New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 05:59 PM

Urdu Section ( 3 Feb 2011, NewAgeIslam.Com)

The Importance and Significance of Cleanliness and Purification in Islam - اسلام میں صفائی اور طہارت کی اہمیت

In this article for NewAgeIslam.com, Sohail Arshad discusses the importance of cleanliness and purification in Islam with references from the Holy Quran and Hadiths. He says that before the advent of Islam filth and dirtiness had become a part of the Arab society. They did not keep their bodies, their houses and their environment clean. They used to relieve themselves in water, shady places and on the thoroughfares causing inconveniences to the public. But Islam made cleanliness a part of faith and said that cleanliness was half of the faith. Please read the full text in Urdu below.


 

سہیل ارشد

اسلام کی آمد سے قبل عرب معاشرہ جہاں بے شمار سماجی و اخلاقی برائیوں میں مبتلا تھا وہیں جسمانی او رماحولیاتی گندگی اور نجاست بھی اس سماج کا ایک لازمی جزوبن گئی تھی۔ ان کی غیر مہذب قبائلی زندگی میں صفائی اور نفاست کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی ۔ ان کا رہن سہن اور طور طریقے کسی اصول کے پابند نہیں تھے۔ غسل کرنا ان کے لیے ایک غیر ضروری عمل تھا۔ چند احادیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوتا کہ عرب کے یہودیوں میں بھی گندگی عام تھی اور وہ اپنے گھروں میں صفائی کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے ۔حضورﷺ نے فرمایا:

‘‘اپنے گھر وں کو صاف رکھو اور یہودیوں کے نقش قدم پر مت چلو’’ (ترمذی)

لہٰذا اسلام نے ایک طرف انسان کو روحانی پاکیزگی عطا کی، ان کے اخلاق کو سنوار ا اور تہذیب سے آشنا کیا وہیں اس نے معاشرے کو حفظان صحت کے اصول سکھائے اور انسانوں کو رہن سہن ،اٹھنے بیٹھنے اور لباس پہننے کا سلیقہ بھی سکھایا ۔لہٰذا قرآن میں متعدد آیتیں صفائی اور طہارت سے متعلق ہیں۔

‘‘اپنے لباس کو صاف رکھو’’ (سورۂ المدثر 4: 74)

‘‘اے ایمان والو! جب تم نماز کا ارادہ کرو، چہرے کو ، اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوؤ ،سرکا مسح کرو او راپنے پیروں کو ٹخنوں تک دھو ڈالو’’۔ ( سورۂ المائدہ 222)۔

‘‘اے اولاد آدم! ہر نماز کے وقت خود کو سنوارو’’ ( سورۂ الا عراف)

مندرجہ بالا آیات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام میں روحانی پاکیزگی کے ساتھ ساتھ جسمانی صفائی اور پاکیز گی کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ اللہ انہیں عزیز رکھتا ہے جو لوگ اس سے توبہ کے ذریعہ رجوع کرتے ہیں اور خود کو جسمانی طور پر بھی پاک وصاف رکھتے ہیں۔

ظاہر ہےکہ قرآن کو مسلمانوں کو اپنے لباس کو صاف رکھنے ، ہر نماز کے  لیے خود کو سنوارنے اور صفائی اور نفاست کی تلقین اس لیے کرنی پڑی کہ اسلام سے قبل عرب کا معاشرہ صفائی سےبہت دور تھا۔ عرب معاشرہ جو یہودیوں ، بت پرستوں اور عیسائیوں پر مشتمل تھا حفظان صحت اور جسمانی صفائی کو کوئی اہمیت نہیں دیتا تھا ۔ وہ اپنے گھروں ، محلّوں اور خود اپنے آپ کو گندہ رکھتے تھے ۔ عیسائی راہبوں اور پادریوں میں صفائی سے بیزاری عام تھی کیوں کہ وہ لوگ دنیا سے بیزر تھے۔ ان کا یہ فلسفہ تھا  کہ انسانی جسم بدی کا پیکر ہے اور اسی لیے اسے تمام اچھی چیزوں ، زندگی کی خوشیوں ،زیب وزینت اور صفائی سے محروم رکھنا چاہئے ۔انگریز ادیبہ کیتھرائن ایشن برگ اپنی کتاب دی ڈرٹ آئن کلین The Dirt on Clean) میں لکھتی ہیں ‘‘ بہت سے قدیم پادریوں نے گندگی کو بڑے شوق سے گلے لگایا ۔ ایک عیسائی خانقاہ کے سربراہ نے راہباؤں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا ‘‘ پاک جسم اور پاک لباس کا مطلب ہے ناپاک روح’’ ۔ اسپین میں غسل کو بدی کی علامت کہا جاتا تھا۔ لہٰذا  جب سرکاری تفتیش کارو (پولس) کو کسی ملزم کے متعلق پتہ چلتا تھا کہ وہ نہاتا بھی ہے تو اس کے مجرم ہونے میں کوئی شک نہیں رہ جاتا تھا کیو نکہ ان کے خیال میں نہانے والا شخص اچھا آدمی ہو ہی نہیں سکتا ۔ اسی طرح چرچ کے پادری اس شخص کا گناہ معاف نہیں کرتے تھے جس کے بارے میں انہیں معلوم ہوتا تھا کہ وہ نہانے کا عادی ہے۔ چودھویں صدی سے لے کر اٹھارہویں صدی تک باشاہوں سے لے کرکسانوں تک بھی لوگ پانی سے دور بھاگتے رہے کیو نکہ انہیں خوف تھا کہ پانی سے طاعون پھیل سکتا ہے ۔ وہ جسم کی بدبو چھپانے کے لئے خوشبو یات کا استعمال کرتے تھے۔

لیکن اسلام نے آغاز ہی سے غسل کو جسمانی طہارت کا اصل ذریعہ قرار دیا او ر چند مخصوص حالات میں غسل کو فرض قرار دیا۔ حضورﷺ نے کم از کم جمعہ کو غسل کرنے کی تلقین کی اور غسل کے آداب سکھائے ۔کہا جاتا ہے کہ صلیبی جنگوں کے اختتام پر جب یوروپی فوجیں یوروپ واپس لوٹیں تو عالم عرب سے غسل کی عادت لے کر لوٹیں ۔ اس کے باوجود برسوں تک ان کے مذہبی پیشوا مختلف اسباب کی بنا پر انہیں غسل سے روکتے رہے۔ یہاں تک یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صابن بھی مسلمانوں کی ایجاد ہے۔

عرب کے جغرافیائی حالت اور  اس کے خشک موسم نے بھی ان میں گندگی کی حوصلہ افزائی کی۔ پانی کی دستیابی وہاں ایک عام مسئلہ تھی کوئی بڑی ندی فرات یا نیل کی طرح نہیں تھی۔ صرف کنویں تھے جو گرمی میں سوکھ جاتے تھے۔ لیکن پانی کے عدم فراہمی یا کمی کسی طبقے میں صفائی سے بیزاری کی وجہ نہیں ہوسکتی کیو نکہ ان معاشروں میں بھی گندگی دیکھی گئی ہے جہاں پانی کی بہتات ہے۔ دراصل قبل اسلام معاشرے میں تہذیب وشائستگی کے فقدان نے بے اصولی ،زندگی میں بے ترتیبی ، بے راہ روی اور طور طریقوں میں بے ضابطگی کو فروغ دیا تھا۔ عام غلاظت ، رفع حاجت یا جنابت سے طہارت و پاکیزگی حاصل کرنے کے سلسلے میں ان کے پاس رہنما اصول نہیں تھے۔ وہ جہاں چاہتے رفع حاجت اور استنجا کرتے، حیض ونفاس کی حالتیں ان کے لیے کوئی کراہت نہیں رکھتی تھیں۔

لہٰذا اسلام کی آمد کے ساتھ مسلمانوں کی زندگی میں ڈسپلن آیا اسلام نے انہیں جسم کو پاک وصاف رکھنے کے اصول سکھائے ۔حضورﷺ نے قرآن کی روشنی میں مسلمانوں کی نہ صرف مذہبی واخلاقی رہنمائی فرمائی بلکہ انہیں صاف ستھرا رہنے ، کپڑوں کو صاف رکھنے اور اپنے گھروں ،راستوں اور اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کی بھی ہدایت فرمائی ،چنانچہ ایک مشہور حدیث ہے:

‘‘صفائی نصف ایمان ہے’’ (مسلم، ترمذی)

متعدد احادیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور پاک ﷺ مسلمانوں کو ایک ممتاز ،خوش سلیقہ اور مہذب قوم کی حیثیت سے دیکھنا چاہتے تھے۔ لہٰذا وہ کسی مسلمان میں بد سلیقگی او ر عدم نفاست دیکھتے تو فوراً اسے ٹوک دیتے ، حضور ﷺ نے فرمایا:

اللہ حسین ہے اور حسن کو پسند فرماتا ہے۔( مسلم)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا‘‘ اپنے سر کے بالوں کا خیال رکھا کرو’’ ۔( ابوداؤد 4163) اسی  طرح ابن یاسر سے روایت ہے کہ ایک شخص جس کے سر او رداڑھی کے بال بکھرے ہوئے تھے مسجد میں آیا حضور ﷺ نے ارشارے سے سر اور داڑھی کے بالوں کو سنوارنے کا حکم دیا۔ وہ شخص چلا گیا اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا تو اس کے بال باسلیقہ تھے۔ حضور ﷺ نے یہ دیکھ کر فرمایا‘‘ کیا یہ اس سے بہتر نہیں ہے کہ کوئی بکھر ے ہوئے بالوں کے ساتھ آئے جیسے کہ شیطان ’’۔( مالک)

اسی طرح آپ ﷺ نے ہاتھوں اور دانتوں کی صفائی پر خاص زور دیا۔ آپ نے کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونے کی سخت تلقین فرمائی ۔ آپﷺ نے فرمایا ‘‘ جو کوئی مرغن غذا کھانے کے بعد بغیر ہاتھ دھوئے سوجاتا ہے وہ بیماریوں کو دعوت دیتا ہے جس کے لیے وہ خود ذمے دار ہے۔( ابوداؤد 3852، ترمذی 1861)

آپ ﷺ نے سو کر اٹھنے کے فوراً بعد اچھی طرح ہاتھ دھونے کا بھی حکم فرمایا ۔آپ نے فرمایا:

‘‘کوئی نہیں جانتا کہ نیند کی حالت میں اس کے ہاتھ کہاں پھرتے ہیں ’’( بخاری ،مسلم ، ابن ماجہ، ابوداؤد ،ترمذی)

عرب کے بدو اکثر راستوں میں ٹھہرے ہوئے پانی میں اور سایہ دار جگہوں پر رفع حاجت اور استنجا کردیتے تھے ۔آپﷺ نے مسلمانوں کو ایسا کرنے سے سختی سے منع فرمایا ۔ ایک حدیث میں ہے:

‘‘ ان باتوں سے بچو جس کی وجہ سے لوگ تم پر لعنت بھیجیں ’’ لوگوں نے پوچھا  ‘‘کون سی ہیں ’’ آپﷺ نے فرمایا‘‘ راستوں میں یا سایہ دار جگہ پر رفع حاجت کرنا ’’ ۔( ابوداؤد ،مسلم)

ایک دوسری حدیث یوں ہے:

 ‘’تین باتو ں سے بچو جس کی وجہ سے لوگ تم پر لعنت بھیجیں ۔بہتے ہوئے پانی میں ، راستے میں یا سایہ دار جگہ پررفع حاجت کرنا،۔ (ابو داؤد ،البہیقی)

ایک اور حدیث پاک ہے ۔‘‘ تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں استنجا کرنے کے بعد اس میں وضونہ کرے’’ (ترمذی نسائی)

ایک دوسری حدیث میں ہے۔

‘‘ تم میں سے کوئی غسل کی جگہ پر استنجا نہ کرے’’ ۔ ( ابوداؤد ،ترمذی ، ابن ماجہ، نسائی)

حدیثوں میں پیاز ، لہسن ، اور ان جیسی بدبودار چیزیں کھاکر مسجد میں آنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ اس سے نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہے ۔ ایک حدیث میں ہے:

 ‘‘اگر مجھے اپنی امت کی مشقت کا خیال نہ ہوتا تو میں ہر نماز سے قبل مسواک کرنا لازمی قرار دیتا’’۔

لہٰذا قرآن پاک کی آیتوں اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ روحانی پاکیزگی کے ساتھ اجتماعی اور ماحولیاتی پاکیزگی اور نفاست بھی مسلمانوں کے ایمان کا اہم جزو ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ مسلمان قرآن اور سنت سے دور ہوکر صفائی اور  پاکیزگی سے دور ہوگئے ہیں۔ ان کے گھروں اور محلوں میں گندگی عام بات ہے کھانے پینے ، رہن سہن، اور بات چیت سے بے سلیقگی اور بدذوقی جھلکتی ہے۔ گندگی اور غلاظت مسلمانوں کے محلّوں کی شناخت بن کرر ہ گئی ہے۔ گھروں میں اور گھر کے باہر کوڑے کرکٹ کا انبار ، ابلتی ہوئی نالیاں، گندگی میں لوٹتے ہوئے بچے ، سڑکوں کے کنارے اور گھر کے دروازوں پربال بکھرے ہوئے ، شانوں پر آنچل ڈھلکائے ہوئے بے ہودہ انداز میں باتیں کرتی ہوئے عورتیں ،ایسے مناظر ہیں جو آپ کو ہر مسلم محلّے میں دیکھنے کو مل جائیں گے ۔ ضرورت اس بات کی ہےکہ سماجی و فلاحی تنظیمیں مسلمانوں میں صفائی ونفاست اور خوش سلیقگی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں تیز تر کریں اور قرآن اور حدیثﷺ کے نہج پر ایک مثالی مسلم معاشرے کی تشکیل کو ممکن بنائیں۔


URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/the-importance-and-significance-of-cleanliness-and-purification-in-islam---اسلام-میں-صفائی-اور-طہارت-کی-اہمیت/d/4060

 

Loading..

Loading..