New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 10:38 AM

Urdu Section ( 13 March 2012, NewAgeIslam.Com)

Islamic Radicalization is Gaining Ground in the Mainstream of the Middle East مشرق میں اسلامی بنیاد پرستی مرکزی دھارے میں شامل ہو رہی ہے

 


سلطان شاہین، ایڈیٹر، نیو ایج اسلام

بہت سے مسلمان، جو اب بھی وہابی کہلانا پسند نہیں کرتے ہیں اس کےباوجود انہوں نے  سلفی رویہ اختیار کر لیا ہے۔ مثال کے طور پر  آپ پاکستان میں اور اب ہندوستان میں بھی بہت سے مسلمانوں کو عربی انداز کے لباس پہنے دیکھ سکتے ہیں۔ داڑھی اورحجاب نہ صرف مشرق  میں بلکہ مغرب میں بھی عام ہو گیا ہے۔ جن کی دادی نے غلامی کی اس علامت برقع یا حجاب  کو کبھی بھی  نہیں پہنا تھا وہ خواتین اسے ہر جگہ پہن رہی ہیں۔ بعض اعتدال پسند، آزاد خیال مسلمان ہر قسم کے ذرائع ابلاغ سے آنے والے سلفی پروپگنڈہ سے خود اس قدر متاثر ہو گئے ہیں کہ  وہ اپنے ذہن میں خود کو منافق ماننا شروع کر چکے ہیں۔ بعض اسلام ترک کر رہے ہیں اور خود کو سابق مسلمان کہلا رہے ہیں۔ اس ردعمل  سے کوئی مدد ملنے والی نہیں ہے۔

مرکزی دھارے کے اعتدال پسند، آزاد خیال مسلمانوں کو اپنے مذہب کا مطالعہ کرنا ہوگا۔ جس میں وہ اس قدر انسانیت، شعور اور روحانیت پائیں گے کہ ان کے شکوک و شبہات ختم ہو جائیں گے؛  وسیع عسکریت پسند وہابی پروپیگنڈے کی طرف سے ان پر کئے گئے جادو کا تمام اثر ختم ہو جائے گا۔ اور پھر وہ  مثالی بن جائیں گے۔ جو بھی تھوڑے وسائل  ہیں  انہیں  اس لہر کو روکنے کے لئے خرچ کیا جانا ضروری ہے۔ آخر میں اسلام نے ہمیشہ اس گروپ کو شکست دی ہے۔ اور ایسا دوبارہ  ہو کررہے گا۔ لیکن ہمیں اس کے بارے میں کچھ کرنا پڑے گا۔ کسی نظریے کا مقابلہ صرف ایک  بہتر نظریہ سے ہی  کیا  جا سکتا ہے، ہتھیاروں کے ساتھ نہیں ۔  ہمیں ہمارے اپنے نظریہ اور اسلام کی ہماری اپنی تفہیم کو فروغ دینے پر کام کرنا ہوگا۔ جیسا کہ برطانوی وزیر اعظم نے ایک بار کہا ہے: " اچھا ہونا کافی نہیں ہے"۔  سلطان شاہین، ایڈیٹر، نیو ایج اسلام، 14 مارچ 2012 کو جنیوا میں اقوام متحدہ میں انٹرنیشنل ہیو مانسٹ اینڈ ایتھیکل یونین، نیشنل سیکولر سوسائٹی اور نیو ایج اسلام فائونڈیشن کے زریعہ منعقدہ اور اسپانسر کئے گئے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔

کانفرنس میں دیگر مقررین حضرات تھے: راحیل رضا، کینیڈائی مسلم کارکن، جنہوں نے 'مغرب میں شرعی عدالتوں میں اضافہ' پر خطاب کیا۔ کیتھ ووڈ، نیشنل سیکولر سوسائٹی، یو نائٹیڈ کنگڈم ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے  'چرچ کا اثر، یوروپ میں اصولی قانون اور سول قانون،  پر خطاب کیا۔ اور لیو اگوے، آئی ایچ ای یو کے نائجیریا انٹرنیشنل نمائندہ نے ' افریقہ میں مذہب، ایزا رسانی، ہومو فوبیا اورانسانی حقوق'  پر خطاب کیا۔ چیئر اور ناظم رائے ڈبلیو براؤن تھے،  جو سابق صدر اور اب خاص نمائندے، آئی ایچ ای یو ، اقوام متحدہ جنیوا ہیں۔

تقریر کا مکمل  متن

اسلامی بنیاد پرستی کی تعریف انتہا پسندی، عسکریت پسندی، دہشت گردی  یا اسکے متبادل الفاظ  سے یا وہابیت، سلفیت، دیو بندیت، قطبیت یا مودودیت کے نظریات کے طور پر مختلف طریقوں سے کی گئی  ہے ۔  لیکن میں اسلامی بنیاد پرستی کی   وضاحت مطلق العنان اسلامی بالا دستی کی ایک تحریک کے طور پر کروں گا جن کا خیال ہے کہ جنت، حقیقت اور انصاف پر ان کی اجارہ داری ہے۔ یہ تحریک مسلمانوں کو مرکزی دھارے کی عالمی برادری سے بے گانگی کی جانب لے جا رہا ہے‑ یہاں تک کہ غیر مسلم اکثریتی ملکوں میں کثیرثقافتی، کثیر مذہبی معاشروں سے بھی الگ کر رہا ہے۔

عسکریت پسندی اور دہشت گردی اسی طرح کے رویوں کے نتائج  ہیں اور جو خاص طور پر اسلامی ریاست کے قیام کے مقصد کی سمت میں نہیں بھی ہو سکتا ہے۔ ظاہر ی طور پر پرامن طریقے سے یہ صرف سیکولر معاشروں کے درمیان نام نہاد "شریعت کنٹرول زون" قائم کرنے کے لئے کیا جا سکتا ہے۔

 لیکن بنیاد پرستی بہت سی جگہوں میں تشدد میں تبدیل ہو رہی ہے کیونکہ حقیقت پر اجارہ داری رکھنے کے تصور میں تشدد شامل ہے۔ لیکن تشدد، اور خاص طور پر مسلسل جاری رہنے والا تشدد کا انحصار کئی عوامل پر ہے جن میں بنیادی مدد، ریاست کا رویّہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس لئے میرے مطابق عالمی منظر جس نے اب تک تشدد کی راہ نہیں دکھائی ہے،  کو کم بنیاد پرست سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔  اگر اور کچھ نہیں تو  انہیں فوقیت پرست رویّہ پر جو دوسروں کو تشدد کے لئے مشتعل کر سکتا ہے ذاتی طور پر خود ہی غور کرنا چاہئے۔

اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اسلامی بنیاد پرستی پوری دنیا میں مرکزی دھارے میں شامل  ہو رہی ہے اور مشرق میں بھی اسی طرح ہے۔ جنوبی ایشیا میں افغانستان‑ پاکستان  خطہ اسلامی انتہا پسندوں کے تشدد اور دہشت گردی کے لئے جانا جاتا ہے۔ لیکن جنوب مشرقی ایشیاء بھی اس سے بہت پیچھے نہیں ہے۔ آخرکار، سول سوسائٹی پر 9/11 کے بعددوسرا سب سے زیادہ پر تشدد حملہ انڈونیشیا کے بالی شہر کے ایک نائٹ کلب میں ہوا جس میں 202 لوگوں کی جانیں گئیں اور مرنے والوں میں  زیادہ تر آسٹریلیا کے شہری تھے۔ حالیہ دہائیوں میں جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیاء دونوں نے فرقہ وارانہ اور مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنا کر کئے گئے دہشت گرد حملوں کا مسلسل سامنا کیا ہے۔ ان لوگوں نے صوفی سنتوں کی مزارات پر حملے کئے ہیں جن کا آبادی کا اکثریت حصہ احترام کرتاہے۔  لیکن پاکستان میں اسلامی دہشت گرد ریاست سے بھی مقابل ہیں جس نے اصل میں انہیں پیدا کیا  اور  مدد دی ہے اور ریاست کے کئی محکمے آج بھی ان کی مدد کر رہے  ہیں۔ ایک زمانے  میں  پاکستان کے اسلامی انتہا پسندوں نے وادی سوات پر قبضہ کر لیا تھا جو کی دارالحکومت اسلام آباد سے بہت ہی قریب ہے۔ ان لوگوں نے راولپنڈی میں پاکستان فوج کے فوجی ہیڈکوارٹر اور  مہران ائیر بیس جیسے حساس مقامات   پر حملہ کر چکے ہیں۔  بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستانی انتہا پسندوں کے لئے اسلام آباد اور اس کی جوہری تنصیبات پر قبضہ کو خواب و خیال کی بات  کے طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں کئی مذہبی اور نسلی ا فواج ہیں جن  میں سے کچھ کو کٹّر اسلامی سیاسی جماعتیں  چلاتی ہیں، یہ نہ صرف پاکستان بلکہ ہمسایہ ملک ہندوستان، اور بڑے پیمانے پر پوری دنیا کے لئے ایک سنگین خطرہ ہیں۔  یہ تمام کسی نہ کسی سطح پر عالمی جہادیوں اور القاعدہ کے ساتھ متحد  ہیں۔

میرے نزدیک مشرق میں سب سے زیادہ پریشان کن بات مسلم معاشروں کا بنیاد پرست بننا ہے ۔  یہ صرف مدرسہ کے تعلیم یافتہ ہی اکیلے نہیں ہیں جنہیں بنیاد پرست بنایا جا رہا ہے۔ایسے مسلمان جو عام، سرکاری یا نجی اداروں کے فارغ ہیں انہیں بھی سماجی دبائو کے تحت یکساں طور پر بنیاد پرست بنایا جا رہا ہے۔ اسلام کا خشک اور بد صورت شکل جو دین کی  عقل، انسانیت اور روحانیت سے عاری ہے اس کے فروغ کے لئے اربوں پیٹرو ڈالر خرچ کیۓ جا رہے ہیں اور اس نے ایک ایسا ماحول پیدا کیاہے جو حساس ذہنوں کو متاثر کر رہا ہے۔ گزشتہ سال جب پاکستانی پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر اپنے ہی باڈی گارڈ کے ذریعہ ہلاک کئے گئے تو ایک بھی ایسا ملا  تلاش کرنا مشکل تھا جو نماز جنازہ پڑھانے کے لئےتیار ہو۔ قاتل کو جب عدالت میں لے جایا گیا تو  سینکڑوں وکلاء نے اس پر گلاب کی پنکھڑیوں کی بارش کی  اور اسے اپنا ہیرو کہا۔ وہ جج جس نے اسے سزائے موت سنائی اسے جلاوطنی میں جانا پڑا۔

پنجاب کے شہید رہنما نے صرف یہ کیا تھا کہ انہوں نے ایک بد قسمت عیسائی عورت کے لئے صدارتی رحم کی اپیل کی تھی جو ممکنہ طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین نہیں کر سکتی تھی۔ کسی نے بھی یہ سوال نہیں کیا کہ کس طرح ایک عیسائی پر توہین رسالت کا الزام عائد کیا جا سکتا ہے اور توہین رسالت قانون کے تحت مقدمہ چلایا گیا جبکہ وہ نہ تو اسلام  اور نہ ہی محمد ﷺ کے پیغمبر ہونے پر ایمان رکھتی تھی۔

سلمان تاثیر کے قتل کے بعد، پاکستان کی وفاقی کابینہ میں واحد عیسائی شہباز بھٹی کو بھی قتل کر دیا گیا۔ انہوں نے بھی ، سزا یافتہ عیسائی عورت آسیہ بی بی کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا تھا اوراس کے معاملے کی وکالت کی تھی۔ آسیہ بی بی کے معاملے نے اس  حقیقت  کی وضاحت کر دی کہ  صرف عیسائی اور ہندو  ہی  اپنے عقائد کے سبب سزا  نہیں پاتے ہیں بلکہ مسلم اقلیتوں جیسےشیعہ، احمدی اور اسمٰعیلی ہیں جو معمول کے مطابق ہراساں کئے جاتے ہیں، جن کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے اور  قتل کئے جاتے ہیں۔ پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جو بتاتی ہے کہ، دوسری باتوں کے ساتھ، پاکستان میں ہر مہینے کم از کم 20 سے 25 لڑکیاں اغوا کی جاتی ہیں اور ان سے انکی مرضی کے خلاف اسلام قبول کروایا جاتا ہے۔

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو 1947میں اس بنیاد پرست خیال کے ساتھ وجود میں آیا کہ مسلمان دیگر مذہبی طبقات کے ساتھ بقائے باہم نہیں کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد، امریکہ کی مدد سےاس نے جان بوجھ کر  جہادیوں کے ایک گروپ کو تشکیل دیا جس نے افغانستان میں اس وقت سوویت یونین سے لڑائی لڑی۔ لاکھوں مدارس کا قیام کیا گیا اور کئی لاکھ طالب علموں کے خیالات کو زبردستی پرتشدد جہادی نظریے میں تبدیل کیا گیا۔  ان مدرسوں کو  مالی مدد اور انہیں چلانا جاری رکھا گیا ہے اور ان میں نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیاء کے ملکوں کے غریب طالب علموں کی ضروریات کو پورا کیا گیا ۔  پاکستان میں کٹّر اسلامی سیاسی جماعتیں ہیں جن کی اپنی فوج ہے اور جو ان مدارس سے تربیت یافتہ طالب علموں کو بھرتی کر رہے ہیں۔

اس تاریخی پس منظر کے ساتھ کوئی بھی پاکستانی معاشرے کی بنیاد پرستی کو سمجھ سکتا ہے۔  لیکن ہندوستانی مسلم معاشرے میں بھی اسی طرح کے رویّے کیا واضح کرتے ہیں؟ اگر کوئی ہندوستان میں مسلم پریس کا مطالعہ کرتا ہو تو اسے معلوم ہوگا کہ سلمان تاثیر کے قتل پر ردعمل بالکل  پاکستان کے ہی جیسا تھا۔ اطّلاع کے لئے میں بتانا چاہوں گا کہ ہندوستانی برّ صغیر میں دو اہم اسلامی مکتب فکر ہیں جن کی نمائندگی بریلوی اور دیو بندی  کرتے ہیں۔ دیو بندی وہابی ہیں اور  تمام پاکستانی مدارس جو مسلح جہاد سکھاتے ہیں وہاں  دیوبندی نصاب پر چلائے جاتے ہیں۔ بریلوی جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کی غالب اکثریت ہے۔  وہ صوفی سنتوں سے شفاعت طلب کرنے میں یقین رکھتے ہیں، جیسا کہ ہندوستان میں ہندو، سکھ اور دیگر اقوام کرتی ہیں۔ یہ لوگ ان مزاروں پر ساتھ جاتے ہیں اور یہ قدرتی طور پر ایک نیم مذہبی ماحول میں اشتراک کا احساس پیداکرتا ہے اور قومی یکجہتی میں معاونت کرتا ہے۔ سلفی، وہابی اور دیگر انتہا پسند طبقے مسلمانوں کے دیگر  طبقات کے ساتھ رابطے کو پسند نہیں کرتے ہیں اور مذہبی قسم کی پلیٹ فارم پر تو بہت ہی کم کرتے ہیں۔

جیسا کہ پاکستان میں پہلے ہی ہو چکا ہے دیوبندی، وہابی، سلفی اماموں کو اب ہندوستانی بریلوی مساجد پر مسلط کیا جا رہا ہے۔ اس سے کبھی کبھی تشدد بھی پیدا ہو جاتا ہے۔  وہابی تو اس قدر جارح ہو گئے ہیں کہ انہوں نے ایک گاؤں کی مسجد میں بغیر  داڑھی کے نماز ادا کرنے کے سبب ان لوگوں کی پٹائی کی اور ان کے گھروں پر پتھرائو کرنے کی بھی جرّاءت کی۔ تین سال قبل یہ واقعہ رمضان کے دوران  سہارنپور ضلع  کی ایک مسجد میں ہوا تھا۔ بغیر داڑھی والے مسلمان کی سات سال کی بیٹی اس پتھرائو میں شدید طور پر زخمی ہو گئی تھی اور جس کا بعد میں انتقال ہو گیا تھا۔

اس طرح کے واقعات اور  پاکستان میں جو کچھ ہورہا تھا اس کی آگاہی سے خوفزدہ، ہندوستان کی 80  سب سے اہم درگاہوں کے سربراہان نے چند ماہ قبل مغربی اتر پردیش کے ایک شہر میں مسلمانوں کی ایک بڑی ریلی کا مشترکہ طور پر انعقاد کیا۔  اس ریلی میں پہلی بار ہندوستان میں ایک عوامی جلسے میں "بڑھتی ہوئی وہابی انتہا پسندی" کے بارے میں تذکرہ کیا گیا،  اصل میں اس جملہ کا استعمال پہلی بار کیا گیا۔ ایک لاکھ سے زیادہ  مسلمان مرادآباد میں جمع ہوئےاور ملک بھر کی سب سے بڑی درگاہوں کے کئی علماء سے ہندوستان میں بڑھتی ہوئی وہابی انتہا پسندی کے بارے میں انتباہ کو سنا۔  یہ مسلم پریس میں اہم خبر ہونی چاہئے تھی لیکن ایک بھی اخبار نے اس جلسے کی روداد نہیں دی۔ تین اخباروں نے وہابی انتہا پسندی کا کسی  بھی طرح کا ذکر  کئے بغیرمکمل طور پر حذف کر کے اجتماع اور تقاریر کی رپورٹ شائع کیں  ۔

وہابیت نے ہندوستان  جیسے کثیر مذہبی معاشرے میں اس طرح کا اثر پیدا کر دیا ہے جسے خطرے کی گھنٹی سمجھا جانا چاہئے۔ حال ہی میں، جماعت اسلامی کے کچھ غنڈوں نے جے پور لٹریری فیسٹیول (ادبی میلے) میں سلمان رشدی کی ویڈیو لنک کے  ذریعہ شراکت کو  بھی روکنے میں کامیاب ہوگئے۔

ایک اور حالیہ واقعہ جس پر بلند آواز  میں خطرے کی گھنٹی بجنی چاہئے تھی وہ   100 فیصد مسلم ملک، مالدیپ میں ایک منتخب حکومت کی  تبدیلی ہے۔ سابق صدر محمد نشید اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایک  جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ انہوں نے اپنی تمام زندگی انسانی حقوق کے لئے جدو جہد کی ہے اور ایک بار پھر ویسا ہی کرنے کے لئے سڑکوں پر ہیں۔ اگرچہ انہوں نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور ایک اتحادی حکومت میں اتحادیوں کی مدد سے اقتدار میں آئے۔ مسلح افواج، پولیس اور بیوروکریسی میں موجود بنیاد پرست طبقے نے ان کی سیکولر سیاست کو  قبول نہیں کیا۔ سب سے زیادہ تجسس ان کے  اقتدار سے بے دخل ہونے کے طریقے پر ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان نے حالیہ سارک سربراہی کانفرنس کے موقع پر مالدیپ کو ایک تحفہ دیا جس میں پاکستان کے اپنے بودھ ماضی سے اسلامی بننے کی تصویر  شامل تھی۔ سلفی لوگوں نے اس پر اعتراض کیا اور اس تحفے کو قبول کرنے کو بت پرستی کے مترادف قرار دیا۔ ایک شخص نے اس تحفہ کو توڑ ڈالا، لیکن پاکستان میں سلمان تاثیر کے قاتل کی طرح، بعض جماعتیں جو کہ  اتحادی حکومت کاحصہ تھیں سمیت تمام سیاسی طبقوں کی اسے حمایت حاصل ہوئی۔

واضح طور پر بنیاد پرست اسلام میں اضافہ ہو رہا ہے یہ جتنا جنوب اور جنوب مشرقی ایشیاء میں مرکزی دھارے میں شامل ہو رہا ہے اتنا ہی مشرق کے ساتھ ہی وسطی ایشیاء  بھی شامل ہو رہا ہے۔ یہ ایک خطرناک صورتحال ہے، اور سب سے بڑا خطرہ اس حقیقت سے ہے کہ خاموش رہنے والی اکثریت اب  اور بھی بہت زیادہ خاموش ہے۔ یہاں تک کہ جہاں  انہوں نے فساد پیدا کرنا شروع کر دیا ہے، وہاں اعتدال پسند اسلام نے یہ محسوس کیا ہے  کہ اس بڑھتی ہوئی لہر سے مقابلہ کرنے کے لئے اس کے پاس ضروری وسائل بھی نہیں ہیں۔

حال ہی میں ہندوستان  میں صوفی مزارات کے سربراہوں کی کوشش ایک مثال ہے۔ یہاں تک کہ جب انہوں نےخود کارروائی کرنے کی کوشش کی تو وہ کوئی اثر پیدا نہیں کر سکے اور ایک بار پھر  وہ مایوس ہیں۔ اسے اسلام کے اندر کی جنگ تصور کرکافی حد تک حکومتیں مداخلت کرنے کو تیار نہیں لگ رہی ہیں۔  یہ واقعی اسلام کے اندر کی ایک جنگ ہے، یہ مسلمان ہی ہیں جو سلفی انتہا پسندوں کے اہم نشانے ہیں، اورانہیں لوگوں کو مزاحمت کی ہمت جٹانی ہوگی۔

اسلام کی پوری تاریخ میں، ایسے متشدد انتہا پسندوں نے امن کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہیں کئی بار ختم کیا گیا ہے  لیکن ایک بار پھر شکست کھانے کے لئے وہ کھڑے ہو گئے ہیں۔ انسانی روحانیت اور شعور پر اسلام کے اس کے زور دینے کی تعلیم نے  ہمیشہ ان کے نظریاتی خالی پن سے خود کوافضل ثابت کیا ہے۔

 لیکن اس مرتبہ انتہا پسند،  وہابی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ وہ اس لئے کیونکہ ایک مخصوص امیر عرب ملک جو ہمارے مقدس مقامات کا سرپرست ہونے کا دعوی کرتا ہے اور جس کی دنیا کی واحد سپر پاور حفاظت کرتی ہے، اس بنیاد پرستی کے پیچھے ہے۔ سعودی عرب وہابی سلفی بنیاد پرستی کو اپنے ملک کانظریہ تصور کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ ان کے ملک میں قرآن پاک کی ایک ایسی نقل کے ساتھ داخل نہیں ہو سکتے ہیں جو کہ ان کے ملک سے شائع نہیں ہوئی ہے۔ سعودی عرب کے لئے، بنیاد پرستی کوپھیلانا ایک سامراجی منصوبہ ہے۔ اسلام کی خشک تصور  کے ساتھ ہی ساتھ،  وہ عرب کی ثقافت، زبان، لباس، اور فن تعمیر کوبرآمد کرنے پر بھی اصرارکرتے ہیں۔

سعودی عرب نے تقریبا 300 اسلامی تاریخ سے منسلک یادگاروں کو منہدم کر دیا ہے۔ چند ہی باقی ہیں۔ تاریخ ان کے نظریے کے ساتھ متصادم ہے۔ یہ پیغمبر محمد ﷺ  اور ان کی سیرت  کو ایک خاص وقت اور ایک تناظر فراہم کرتے ہیں۔ اگر قرآن کی جنگ پسندی والی آیتوں کو سیاق و سباق کے ساتھ پڑھا جائے تو یہ ظاہر ہو جائے گایہ  اس زمانے اور اس مخصوص حالات کے  ہی مطابق ہیں جس وقت اور جن حالات میں یہ نازل ہوئی تھیں؛ انہیں ہر حالات میں لاگو نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ کافروں پر ایک مستقل جنگ کے ضروری ہونے کے لئے ایک رکاوٹ ہے۔ تاریخی تناظر کو دیکھتے ہوئے زیادہ تر مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی قرآن کی امن سے متعلق آیات ہر زمانے کے مطابق رہیں گی۔ جنگوں کو روکا جانا ضروری ہوگا۔ عرب سامراجیت پیش رفت کرنے کے قابل نہیں رہ سکے گی۔ پاکستان اور دیگر جگہوں میں بھرتی کئے گئے خودکش بمباروں کی فوج کو دوسرے کاموں کے لئے دوبارہ تربیت دینی ہوگی۔ جنت میں جانے کے لئے مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ کے ذریعہ بتائے گئے عظیم جہاد، جہاد با النفس یعنی اپنی نفس کے خلاف جہدو جہد کرنی ہوگی۔

تیل کی غیر معمولی دولت کی وجہ سے سعودی عرب کے سامراجی منصوبےکو دنیا کی تقریباً تمام حکومتوں کی حمایت حاصل ہے  جن میں امریکہ جیسے ملک بھی شامل ہیں جو خود اس کا شکار رہے ہیں۔ 11/ 9  کے19 میں سے 16 خودکش بمبار سعودی عرب کےشہری تھے، جن کی تربیت اس کے انتہا پسند نظریے کے اسکولوں میں ہوئی تھی۔ ان کا سب سے بڑا اتحادی پاکستان کی فوج کوئی غلطی نہیں کر سکتی ہے۔ اسے اسامہ بن لادن اور ملا عمر کی میزبانی کرنےکی بھی اجازت دی گئی تھی۔ پاکستان امریکہ کا اہم غیر ناٹو اتحادی بنارہا۔  مرکزی دھارے کے اسلام، (یا جسے میں امید کرتا ہوں کہ اب بھی مرکزی دھارے کا اسلام ہے) کی طرف سے کوئی بھی نہیں ہے۔ تمام حکومتیں، مسلم اکثریت والی یا غیر مسلم اکثریت والے ممالک سعودی عرب کے ساتھ یا تو ان کا تیل خریدنے کے لئے / یا انہیں ہتھیار فروخت کرنے کے لئے معاملات رکھتے ہیں۔

نیم تعلیم یافتہ مبلغین  سے بھرےسینکڑوں ہوائی جہاز جدّہ سے دنیا کے دور دراز کے علاقوں کے مسلمانوں کو سلفیت میں شامل کرنے کے لئے تقریباً روزانہ پرواز کرتے ہیں۔ بہت سے مسلمان، جو اب بھی وہابی کہلانا پسند نہیں کرتے ہیں اس کے باوجود سلفی رویہ اختیار کر لیا ہے۔ مثال کے طور پر  آپ پاکستان میں اور اب ہندوستان میں بھی بہت سے مسلمانوں کو عربی انداز کے لباس پہنے دیکھ سکتے ہیں۔ داڑھی اورحجاب نہ صرف مشرق  میں بلکہ مغرب میں بھی عام ہو گیا ہے۔ خواتین جن کی دادی نے بھی کبھی پردہ، برقع یا حجاب نہیں پہنا تھا غلامی کی اس علامت کو ہر جگہ پہن رہی ہیں۔ بعض اعتدال پسند، آزاد خیال مسلمان ہر قسم کے ذرائع ابلاغ سے آنے والے سلفی پروپگنڈہ سے خود اس قدر متاثر ہو گئے ہیں کہ  وہ اپنے ذہن میں خود کو منافق ماننا شروع کر چکے ہیں۔ بعض اسلام ترک کر رہے ہیں اور خود کو سابق مسلمان کہلا رہے ہیں۔ اس ردعمل  سے کوئی مدد ملنے والی نہیں ہے۔

مرکزی دھارے کے اعتدال پسند، آزاد خیال مسلمانوں کو اپنے مذہب کا مطالعہ کرنا ہوگا۔ وہ اس میں اس قدر انسانیت، شعور اور روحانیت پائیں گے کہ ان کے شکوک و شبہات ختم ہو جائیں گے؛  وسیع عسکریت پسند وہابی پروپیگنڈے کی طرف سے ان پر کئے گئے تمام جادو کا اثر ختم ہو جائے گا۔ اور پھر انہیں مثالی بنا دیگا۔ جو بھی تھوڑے سے وسائل  ہے وہ اس لہر کو روکنے کے لئے خرچ کیا جانا ضروری ہے۔ آخر میں اسلام نے ہمیشہ اس گروپ کو شکست دی ہے۔ اور یہ ایسا دوبارہ کرے گا۔ لیکن ہمیں اس کے بارے میں کچھ کرنا پڑے گا۔ نظریے کا مقابلہ صرف ایک  نظریے سے ہی کیا جا سکتا ہے، ایک بہتر نظریہ کے ساتھ نہ کہ  ہتھیاروں کے ساتھ۔  ہمیں ہمارے اپنے نظریہ اور اسلام کی ہماری اپنی تفہیم کو فروغ دینے پر کام کرنا ہوگا۔ جیسا کہ ایک برطانوی وزیر اعظم نے ایک بار کہا ہے: " اچھا ہونا کافی نہیں ہے"۔ 

URL for English article:

http://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/sultan-shahin,-editor,-new-age-islam/islamic-radicalism-going-mainstream-throughout-the-east/d/6849

 

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/islamic-radicalization-is-gaining-ground-in-the-mainstream-of-the-middle-east--مشرق-میں-اسلامی-بنیاد-پرستی-مرکزی-دھارے-میں-شامل-ہو-رہی-ہے/d/6850

 

Loading..

Loading..