیا تبدیلی لائی ، یہاں تک کہ عربوں میں یا  1400 سال کے بعد بھی کیا تبدیلی  لایا ہے؟  کیا مسلمان دوسروں سے کم بد عنوان یا  دوسروں کے مقابلے میں زیادہ تعلیم یافتہ ہیں؟  کیا مسلمان کسی بھی شعبے میں  کامیابی حاصل کرنے والے ہیں؟   یہ لوگ آسانی سے نتیجہ نکالتے ہیں کہ  اسلام دیگر تمام مذاہب اور فلسفے کی طرح ناکام ہو گیا ہے۔

 خاص طور پر افریقہ میں اور حال ہی میں کشمیر میں اس گروپ سے کچھ  لوگ عیسائیت کو قبول کر  رہے ہیں۔

 اس گروپ کی ایک شاخ   سابق مسلمانوں کی  ہے  جو بہت متحرک، تاہم اب بھی بہت چھوٹی ہے جو کسی دوسرے مذہب کو قبول نہیں کر رہے ہیں اور خاموش رہنے کے لئے تیار نہیں ہے۔  وہ زور زور سے دنیا  کو بتانا چاہتے ہیں کہ کیوں  انہوں نے  اسلام کو چھوڑ دیا اور کیوں دوسرے مسلمانوں کو  بھی ایسا ہی کرنا چاہئے۔   اس گروپ  نے  ہشام، ابن اسحاق، طبری اور بخاری اور مسلم کے فحش حصے  کو  اپنے حافظے میں رکھ لیا ہے۔  یہ لوگ   فوراً  ان کتابوں کے  باب اور آیت کا تفصیلی حوالہ دے  سکتے ہیں۔

 اس منظر نامے میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ  یہ ہے کہ اعتدال پسند مسلمانوں  کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔   کیا ہم اب بھی مرکزی دھارے  کی نمائندگی کرنے والے ہیں،  مجھے اس پر شک ہے۔  اسی  وجہ سے میں ایسا  کہتا ہوں کہ جب  آپ  ہندوستان   میں  یا  پاکستان میں  کوئی سروے  کرتے ہیں تو ، مسلمانوں کی اکثریت اس  بات  کو قبول کرنے سے انکار کرے گی  کہ وہ وہابی ہیں۔ لیکن ان کی سوچ، زبان، جملے،روایات سب کچھ  تبدیل ہو گئے ہیں۔  بہت سے لوگ ابھی تک اسے نہیں جانتے، لیکن وہ   یقیناً وہابی ہیں۔  ان کو بنیاد پرست بنانے میں  خرچ ہونے والے عربوں پیٹرو ڈالرس  بیکار نہیں گئے ہیں۔

 ہم اپنے  بچوں کو یا تو مذہبی اسکولوں (مدرسوں)  یا سیکولر تعلیمی اداروں، عیسائییوں  کے ذریعہ  چلائے جانے والے  اسکولوں،  کالجوں، کانونٹس یا نجی اسکولوں میں بھیجتے ہیں۔  ایک عجیب چیز ہو رہی ہے۔ مدارس میں جو بنیاد پرستی ہے اس پر کافی کچھ لکھا جا رہا ہے۔  لیکن سیکولرا سکولوں  کے گریجوئٹس  کی بڑی اور  خطرناک  بنیاد پرستی کے پیچھے وجوہات کو اچھی طرح سمجھا نہیں  جا رہاہے۔ اسے  اب جاکر   وسیع پیمانے پر  محسوس کیا  جا رہا ہے۔ 9/11 میں شامل کوئی بھی  دہشت گرد مدرسہ سے فارغ التحصیل نہیں تھا ، سبھی نے  سیکولر تعلیم حاصل کی تھی۔   اسامہ بن لادن خود  ایک  انجنیئر تھا ، ایمن الظواہری ایک میڈیکل ڈاکٹر  ہے۔  پہلے کے  نسل کے  بابائے اسلامی بنیاد پرستی "مولانا" مودودی  ایک غیر مدرسہ تربیت یافتہ صحافی تھے، سید قطب نے  برطانوی طرز  اسکول میں  تعلیم حاصل  کی تھی، انہوں نے  اپنے ابتدائی دنوں میں  مدرسہ میں بھی کچھ تعلیم حاصل کی تھی جس نے انہیں   اس کا  نقاد بنا دیا ۔ جبکہ مختلف عوامل مختلف  افراد  کے لئے ماضی میں ذمہ دار ہو سکتے ہیں،  انٹرنیٹ پر بڑے پیمانے پر پروپگنڈہ  آج کی سیکولر تعلیم یافتہ  نوجوانوں  کا اس وسائل پر  تقریبا مکمل انحصار کو  جدید  رجحان  کی  بنیادی برائی  تصور کیا جاتاہے۔

 ہماری تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ وہابی  ہمیں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انتہا پسند  ہم لوگوں کو  ہماری مساجد اوردرگاہوں میں مارنے کی کوشش کر رہےہیں،   خاموش سابق مسلمان ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں، اورقدر کم خاموش  سابق مسلمان ہمیں ابتدائی سیرت کی کتابوں اور "مستند" حدیث کے فحش حصے کے اپنے حفظ   سے پیش  حوالے کے ذریعہ   صلیب پر چڑھانا چاہتے ہیں۔  ہم کس طرح  جواب  دیں؟

بڑھتی ہوئی تقسیم کے دونوں طرف سے اسلام کے ناقدین پر حملہ کرنے  سے کام نہیں بنے گا۔  اگر ہم اعتدال پسند اسلام کو  21ویں  صدی کے آخر تک بھی زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو  موجودہ صدی یااس  سے باہر کی بات  نہ کریں،   ہمیں فوری طور پر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر غور و فکر کرنا چاہئے۔

 نیو ایج اسلام اسی کے لئے ہے۔   یہ   پہلے ہی دنیا بھر کے بہت سے غور و فکر کرنے والے  مسلمانوں کو ایک ساتھ لایا ہے۔  آئیے  ہم  ایک ساتھ رہیں اور  ایک ساتھ غور و فکر کریں۔  آئیے   ہم  کچھ واضح بیان کرنے والے  ناقدین کے تحفہ کا شکریہ  ادا کریں۔ یہ لوگ  ہمیں واضح طور پر  اپنے خیالات کو بیان کرنے کا موقع دیتے ہیں۔   ہم کچھ چیزوں میں  پر جوش طریقے سے    یقین کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود  فصاحت کی کسی بھی حد تک اسے بیان کرنے سے قاصر ہیں۔  ہمیں اپنے خیالات کو  پھیلانے کے ذرائع کی ضرورت ہے۔  خدا نے  اس میں سے ہمیں کچھ دیا ہے۔  کون جانتا ہے کہ   ہم ان میں سے کچھ  لوگوں کو اعتدال پسند اسلام کے دائرے میں واپس لے آئیں۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/from-the-desk-of-editor/sultan-shahin,-editor,-new-age-islam/coping-with-critics-of-moderate-islam/d/8557

URL for Hindi article:

http://www.newageislam.com/hindi-section/coping-with-critics-of-moderate-islam--उदारवादी-इस्लाम-के-आलोचकों-का-सामना/d/8595

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/face-to-face-with-the-critics-of-modern-islam--اعتدال-پسند-اسلام-کے-ناقدین-کا-سامنا/d/8596

 

Loading..

Loading..