New Age Islam
Sun May 10 2026, 02:55 PM

Urdu Section ( 27 Jan 2011, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Shia-Sunni divide: How real and how deep - Can we Muslims move towards genuine unity Asks Sultan Shahin شیعہ سنّی اختلاف : کتنے حقیقی اور کتنے گہرے کیا ہم حقیقی اتحاد قائم کرسکتے ہیں

By Sultan Shahin, Founder-Editor, New Age Islam

7 October 2008 

...

In the final analysis, it all comes down to one question: how real and how deep is the Shia-Sunni divide? How much of it is ideological, and how much caused by political and social vested interests? Is there an element of tribal, ethnic and class struggle also involved? On the other hand, how much of apparent sectarian harmony is promoted by external factors – the perceived threat from Hindu fundamentalism in the case of India, and the need to drive out the US occupation forces in the case of Iraq? Both Shias, who constitute a 15 percent-strong minority of the world's Muslims, and the rest of the Muslims who are Sunnis, follow basically the same ideology. Minor ideological differences and major misunderstandings have, however, crept into their perceptions of each other in the course of the history of their quarrels that spans almost the entire Islamic history of about 1,400 years.

...

Many Muslims throughout the world, both Sunni and Shia, are working towards dialogue and reconciliation between the two sects. They argue that it is just not possible to fully comprehend and much less to judge the historical figures of Islam and their motivations today, 13 or 14 centuries after the event, which led to the schism in Islam. Indeed, it is not possible to judge people even when events take place now in full view of the world media… India’s Shia and Sunni communities can serve as a beacon of hope in this process. Let us follow up on recent initiatives by Mohtarma Syeda Hamid and Maulana Kalb-e-Sadiq and keep moving in the direction of genuine, frank dialogue leading to real unity.

To read the full text in English, please click on the link below:

URL of this Urdu Section Page:  https://newageislam.com/urdu-section/the-shia-sunni-divide-how/d/4013

--------




شیعہ سنّی اختلاف : کتنے حقیقی اور کتنے گہرے۔ کیا ہم حقیقی اتحاد قائم کرسکتے ہیں؟

سلطان شاہین ، ایڈیٹر، نیو ایج اسلام

عیدالفطر کے موقع پر شیعہ اور سنّی  فرقوں کو یکجا کرنے کا مولانا کلب صادق کی کوشش سے ملک کے مسلمانوں میں خوشی کی  لہر دوڑ گئی ، اور ویسا ہی ردّ عمل دیکھنے میں آیا جب  سیّدہ حامد نے قاضی  کی حیثیت سے پہلی بار ایک سنّی جوڑے کا نکاح پڑھایا ۔ لہٰذا  غالباً شیعہ سنّی نظریاتی اختلافات  اور دونوں فرقوں  میں اتحاد کے امکانات پر  معروضی انداز میں بات کرنے کے لیے  یہ مناسب موقع ہےاور اس کے لئے ماحول بھی تیار  ہے۔

میں ابتدا ء میں اس بات کی وضاحت کردینا چاہتا ہوں کہ میرے سنّی پس منظر کی وجہ سے ہوسکتا ہے کہ میرے اندر بھی کچھ  سنّی تعصّبات و تحفظات  ہوں لیکن  شعوری سطح پر میں خود کو یہ احساس دلاتا رہتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  نہ تو شیعہ  تھے اور نہ ہی سنّی اور لازمی طور پر ہم سب  صرف اور صرف پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم  کے مقلد اور پیروکار ہیں ۔ کوئی بھی دوسرا محترم  او رمقدس  اسلامی  رہنما آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آتا ہے ۔ نیز شیعہ سنّی اختلافات  کی نوعیت  سیاسی تھی اور نظریاتی  تار و پود بعد میں  ظاہر ہوئے تاکہ غالباً  اختلافات کو دوام عطا ہو اور سیاسی  مقاصد حاصل کئے جاسکیں ۔

میں یہ بھی محسوس  کرتا ہوں کہ  آج کے عہد میں جب میڈیا چوبیس گھنٹے  ہماری نگرانی کررہاہے او ریہ جانتا ہے کہ کون کن سیاسی محرکات کے تحت  کیا کررہا ہے ، ساتویں صدی کی لڑائیوں  میں شامل ہونا ہمارے  لیے بے فائدہ  ہے کیونکہ ہم وقت  کو پیچھے  نہیں لے جاسکتے او رپیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے میدان اْحد  اور بدر میں  جنگ نہیں کر سکتے ۔ اسی طرح ہم ماضی میں جاکر کربلا میں  حضرت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کو قتل عام سے نہیں بچا سکتے ۔

آج ہمیں  یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اس چودہ سو سالہ لڑائی  کو جاری رکھیں یا اس سے دست بردار ہوکر آپس میں امن و امان قائم کریں تاکہ  ان چیلنجوں کا مقابلہ کرسکیں  اور ان مقاصد  کی طرف پیش قدمی  کرسکیں جو ہمارے عصر میں زیادہ اہمیت کی حامل ہیں ۔ ان  میں سے ایک تو 16 ویں صدی میں اسلامی ایجنڈے کا تعین اور عصر ی سچائیوں  کی روشنی میں اسلامی امور میں اجتہاد  کے عمل کو عام کرنا، اس بات سے بے نیاز ہوکر کہ سماج میں موجود  دقیانوسی  عناصر  ا س کی مخالفت کریں گے ۔

اگر چہ  مختلف ممالک بشمول  ہمسایہ پاکستان میں شیعہ  اور سنّی  فرقے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں، ہندوستان  میں مسلمان ، جو کہ انڈونیشیا کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی مسلم آبادی ہے، شاذ ونادر ہی ایک دوسرے کے خلاف متشدد ہوئے ہیں ۔ بلکہ ایک شیعہ خاندان سیّد ہ حامد نے لکھنؤ  میں ایک سنّی جوڑے کا نکاح پڑھایا ۔

اسی طرح  بہت سے دوسرے ممالک  میں شیعہ سنّی تصادم اور تشدد کے واقعات  نہیں کے برابر  ہوئے ہیں ۔ بلاشبہ  حالیہ برسوں میں لبنان  جسے منقسم معاشروں  میں دونوں  فرقوں کے درمیان باہمی تعاون کا فروغ ہوا ہے حالانکہ اختلافات اپنی جگہ ہیں اور  مستقبل  میں پرتشدد  رخ اختیار کرسکتے ہیں اگر عالمی  مسلم برادری اس نظریاتی خلیج  کو جو بظاہر وسیع  ہے مگر درحقیقت  بہت چھوٹی ہے ( جیسا کہ آگے چل کر جاری بحث  میں ظاہر ہوجائے گا) پاٹنے  کی شعور  ی کوشش نہیں کی ۔ جیسا کہ امریکہ کم از کم ا س کا انتظامیہ کا مستقبل میں پر تشدد اختیار کرسکتے ہیں اگر عالم مسلم برادری اس نظریاتی خلیج کو جو بظاہر  وسیع  ہے مگر درحقیقت بہت چھوٹی ہے ( جیسا کہ آگے چل کر بحث میں ظاہر ہوجائے گا)  جیسا کہ  امریکہ یا کم از کم اس کی انتظامیہ  کا ایک چھوٹا طبقہ  جنوبی عرب اور عراق تیل  کے میدانوں  کے گردونواح  میں علاحدہ  شیعہ  ریاستوں کی تشکیل  پر سنجیدگی  سے غور کررہا ہے  جو اتنے  چھوٹے ہوں گے  کہ انہیں اپنی سرپرستی  میں چلایا جاسکے ۔ عالم اسلام شیعہ سنّی  نظریاتی  اختلافات  کو فوری طور پر دور کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ کا سامنا کرے گا۔

اور اگر اس منصوبے کو عملی  جامہ نہ بھی پہنایا جاسکا تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ عراق  ایران کی طرح کوئی قدامت پسند حکومت  صدام حسین کی سیکولر سنّی  حکومت کی راکھ سے اٹھنے  اور عالم اسلام میں نہیں  تو کم از کم  خطہ عرب  میں طاقت کے نازک مسلکی  توازن کو بگاڑ کر رکھ دے ۔ اب سوال  اٹھتا ہے کہ کیا امت  مسلمہ  اس طرح  کے چیلنج  کا سامنا کر سکے گی ؟  مولانا کلب  صادق  کی کوشش اس سمت  میں ایک چھوٹا مگر اہم قدم ہے اور اسی لئے میں اپنی پوری قوت سے اس بات پر زور دیتا ہوں کہ جو موقع او رماحول تیار ہوا ہے اسے ہاتھ سے جانے نہ دیں ۔

شیعہ سنّی اختلافات کتنا حقیقی او رکتنا گہرا؟

اس پورے جائزے میں صرف ایک سوال ابھر کر سامنے آتا ہے کہ شیعہ ۔ سنّی  اختلاف کتنا حقیقی او رکتنا گہرا ہے؟ یہ اختلاف کتنا نظریاتی ہے اور کتنا سماجی اور سیاسی مفادات سے متاثر ہے؟ کیا اس میں قبائلی، نسلی اور طبقاتی  جد وجہد  کا عنصر بھی شامل  ہے؟ دوسری طرف مسلکی  اتحاد  میں بیرونی عوامل جیسے ہندوستان میں  ہندو بنیاد پرستی سے خطرہ  اور عراق میں امریکی فوجوں  کو ملک سےنکال باہر کرنے کی ضرورت    ، کس حد تک کار فرما ہیں۔

شیعہ  فرقہ ، جو عالمی مسلم آبادی کے 15 فیصد پر مشتمل  ہے اور سنّی فرقہ جو بقیہ آبادی  ہے، دونوں بنیادی طور پر ایک ہی نظریے کے پیروکار ہیں ۔ چھوٹے موٹے نظیریاتی اختلاف او رگہری بدگمانیاں اور غلط فہمیاں 1400 سالہ اسلامی تاریخ میں ان کے آپسی تصادم  کی وجہ سے ایک دوسرے کے متعلق  پیدا ہوگئی ہیں ۔

شیعہ۔ سنّی اختلاف کی شروعات 632 ء میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات  کے فوراً بعد بلکہ ان کی تدفین سے ہی پہلے ان کی جانشینی  کے مسئلے سےہوئی جو موجودہ  عراق  کے کربلا  میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے اہل  بیت اور نواسوں کے قتل کی وجہ بنی ۔ شیعہ سنّی  اختلاف کا کوئی جواز تب بنتا ہے جب کسی سنّی  نے کربلا  کے قتل عام کی تائید کی ہوگی ۔ کوئی سنّی  ایسا نہیں کرتا۔ کربلا کے مظلومین کو آفاقی  طور پر شہید کا درجہ دیا گیا ہے۔ شیعہ اور سنّی دونوں فرقے محرم کے مہینے  میں ان کی شہادت کاماتم کرتے ہیں اور اس دردناک سا نحے  کاچہلم مناتے  ہیں ۔  عاشورہ کے دوران شیعہ  جنگِ  کربلا  کو یاد کرتے ہیں اور  ذاکرین ماتمی جلسوں  میں سینہ کوبی،اور آہ وزاری کرتے ہوئے حاضرین کے سامنے کربلا کے مناظر کو دل سوز انداز میں بیان کرتے ہیں تو سنّی  بھی اسی طرح  کی رسمیں ادا کرتے ہیں ۔ فرق  صرف شدّت  کا ہوتا ہے۔ سنّی حضرات کربلا  کے مناظر  کا بیان سن کر اپنے ہاتھوں سے سینہ  پیٹتے  اور آنسو بہاتے  ہیں جب  کہ شیعہ  فرقے کے لوگ چھوٹے چھوٹے چاقوؤں اور دھار دار اشیاء سے اپنے سینے او رکندھوں پر ضرب لگا تے اور خون بہاتے ہیں ۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد حضرت علی رضی اللہ عنہ  کو چوتھا اور آخری خلیفہ تسلیم کرتے ہیں ۔ وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ( 634۔632) ، حضرت عمررضی اللہ عنہ ( 644۔634) اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ( 656۔644) کے بعد خلیفہ  بنے ۔ شیعوں  کی رائے ہے کہ خلیفۂ  اول حضرت علی رضی  اللہ عنہ کو ہوناچاہئے تھا اور خلافت حضرت علی رضی اللہ عنہ  اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ  کے وسیلے  سےحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے  اہل خاندان کو منتقل  ہوتی ۔ وہ لوگ  اکثر خود کو اہل بیت ( حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ) بھی کہتے ہیں ۔

فسادات  جیسا  کہ اکثر پاکستان میں ہوتے ہیں شیعہ  فرقہ  کے لوگوں کے ذریعہ  محرم  کے جلوسوں  کے دوران حتیٰ کہ سنّی   علاقوں  سے گذرتے ہوئے بھی اول تین خلفائے راشدین کو گالیاں دینے اور سنّیوں کے ذریعہ انہیں اشتعال  انگیز  عمل سے روکنے پر ہوتے ہیں ۔

شیعوں کا یقین ہے کہ اول تینوں  خلفاء نے خلافت پر قبضہ کیا جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ  کا جائز حق تھا ۔ سنّی فرقے کے لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی اتنی  ہی عقیدے  رکھتے ہیں  جتنی کہ پہلے تین خلفائے راشدین سے ۔ او ر شیعوں  کی رسم تبّرا ( تینوں خلفائے راشدین کی شان میں توہین آمیز کلمات)  کو پسند نہیں  کرتے ۔ شیعہ  علماء کا  کہنا ہے کہ تبّر ا ان کے فرقے  کی مستندروایت  نہیں ہے بلکہ کچھ گمراہ لوگ ہی اس پر عمل کرتے ہیں ۔ امریکی اسلامی عالم شاہد  اختر کہتے ہیں ‘‘ اگر کچھ شیعہ حضرات تینوں  خفائے راشدین کی شان میں تبّرا کہتے ہیں تو  وہ ایسا لا علمی کی بنا پر کہتے ہیں اور انہیں خدا  سے معافی مانگنی چاہئے ’’۔ اہل  تشیع اول تین خلفائے راشدین کو حضرت  محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور انتظام کار تسلیم کرتے ہیں،  امام نہیں ۔ شیعہ  امام حضرت  جعفر صادق  خلیفہ  اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  کے خاندان کے ایک فرد تھے ۔ لیکن سنیوں  کا یقین ہے ( جو کہ غلط ہے)  کہ تمام اہل تشیع  تینوں  خلفائے  راشدین  کو طنز  و تضحیک  کا نشانہ  بناتے ہیں ، اگر کھلے عام سڑکوں پر ایسا نہ بھی کرتے ہوں  تو اپنے گھر وں میں  تو ضرور کرتے ہیں اور اسی لئے  وہ اس  پر اعتراض کرتے ہیں ۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے خود ہی  اول دونوں خلفاء حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ  اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بغیر  کسی اعتراض  کے خود تسلیم کیا تھا، گرچہ وہ ان کی بعض  پالیسیوں  سے اتفاق نہ رکھتے ہوں ۔ وہ خلافت  کے امید وار خلیفہ  دوم کی شہادت  کے بعد ہوئے ۔ وہ حضرت  عثمان رضی اللہ عنہ  کی خلافت  کو قبول   نہیں کرسکے اور مخالفین کی جماعت  میں یہ عجلت  شامل ہوگئے ۔ وہ زہد و تقویٰ  میں مردِ کامل تھے  اور قرآن مجید  اور حدیث پاک کی تفسیر و تشریح  میں تینوں  خلفائے راشدین خصوصاً  حضرت عثمان رضی اللہ عنہ  سے اختلاف رکھتے تھے ۔

خلافت  صرف ایک انتظامی عہدہ تھا ۔ تقویٰ  اور شجاعت  سے زیادہ  تدبرّ  اور سیاسی فہم کا متقاضی تھا حالانکہ خلیفہ ریاست کا روحانی و دنیاوی پیشوا دونوں ہوتا تھا ۔ یہ خصوصیات  باہمی طور پر اختصاص نہیں رکھتی  ہیں مگر یقینی طور پر کمیاب  ہیں ۔ نیز  سنیوں کا یقین  ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  غالباً  وراثتی  اصول  کو فروغ نہیں دے سکتے تھے کیونکہ  جو قرآن  وہ اس دنیا میں  لے کر آئے وہ بار بار  اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ سوائے تقویٰ  کے وراثت ،حسب  نسب یا امارت کسی شخص کو فضیلت نہیں عطا کرتی ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ  کو تمام لوگوں کی عقیدت  و احترام حاصل تھا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخر الزماں نے خود انہیں  باب العلم ( علم کا دروازہ) کا لقب دیا تھا ۔ لیکن جب ان کے دورِ خلافت کا مطالعہ کریں تو اس بات کا اندازہ  ہوتا ہے کہ حکمراں قبیلہ  قریش  نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال  کے بعد کیوں  درجۂ خلافت پر ان کے ارتقاع پر تحفظات رکھتا تھا ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ  کے دورِ خلافت آپسی  خلفشار ، تذبذب اور غلط فیصلوں  سے مثخص تھا ۔ وہ روز اول  ہی سے تنازعات میں گھِر گئے تھے ۔ وہ ایک غیر معمولی  صورت حال میں خلیفہ  منتخب کئے گئے ۔ تیسرے  خلیفہ  حضرت عثمان اپنے گھر میں قرآن کی تلاوت کرتے  ہوئے باغیوں  کے ہاتھوں  ہلاک ہوگئے ۔ ان کے ہمراہ  خلیفہ  دوئم حضرت عمر  کے صاحبزادے بھی ہلاک ہوئے ۔ وہ کچھ  وقت کے لئے محاصرے میں رہے ۔ ان کے قتل سے پہلےہونے والی  خوں ریزی  کے دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ زیادہ تر الگ تھلگ رہے اور خلیفہ وقت کا دفاع نہیں کیا،  بلکہ وقفے وقفے سے باغیوں کے ترجمان کا کردار ادا کیا ۔

لہٰذا  ان کے خلیفہ  منتخب ہوتے ہی انہیں سب سے پہلے اسی سوال کا سامنا کرنا پڑا کہ ان کے پیش روکے قاتلوں کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جائے ۔ انہوں نے ان کے خلاف کوئی اقدام نہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے ان کی مخالفت کی ۔ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر قاتلانِ عثمان رضی اللہ عنہ  کو کیفر کردار  پہنچانے کے معاملے میں نرمی سے  کام لینے کا الزام لگایا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی فوجوں کے حضرت علی رضی اللہ عنہ  کی فوجوں سے جنگ جمل  میں شکست  کھانےکےبعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ  سے معافی مانگ لی اور گوشہ نشینی  اختیار کرلی ۔

بہر حال ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ  کے ایک رشتہ دار اور سیریان کے طاقتور گور نر حضرت معاویہ  نے ا س صورت حال کو قبول نہیں کیا ۔ کوہ چاہتے تھے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچا جائے ۔ انہوں نے نئے خلیفہ  کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے بھی انکار کردیا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ  اپنی فوج کے ساتھ انہیں  مطیع کرنے کےلئے روانہ ہوئے ۔ حضرت معاویہ نے انہیں سفین  کے مقام پر روکا ۔ کئی  ماہ دونوں  ایک دوسرے کے سامنے ڈٹے رہے اور اس کے بعد دونوں میں ایک مشہور جنگ ہوئی ۔ جب علی رضی اللہ عنہ  فتح کے قریب تھے حضرت معاویہ  کے فوجوں نے نیزوں پر قرآن کی جلدیں  بلند کر کے جنگ بندی اور تنازع  کو ثالثی کے ذریعہ حل کرنے کا عندیہ دیا ۔  حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ثالثی  کی تجویز قبول کرلی ۔ لیکن  ان کے کچھ  وفاداروں  کا خیال تھا کہ یہ قرآن کی ہدایات کے خلاف تھا لہٰذا ان لوگوں نے وفاداری  بدل لی ۔ یہی مخالفین خارجی  کہلائے ۔

ثالثی کا تنازع:

اس مرحلے  میں حضرت  علی رضی اللہ عنہ  کا تذبذب  تباہ کن ثابت ہوا ۔ انہوں نے اپنے چند بے  حد متقی  اور راسخ العقیدہ  جاں نثاروں کی رائے کو مسترد کرتےہوئے ثالثی  ایسے وقت  میں قبول کرلی جب ایک طویل اور سخت جنگ کے بعد فتح  ان سے دو قدم دور تھی مگر جب عوامی رائے ان کے خلاف گئی تھی  تو انہوں نے قبول نہیں کی تھی ۔

دونوں حریفوں  کے ذریعہ  مقرر کئے گئے ثالثوں  نے یہ فیصلہ سنایا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ  کو غیر  منصفانہ طور پر قتل کیا گیا ہے۔ لہٰذا  ان کے قاتلوں  کو سزا دی جانی چاہئے ۔ بہر حال معاویہ کے خلاف اپنی مہم کی تجدید کی کوشش سے پہلے انہوں نے خارجیوں  سے واپس آنے کی اپیل کی۔

لیکن خارجی، جن سے بیشتر  پرہیزگار مسلم تھے  ، اس بات پر مصر تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے ثالثی قبول کرکےقرآن کی نافرمانی کی اس لئے  وہ ان کی بیعت  کے مستحق نہیں ہیں ۔ خارجیوں  نے ان کی اپیل نہیں سنی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے ان کے قتل کا قصد کیا اور اس طرح انہوں نے اپنے بہت سارے خیر خواہوں  اور وفاداروں کو اپنا بدترین دشمن بنا لیا ۔ وہ حضرت معاویہ  کے خلاف پیش قدمی نہیں کرسکے کیونکہ  ان کے بہت سے وفاداروں  نے یہ کہہ کر ان کا ساتھ  چھوڑ دیا کہ ثالثی  کے معاہدے  کی خلاف ورزی کر کے غیر اسلامی فعل کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ بعد ازاں  خلیفہ  نامزد کرنے کا کام دو ثالثوں  کے سپرد کیا گیا جن میں سے ایک کو خود حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے مقرر کیا تھا ۔ دونوں  میں سے کوئی بھی خلافت کے امیدوار  کے طور پر ان کے نام پر غور ہی نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ ہوسکتا ہے کہ میں یہ سب اپنے سنّی  پس منظر کی وجہ سے کہہ رہا ہوں مگر ایک خلیفہ  کی حیثیت  سے ان کی کار کردگی پر غور کرنے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے وصال کے  بعد کے بحران کے دور میں بھی مسلمانوں  کے انہیں خلیفہ منتخب  نہ کرنے کے فیصلے  پر سوال اٹھانا مشکل لگتا ہے ۔ بہر حال، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری علالت کے دوران  امامت  کے لیے صحابی اور اپنے جگری  دوست حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ  کو کھڑا  کر کے ان کے حق میں اپنی ترجیح  ظاہر کردی تھی ۔

تنازع کی تاریخ:

حضرت علی رضی اللہ عنہ  کی وفات  کے بعد حضرت معاویہ نے اپنی خلافت کا اعلان کردیا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ  کے بڑے صاحب زادے حضرت حسن رضی اللہ عنہ  نے  خلافت  کے اپنے دعوے سے دست بردار  ہونے کےلئے پنشن قبول کی ۔ ایک برس  کے اندر ہی  ان کی وفات ہوگئی ۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں زہر دے دیا گیا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ  کے چھوٹے صاحبزادے  حضرت حسین رضی اللہ عنہ  نے حضرت معاویہ کی موت تک خلافت  پر اپنا دعویٰ ملتوی کردیا ۔ بہر حال 680 ء میں  حضرت معاو یہ  کے انتقال  کے بعد ان کے بیٹے یزید  نے خلافت  پر قبضہ  کرلیا ۔ حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کے خلاف لشکر  لے کر پیش قدمی  کی مگر کربلا  کے میدان میں یزید کی بھاری فوجوں نے ان کا اور ان کے ساتھیوں کا قتل کردیا ۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ  کے سب سے چھوٹے بیٹے علی زندہ بچ گئے اور اس طرح پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل چلتی رہی ۔ یزید نے خاندانی  اموی  حکومت کی بنیاد ڈالی۔ چند  مسلمان جو یزید  کی قاتل  حکومت میں بھی ان شہیدوں  کے حامی اورمقلد رہ گئے وہ خود کو شیعان علی یا صرف شیعہ  کہنے لگے ۔ او رمسلمانوں  کی اکثریت  جنہوں نے خاموشی  سے یزید کی اطاعت قبول کرلی اور سنّی کہلائے ۔

شیعہ فرقہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ  کے توسط  سے پیدا ہونے والوں  کو امام  یاروحانی پیشوا تسلیم کر کے ان  سے عقیدت  کا اظہار کرتے رہے ۔  مگر یہ نسل  873 ء میں  آخری شیعہ امام حضرت العسکری  کے چار برس  کی عمر  میں منصب امامت پر فائز  ہونے  کے کچھ ہی دنوں  کے بعد گمشدہ  ہونے سے ناپید  ہوگئی ۔ ان کا کوئی بھائی نہیں تھا ۔ شیعوں نے اس بات کو قبول کرنے سے انکار کردیا  کہ وہ انتقال  کر گئے ہیں  اور اس یقین  کو ترجیح دی کہ وہ درپردہ چلے گئے ہیں او رلوٹ آئیں گے ۔ جب کئی صدیوں  کے بعد وہ لوٹ  کر نہیں آئے تو روحانی اقتدار 12 علما ء  کی مجلس  کو منتقل  ہوگیا جس نے ایک سپریم امام کا انتخاب کیا ۔شیعہ سپریم امام کی بہترین موجودہ مثال ایران  کے روحانی پیشوا  مرحوم آیت اللہ رو ح اللہ خمینی ہیں جنہوں نے  1979 میں امریکہ کے حمایت یافتہ  شاہ کا  تختہ پلٹ کر ایرانی انقلاب کی بنیاد ڈالی ۔

کیتھولک ۔ پروٹسٹنٹ تقسیم سے مشابہت :

اسلام میں شیعہ ۔ سنّی  تفرقہ  کئی لحاظ سے رفتہ رفتہ  عیسائیت  میں کیتھو لک ۔ پروٹسٹنٹ  تفرقہ  سے متشا  بہت  اختیار کر چکا ہے جس میں شیعہ  فرقہ کیتھولک کے خطوط  کیتھولک کے خطوط پر آگے بڑھ رہا ہے جب کہ سنّی  فرقہ کئی لحاظ سے پروٹسٹنٹ  سے متشابہت  رکھتا ہے ۔ شیعہ  امام کو  پوپ کی طرح عصمت سے متصف کردیا گیا ہے اور شیعوں  کا مذہبی سلسلہ مراتب ساخت اور مذہبی اثر ورسوخ کے اعتبار سے کیتھولک چرچ سے مختلف نہیں ہے ۔دوسری طرف سنّی فرقہ  خود مختار پروٹسٹنٹ  چرچ سے بھی گم پابند ہے۔

شیعوں کے برعکس  سنّیوں کا  کوئی روحانی پیشوا نہیں ہوتا ۔ وہ اسلامی علما ء  اور فقہا ء کا احترام کرتے ہیں مگر خود ان کے فتاویٰ  کے پابند نہیں سمجھتے  ۔ اہل تشیع  کا یقین  ہے کہ ان  کا عالی امام ایک مکمل روحانی رہنما ہے جسے  حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فیض  حاصل ہے ۔ شیعہ  امام کو قانون اور روایت کا بے خطا  ترجمان مانا جاتا ہے ۔

نسلی اور قومی افتخار نے بھی بعد میں دونوں فرقوں کے مابین رشتوں کو مزید بگاڑا ۔ غیر عرب تہذیوں  خصوصاً  ایرانی اور ہندوستانی تہذیبوں  کے وارثوں نےبھی  اپنی الگ شناخت  قائم کرنے اور کبھی کبھی  عرب حکمرانوں کے سلوک پر عدم اطمینان  کا اظہار کرنے کے لیے  بھی شیعیب  اخیتار کی ۔

بہر کیف شیعیت  کی توسیع  ہمیشہ اختیاری  نہیں تھی ۔ سولہویں  صدی کے اوائل  میں ایران کی صفوی  سلطنت  نے سنّی  آبادی پر شیعیت  تھوپ دی ۔ آر ایم سِووری ( RM Savory) ٹورنٹو  یونیورسٹی اپنی کتاب کیمبرج  ہسٹری  آف اسلام میں لکھتے ہیں ‘‘ ایک ایسے ملک میں جہاں  کی اکثریت سنّی  تھی شیعیت کا نفاذ  ، کم از کم  سرکاری طور، ظاہر ہے بغیر مخالفت کے اور مخالفت کرنےوالوں پر ظلم و جبر کئے بغیر ممکن نہیں ہوسکتا ۔ عدم اطاعت کی سزا موت تھی اور  ابتدا  ہی سے جبر کا اندیشہ  رہتا تھا ۔ جہاں  تک عام شہریوں کا تعلق ہے ، جبر و ظلم کا خوف  ہی کافی تھا ۔ علما   ء  کچھ  زیادہ ہی سر کش تھے ۔ کچھ  کو موت کی سزا دے گئی ۔ بہت سے دوسرے ان علاقوں کی طرف بھاگ گئے جہاں سنّی اکثریت میں تھے جیسے ہرات، اور صفوی  حکومت کے ذریعہ  خراساں پر قبضے  کے بعدبخارا  کی راجدھانی از بیگ کی طرف ’’۔

حالانکہ تمام مسلم ممالک میں شیعہ ہر جگہ موجود ہیں اکثر یت والا واحد ملک ایران ہے ۔ عراق  ، آزر بائیجان  اور یمن کی بھی  اکثریت شیعہ ہے ۔ بحرین ،سعودی عرب کے مشرقی ساحل  اور لبنان  میں بھی  شیعوں کی خاصی آبادی ہے ۔ حزب اللہ ، جس نے 2000 ء میں اسرائیل  کو جنوبی لبنان  سے کھدیڑ دیا، شیعہ  فرقے سے تعلق رکھتا ہے ۔

مفاہمت و مصالحت  کی کوشش :

پوری دنیا میں  شیعہ اور سنّی  فرقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان مصالحت و مفاہمت  کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ ان کی دلیل  یہ ہے کہ جن واقعات نے اسلام اس تفرقے کی بنیاد ڈالی ان کے تیرہ چودہ سو سال گزرجانے کے بعد آج اسلام کی تاریخی  شخصیتوں  اور ان کی محرکات  کے متعلق  کوئی حتمی رائے  نہیں ہے ۔ دراصل آج کے دور میں عالمی میڈیا کی موجودگی  میں بھی افراد  اور واقعات کے متعلق حتمی رائے قائم کرنا ممکن نہیں ہے۔

مثال کے طور پر آج اگر کوئی و ثوق سے یہ نہیں  کہہ سکتا  کہ صدام حسین مغربی ( مہذب ) دنیا کے لئے واقعی خطرہ تھے ، کوئی کس طرح یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ 656ء میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ  کے قتل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ  تھے حالانکہ وہ ان کے قاتلوں  کا  اپنی پوری  خلافت  کے دوران  دفاع  کرتے رہے ۔ اور بہت  سے لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا ہمیں آج ان کے بارے میں  رائے زنی کی ضرورت بھی ہے؟

نظریاتی اختلافات :

ماضی بعید میں  رونما ہونے والے واقعات  سے دونوں  فرقوں کے درمیان  پیدا ہونے  والے نظریاتی  اختلافات  دونوں کے تعلقات  میں حائل  رہے ہیں ۔  پھر بھی مذہب اسلام  کی پیروی و تقلید  میں ان سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ درحقیقت ان اختلافات کی سنّیوں  ہی کے چار مسلکوں  کے درمیان اختلافات سے زیادہ اہمیت نہیں ہے ۔ پھر بھی سنّیوں  کو اس بات کا گلہ ہے   کہ اہل تشیع  اسلام کے بنیادی  عناصر  کو زیادہ  اہمیت نہیں دیتے  اور زیادہ  اہمیت حضرت علی رضی اللہ عنہ  کی تعظیم  اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ  اور اہل بیت کی شہادت کو دیتے ہیں ۔

اہل تشیع  میں شہادت  اور قربانی کے تئیں  شدید جذبات بہت سے سنّی  مسلمانوں میں تلخی  کا باعث ہوئے ہیں ۔ اہل تشیع  کے متعلق یہ خیال ہے کہ سنّیوں  کے لئے گہری  نفرت کا جذبہ رکھتے ہیں ۔ لیکن جو لوگ  اس حقیقت  سے واقف  ہیں جنوبی ایشیاء میں بریلوی، وہابی اور دیوبندی  جیسے سنّی  فرقے  ایک دوسرے کو کافر قرار دے کر کتنی شدت  نفرت  سے لڑتے ہیں ان کے لئے شیعہ سنّی اختلافات  کوئی اہمیت نہیں رکھتے ۔

درحقیقت اسلام کے ابتدائی  دور میں اہل تشیع  کو مسلم معاشرے سے خارج نہیں کیا گیا تھا حالانکہ  اس وقت بھی سنّی  اور شیعہ  علما ء میں گرما گرم بحثیں  چلتی تھیں ۔  امام ابوحنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ  جن کی سنّیوں  کی اکثریت پیروی کرتی تھی،  دونوں شیعوں کے مختلف  معاملات میں ان کے حامی رہے ۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ  نے  یمن میں شیعوں کی ایک بغاوت میں حصہ لیا اور امام ابو حنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  عراق میں زیدی  شیعوں  کی بغاوت  میں شامل رہے ۔ بلاشبہ ، امام  ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ  نے حدیث پاک کی تعلیم میں شیعوں  کے چھٹے امام حضرت صادق  کی احسان مندی کا اعتراف کیا ۔

بہر حال ، صدیوں  پرانی رنجشوں کے باوجود  احمدی فرقے معاملے میں کامیابی سے حوصلہ پاکر سنّیوں نےاب یہ مطالبہ کرنا بھی شروع کردیا ہے کہ شیعوں  کو بھی غیر مسلم قرار دیا جائے ۔ سعودی عرب  جہاں  کے حکمراں  مسلکی نفرت کو پھیلانے میں سب سے آگے ہیں  وہاں کے شیخ  بن باز نے مبینہ طور پر ایک فتویٰ  میں یہاں  کہہ دیا ہے کہ اہل  کتاب ( یہودی اور عیسائی )  کا گوشت  مسلمانوں  کے لیے حلال  ہے مگر شیعوں  کے ذریعے ذبح کیا ہوا گوشت حلال نہیں ہے ۔

وہابیوں  کی اصل  شکایت  یہ ہے کہ شیعوں نے ایمان کی بنیادی  شہادت  کو ہی تبدیل کردیا ہے ۔ سنّی  کلمۂ  شہادت یوں ہے :

 لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ

( اللہ کے سوا کوئی معبو د نہیں  ، محمد  اللہ کے رسول ہیں )

لیکن شیعہ لوگ مندرجہ  کلمات بھی جوڑ دیتے ہیں :

علی ھو صدیق اللہ،  خلیفۃ الرسول اللہ و الخلیفۃ الاول

( علی اللہ کے دوست ہیں اور رسول اللہ کے جانشین  اور خلیفۂ اول ہیں )

عملی اختلافات 

 شیعہ ۔ سنّی  فرقوں  میں مذہبی رسومات کی ادائیگی  میں بھی کچھ واقعات  راہ پا گئے ہیں ۔ شیعوں کے یہاں  اذان ذراسی  مختلف ہے جس میں علی رضی اللہ عنہ  کی شان میں چند الفاظ  جوڑ دیے گئے ہیں ۔ وہ لوگ وضو اور نماز تھوڑے مختلف   طریقے  سے ادا کرتے ہیں ۔  مثال کے طور پر وہ سجدہ  براہِ راست  جاء نماز پر نہیں بلکہ  کربلا کی مٹی کے تودے پر کرتے ہیں ۔ وہ نمازوں کو ملا کر  پڑھ لیا کرتے ہیں یعنی دن میں پانچ اوقات  کی بجائے صرف تین اوقات ۔ لیکن سہولت   کی بنیاد پر انفرادی   طریقہ  ہے اور ایسی  نماز  پڑھنا نہ پڑھنا برابر ہے ۔ بہر حال  ، شیعہ مسجدوں میں بھی سنّی  مسجدوں  کی  طرح نماز پنجگانہ  ادا کی جاتی ہے۔

حالانکہ دونوں فرقوں کی بنیادی  الہامی کتاب ایک ہی ہے یعنی قرآن ، اہل تشیع حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی چند مختلف  احادیث اور ان کے راویوں  پر اعتبار کرتے ہیں ۔وہ حضرت علی  رضی اللہ عنہ  او رحضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ  کی روایتوں  کو دوسرے صحابہ  خصوصاً  عائشہ رضی اللہ عنہ  کی روایتوں پر ترجیح دیتےہیں ۔ اہل تشیع  کے  یہاں عارضی  شادی جیسے متعہ  کہتے ہیں اور مروّج ہے جب کہ یہ سنّیوں  کے یہاں ممنوع کردیا گیا ہے ۔ متعہ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانے میں رائج  تھا اسلامی عالم حسین عبدالوحید علیم  کے مطابق قدامت  پسند  مولویوں  اور خواتین کے حقوق  کے علمبرداروں  کے ذریعہ  اب ایران میں اسے  عام کیا جارہا ہے ۔ اس کے پیچھے   مقصد یہ ہے کہ دو شیزگی کے متعلق  دونوں  فرقوں  میں جو  جنون ہے اسے کم کیا جائے اور اس کے لیے یہ جواز  پیش کیا جاتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی 13 ازواج مطہرات  میں  سے صرف ایک نکاح  کے وقت باکرہ تھیں ۔

تمام حریفوں کے دعوؤں  کے اور الزامات میں تضادات ہیں ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ  کے خلاف سب سے اہم الزام  یہ تھا کہ انہوں نے دین میں  اختراع کیا اور قرآن کے احکام اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے آگے نکل گئے ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ ان بدعات  و اختراعات  کے  خلاف  لڑے ۔ مگر ان کے سابق وفادار اور حامی خارجیوں کی طرف سے ثالثی کے معاملے میں  وہی الزام لگائے گئے ۔

اہل تشیع  بجا طور پر ا موی خاندان پر اپنی حکومت قائم کرنے کاالزام لگاتے ہیں جو کوئی بھی اسلام  کے بارےمیں  ذراسی  بھی جان کاری رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ اسلام   انسانوں  کے درمیان مساوات  کا درس دیتا ہے سوائے زہد و تقویٰ  کے ۔ لیکن اہل تشیع کا یہ بھی ماننا ہے کہ  خلافت کا سلسلہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان  میں جاری رہنی چاہئے تھی  اس بات سے قطع  نظر کہ خلافت کے وارث اس لائق تھے یا نہیں ۔ بہت سے سنّی اس خیال کو ہی توہین رسالت صلی اللہ علہ وسلم  مانتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  خاندانی سلسلہ  خلافت جاری کرناچاہتے تھے ۔

شیعہ ۔ سنّی  اتحاد کا موقع 750 ء  میں آیا تھا ۔ ابو العباس  صفّہ  کی قیادت میں ایک بغاوت میں مصر کی جنگِ زب میں اموی  خاندان کا کلّی  طور پر صفایا ہوگیا تھا۔ یہ صلاح  دی گئی کہ حسین رضی اللہ عنہ  کے پر پوتے جعفر صادق کو خلیفہ مقرر کیاجائے ۔ لیکن 754 ء میں جعفر کی موت تک اس معاملے کو حتمی  شکل  نہیں دی جاسکتی تھی کہ عباس کے بھائی منصور نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کاقتل کردیا اور خلافت پر قبضہ کر کے بغداد میں عباسی سلطنت  کی بنیاد ڈالی جو 1258 تک سقوط بغداد کے وقت تک حکمراں  رہی ۔

اس کے کافی عرصے  بعد ایک دوسرا موقع بھی آیا ۔ 1959 میں سنّی  فرقے کی عظیم الشان  اور دنیا کی قدیم  ترین یونیورسٹی قاہرہ کے الازہر  کے اسکول  آف تھیولوجی کے سربراہ شیخ محمود شلطوت نے یہ فتویٰ  صادر کیا کہ جعفری مسلک کو جس  کو شیعوں کی اکثریت تسلیم کرتا ہے مسلمانوں کی ایک  مسلک  تسلیم کیا جائے ۔

فتوے کے دو اہم نکات :

(1)  اسلام کسی  پرکسی مخصوص مسلک کی پابندی عاید نہیں کرتا ۔ بلکہ  ہم کہتے ہیں  کہ ہر مسلم کو یہ حق  ہے کہ وہ کسی بھی ایک مسلک کی تقلید  کرسکتا ہے جو درست طریقے  سے وضع کیا ہو ا ہے اور اس کے قوانین اس  کی کتابوں میں محفوظ  ہیں ۔ اور ہر کوئی اپنے مسلک کو چھوڑ کر دوسرے مسلک میں داخل ہوسکتا ہے اور ایسا کرتے ہوئے وہ جرم کا مرتکب  نہیں ہوگا ۔

(2) جعفری مسلک جسے الشیعہ  الامامیہ الاثناءِ عثریہ ( بارہ اماموں  کو ماننے والے شیعہ) کہا جاتا ہے بھی مذہبی طور پر اتنا ہی  درست ہے جتنے  سنّی  مسالک ۔ مسلمانوں  کو اس بات کاعلم ہوناچاہئے  اور کسی مخصوص  مسلک  کے متعلق  بے جا بغض و تعصب نہیں رکھنا چاہئے کیونکہ اللہ کے دین اور شریعت  کو کسی ایک مسلک  تک کبھی محدود نہیں کیا گیا ۔ ان کےمجتہدون ( فقہا) اللہ کے نزدیک مقبول ہیں اور کسی بھی غیر مجتہد کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ ان کی پیروی  و تقلید  عبادات و معاملات  میں گر سکتا ہے ۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے  کہ وہ فتویٰ مصالحت  اور مفاہمت  کے لیے بنیاد بنایا جاسکتا ہے ۔ کم از کم شیعہ سنّی اختلافات کے لیے پُل  کاکام کرسکتا ہے ۔ ایران کے مرحوم امام آیت اللہ روح اللہ خمینی نے اس سمت پیش رفت کی تھی ۔ 1979 میں شاہ کو معزول کرنے کےلئے ان کے انقلاب کو کبھی  بھی شیعہ  انقلاب نہیں کہا گیا بلکہ  اسے اسلامی انقلاب کہا گیا ۔

سلمان رشدی  کے خلاف موت کا فتویٰ :

1989 میں  سلمان رشدی  کی کتاب شیطانی آیات کے لئے  ان کے خلاف خمینی کا فتویٰ  کئی لحاظ سے کافی متنازع تھا ۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ فتویٰ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات  خصوصاً  حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ  کے دفاع  میں تھا جنہوں نے  حضرت علی رضی اللہ عنہ  کے خلاف جنگ کی تھی اور اسی لئے اہل تشیع  ان کےمتعلق  اچھی رائے نہیں رکھتے ۔ رشدی  نے شیعہ  ناقدین کے مطابق بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ  یا اہل تشیع  کی توہین نہیں کی تھی ۔ اس نے اسلام ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ازواج مطہرات کو نشانہ بنایا تھا ۔

اس فتوے کے منفی اثرات جیسے مغرب میں مسلمانوں  کی مذہبی جنونیوں  کی حیثیت  سے شناخت  سے قطع نظر اس کا مثیت پہلو  یہ تھا کہ  اس نے مذہبی  مزاج کے شیعہ  اور سنّی  افراد  کو ایک پلیٹ فارم  پرلا کھڑا کیا تھا ۔  لیکن  اس موقع کو کھو دیا گیا ۔ حتیٰ کہ وہ مسلمان جو اس فتویٰ  کے مخالف تھے یہ تسلیم کرتےہیں کہ یہ فتویٰ  شیعہ   فتویٰ  قطعی نہیں تھا ۔

عالم عرب  میں امریکہ  کی نئی مداخلت سے پیدا شدہ صورت حال  میں مفاہمت کی فوری ضرورت پھر سے محسوس کی جارہی ہے ۔ اسلامی میڈیا اور انٹر نیٹ پر ہونے والی بحث  و تمحیص اس بات  کا اشارہ دے  رہی ہے کہ اس سمت  جلد ہی کوئی پیش  رفت ہونے  والی ہے ۔ بہت سےسنّی اور شیعہ افراد نے غیر ضروری  اور بنیادی طور پر معنیٰ  تقسیم  پر اپنی بے اطمینانی  کا اظہار کیا ہے ۔

ہندوستان کا شیعہ ۔ سنّی اتحاد  امید کی ایک کرن:

بہر حال ، اس بات کا اعتراف بھی کرنا پڑتا ہے کہ یہ کام اتنا سہل نہیں ہے ۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ پاکستانی انتہا پسند  تنظیم سپاہ ِ  صحابہ  جس پر شیعوں کے قتل  کا الزام ہے برسوں سے سعودی عربیہ  کے وہابی  حکمرانوں  سے مالی امداد حاصل کرتی رہی ہے ۔ اسی طرح ایران کےمتعلق کہا جاتا ہے کہ وہ پاکستان میں انتہا پسند شیعہ  تنظیم تحریک نفاذِ فقہ  جعفر یہ کی مالی امداد کرتا رہا ہے ۔  یہ دونوں  تنظیمیں  پاکستان میں شیعہ  ۔ سنّی  اختلافات کو ہوا دینے کا کام کرتی رہی ہیں ۔

جہاں تک  عالم عرب  کا سوال ہے ، امریکہ میں مقیم اسلامی عالم سیّد حسین نصر فرماتے ہیں  پچھلے چند برسوں میں  ارباب اقتدار  کے ذریعہ  سیاسی مفادات  کے پیش نظر خلیج فارس میں واقع  ممالک  میں شیعوں اور سنّیوں کے درمیان  نفرت کی آگ کوبھڑکانے کےلئے کافی دولت خرچ کی گئی ہے۔

اس واقعے کو زیادہ عرصہ نہیں گذرا کہ 1980 میں عربوں نے صدام حسین  کے ذریعہ  ایران پر حملے کی اس  بنیاد پر حمایت کی تھی کہ خلیجی خطّے  میں شیعہ طاقت کا فروغ سنّی عرب ممالک کے لئے ایک خطرہ تھا ۔ 8 سالہ عراق  ۔ ایران جنگ  کا ، جس نےشیعہ  ۔ سنّی  تفرقے  کو اور شدّت  عطا کردی ، مغربی طاقتوں  نے پوری  قوت سےساتھ دیا ۔

صدام کےعراق  کی سیکولر عرب  قومیت ، سعودی عرب  کی وہابی اسلامی بنیاد  پرستی اور مغربی سا مراجیت کی اور اس کے لا محدود ابلاغی و سائل  کے ناپاک اتحاد نے مل کر شیعہ  سنّی تفرقہ  کو کافی  سنگین بنا  کر پیش کیا ہے ۔ اس لئے یہ بلاوجہ  نہیں  ہے کہ مغربی میڈیا  شاذ نادر ہی کسی عراقی کو مسلمان کی حیثیت  سے پیش کرتاہے ۔ عراق میں مسلمان ہیں ہی نہیں  ، صرف شیعہ  ہیں، سنّی  یا کُرد ہیں ، ٹھیک اسی طرح جس طرح ان کے لیے  کوسووو میں مسلمان  نہیں صرف البانیائی  نژاد افراد تھے ۔

عراق  میں یہ اندیشہ صحیح ثابت نہیں ہوا کہ کئی دہائیوں پر محیط  سنّی غلبے  کے خلاف شدید ردّ عمل  سامنے آئے گا جو یہ ظاہر کرتاہے کہ تقسیم کر و اور حکومت  کرو گے سامرجی پروجیکٹ کو اس ملک  میں کم از کم اب تک کامیابی نہیں ملی ہے ۔ اب عالم اسلام کے شیعوں  اور سنّیوں کی ذمےداری ہے کہ وہ عراق  کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے سامراجی طاقتوں کی سازشوں اور انتہا پسندوں  کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہم آہنگی اور امن کو فروغ   دیں ۔ ہندوستان کے شیعہ  اور سنّی فرقے  اس عمل میں امید کی کرن بن سکتے ہیں ۔  ہم مولانا  کلب جواد  اور محترمہ سیدہ  حامد کےنقشِ قدم پر چل کر مفاہمت اور مصالحت  کے ذریعے  سے حقیقی اتحاد کی سمت گامزان ہوسکتے ہیں ۔

URL of original in English: https://www.newageislam.com/islam-and-sectarianism/the-shia-sunni-divide--how-real-and-how-deep-can-we-move-towards-genuine-unity--/d/857

https://newageislam.com/urdu-section/the-shia-sunni-divide-how/d/4013

Loading..

Loading..