New Age Islam
Thu Jan 22 2026, 07:44 AM

Urdu Section ( 1 Oct 2015, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Heed Pope Francis Exhortation to Find Adequate Interpretation of Holy Quran قرآن مجید کی سیاق و سباق والی اور تمثیلی آیتوں کی مناسب تشریح کرنے کی پوپ فرانسس کی نصیحت پر توجہ دی جائے


زبانی بیان، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل، جنیوا کا 30واں اجلاس (14 ستمبر تا 2 اکتوبر 2015)

سلطان شاہین، ایڈیٹر، نیو ایج اسلام

ایجنڈا آئٹم نمبر 8 پر عام بحث: ویانا اعلامیہ اور ایکشن پروگرام پر عمل درآمد

28 ستمبر 2015

عزت مآب صدر،

امن کی ہماری تلاش اور اسلامی دہشت گردوں کے خلاف ہماری جنگ میں تقدس مآب پوپ فرانسس نے ہماری رہنمائی کی ہے۔ میں اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے اس عالمی مسلم کمیونٹی تک یہ بات پہنچانا چاہوں گا جس کی یہاں نمائندگی کی جارہی ہے کہ پوپ فرانسس کی نصیحت کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور اس پر عمل در آمد کیا جانا چاہیے، اس لیے کہ یہ نہ صرف علم و حکمت پر مبنی ہے بلکہ قرآن مجید کی اس نصیحت کے مطابق بھی ہے جو قرآن میں بار بار وارد ہوئی ہے۔

پوپ فرانسس نے قرآن مجید کو "امن کی تعلیم دینے والی آسمانی کتاب" قرار دیا ہے اور انہوں نے مسلمانوں کو اس کی "ایک مناسب تشریح" پیش کرنے کی نصیحت کی ہے۔

قرآن مجید مسلمانوں کو بار بار اس کی آیات پر غور کرنے اور اس کے بہترین معانی تلاش کرنے کا حکم دیتا ہےمثلاً؛ 39:55, 39:18; 39:55; 38:29; 2:121; 47:24، وغیرہ۔

لہٰذا، قرآن اور پوپ فرانسس دونوں مسلمانوں سے اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کو لفظی طور پر قرآنی آیات کی پیروی نہیں کرنی چاہیے بلکہ انہیں سب سے بہتر یا سب سے زیادہ مناسب طریقے سے اس کی ترجمانی کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مسلط جنگوں کے دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کرنے کےلیے نازل ہونے والی قرآن کی سیاق و سباق والی آیات لفظی تعبیر و تشریح اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی کئی دہائیوں بلکہ صدیوں کے بعد جمع کی گئی احادیث کے بارے میں وحی الٰہی ہونے کے مسلمانوں کے ایک عام عقیدے کی وجہ سے ہم آج دہشت گردی، اجانب بیزری، عدم برداشت، تفوق پرستی اور زن بیزاری کی موجودہ بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔

بات یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں نے قرآن کی ان آیات اور احادیث پر غور و فکر نہیں کیا ہے۔ بلکہ امام غزالی، ابن تیمیہ، عبد الوہاب، شاہ ولی اللہ اور شیخ سرہندی، جیسے بڑے مذہبی رہنماؤں کے کا مطالعہ کرنے پر ہم تفوق پرستی اور جہاد کے معاملے میں ان کی اندھی تقلید کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ ان کی یہ تشریحات موجودہ دور کی ضروریات کو پوری کرنے کے لئے کافی نہیں ہیں۔

جب ہم قرآن آیتوں کے سب سے بہترین معانی اور مناسب تشریح تلاش کر لیں گے تبھی مسلمان اسلامی تعلیمات کے مطابق امن اور تکثیریت، تنوعات، صنفی مساوات، مذہبی آزادی اور سب کے لئے انسانی حقوق پر مبنی کی ایک نئی فقہ تیار کرنے کے قابل ہوں گے، جو عصر حاضر اور مستقبل کے معاشروں کے لئے موزوں گی۔

عزت مآب صدر،

پوپ فرانسس کی نصیحت ایک اہم وقت میں آئی ہے۔ 11/9 کے چودہ سالوں کے بعد آج بھی مسلم دنیا اپنی صفوں کے اندر انتہا پسندی کی لہر کو روکنے اپنی کوشش میں مصروف ہے۔ لیکن مسئلہ گہرا ہو تا جا رہا ہے اور انتہا پسندی دراصل دنیا بھر میں بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والے لڑکے اور لڑکیاں اس نام نہاد جہاد میں شامل ہونے کے لیے اپنے گھروں سے بھاگ رہی ہیں جس کی قیادت پوری دنیا میں اپنی اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کے مقصد سے عراق اور شام میں اپنے علاقوں کی توسیع کے لئے داعش کر رہا ہے۔ گزشتہ ایک سال میں 100 ممالک سے تیس ہزار نئے جنگجوؤں نے داعش میں شمولیت اختیار کی ہے۔

مصر کے سب سے معتبر اسلامی ادارے جامعہ الازہر کے سربراہ نے سال رواں کے اوائل میں مکہ میں منعقد ہونے والی انسداد دہشت گردی کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کی لہر کو روکنے کے لئے مدارس کے نصاب کی نظر ثانی کرنی ہوگی۔ امام اعظم شیخ احمد الطیب نے کہا کہ تاریخی طور پر قرآن کی ایک غلط ترجمانی نے قرآن کی عدم روادار تشریحات کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے اسلامی انتہا پسندی کے فروغ سے نمٹنے کے لئے مذہبی تعلیم کی زبردست اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔

قاہرہ میں الازہر کانفرنس سینٹر میں جنوری 2015 کو اپنے ایک خطاب میں، مصر کے صدر نے اسلام میں "ایک مذہبی انقلاب" کی بات کی۔ انہوں نے علماء کرام پر مشتمل سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں انتہاء پسند سوچ پوری دنیا کے لیے پریشانی، خطرہ، قتل اور تباہی کی ایک بنیاد بن گئی ہے۔" اس میں تبدیلی پیدا کرنی ہوگی اور اس میں علماء کرام کو ان کے اسکولوں، مساجد پر اور خطبات کے ذریعہ ایک اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ: "آپ، ائمہ، اللہ کی بارگاہ میں ذمہ دار ہیں۔ پوری دنیا انتظار کر رہی ہے، پوری دنیا کو آپ کے اگلے لفظ کا انتظار ہے اس لیے کہ پوری قوم اختلاف و انتشار کا شکار ہے۔"

اسی طرح مراکش نے مالکی رسوم و معمولات اور اشعری نظریے پر مبنی ایک روادار اسلام کے لیے اماموں کی تربیت کے لئے ایک پروگرام شروع کیا ہے۔ نائجیریا اور دیگر افریقی ممالک بھی اسلام میں اعتدال پسندی کو فروغ دینے کی تربیت حاصل کرنے کے لیے مراکش میں اپنے اماموں کو بھیج رہے ہیں۔

اردن، انڈونیشیا اور ملائیشیا کی طرح دیگر مسلم ممالک بھی بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کو روکنے کے لئے جو کر سکتے ہیں کر رہے ہیں۔

پوری دنیا کے اکثر مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے دنیا بھر کے 120 علماء نے ڈاکٹر ابراہیم عواد البدری عرف ابو بکر البغدادی اور ‘‘اسلامی ریاست’’ کے جنگجوؤں اور پیروکاروں کو ایک کھلا خط بھیجا ہے۔ 14 ہزار سے زائد الفاظ پر مشتمل یہ ایک بیش قیمتی دستاویز ہے۔ اس میں اس بات کی توضیح کی گئی ہے کہ خلیفہ البغدادی کے احکام میں غلط باتیں اور باطل عناصر کیا کیا ہیں۔ لیکن، سب زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ موجود دور میں اعتدال پسند اسلام میں کیا کیا نقص ہے؛ یہ تردیدی تحریر کیوں مؤثر نہیں ہو گی، اور اس جیسے دیگر تردیدی بیانات بھی کیوں غیر مؤثر ہوں گے؛ اور کیوں ہمارے بچے داعش اور دیگر دہشت گردی کے مراکز کی طرف اپنا رخ کرتے ہی رہیں گے۔ اگر غور کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اعتدال پسند علماء کے اس فتوی کو انتہاء پسند لوگ اپنی تعلیمات کا جواز پیش کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر:

‘‘...........قرآن کے تمام احکام حق اور تمام مستند احادیث منزل من السماء ہیں۔’’

یہ اعتدال پسند علماء کی طرف سے اس بات کی تصدیق ہے کہ دہشت گرد نظریہ ساز اپنے شاگردوں کو جن باتوں کی تعلیم دے رہے ہیں وہ درست ہے۔ ان کی دلیل یہی ہے۔ قرآن و حدیث کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے؛ وہ دونوں الہامی ہیں۔ قرآن مجید کی ایک آیت اسی قدر اچھی ہے جس قدر دوسری آیت اچھی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ایک حدیث اسی قدر اچھی ہے جس قدر دوسری حدیث اچھی ہے۔ یہ تمام ناقابل تغیر، عالمگیر اور ہر زمانے کے لئے ایک ابدی ہدایت کا مصدر و منبع ہیں۔

عزت مآب صدر،

میں اعتدال پسند علماء کے اس کھلے خط پر قدرے تفصیل کے ساتھ بحث کرنے کے لیے معذرت خواہ ہوں اس لیے کہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شدت پسندی کے خاتمے میں ہماری کوششیں کیوں ناکام ہوئی ہیں اور کیوں ان سے صرف انتہا پسندی کو فروغ ہی حاصل ہوا ہے۔

کھلے خط کے باب 13 - جبر اور مجبوری کے باب میں اعتدال پسند علماء کا کہنا ہے کہ: "یہ بات سب کو معلوم ہے کہ آیت: (لا اکراہ فی الدین) مفہوم 'دین میں جبر کی کوئی گنجائش نہیں ہے' فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی تھی، لہذا، کوئی یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے"۔ اس کے بعد اس فتوی میں جبر و اکراہ کے استعمال کے لئے بغدادی کی تنقید کی گئی ہے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ اعتدال پسند علماء نے بھی اپنے فتوی میں بغدادی کی بنیادی دلیل کو تسلیم کر لیا ہے، لہٰذا، فتح مکہ سے پہلے نازل ہونے والی پرامن مکی آیات منسوخ ہو چکی ہیں، یا کم از کم انہیں منسوخ کر دیا گیا ہوگا اور اب جنگ سے متعلق عسکریت پسندی پر مبنی آیات کی ترویج و اشاعت کی جانی چاہیے۔

پوائنٹ 16۔ حدود (سزا) کے باب میں، کھلے خط کی شکل میں اعتدال پسند علماء کے فتوی میں ایک عام اصول یہ قائم کیا گیا ہے کہ: "حدود کا بیان قرآن اور حدیث میں متعین اور مبین ہیں اور بلا شبہ وہ اسلامی قانون میں واجب العمل ہیں" بغدادی کی بنیادی دلیل کو قبول کرنے کے بعد اس میں نام نہاد اسلامی ریاست میں اس کے نفاذ پر تنقید کی گئی ہے۔ جو کہ اس طرح ہے: "تاہم، ان کا نفاذ وضاحت، انتباہ، نصیحت اور خاطر خواہ دلیل قائم کیے بغیر ایک ظالمانہ انداز میں نہیں کیا جا سکتا۔" لیکن اگر آپ نے ایک مرتبہ 7ویں صدی کے اعرابی قبائلی عرب ثقافت پر مبنی حدود (سزا) کی بنیادی دلیل کو "اسلامی قانون میں بلا شبہ واجب العمل قانون" کی حیثیت سے قبول کر لیا تو اعتدال پسندی اور انتہاپسندی کے درمیان کیا فرق باقی رہ گیا۔

پوائنٹ 20 میں ایسا لگتا ہے کہ اعتدال پسند علماء نے بتوں کو توڑنے اور انہیں تباہ کرنے کا جواز پیش کیا ہے۔ کھلے خط سے مندرجہ ذیل اقتباس کا مطالعہ کریں:

"آپ کے سابق رہنما، ابو عمر البغدادی نے کہا کہ: 'ہماری رائے میں شرک کی تمام علامتوں کو تباہ کرنا اور ان تمام ذرائع کو ختم کرنا ہماری ذمہ داری ہے جو شرک کی طرف لے جاتے ہیں، اور اس کی بنیاد صحیح مسلم میں امام مسلم کی وہ حدیث ہے جسے انہوں نے پر ابوالہیاج الاسدی کی سند سے روایت کی ہے کہ علی بن ابی طالب نے فرمایا کہ: ‘‘کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتا دوں جس کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا ہے: کسی بھی بت کو مٹائے بغیر اور کسی بھی قبر کو سطح زمین سے ملائے بغیر نہ چھوڑا جائے ’’۔ اگر ان کی بات سچ ہو تب بھی اس کا نفاذ انبیاء یا صحابہ کی قبروں پر نہیں ہوتا اس لیے کہ صحابہ کرام کے درمیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کے دو صحابہ ابو بکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) کو اس امارت میں دفن کرنے پر اتفاق رائے تھی جو مسجد نبوی سے ملحق ہے۔"

صراحتاً اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اعتدال پسند علماء صرف "انبیاء یا صحابہ کی قبروں" کو مسمار کرنے کی مخالفت کرتے ہیں اور وہ شرک (بت پرستی) کی تمام علامتوں کو ختم کرنے کی مجوزہ ذمہ داری کے خلاف نہیں ہیں۔ یہ معاصر دنیا میں بین المذاہب تعلقات کو برقرار رکھنے کی کوئی بہت اچھی علامت نہیں ہے جہاں تمام مہذب ممالک اپنے مذہب پر عمل کرنے کے ایک دوسرے کے حق کا احترام کرتے ہیں۔ اسلام میں اعتدال پسندی کی بنیاد مذہبی تنوعات کی منظوری پر ہونی چاہئے جس کی قرآن مجید ہمیں تعلیم دیتا ہے۔ اسلام کی آمد کے 13 سالوں کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب کو پہلی بار خود کا دفاع کرنے کی اجازت دی گئی، تو قرآن نے مسلمانوں کو صرف اپنی ہی مذہبی آزادی نہیں بلکہ تمام مذہبی کمیونٹیز کی مذہبی آزادی کا دفاع کرنے کا حکم دیا۔ خدا نے یہ چاہا کہ اس کی عبادت صرف مساجد میں ہی نہیں بلکہ گرجا گھروں، کنیساؤں، خانقاہوں، مندروں اور ہر جگہ ہو۔ اس سلسے میں اللہ کا حکم واضح ہے جو کہ اس طرح ہے:

 "یہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے گھروں سے ناحق نکال دیئے گئے (انہوں نے کچھ قصور نہیں کیا) ہاں یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار خدا ہے۔ اور اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو (راہبوں کے) صومعے اور (عیسائیوں کے) گرجے اور (یہودیوں کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں جن میں خدا کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے ویران ہوچکی ہوتیں۔ " (قرآن 22:40)

کھلے خط کے پوائنٹ 22 میں ‘‘خلافت’’ کے عنوان کے تحت ، اعتدال پسند علماء نے ایک بار پھر بغدادی گروہ کی بنیادی دلیل سے اس انداز میں اتفاق کیا ہے: "علماء کرام کے درمیان اس بات پر اتفاق ہے کہ خلافت کا قیام امت کی ایک ذمہ داری ہے۔ تاہم، 1924 عیسوی کے بعد سے امت مسلمہ میں خلافت کا فقدان ہے"۔ اس کے بعد مسلمانوں کی اتفاق رائے کے فقدان کی وجہ سے اس میں البغدادی کی خلافت کی تنقید کی گئی ہے اور کافی سخت لب و لہجے میں اس پر بغاوت، فتنہ، وغیرہ کا الزام لگایا گیا ہے۔ لیکن اس میں بھی مسئلہ وہی ہے۔ اعتدال پسند علماء نے خلافت قائم کرنے کی امت کی نام نہاد ذمہ داری کی بنیادی دلیل پر بغدادی کے ساتھ اتفاق کیا ہے۔ یہ عصر حاضر میں ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ اس سے یہ امر واضح ہے کہ بغدادی گروپ اور اعتدال پسند علماء دونوں یکساں طور پر پرانے ہیں جو بظاہر اب بھی 7ویں صدی عیسوی میں زندگی گزار رہے ہیں۔

اگر اسلام میں اعتدال پسندی اور انتہا پسندی کے درمیان کوئی فرق ہے تو کیا وہ اسی سطح تک ہے؟ تفوق پرستی، نفرت اور عدم برداشت کی سطح، اجانب بیزاری اور قرون وسطی کی سزا نافذ کرنے میں ظلم و بربریت کی سطح تک۔

واضح طور پر یہاں مسئلہ یہ ہے کہ اعتدال پسند علماء بھی انہیں اسلامی تعلیمات و معتقدات پر اپنے عقیدے کی تصدیق کر رہے ہیں جن پر داعش، القاعدہ، طالبان، بوکو حرام یا لشکر طیبہ، جیسی دہشت گرد تنظیمیں عقیدہ رکھتی ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ابتدائے اسلام سے لیکر آج تک بڑے بڑے فقہاء اسلام جن اسلامی اصول و نظریات کو پیش کرتے آئے ہیں اور جو تقریبا عالمی سطح پر مقبول بھی ہیں اس کے ضروری اجزاء کیا ہیں۔

عزت مآب صدر،

میں یہاں پر نمائندگی کی جانے والی مسلم دنیا سے ہمارے کچھ عظیم فقہا کے مندرجہ ذیل احکام پر نظر ڈالنے اور اس بات کا فیصلہ کرنے کی درخواست کروں گا کہ کیا موجودہ دور میں بھی اس کی کوئی گنجائش ہونی چاہئے، اور کیا ہمیں آج بھی اپنے مدارس اور اسلامک اسٹڈیز کے پروگرام میں ان کو شامل رکھنا چاہئے۔

ابو حامد الغزالی (1058 تا 1111) کو کچھ لوگ تمام علماء میں سب سے زیادہ عظیم اور کچھ کوگ اسلام کی سمجھ بوجھ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدانہیں ہی سب سے بڑا عالم مانتے ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ:

 "...........ایک مسلمان کو ایک سال میں کم از کم ایک بار جہاد پر جانا چاہئے ۔۔۔ غیر مسلموں کے خلاف جب وہ کسی قلعہ میں بند ہوں تو منجنیق کا استعمال کیا جا سکتا ہے یہاں تک کہ ان کے درمیان عورتیں اور بچے ہی کیوں نہ ہوں۔ ان کو نذر آتش کر دیا جائے، ان کی بیکار کتابوں کو تباہ کر دیا جائے۔ جہادی جو بھی چیز چاہیں مال غنیمت کے طور پر لے سکتے ہیں، جزیہ کی پیشکش پر عیسائیوں اور یہودیوں پر اس کی ادائیگی واجب ہے، جب حکام ذمیوں کی داڑھی پکڑیں اور ان کی کنپٹی پر ضرب لگائیں تو انہیں سر جھکانا ضروری ہے۔ انہیں کھلے طور پر اپنی شراب یا چرچ کی گھنٹیاں ظاہر کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، ان کے گھر مسلمانوں کے گھروں سے بڑے نہیں ہو سکتے، اس سے قطع نظر کہ ان کے گھر کتنے چھوٹے ہیں۔ ذمی کسی خوبصورت گھوڑے یا خچر کی سواری نہیں کر سکتا؛ کاٹھی اگر لکڑی کی ہو تو وہ اس صورت صرف گدھے کی سواری کر سکتا ہے۔ وہ اچھی سڑک پر نہیں چل سکتا۔ انہیں اور یہاں تک کہ ان کی عورتوں کو بھی اپنے لباس پر ایک شناختی پیوند لگانا ضروری ہے۔ "( کتاب الوجیز فی فقہ مذہب الامام الشافعی۔ صفحہ۔ 186، 190، 199-203)

امام ابن تیمیہ (1263 تا 1328) ایک حنبلی فقیہ اور عالم دین ہیں جنہیں وہابی سلفی مسلمانوں کے درمیان بہت زیادہ احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، اور حال ہی میں سعودی حکومت کی جانب سے جن کے مذہبی اصول و نظریات کی تبلیغ و اشاعت کی وجہ سے ان کے اثر و رسوخ میں کافی اضافہ ہوا ہے، وہ لکھتے ہیں:

"چونکہ جائز جنگ بنیادی طور پر جہاد ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ دین صرف اللہ کا ہی ہے، اور خدا کا کلام سب پر برتر و بالا ہے، اسی وجہ سے تمام مسلمانوں کے مطابق جو کوئی بھی اس مقصد کے حصول میں روکاوٹیں پیدا کرے اس سے مقابلہ کیا جانا ضروری ہے..... اور جہاں تک اہل کتاب اور آتش پرستوں کی بات ہے تو ان کے ساتھ جنگ کی جائے گی یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو جائیں یا جزیہ ادا کرنے کےلیے راضی ہو جائیں۔ اور ان کے علاوہ کے بارے میں فقہاء کے درمیان ان سے جزیہ لینے کے جواز پر اختلاف رائے ہے۔ ان میں سے بیشتر اس کے عدم جواز کے قائل ہیں....."(روڈولف پیٹرس، کلاسیکی اور جدید اسلام میں جہاد (پرنسٹن، NJ:۔ مارکس وینر، 1996)، صفحہ 44-54)

ایک ہندوستانی اسلامی عالم دین اور حنفی فقیہ شیخ احمد سرہندی (1564-1624) جنہیں مجدد الف ثانی، یعنی دوسری اسلامی صدی کے مجدد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، لکھتے ہیں:

1۔ ".....ہنددوستان میں گائے کی قربانی عظیم ترین اسلامی معمولات میں سے ایک ہے۔"

2۔ "کفر اور اسلام ایک دوسرے کے برعکس ہیں۔ ایک کی ترقی دوسرے کے خاتمہ سے ہی ممکن ہے، اور ان دو متضاد عقائد کے درمیان بقائے باہمی ناقابل تصور ہے۔

3۔ "اسلام کی عزت کفر اور کافروں کی توہین میں مضمر ہے۔ جو کافروں کا احترام کرتا ہے وہ مسلمانوں کی توہین کرتا ہے۔"

4۔ "ان پر جزیہ عائد کرنے کا حقیقی مقصد اس حد تک ان کو نیچا دکھانا ہے کہ وہ جزیہ کے خوف کی وجہ سے نہ تو اچھے پوشاک پہنیں اور نہ ہی شان و شوکت کی زندگی گزارنے کے قابل ہوں۔ انہیں ہمیشہ مسلمانوں کے خوف سے لرزہ براندام رہنا چاہئے۔

5۔ " جب بھی کوئی یہودی ہلاک کیا جاتا ہے تو اس میں اسلام کا فائدہ ہے۔"

([Muslim Revivalist Movements in Northern India in the Sixteenth and Seventeenth Centuries] ترجمہ؛ سولہویں اور سترہویں صدی میں شمالی ہندوستان میں مسلم تجدیدی تحریکیں، مصنف، سید اطہر عباس رضوی، (آگرہ، لکھنؤ، آگرہ یونیورسٹی، بال کرشنا کتاب کمپنی، 1965)، صفحہ۔247-50 اور یوہانہ فرڈ مین، [Shaykh Ahmad Sirhindi: An Outline of His Thought and a Study of His Image in the Eyes of Posterity] (مانٹریال، کیوبیک: میک گل یونیورسٹی، انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک سٹڈیز، 1971) صفحہ 73-74)۔

ہندوستان کے سب سے عظیم الشان عالم دین، محدث اور فقیہ شاہ ولی اللہ دہلوی (1703تا 1762) فرماتے ہیں:

 "دیگر تمام مذاہب پر اسلام کو غالب کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری ہے، خواہ لوگ اس مذہب کو رضاکارانہ طور پر قبول کر لیں یا ذلت و رسوائی کے بعد اسے قبول کریں۔ اس طرح لوگوں کو تین گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

"(ذلیل کافر)، جن سے بوجھ ڈھونے، کھتی کرنے جیسے وہ حقیر کام کروائے جائیں گے جن کے لیے جانوروں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کافروں پر ذلت و رسوائی کا قانون عائد کیا ہے اور ان پر غلبہ حاصل کرنے اور ان کی توہین کرنے کے لیے ان پر جزیہ عائد کیا ہے....... آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قصاص، دیت (خون بہا)، شادی اور سرکاری انتظامیہ کے معاملے میں مسلمانوں کے مساوی نہیں شمار کیا ہے، تاکہ وہ بالآخر مجبور ہو کر اسلام قبول کر لیں۔"

(حجۃ اللہ البالغہ، جلد1،باب 69، صفحہ نمبر، 289)

محمد بن عبد الوہاب، (1703 تا 22 جون 1792):

‘‘اگر فرزندان توحید (مسلمان) شرک سے بھی گریز کریں، تب بھی ان کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے قول وعمل کے ذریعہ غیرمسلموں کے تئیں نفرت اور دشمنی کا اظہار نہ کریں۔’’ (مجموعۃ الرسائل والمسائل النجدیۃ، 4/291)

ابو الاعلیٰ مودودی (25 ستمبر 1903 تا 22 ستمبر 1979) لکھتے ہیں:

 "اسلام روئے زمین پر ان تمام ریاستوں اور حکومتوں کو تباہ کرنا چاہتا ہے جو اسلامی نظریات اور منصوبوں کی مخالفت کرتے ہیں، اس ملک یا قوم سے قطع نظر جو ان پر حکمرانی کرتی ہے ۔ اسلام کا مقصد اپنے نظریات اور اور منصوبوں پر مبنی ایک ریاست قائم کرنا ہے، اس بات سے قطع نظر کہ کون سا ملک اسلام کے معیاری کردار کا حامل ہے یا کس ملک کی حکمرانی نظریاتی طور پر اسلامی ریاست کے قیام کے عمل میں کمزور ہے۔ اسلام صرف ایک حصہ نہیں بلکہ پوری روئے زمین کا مطالبہ کرتا ہے ۔۔۔۔ پوری انسانیت کو اسلامی نظریہ اور اس کے فلاح و بہبود کے منصوبوں سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے ۔۔۔ اس مقصد کے حصول میں اسلام ان تمام قوتوں کے استعمال کا متمنی ہے جو ایک انقلاب پیدا کر سکیں ۔ ان تمام قوتوں کو استعمال کرنے کے لئے ایک جامع اصطلاح 'جہاد' ہے ۔ ۔۔۔۔ اسلامی 'جہاد' کا مقصد غیر اسلامی نظام حکومت کو ختم کرنا اور اس کے بجائے ایک اسلامی نظام قائم کرنا ہے۔ "

(مودودی، الجھاد فی الاسلام )

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ بےشمار فقہی احکام، احادیث، شریعت، قرآن مجید کی تفاسیر اور کتب سیرکی ایک بہت چھوٹی سی مثال ہے۔

جناب، عزت مآب صدر،

ایسا لگتا ہے کہ انتہا پسندی اور اسلامی تفوق پرستی مسلم معاشرے کی رگوں میں سرایت کر چکی ہے۔ جب ہم خود اسلامی تفوق پرستی کی بات کرتے ہیں یا اس کے بارے میں سنتے ہیں تو ہم مشکل سے ہی اسے محسوس کرتے ہیں۔ اسلامی تاریخ میں انتہا پسندی اور اسلامی تفوق پرستی فطری طور پر پائی جاتی ہےاور یہ تقریبا ابتداء اسلام سے ہی اس میں موجود ہے۔ تقریبا اسلامی تاریخ کے آغاز سے ہی انتہا پسندی اسلام میں موجود رہی ہے۔ مسلمانوں نے حدیث اور شریعت کی تخلیق سے پہلے ہی جنہیں وہ مقدس مانتے ہیں، آپس میں سخت جنگیں لڑی ہیں۔ مسلمانوں کو اب تک قرآن مجید میں موجود عسکریت پسندی پر مبنی آیات کا تریاق نہیں مل سکا ہے، جو کہ انٹرنیٹ کی مدد سے اب ہر کسی کو دستیاب ہے۔ قرآن کی تمام آیات کو ابدی قدر اور اہمیت و افادیت کا حامل قرار دینا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ حدیث اور شریعت کو الہامی قرار دینا آج کے سوالات کا کوئی جواب نہیں ہے۔ مسلمانوں کو تشدد اور تفوق پرستی کی طرف لے جانے والی شریعت کو ترک کرنا ہوگا اور تمام معاملات میں اسلامی تعلیمات کے مطابق امن اور تکثیریت پر مبنی ایک ایسی نئی شریعت بنانی ہوگی جو معاصر اور مستقبل کے معاشروں کے لئے موزوں ہو۔

اس نئی فقہ کی بنیاد قرآن مجید کی ایک مناسب تشریح پر رکھنی ہوگی، جیسا کہ پوپ فرانسس نے اپنی تجویز میں کہا ہے اور جیسا کہ قرآنی آیات سے بہترین معانی تلاش کرنے کا مطالبہ بارہا کیا گیا ہے۔ اس کےلیے سیاق و سباق والی آیتوں کی لغوی ترجمانی کو ترک کرنا ہوگا، اور قرآن مجید کی ان بنیادی اور تعمیری آیتوں کو اہمیت دینی ہوگی جنہیں صحیح معنوں میں ابدی اہمیت کا حامل سمجھا جا سکتا ہے۔

ہمیں ان عظیم فقہاء کی فرسودہ تشریحات اور ان کے فقہی احکام کو ترک کرنا ہو گا جنہیں ہم نے صدیوں تک عزت و احترام سے نوازا ہے۔ لا اکراہ فی الدین اور لکم دینکم ولی دین جیسی قرآن مجید کی آیتوں کا لفظی معنیٰ ہر اعتدال پسند اسلامی فلسفہ کی بنیاد ہے۔ یہ قرآن مجید کی تعمیری اور ابدی اہمیت و افادیت کی حامل آیتیں ہیں۔ یہ آیتیں ہمارے لئے ہر زمانے میں قابل عمل ہیں۔

سیاق و سباق والی یا تمثیلی آیات کے ساتھ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انہیں لفظی طور پر لیا جاتا ہے یا ان کی ترجمانی کسی کی اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق کی جاتی ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب نام نہاد عسکریت پسند آیات کو ہمیشہ کے لیے لفظی طور پر لیا جاتا ہے، اور انہیں ہر زمانے میں قابل عمل تمام مسلمانوں کے لیے خدا کی ایک نصیحت سمجھا جاتا ہے، اور ان کی پیروی اس طرح کی جاتی ہے جیسا کہ ان کا نزول آج ہی ہوا ہو۔ ہو سکتا ہے کہ داعش کے رہنماؤں کا اپنا کوئی منصوبہ ہو، لیکن ہمارے بچے اور نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جو ہمارے گھروں اور نجی اسکولوں سے بھاگ رہی ہیں، وہ ان عسکریت پسند اور جارحانہ آیتوں کی لفظی ترجمانی اور ان آیات کو عالمگیر نوعیت کا مان کر ہی ایسا کر رہی ہیں۔ تمام قرانی آیات غیر مخلوق سمجھا جاتا ہے اور مدارس میں انہیں آنے والے ہر زمانے کے لئے مسلمانوں کے لئے ابدی اہمیت کا حامل اور رہنمائی کا ذریعہ بتایا جاتا ہے۔

قرآن مجید کی ایک تمثیلی آیت کی تشریح یہ بتانے کے لیے کی جا رہی ہے کہ یوم ملحمہ میں اب صرف دو سال ہی بچے ہیں۔ داعش (اسلامی ریاست) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ آخری معرکہ حق و باطل لڑ رہے ہیں ۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ ہمارے نوجوان آخری معرکہ حق و باطل میں شریک ہونے کے لیے اپنے گھروں سے بھاگ رہے ہیں۔ لہذا، میرا ماننا ہے کہ سیاق و سباق والی یا تمثیلی آیتوں کی ترجمانی ان کے سیاق و سباق کو نظر انداز کرتے ہوئے محض لغوی طور پر کرنا یا تمثیلی آیات کی تشریح توڑ مروڑ کر پیش کرنا ایک تباہی کی علامت ہوگی، اور یقیناً ا سکے نتیجے میں بڑی تباہیاں رونماں ہو چکی ہیں اور ہو رہی ہیں۔

ہمیں قرآن کو خدا کی تخلیق کردہ ایک ایسی کتاب ماننا ضروری ہے، جو کہ سیاق و سباق اور تمثیلی آیتوں پر مشتمل ہے، جنہیں ہمیں مختلف اوقات اور مختلف سیاق و سباق میں اور مختلف انداز میں سمجھنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ہمیشہ آنکھ بند کر کے کچھ بھی قبول کرنے سے پہلے اپنی عقل اور استدلال کا استعمال کرنے کے قرآن کے مشورہ پر غور کرنا چاہئے کی اور ہمیں قرآن سے بہترین معانی یا اس کی مناسب تشریح تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، جیسا کہ پوپ فرانسس نے اس کی تاکید کی ہے۔ تمام قرانی آیات کی لغوی ترجمانی قابل قبول نہیں ہو سکتی۔

میں ایک بار پھر یہاں نمائندگی کی جانے والی مسلم ریاستوں سے یہ درخواست کروں گا کہ ہمیں پوب فرانسس کی نصیحت اور قرآنی آیتوں کی مناسب تشریح کرنے اور ان میں سے بہترین معانی کو تلاش کرنے اور اس کی بنیاد پر ایک نئی فقہ کی تدوین کرنے کے لیے بار بار وارد ہونے والی نصیحت پر پوری گہرائی و گیرائی کے ساتھ غور و فکر کرنا چاہیے۔ ہمارے پاس ایسا کرنے کے لئے دانشورانہ وسائل موجود ہیں۔ ہمیں صرف پرانی فقہ کو ترک کرنے کی ہمت اور امن اور تکثیریت پسندی، بقائے باہمی اور مذہبی تنوعات، سب کے لئے انصاف اور انسانی حقوق کے تصور پر مبنی ایک نئی فقہ مدون کرنے کے لیے عزم و حوصلے کی ضرورت ہے۔

URL for English article:

 http://www.newageislam.com/ijtihad,-rethinking-islam/sultan-shahin,-editor-new-age-islam/heed-pope-francis--exhortation-to-find--adequate-interpretation--of-holy-quran-s-contextual,-allegorical-verses,-sultan-shahin-asks-the-global-muslim-community-at-unhrc-in-geneva/d/104739

URL: https://newageislam.com/urdu-section/heed-pope-francis-exhortation-find/d/104765


Loading..

Loading..