
دی انسٹی ٹیوٹ آف کامن ویلتھ اسٹڈیز میں وزیٹنگ ریسرچ فیلو ، فرانسس ہیریسن کی رپورٹ ‘‘بنگلہ دیش میں انتخابات اور سیاسی اسلام ’’(Political Islam and the Elections in Bangladesh) کی ریلیز پر ایک پینلسٹ کی حیثیت سے مصنف کی تحریر پر مبنی جو کہ سینیٹ ہال، یونیورسٹی آف لندن میں 30 ستمبر2013 کو جاری کی گئی۔
سطان شاہین ، ایڈیٹر نیو ایج اسلام
5 نومبر 2013
بنگلہ دیش پریس میں ایک نیوز رپورٹ کے مطابق اگر حکومت عالیہ قومی مدارس کو کنٹرول کرنے کے اپنے منصوبہ میں مزید پیش قدمی کرتی ہے تو بنیاد پرست اسلامی جماعت حفاظت اسلام نے ملک میں خانہ جنگی چھیڑنے کی حکومت کو دھمکی دی ہے ۔ حفاظت اسلامی کے امیر شاہ احمد شفیع نے چتہ گونگ میں 27 اکتوبر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ‘‘ ہم حکومت کو قومی مدارس پر اپنا تسلط قائم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ،اگر کوئی قومی مدرسے پر اپنا تسلط جمانے کی کوشش کرے گا تو ہم یہ بتا دیں کہ لاکھوں لوگ مارے جائیں گے ۔ تاہم وزیر اعظم شیح حسینہ نے 4 نومبر کو کہا کہ ان کی حکومت پورے غور و فکر کے ساتھ قومی مدارس ایجوکیشن پالیسی کو علماء و مشائخ اور اسلامی اسکالرز سمیت آئین میں حتمی شکل دینا چاہتی ہے تاکہ قومی مدارس کی تعلیم کو دور جدید کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ بنایا جا سکے ۔
معاملےکی نوعیت سے قطع نظر حفاظت اسلام کی ایسی دھمکی سے جس میں ‘‘لاکھوں لوگ مارے جائیں گے ’’ اور ایسے واقعات سے بھی جو حفاظت اسلام کے ‘‘اچانک’’ ظہور کے ارد گرد رونما ہو رہے ہیں ، کسی کو بھی اس بات کا احساس ہو سکتا ہے کہ بنگلہ دیش میں سیاسی اسلام اشاعت پذیر ہے ۔معاشرے کو آہستہ آہستہ بنیاد پرست بنانے کا عمل جاری ہے ۔ میں برملا طور پر یہ کہنا چاہوں گا کہ بنیاد پرستی میں اس اضافے کو روکنے کے لئے کوئی بھی منظم کوشش نہیں کی جارہی ہے ، اور اس کی پیش قدمی کو صرف اصل اسلام کی اعتدال پسند روایات کے ذریعہ ہی روکا جا سکتا ہے ۔ بنگلہ دیش ایک اعتدال پسند ملک کی حیثیت سے مشہور ہے جس نے دو ملکی نظریہ کو مسترد کر دیا ہے اور جو اپنی نسلی اور لسانی شناخت کو مذہبی شناخت پر فوقیت دیتا ہے ۔
دوسرے مسلم ممالک کے کچھ حصوں کی طرح بنگلہ دیش میں بھی اسلام کے تصوف اور روحانیت کا پہلو زیادہ واضح نہیں ہے ۔
لوگ بنگلہ دیشی میڈیا میں حسب موقع یہ استدعاء دیکھتے رہتے ہیں : ‘‘یا اللہ، یا ائے سیاست دانوں! بنگلہ دیش کو ایک دوسرا پاکستان یا افغانستان مت بننے دو ’’۔ لیکن نہ تو میڈیا اور نہ ہی سیاست دان، سیاسی اسلام(جس کا مطلب اس خطے اور پوری دنیا کو غیر مستحکم کرنا ہے ) کی بنیاد پرست، تفوق پسند، مطلق العنان ، زن بیزار اور ظلم و جبر سے بھری روایات کا مقابلہ کرنے کے لئے اسلام کے پرامن ، معتدل اور رحانی پہلوؤں کو بروئے کار نہیں لا رہے ہیں ۔
حفاظت اسلام کا اچانک اس طرح منظر عام پر آنا افغانستان میں 1994-95 کے دوران طالبان کے ظہور اور 1996 تک افغانستان پر ان کے قبضے کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔ حفاظت اسلام اپنے انحطاط پذیر ایجنڈے کے ساتھ مدرسے کے ہزاروں طلباء کو لے کر سڑک پر اترنے کے قابل ہے ۔
ان دونوں معاملات میں لوگوں نے سنا کہ ‘‘وہ کہیں سے بھی ابھر کر سامنے نہیں آئے ۔’’ لیکن کیا ان کا ظہور کہیں سے نہیں ہوا ہے ؟ نہیں ان کا معاملہ ایسا نہیں ہے ۔ ایک جگہ ضرور تھی جہاں سے ان کا ظہور ہوا ہے ۔ اور وہ جگہ پوری دنیا میں ایسے مدارس تھے جہاں لاکھوں بچے تعلیم حاصل کر رہے تھے ۔ چند رپورٹوں کے مطابق صرف بنگلہ دیش میں 10 ملین طلباء ہیں حالانکہ فرانسس ہیریسن کی رپورٹ میں 000،19قومی مدارس میں چار ملین طلباء کی تعداد کا پتہ چلتا ہے اور یقیناً وہاں عالیہ اور اور کیڈٹ(جنگی تربیت دئے جانے والے) مدارس ہیں جن میں سے بہت سارے ملک بھر میں پھیلے ہوئے 275000 مساجد سے منسلک ہیں ۔ ہندوستان جیسے سیکولر اور کثیرالسان ملک (جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں)کی طرح دوسرے مسلم ممالک میں بھی کم و بیش یہی صورت حال ہے ۔
یہ تمام طلباء عالم ، فاضل یا کامل کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کرتے ۔ جن کی تعداد اب بھی لاکھوں میں ہے وہ وہاں کیا سیکھتے ہیں ۔
سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا چاہئے کہ درگاہوں سے منسلک صوفیوں کے ذریعہ چلائے جانے والے مدارس کی تعداد بہت کم ہے ۔ ان مدارس کے پاس کوئی بڑا فنڈ نہیں ہے ، ان مدارس میں اساتذہ کو اچھی تنخواہیں نہیں ملتیں ، یا ان کے پاس کوئی اچھا انفراسٹرکچر (بنیادی ڈھانچہ) نہیں ہے اور نہ ہی طلباء کی مدد کرنے کے لئے ان کے پاس کوئی بڑا فنڈ ہے ۔
پیٹرو ڈالر کی فنڈنگ اور سعودی کتابیں وہابی ، اہل حدیثی ، سلفی، دیوبندی اور جماعت اسلامی کے مدارس کو فراہم کی جاتی ہیں ۔ بلاشبہ جماعت اسلامی کے مدارس میں مولانا مودودی کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں ۔ ان تمام مدارس میں ابن تیمیہ ، محمد ابن عبدالوہاب نجدی اور بعد کےوہابی نظریہ سازوں کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں ۔ یہاں تک کہ جن غیر وہابی مدارس میں نصابی کتاب کے طور پر وہ کتابیں نہیں پڑھائی جاتیں وہاں بھی وہ کتابیں ان کی لائبریریوں میں مہیاء کرائی جاتی ہیں اور تقابل ادیان جیسے کورس کرنے والے طلباء کے نصاب میں یہ کتابیں شامل کی جاتی ہیں ۔
قرآن مقدس ان آیات کی ایک تدوین ہے جو موقع بموقع مختلف حالات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کی رہنمائی کے لئے نازل کی گئی تھیں ۔ لہٰذا قرآن کو سمجھنے کے لئے ان آیات کے شان نزول کو بڑی اہمیت دی گئی ہے ۔ لیکن مدارس میں پڑھائی جانے والی اکثر کتابوں میں اب قرآن ایک ایسی کتاب سمجھی جاتی ہے جو غیر مخلوق ہے ، یہ ایک ایسی کتاب سمجھی جاتی ہے جو اس اصل کتاب کی نقل ہے جو لوح محفوظ میں مرقوم ہے ۔اس کا مطلب یہ ہےکہ قرآن کی ہر ایک آیت ایک آفاقی اہمیت کی حامل ہے ۔ اور یہ کہ آیات کی شان نزول کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔
اور یہی چیزیں مندرجہ ذیل جیسے افکار و خیالات کو جواز فراہم کرتی ہیں جو کہ مدارس کے طلباء میں پیدا کی جا رہی ہیں ۔
شیخ محمد ابن عبدالوہاب نے کہا کہ ‘‘اگر چہ مسلمان شرک سے بچیں اور خدا کی وحدانیت کا زبردست اقرار کریں لیکن بھر بھی وہ اس وقت تک مومن کامل نہیں ہو سکتے جب تک کہ وہ اپنے فعل و عمل کے ذریعہ غیر مسلموں کے خلاف دشمنی اور نفرت کا اظہار نہ کر یں۔(مجموعۃ الرسائل والوسائل النجدیہ 291/4)
اسلام کے بارے میں ایسی تفہم کی بنیاد جن آیتوں کو مانا جاتا ہے ان میں سے ایک یہ ہے :‘‘ مسلمانوں کو چاہئے کہ اہلِ ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو کوئی ایسا کرے گا اس کے لئے اﷲ (کی دوستی میں) سے کچھ نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ تم ان (کے شر) سے بچنا چاہو، اور اﷲ تمہیں اپنی ذات (کے غضب) سے ڈراتا ہے، اور اﷲ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے’’۔ (العمران آیت 28)
یہ آیت بھی اکثر نقل کی جاتی ہے :‘‘ اے مسلمانو!) تم اہلِ کتاب میں سے ان لوگوں کے ساتھ (بھی) جنگ کرو جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ یومِ آخرت پر اور نہ ان چیزوں کو حرام جانتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام قرار دیا ہے اور نہ ہی دینِ حق (یعنی اسلام) اختیار کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ (حکمِ اسلام کے سامنے) تابع و مغلوب ہو کر اپنے ہاتھ سے خراج ادا کریں ’’۔
اس قسم کا ایک اور پیغام انہیں مولانا ابوالعلیٰ مودودی کی تصنیف جہاد فی الاسلام سے حاصل ہوتا ہے ۔
‘‘"اسلام روئے زمین پر ان تمام ریاستوں اور حکومتوں کو تباہ کرنا چاہتا ہے جن کی بنیاد اسلامی نظریات اور منصوبوں کے خلاف ہو، اس ملک یا قوم سے قطع نظر جو ان پر حکمرانی کرتی ہے ۔ اسلام کا مقصد اپنے نظریات اور اور منصوبوں پر مبنی ایک ریاست قائم کرنا ہے اس بات سے قطع نظر کہ کون سا ملک اسلام کے معیاری علمبردار کے کردار کا حامل ہے یا کس ملک کی حکمرانی نظریاتی طور پر اسلامی ریاست کے قیام کے عمل میں کمزور ہے۔ اسلام صرف ایک حصہ نہیں بلکہ پوری روئے زمین کا مطالبہ کرتا ہے ۔۔۔۔ پوری انسانیت کو اسلامی نظریہ اور اس کے فلاح و بہبود کے منصوبوں سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے ۔۔۔ اس مقصد کے حصول میں اسلام ان تمام قوتوں کے استعمال کا متمنی ہے جو ایک انقلاب پیدا کر سکے ان تمام قوتوں کو استعمال کرنے کے لئے ایک جامع اصطلاح 'جہاد' ہے ۔ ۔۔۔۔ اسلامی 'جہاد' کا مقصد ایک غیر اسلامی نظام حکومت کو ختم کرنا اور اس کی جگہ ریاستی حکومت کے لئے ایک اسلامی نظام قائم کرنا ہے۔ "
(مودودی، الجہاد فی الاسلام )
نہ صرف یہ کہ اس نظریہ کی اشاعت مدارس کی نصابی کتابوں کے ذریعہ کی جا رہی ہے بلکہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ بھی کی جارہی ہے ۔ حال ہی میں بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین نشر کے مطابق، آزادانہ طور پر پاکستان کے تمام شہروں میں تقسیم کئے جانے والے اسلامی عسکریت پسندوں کے روزنامچے یہ ہیں : " ماہانہ الشریعت "، " آذان "، " نوائے افغان جہاد "، " ہاتین "، " مرابطون " ، " القلم "، " ضرب مومن "، " الہلال "، " صدائے مجاہد "، " جیش محمد " اور " راہ وفا ۔
اس کے علاوہ اب پوری دنیا میں ایسے بے شمار ٹی وی چینلز ہیں جو پوری دنیا میں مسلم آبادی کو انتہاء پسند بنا رہے ہیں اور اس سے کوئی بھی ملک محفوظ و مامون نہیں ہے ۔
لیکن اس بنیاد پرستی کا سامنا معنیٰ خیز انداز میں نہیں کیا جا رہا ہے ۔ جبکہ بنیاد پرست روایتیں سرعت کے ساتھ پیش کی جا رہی ہیں اور تمام موجودہ میڈیا کے ذریعہ بڑے پیمانے پر اس کی اشاعت کی جارہی ہے ایسی کوئی بھی اعتدال پسند روایت عام مسلمانوں کی دسترس سے باہر ہے جو اس کا متبادل ہو ۔ انفرادی طور پر اس بنیاد پرست نظریہ کی تردید کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں لیکن مد مقابل سطح سے اپنے نظریات کی اشاعت کرنے کے لئے اعتدال پسند مسلمانوں کو حکومتی یا کوئی اور دوسری حمایت حاصل نہیں ہے ۔
لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ بنگلہ دیش سمیت مسلم ممالک میں سیکولر سیاسی جماعتیں بھی قلیل المعیادی حل کی تلاش میں رہتی ہیں ، وہ ان بنیاد پرست تنظیموں کے ساتھ معاملات کرنے کی کوشش کرتی ہیں جو ان کے لئے ووٹ بڑھا سکیں اور انہیں اسلام مخالف ہونے کے الزام سے بچا سکیں ۔ وہ میڈیا اور دوسرے ذرائع کی فراہمی کے باجود خود بنیاد پرستی کا مقابلہ کرنے کے لئے اسلامی نظریات کو بروئے کار لانے کی کوشش نہیں کرتے ۔
خود قرآنی اور دوسرے اسلامی کتابوں کی بنیاد پر ایک باضابطہ متبادل ایجنڈا اچھی طرح تیار کیا جا سکتا ہے ۔
تکثیریت کے لئے قرآنی آیات :
مثال کے طور پر قرآن میں ایسی بہت ساری آیتیں ہیں جو دوسرے مذہبی معاشروں کے ساتھ گہرے روابط اور پر امن بقائے باہم کی اجازت دیتی ہیں ۔
‘‘اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں فرماتا کہ جن لوگوں نے تم سے دین (کے بارے) میں جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے (یعنی وطن سے) نکالا ہے کہ تم ان سے بھلائی کا سلوک کرو اور اُن سے عدل و انصاف کا برتاؤ کرو، بیشک اللہ عدل و انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے’’۔ (سورۃ الممتحنہ آیت 8)
‘‘اللہ تو محض تمہیں ایسے لوگوں سے دوستی کرنے سے منع فرماتا ہے جنہوں نے تم سے دین (کے بارے) میں جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں (یعنی وطن) سے نکالا اور تمہارے باہر نکالے جانے پر (تمہارے دشمنوں کی) مدد کی۔ اور جو شخص اُن سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں’’۔ (سورۃ الممتحنہ آیت 9)
مسلمانوں کو اہل کتاب سے ازدواجی رشتے قائم کرنے کی اجازت ہے ۔
ان 23 سالوں میں سے جن میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو راہ ہدایت کی دعوت دی 15 سالوں تک مسلمانوں کو مسلح دفاع کرنے کی بھی اجازت نہیں تھی ۔ یہ امر معنیٰ خیز ہے کہ نزول قرآن کا سلسلہ شروع ہونے کے 15 سالوں کے بعد ہی مسلمانوں کو لڑنے کی اجازت دی گئی وہ بھی اس صورت میں جب کہ ان کے پاس کوئی اور دوسرا راستہ نہیں رہا ۔ پھر بھی انہیں قرآن میں صرف اپنی ہی مذہبی آزادی کے دفاع کے لئے نہیں کہا گیا ہے بلکہ تمام مذہبی برادریوں کی مذہبی آزادی کا دفاع کرنے کے لئے بھی کہا گیا ہے ۔
‘‘یہ) وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اﷲ ہے (یعنی انہوں نے باطل کی فرمانروائی تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا)، اور اگر اﷲ انسانی طبقات میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ (جہاد و انقلابی جد و جہد کی صورت میں) ہٹاتا نہ رہتا تو خانقاہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں (یعنی تمام ادیان کے مذہبی مراکز اور عبادت گاہیں) مسمار اور ویران کر دی جاتیں’’۔ (22:40)
بالکل اسی طرح عورتوں کے ساتھ سلوک کرنے کے تعلق سے اسلام میں اچھی طرح واضح اعتدال پسند روایتیں دستیاب ہیں ۔ بنگلہ دیش اور دوسری جگہوں پر حفاظت اسلام اور اور دوسری بنیاد پرست جماعتیں عورتوں کے اونچے مقام و مرتبہ کے لئے زبانی ہمدردی ظاہر کرتے وقت بھی عام طور پر زن بیزار رویہ اختیار کرتی ہیں ۔عورتوں سے اس طرح کی نفرت اس وقت بدرجہ اتم واضح ہو کر منظر عام پر آئی جب 6 اپریل 2013 کو حفاظت اسلام کی ایک ریلی کے دوران ایک خاتون رپوٹر کو بری طرح سے زد وکوب کیا گیا اور دوسروں کو زبردست طریقے سے ہراساں و پریشاں کیا گیا ، جیسا اس کا ذکر ہیریسن کی رپورٹ میں ہے ۔ اب میں ایکوشے ٹیلی ویزن (ETV) کی ایک خاتون صحافی کی ایک روداد نقل کرتا ہوں تاکہ ان طلبائے مدارس کے ظلم و بربریت کو اجاگر کیا جا سکے جنہیں ہم اسلامی اخلاق و کردار کا ایک نمونہ سمجھتے ہیں ۔
شرمین کا بیان پڑھنے کے قابل اور انتہائی بصیرت افروز ہے جس سے یہ سمجھنے میں ہمیں مدد ملتی ہے کہ اس دنیا میں حفاظت اسلام جیسی قوتوں کا ظہور کس بات کا عندیہ ہے ۔ میں یہاں اس کے صرف کچھ جملے ہی نقل کر سکتا ہوں ۔ رپورٹ کے مطابق شرمین کا کہنا ہے کہ : ‘‘میں ایک کرائم رپوٹر ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ میں کبھی بھی پریشان کن حالات میں گھر سکتی ہوں لیکن ایسا ہولناک تجربہ مجھے پہلی بار ہوا ۔ وہ انسان نہیں تھے بلکہ خطرناک جانور یا جنگلی کتوں کے ایک جھنڈ کی طرح تھے ۔ مجھے اس وقت لگا اور اب بھی یہ لگتا ہے کہ انہوں نے میرا قتل کرنا چاہا ۔ حفاظت اسلام کے ممبران نے میرے ایک ایک عضو کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہا ۔ آخر کس وجہ سے وہ مجھے پلٹن سے بجوئے نگر تک اس قدر مارتے اور پیٹتے رہے ۔؟ میں بہت قسمت والی ہوں کہ محفوظ ہوں اور مجھے کوئی مستقل نقصان نہیں پہنچا ، لیکن ڈاکٹر کا کہنا ہے ابھی کچھ بھی یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا ، خاص طور پر میرے سر کے چوٹ کے بارے میں ۔’’
‘‘ میری فیملی کو اس کی بڑی تشویش لاحق ہے ۔.... انہوں نے مجھے صحافت چھوڑنے کے لئے نہیں کہا اس لئے کہ انہیں پتہ ہے کہ میرے لئے اس کی کیا اہمیت ہے ۔میں کچھ بزدلوں کی وجہ سے صحافت کو کیوں چھوڑ دوں ؟ اگر وہ 50 ۔ 60 لوگ مل کر ایک نہتھی عورت کی پٹائی کرتے ہیں تو بزدل نہیں تو اور کیا ہیں ؟ اگر وہ عورتوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں تو پھر وہ کس طرح اسلام کی حفاظت کا دعویٰ کرسکتے ہیں ؟ اگر وہ اپنے ہی پروگرام میں ایک خاتون صحافی کی حفاظت نہیں کر سکتے تو وہ کس طرح اسلام کی حفاظت کر سکتے ہیں ؟ میں ایک خاتون صحافی ہوں اگر میں وہا ں نہیں جا سکتی ، اگر میں مردو کے کندھوں سے کندھا ملا کر کام نہیں کر سکتی تو پھر اس ملک کی وزیر اعظم یا حزب مخالف کے لیڈر کیوں کر یہاں ہو سکتے ہیں ۔ اگر وہ مجھے برداشت نہیں کر سکتے تو پھر کیوں وہ خواتین سیاسی لیڈران سے گفت و شنید کر رہے ہیں اور کس بات پر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ مردوں کی دنیا ہے ۔ میں مہذب اور شائستہ لباس میں ملبوس تھی، کوئی بھی ان ویڈیوز میں دیکھ سکتا ہے کہ میں کیسے لباس میں تھی ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے میرے کپڑے پھاڑنے کی کوشش کی ، دراصل وہ اس کے کچھ حصوں کو پھاڑنے میں کامیاب بھی ہو گئے تھے ، وہ انتہائی متشدد تھے ۔ ’’
میں سول سوسائٹی، صحافیوں اور اس سے منسلک دوسرے لوگوں کو ایک بات یہ کہنا چاہوں گی کہ : آپ کیسے اس بات کا یقین کر سکتے ہیں کہ آج جو میرے ساتھ ہوا ہے وہ آپ کے ساتھ نہیں ہوگا ؟ میں تشدد کے شکار لوگوں کے ساتھ کام کرتی تھی لیکن میں نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ ایسا کبھی میرے ساتھ ہوگا ۔ لیکن ایسا ہوا ۔ بالکل ایسا ہی آپ کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے ۔ اگر آپ اس ملک میں رہنا اور زندہ باقی رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو ان تبدیلیوں کے بارے میں کچھ کرنا ہوگا جو پیدا ہو رہی ہیں ۔ آپ کو اس قسم کے جبر و تشدد کا مقابلہ کرنا ہوگا اس لئے کہ اس طرح کے حالات میں کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکتا ۔ مختصراً، جو کچھ بھی میرے ساتھ ہوا میں ا س کے لئے انصاف چاہتی ہوں ، اور یہی انہیں بھی چاہئے ۔ اگر وہ خواتین کی حفاظت نہیں کر سکتے تو پھر وہ کس طرح اسلام اور پوری انسانیت کی حفاظت کر سکتے ہیں ؟’’
یقیناً حفاظت اسلام یا جماعت اسلامی کے لئے اسلام کا مطلب وہ نہیں ہے جو مرکزی دھارے میں شامل اعتدال پسند مسلمانوں کے لئے ہے ۔ لیکن حفاظت اسلام اور دوسری بنیاد پرست جماعتیں بسرعت اشاعت پذیر ہیں جبکہ اعتدال پسند اسلام پسپا ہو رہا ہے ، جس کا انٹرنیٹ پر نیو ایج اسلام جیسی سائٹس ، کچھ بلاگ یا ادارتی مضامین کے علاوہ کہیں کوئی نام و نشان نہیں ہے ۔ بنگلہ دیش ہی صرف ایک ایسا ملک ہے جہاں ہم یہ پاتے ہیں کہ کم از کم فروری 2013 کی شاہ باغ مومنٹ میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ، خاص طور پر نوجوان اس لئے یکجا ہوئے کہ وہ 1971 کی جنگ آزادی کے اسلامی بنیاد پرست جنگی کریمنل کے عدالتی نظام کے نرم رویہ کے خلاف مہم چھیڑسکیں ۔
شاہ باغ تحریک میں بڑے پیمانے پر نوجوانوں کی شرکت کی بنیادی وجہ ملک کے مستقبل کے لئے ان کی فکر تھی ، جیسا کہ اس کی نشان دہی کچھ شرکاء نے کی تھی ۔ ویکی پیڈیا میں ایک شرکت کرنے والے کا حوالہ پیش کیا گیا ہے جس کا کہنا تھا کہ ‘‘یہاں آکر مجھے یہ علم ہوا کہ ہمارا قومی پرچم ہمارے بچوں کے ہاتھوں میں محفوظ ہے ’’1971 کے ممبران ‘‘سنہری نسل ’’ نے Projonmo Chottor (پروجونمو چوتور) میں ایک تازہ تحریک حاصل کیا ۔[89] مصنف محمد ظفر اقبال نے بڑی تعداد میں نوجوانوں کی شرکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘‘میں آپ سے اپنی معذرت خواہی کے لئے یہاں ہوں ۔ میں نے اخباروں میں لکھا ہے کہ نئی نسل صرف فیس بک پر لائک کرتی ہے اور بلاگ پر لکھتی ہے لیکن سڑکوں پر نہیں آتی ۔ لیکن آپ لوگوں نے مجھے غلط ثابت کر دیا ہے اور اس کے لئے میں آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں ’’۔ [90][91]
ڈھاکہ یونیورسٹی کی وائس چانسلر عارفین صدیق نے کہا کہ ‘‘آج اس ملک کو رضاکاروں سے آزاد کرنے کے لئے یہ ایک تحریک ہے ۔ اس ملک کو رضاکاروں کے چنگل سے آزاد کروانا ضروری ہے ۔ رضاکاروں کو موت کی سزا ملک کے 16 کروڑ عوام کا ایک مطالبہ ہے ’’۔[92] جہانگیرنگر یونیور سٹی کے وائس چانسلر ایم انور حسینی نے کہا کہ ‘‘بنگلہ دیش کی عوام نے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے ۔ Projonmo Chottor (پروجونمو چوتور) میں ہم ایک واضح بیان دینے کے لئے یکجا ہوئے ہیں ، ملک کے تمام باشندوں کو متحد ہونے اور اس زمین سے آزادی مخالف قوتوں کو بےدخل کرنے کی دعوت دینے کے لئے حاضر ہوئے ہیں ’’۔ [92]- (ماخوذ از ویکی پیڈیا)
شاہ باغ موبھمنٹ میں انتہاء پسندوں اور متشدد بنیاد پرستوں کی مخالفت کے اس غیر معمولی ثبوت کا خیر مقدم ہے جبکہ ہم دوسرے اسلامی ممالک میں اس طرح کی مخالفت کا بھی سراغ نہیں پاتے ۔یقیناً صرف مخالفت ہی کافی نہیں ہوگی ۔ اس سے اسلامی ممالک میں سرایت ہونے والے اسلامو فاشزم کو نہیں روکا جا سکتا ۔ ہمیں بڑے پیمانے پر اس دنیا کو اور اسلامی ممالک کو زیادہ سے زیادہ مطمئن کرنے والی اسلام کی معتدل رویات فراہم کرنے کی ضرورت ہے ۔ جیسا کہ میں نے پہلے ہی کہا کہ یہ ابھی زیادہ زوروں پر نہیں ہے مگر بہتر ہوگا کہ ہم سنجیدگی کے ساتھ اس بارے میں غور و فکر کریں۔
(انگریزی سے ترجمہ : مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام)
URL for English article:
URL for this article: https://newageislam.com/urdu-section/hefazat-e-islam’s-threat-civil/d/34671