New Age Islam
Fri Jan 02 2026, 11:38 PM

Urdu Section ( 26 Sept 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Cyber Terrorism and Freedom of Speech: Sultan Shahin Demands UN to Re-Design Internet Governance سائبر دہشت گردی اور اظہاررائے کی آزادی : سلطان شاہین کا اقوام متحدہ سے انٹرنیٹ گورننس کو دوبارہ ڈیزائن کرنے کا مطالبہ

RADDHO  اور اس کی ہمنوا تنظیموں کی جانب سے منعقد  ایک متوازی غیرسرکاری تنظیم کا اجلاس ،جواقوام متحدہ کے محل میں25 ستمبر ، 2012 کو اقوام متحدہ     کےحقوق انسانی کونسل ،جینیوا  کے   اکیسویں ریگولر سیشن کے دوران روم :23 میں منعقد کیا گیا۔

موضوع: آرٹیکل 19 آزادی ٔ اظہار رائے اور سائبر سیکیوریٹی،حقوق انسانی کے مسائل کے لئے ایک چیلنج !

سلطان شاہین ، ایڈیٹر ، نیو ایج اسلام

25 ستمبر ،2012

صدر محترم ، فاضل مباحثین اور دوستو!

میں نیو ایج اسلام کے نام سے موسوم ایک ویب سائٹ چلاتا ہوں، جو  www.newageislam.com  پر دستیاب ہے ۔اس  ویب سائٹ کا مطمح نظر سائبر کی دنیا میں پھیلی ہوئی انتہا پسندی سے لڑنا ہے ۔ وہ سائبر کی دنیا جہاں شروع سے ہی مختلف نظریات کے حامل انتہاپسندوں اور بنیاد پرستوں کی سرگرمیاں جاری ہیں ۔جہاں تک اسلامی بنیاد پرستوں کا تعلق ہے، تو ان کے پاس وسائل کی فراوانی ہے،  اورخاص طور پر پٹروڈالر سے حاصل کردہ وسائل  کی وجہ سے انہیں سائبر کی دنیا میں زبردست مقبولیت حاصل ہے ۔لیکن انٹرنیٹ پر فراہم کی گئ آزادیٔ اظہار کے باعث یہ ممکن ہو سکا ہے کہ نیو ایج اسلام جیسی ایک  چھوٹی سی ویب سائٹ وسائل کی شدید قلت کے باوجود ان بنیاد پرستوں کے گھروں میں بھی اپنا پیغام بہم پہنچا رہی ہے ۔ ہم اپنا پیغام مسلمانو ں تک پہنچانے کی کوشش کرتےہیں ،  خاص طور سے مسلم نوجوانوں تک تاکہ کہیں وہ  ان وہابی اور سلفی تنگ نظروں کے جال میں نہ پھنس جائیں  جو مسلمانوں کو دوسری قوموں سے بالکلیہ جدا کر دینا چاہتے ہیں ۔  اپنے اس انتہاپسندانہ نظریہ کو فروغ دینے کے لئے وہ ہمیں ایک کے بعد ایک تنازعہ میں الجھائے رکھنا چاہتے ہیں۔ میں اس کی وضاحت ایک تازہ ترین مثال سے کرنا چاہوں گا۔ پچھلے دنوں برما (میانمار) میں کچھ روہنگیا مسلمان مارگئے،تاہم اس سے متعلق حالات اور حقائق واضح اورواشگاف نہیں تھے ۔لیکن جہادی نظریہ رکھنے والی ویب سائٹوں نے اس موضوع کو عالمی سطح پر مسلمانوں اور بودھوں کے درمیان تنازع پیدا کرنے کی غرض سے خو ب طول دیا ۔سائبر میڈیا  میں مصنوعی تصاویر اور اشتعال انگیز ویڈیو کی نمائش کرکےاس کا استعمال بودھوں کے خلاف نفر ت اور تشدد کو پھیلانے کے لئے کیا گیا ۔ یہودیوں، عیسائیوں  اور ہندوؤں کے بعد اب یہ جہادی چاہتے ہیں کہ مسلمان بودھوں سے بھی مقابلہ آرائی کریں ۔

سائبر میڈیا کے ذریعہ مصنوعی تصاویر اور اشتعال انگیز ویڈیو  کامنفی استعمال ٹھیک اسی طرح آسام میں بھی   کیا گیا جب پچھلے ماہ وہاں تشدد پھوٹ پڑا تھا ۔ بنگلور اور دیگر  جنوبی ہند کے شہروں میں یہ افواہیں پھیلادی گئیں کہ جلد ہی جنوبی ہند میں رہنے والے شمال مشرقی ہندوستانیوں پر حملے ہونے والے ہیں ۔  یہ سب کچھ ایک منظم منصوبہ کے تحت کیا گیا  اور اس میں انٹرنیٹ، ویب، سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس،فری ایس ایم ایس میسیج وغیرہ کا اس قدر استعمال کیا گیا  کہ تقریبا  تیس ہزار شمال مشرقی ہندوستانی شہری اپنی  جانوں کے تلف ہو جانے کے  خوف میں دو ہی تین دن میں فورا جنوبی ہند سے روانہ ہو گئے ۔ بعد میں پتہ چلا کہ اس کے پیچھے لشکر طیبہ جیسی جہادی تنظیموں کا ہا تھ  تھا  ۔ اگرچہ حکومت ہند نے اس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے چند ویب سائٹوں اور بلوگس پر  کچھ دنوں کے لئے پابندی عائد کر دی تھی ، مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی ۔بہت سے ہندوستانی   دانشوروں اور کارکنوں نے اسے اظہار رائے کی آزادی کے خلاف بھی قرار دیا۔  اس تعلق سے سرکاری ٹی وی چینل دوردرشن  پر کئے گئے ایک پینل مباحثہ کے دوران  میں نے  اپنے آپ کو  یہ کہنے میں تنہا  پایا   کہ حکومت کے پاس  ایمرجنسی  کے حالات میں عمل دخل کرنے کی طاقت اورصلاحیت ہونی چاہئے۔ کیوں کہ بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ دہشت گرد عناصر سائبر میڈیا کا غلط استعمال کرکے ہمارےمعاشرہ میں نسلی تشدد یا فرقہ وارانہ   تشدد کو فروغ دینا چاہتے ہیں ، یا یہ کہ وہ خوف و  دہشت اور سراسیمگی پھیلانا چاہتے ہیں جیساکہ انہوں نے  بنگلور میں کیا ، بلکہ بات یہ ہے کہ وہ ہمارے اہم بنیادی ڈھانچے یا دفاعی وسائل پر بھی  پوری طرح حملہ کر سکتے ہیں۔ کچھ مہینے پہلے، ایران کی جوہری تنصیبات پر سائبر سپیس کے ذریعے آنے والے کمپیوٹر وائرس کی طرف سے حملہ کیا گیا تھا،جن کے مصادر کا ابھی تک تعین نہیں کیا گیا ہے۔ جہا ں تک ہماری معلومات ہے، یہ جوہری تنصیبات ہتھیار نہیں بنا رہے تھے۔ لیکن اگر ان پر اس طرح سے آج حملہ کیا جا سکتا ہے تو پھر کل ہتھیار بنانے والی جوہری تنصیبات پر بھی حملے ہونے کے خدشات ہیں ۔اس کا  اندازہ نہیں  لگایا جا سکتا کہ اس طرح کے  حملے کس قدر تباہ کن اور جان لیو ا  ثابت ہوں گے ۔

اس سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ آج دنیا  کے تحفظ کو  سائبر سپیس سے خطرہ لاحق ہے ۔ ایک طرف انٹرنیٹ اس  قدر مفید ثابت ہوا   کہ اس نے  پوری دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کردیا ،کم ازکم اربوں کی تعداد میں نیٹی زن (انٹرنیٹ استعمال کرنے والے حضرات) کو ضرور ایک ساتھ جمع کردیا، وہیں دوسری طرف اس کے اندر   عالمی امن کے لئے  خطر ہ بننے کی بھی صلاحیت موجود ہے ۔

بنگلور میں سائبر سپیس کے ذریعے  پھیلی افواہوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی  کے سلسلے میں وزیر اعظم ہند جناب منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ : ‘‘میں اپنے قومی سلامتی کے مشیر سے  بارہا کہتا رہا ہوں کہ وہ سائبر دہشت گردی کے خطرے کی لعنت سے نمٹنے کے لئے ایک قابل عمل پالیسی تلاش کریں’’۔

لیکن بہت سے ماہرین کو اس میں شبہ ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس طرح کی قابل عمل پالیسی  اس وقت تک تلاش نہیں کی جا سکتی   جب تک  عالمی انٹرنیٹ گورننس کے مسائل حل نہیں کئے جاتے ۔ اس وقت 13 روٹ سرورز میں سے  10 ریاستہائے متحدہ امریکہ میں، دو یورپ میں اور ایک جاپان میں واقع ہے ۔ ایسا ہونا قدرتی  امرتھا ، کیوں کہ انٹرنیٹ کو امریکہ میں تیار کیا گیا تھا  اور اس کا ارتقاء بھی  سب سے پہلے ترقی یافتہ ممالک میں ہی ہوا۔ لیکن ترقی پذیر ممالک ،جہاں صارفین  لاکھوں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں اور جن کی سلامتی کو سائبر سپیسں سے سنگین  خطرات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ، انٹرنیٹ گورننس میں کوئی حقیقی کردار نہ ہونے کی وجہ سے  صورتحال سے نمٹنے میں ناکام ہیں ۔

تاہم ،عالمی انٹرنیٹ گورننس کا مسئلہ محض حکومتوں ہی کے لئے اہمیت نہیں رکھتا ، بلکہ عام صارفین اور ویب سائٹوں کے مالکان کو بھی   متعدد خطرات اور مسائل کا سامنا  کرنا پڑ سکتا ہے  ۔ چوں کہ میں چار سالوں سے خود ایک ویب سائٹ چلا رہا ہوں ، اس لئے اس تعلق سے میں اپنا ذاتی تجربہ بتاتے ہوئے یہ کہنے میں حق بجانب ہو ں کہ ہم لوگ بہت ہی  نازک زندگی جی رہے ہیں۔  میری طرح بہت سے ایسے بلا گرس اور ویب سائٹ مینیجرس ہیں جو مختلف ایشوز میں اپنا ذاتی موقف رکھتے ہیں ، اس لئے کئی لوگ ان کے مخالف ہی نہیں بلکہ دشمن  بھی بن جاتے ہیں ، اور ان کی ویب سائٹس کو  ختم کرنے کے متمنی ہوتے ہیں ۔ لیکن آخر ان کے لئے ایسا کرنا اتنا آسان کیوں کر ہوتا ہے؟ دھمکیاں تو بہت سے لوگوں کی طرف سے آتی رہتی ہیں۔ ‘نیو ایج اسلام ’ کو  متعدد بار اس کے دشمنوں نے ہیک کیا ہے اور اس کا خاتمہ کرناچاہا ہے ۔ہمارے دشمن  حضرات،غالبا جہادی لوگ،  خاص طور سے ہمارے نیوز لیٹر کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جو کہ ہرروز تقریبا ساڑھےتین لاکھ سبسکرائبرس کے پاس پہنچتا ہے ۔ہمارے نیوزلیٹر کے سبسکرائبرس کی    ای میل آڈی  کبھی بھی ڈیلیٹ کی جا سکتی ہیں،جیسا کہ نیو ایج اسلام کوایک ہی دن میں تین مرتبہ اس کا سامنا کرنا پڑا  ہے ۔  یہ ہیں ہمارے سیکورٹی مسائل!جن سے نپٹنے کے لئے ہمیں صحیح طریقۂ کار اور وسائل کا انتخاب کرنا ہوگا ۔

علاوہ ازیں، ہمیں کچھ ایسے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جن  کا تعلق بلاواسطہ انٹرنیٹ گورننس  سے ہے ۔ نیو ایج اسلام کو  اس  قسم کے متعددمسائل کا سامنا کرنا پڑ ا ہے ۔مثال کے طور پر، ہمارے ڈومین ناموں کوکسی نوٹس یا انکوائری کے بغیر معطل کیا جا سکتا ہے،اورایسا  اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص ڈومین رجسٹرار کو بالکل جھوٹی شکایت بھیج دیتا  ہے۔ اسی طرح  ویب سائٹ ہاسٹ ہمارے آپریشنز کو معطل کر سکتا ہے ، جیسا کہ نیو ایج اسلام متعدد بار اس کی زد میں آ چکا ہے ، اور اس کے پیچھے اسی قسم کے بالکل جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کار فرما تھے ۔ دراصل ڈومین رجسٹرار  یا  ویب سائٹ ہاسٹ کا کہنا یہ ہے کہ  وہ خالص بزنس کے ادارے ہیں ، اس لئے وہ غیر ضروری باتوں میں نہیں پڑنا چاہتے ۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ چوں کہ ان کے پاس ایسے افراد نہیں ہیں جو شکایات کا جائزہ لے سکیں ، اس لئے ان کے لئے  زیادہ آسان کام یہ ہے کہ جب بھی کسی قسم کی شکایت درج ہو تو وہ   اس پرایکشن  لیتے ہوئے ویب سائٹ کو بلا چو ں چرا  بند کر دیں ۔ چنانچہ جب میں نے اپنے ڈومین رجسٹرار سے کہا کہ وہ کم ازکم اس شکایت کو ایک دفعہ پڑھ لیں جو مجھے انہوں نے بغیر پڑھے فارورڈ کردیا ہے، تو  انہوں نے بڑی سادگی سے جواب دیا   کہ : ‘‘میرے پاس نہ تو تم سے بحث کرنے کا وقت ہے اور نہ ہی غیر ضروری میل پڑھنے کا۔تاہم ، میں چند دنوں کے لئے تمہارا  ڈومین بحال کر رہا ہوں ، مگر تم اپنا ڈومین کسی دوسرے ڈومین  رجسٹر میں ابھی اسی وقت تحویل کر  لو ’’۔ میں نے ایسا ہی کیا ، لیکن میری ویب سائٹ کئی ہفتوں تک متاثر رہی ۔

تاہم ، جب میں نے اس بارے میں ٹھنڈے دماغ سے سوچا ، تو  میں نے پایا کہ  رجسٹرار کا اس میں قصور  نہیں ہے ۔ کیوں کہ اگر آپ اس کے مادی منافع پر نظر ڈالیں ، تو آپ کو پتہ چلے گا کہ رجسٹرار کی بات میں دم ہے ۔ وہ مجھ سے ڈومین نام کے عوض 12 سے 15 ڈالرز سالانہ لیتا ہے ۔ یعنی وہ ہر سال مجھ سے  5  سے 7 ڈالرز   کا نفع  حاصل کرتا ہے ۔ اب آپ  ہی سوچئے کہ وہ شخص مجھ سے بحث کرکے اپنا قیمتی وقت کیوں کر گنوائے گا یا  میری ویب سائٹ کے خلاف  درج شکایات کی جانچ پڑتال کراکے وہ اپنے وسائل کیوں برباد کرے گا اور اس طرح وہ  اپنے بزنس کو داؤ پر کس لئے لگائے گا؟ اس شخص کا اس میں قطعا کوئی نفع نہیں ہے ، جب کہ تجارت ہمیشہ نفع اور نقصان کے سادہ اصول پر چلتی  ہے ۔ لہذا ، مجھے امید ہے کہ اقوام متحدہ کی کمیٹیز جب کبھی بھی  انٹرنیٹ گورننس کے بڑے مسائل پر بحث کریں گی، تو وہ ان ایشوز پربھی ضرور    توجہ مبذول کریں گی جو  لاکھوں انٹرنیٹ صارفین اور ویب سائٹ مالکان سے تعلق رکھتے ہیں۔  بہر حال، یہ ہم ہی نیٹی زن (انٹرنیٹ استعمال کرنے والے) ہیں  جنہوں نےانٹرنیٹ کو معلومات کی شاہراہ       ( انفارمیشن ہائی وے) بنا رکھا ہے ۔اس لئے ہمیں خو د تحفظ کی ضرورت ہے ۔

لیکن کیا میں یہ مشورہ دے رہا ہوں  کہ یہ فنکشنز حکومت کے حوالے ہونا چاہئے؟

جب میں  1987 میں ایک ہفتہ وار مطبوعہ میگزین  شروع کر رہا تھا ، تو مجھے صرف اس کے  نام  کے لئے کئی ہفتوں ہندوستانی اخبارات کے رجسٹرار کے آفس میں کلرکس کے پیچھے دوڑنا پڑا تھا۔ ان دنوں  نام مختلف تحفظات پر الاٹ کئے جاتے تھے۔ جب بھی میں کوئی نام منتخب کرتا تو    حکام کہتے کہ یہ نام پہلے ہی لیا جا چکا ہے ۔ کوئی کمپیوٹرائزڈ سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے ان کے لئے ہزاروں کی تعداد میں رکھی ہوئی  فائلوں کو کھنگالنا بڑا مشکل کا م تھا ۔

اس کے برعکس ، جب میں نے 2008 میں ایک ویب سائٹ شروع کرنا چاہا، تو ایک سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں کمپیوٹر کے  ذریعہ ناموں کی چھا ن بین کر لی گئی ،اوراس عمل میں حکومتی افراد تو درکنار  کوئی انسان( جو کہ غلطیوں کا پتلہ  ہوتا ہے)  شریک نہیں تھا۔  چنانچہ جب مجھے میرا ڈومین نام مل گیا  اور مجھے یہ بتایا   گیاکہ میں  ایک گلوبل آڈینس (عالمی مخاطبین) کے لئے  جوکوئی مضمون  یا بلاگ پوسٹ کرنا چاہوں، کرسکتا ہوں اور جو کچھ لکھنا چاہوں ، لکھ سکتا ہوں  تو

 مجھے (حیرت اور خوشی کے باعث)  اس  پر یقین نہیں آرہا تھا ۔کئی دنوں تک میں نے کوئی چیز پوسٹ نہیں کی۔ (میں اس حیرت میں گم تھا کہ)  کیا  کوئی اتنا عظیم کام حکومت کے عمل دخل کے بغیر بھی ممکن ہو سکتا ہے ؟  یہ بات میرے لئے کسی معجزہ سے کم نہیں تھی ۔

انگریزی سے اردو ترجمہ: غلام رسول دہلوی ، نیو ایج اسلام

URL for English Article:  http://www.newageislam.com/islam,terrorism-and-jihad/sultan-shahin,-editor,-new-age-islam/cyber-terrorism-and-freedom-of-expression--sultan-shahin-asks-united-nations-to-redesign-internet-governance/d/8789

URL: https://newageislam.com/urdu-section/cyber-terrorism-freedom-speech-sultan/d/8793

Loading..

Loading..