New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 10:00 AM

Urdu Section ( 13 Jun 2011, NewAgeIslam.Com)

What Kind of Revenge Is It That One becomes Blood-Thirsty? اپنوں کے خون کاپیاسا یہ کیسا انتقام

By Suhail Anjum

(Translated from Urdu by Arman Neyazi,

When one gets thirsty for the bold of one’s near and dear ones, one must feel obliged to wonder what kind of sickness has entered one’s soul. What kind of revenge it is that impels you to kill your own?

It is natural to question what kind of a Jihad is being waged when the suicide bombers strike Muslims in mosques, religious congregations, peaceful residential colonies and common thoroughfares and kill them. Which form of a jihad it is which is writing a history of these tyrannical stories?

The “Mujahedeens”, “Ghazis” (religious warriors) and “the Martyrs” are bathing in the blood of their own brothers and sisters, in religion, to avenge the killing of Osama bin Laden, founder and guide of Al Qaeda. According to a rough estimate more than 100 (actually close to 200 now) Muslims have been killed so far. But the thirst does not seem to have been quenched. The fire of revenge seems to be burning bright.

One tends to think, is it a work of ‘God’s blessings’ to commit suicide, to be tyrannical and to lay one’s own life as a suicide bomber? Are they followers of the Islam which had prohibited any attack on unarmed people, which had exhorted that Muslims should safeguard women, children, old and ill, which had asked to provide shelter to the homeless and which had forbidden to speak ill of other religions? The question comes to mind, is this real Islam which Al Qaeda and other such organizations are preaching? The followers of these organizations consider violating and contradicting these guidelines of Islam as the real Islam. Americans killed Osama and Osama’s followers are avenging his killing by killing the followers of Islam!

As it is this blood bath is continuing since 9/11 which was followed by American army’s invasions of Muslim lands. “Mujahideens” of al Qaeda are engaged in killing those they consider violating the original tenets of Islam. For that matter innumerable people have lost their lives in various countries including India but the scene of killing and the blood bath in Pakistan has no precedent in history. More or less thirty-five thousand Muslims have lost their lives in Jihadi suicide bombings after 9/11. But there is no end in sight.  For all these killings of innocent people both the so called Jihadis and the ones who are reciprocating are responsible. The fact remains that Islam is ashamed of its own name and existence today.

We are compelled to see our near and dear ones being used as suicide bombers.  We have not forgotten the time when two Islamic countries used to exploit innocent children and youngsters as suicide bombers with a promise of an eternal life in heaven in return.

The flag of Jihad is being hoisted even when there is no war between Islam and Kufr today. In this one- sided war against the military power these Jihadis are seeking to enter heaven killing their own people!

Various organization like Al Qaeda, Taliban, Jama’t ud-Dawa, Lashkar-e- Jhangwi, Sipah e Sahaba, Tahreek jafria, Pakistan, Tahreek e Nefad e Shariat Muhammadi, Sunni Tahreek and Sipah e Muhammad, Pakistan, are responsible for these killings. These are one and the same organization being run on different letter pads.

What can only be called contractors of Islam are bringing bad name to Islam with their blood bath. They have also brought shame to Jihad. They have made humanity ashamed through their activities. It is because of them that the Muslims all over the world are taken as terrorist.  And wherever there is a terrorist activity all eyes go on to the Muslims. What kind of wisdom is it that they are killing their own brothers? If America, Britain and the West are their enemy why are the innocent Muslims being targeted? What kind of revenge is it that the innocent Muslims are being killed by both sides?

Al Qaeda and other such organizations are the brain child of America and the West. They are used for their own benefit first and then they are abandoned. In both these actions it is the innocent Muslims who are killed. And the best thing is that the Killers take themselves to be the Muslims of the first century Hijri (Qarn-e- Oola). The people running these organizations have become so blind in their vengeance that they are not even able to see that they are killing their own brethren in this war.

Anyhow, the people who think that these killings will stop after Al Qaeda gets finished are day dreaming. The enmity with the West will remain and the war against it is not going to stop that easily.

What is needed is to go along with the developments of the modern day. Muslims will have to shed their conservatism and come out of their excessive emotionalism. This is an age of Information Technology and if the Muslims wish they can take its advantage and get busy in preaching [Tableegh] of Islam. But they will have to get themselves free of the mentality which makes Muslims enemies of the Muslims themselves.


سہیل انجم

جب انتقام کی لہریں موج خوں بن کر اپنوں کے سروں سے گزر نے لگیں تو سوچنا پڑتا ہے کہ آخر یہ کیسا انتقام ہے جس کی پیاس اپنوں کے خون سے بھی نہیں بجھ رہی ؟ جب عبادت گاہوں ،درگاہوں ،مذہبی جلوسوں اور پر امن آبادیوں اور شاہراہوں پر خود کش حملے کر کے بے قصور اور معصوم انسانوں کے لہو کے دریا بہائے جائیں تو سوال اٹھتا ہے کہ آخر یہ کیسا جہاد ہے جو بربریت کی داستانیں رقم کررہا ہے ؟ آپریشن ایبٹ آباد میں القاعدہ کے بانی سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اسلام کے ان ‘‘مجاہد وں’’ ،غازیوں اور شہیدوں ’’ نے انتقام لینے کی جو دھمکی دی تھی اس کو اپنے ہی دینی بھائیوں کے کشتوں کے پشتے لگا کر بروئے کار لا یا جارہا ہے۔

ایک محتاط انداز ے کے مطابق اس واقعہ کے بعد سے اب تک سو سے زیادہ بے قصوروں کو انتقام کی قربانی گاہ پر بھینٹ چڑھا یا جاچکا ہے لیکن پیاس ہے کہ بجھتی ہی نہیں اور آگ ہے کہ ٹھنڈی ہوتی ہی نہیں ۔ اکثر یہ سوال ذہن میں اٹھتاہے کہ القاعدہ اور طالبان اوردوسری اس قسم کی مذہبی جماعتیں جس اسلام کی نمائندگی کررہی ہیں کیا اس میں خود کشی شہادت اور ظلم وبربریت کار ثواب ہے۔اس اسلام نے جس نے جنگ میں بھی نہتوں پر حملے کو ممنوع قرار دیا تھا ،جس نے عورتوں ،بچوں ، ضعیفوں اور بیماروں کے تحفظ کی ہدایت کی تھی، جس نے پناہ مانگنے والے کو پناہ دینے کی تلقین کی تھی،جس نے دوسرے مذاہب کو برا بھلا کہنے سے روکا تھا ،کیا اسی اسلام کے ایسے ماننے والے پیدا ہوگئے ہیں جو ان ہدایات کی خلاف ورزی کو عین اسلام سمجھتے ہیں ۔ اسامہ بن لادن کو امریکی کمانڈوز نے ہلاک کیا تھا اور اسامہ کے پیرواسلام کے پیرؤوں کو ماررہے ہیں اور موت کا انتقام لے رہے ہیں ۔

انتقام کی یہ آگ نائن الیون کے بعد امریکی فوجی کارروائیوں کے بعد سے ہی بھڑک رہی ہے ۔القاعدہ کے ‘‘مجاہدین’’ مختلف ملکوں میں ان لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو بقول ان کے اسلام کے دشمن ہیں ۔ یوں تو ہندوستان سمیت دوسرے ملکوں میں جانے کتنی کارروائیاں کی گئی ہیں اورکتنے ہی بے قصور انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے لیکن مملکت خداداد پاکستان میں انسانی لہو کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ نائن الیون کے بعد سے لے کر اب تک خود کش حملوں اور جوابی کارروائیوں میں کم وبیش 35ہزار لوگ مارے جاچکے ہیں ،ہزاروں خواتین بیوہ ، ہزاروں بچے یتیم اور ہزاروں ضعیف بڑھاپے کی لاٹھی کے محتاج ہوگئے ہیں ۔ لیکن یہ سلسلہ روز وشب ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا اور یہ ایسی داستان غم ہے کہ مختصر ہی نہیں ہورہی ۔ہم انسانی لاشوں کے مینار بنانے ، مسلم سروں کی پکی ہوئی فصلیں کاٹنے اور مسلمانوں کے لہو سے دجلہ وفراط کو رنگین کردینے کے تاریخی واقعات کا ذکر باچشم نم کرتے ہیں لیکن کیا 35ہزار انسانی لاشوں سے مینار نہیں بنایئے جاسکتے ۔ سچ بات تو یہ ہے کہ درجنوں مینار بن کر کھڑے ہوسکتے ہیں اور درجنوں قبرستانیں آباد ہوسکتی ہیں ۔ لیکن کشت وخون کا بازار ہے کہ اب تک گرم ہے، لاشیں ہیں کہ اب تک گررہی ہیں ،دھرتی کی مانگ کر انسانی خون سے رنگنے کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ اس کے لئے وہ بھی ذمہ دار ہیں جو بقول خود جہاد کررہے ہیں اور وہ بھی ذمہ دار ہیں جو ا ن جہادی کارروائیوں کے جواب میں کارروائیاں کرتے ہیں اور وہ بھی کم ذمہ دار نہیں جو ان کو نیست ونابود کرنے کےلئے آپریشن چلاتے ہیں ۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے اسلام اپنے نام پر کی جانے والی ان کارروائیوں سے شرمسار ہے۔برسات تو ہر سال آتی ہے ،گلی کو چے بارش کے پانی سے سال بہ سال شرابور ہوتےہیں، دریاؤں میں طغیانیاں بھی آتی ہیں اور سیلابوں سے زمین کا چہرہ بھی دھل اٹھتا ہے لیکن انسانی خون کے دھبے نہ مٹنے کے ہیں نہ مٹ رہے ہیں۔

ہم اپنے ہی بھائیوں کے ہاتھوں تہہ تیغ کیے جانے والے اپنے دوسرے بھائیوں کی لاشوں سے اٹھنے والے تعفن کو برداشتگ کرنے پر مجبور ہیں اور اپنے ہی جگر گوشوں کو انسانی بم بنتے ہوئے بے چارگی سے دیکھ رہے ہیں۔ دواسلامی ملکوں کے مابین ایک عشرے تک جاری اس ہلاکت خیز جنگ کو ہم بھولے نہیں ہیں جس میں کمسن اور نوخیز بچوں کے ہاتھوں میں ’’جنت کی کنجی ’’ تھما کر محاذ جنگ پر ہر اول دستے میں بھیج دیا جاتا تھا، آج بھی کم سن بچوں کا استعمال کیا جارہا ہے اور نوجوانوں کو جنت میں داخلے کا پروانہ تھما کر خود کش حملہ آور بنایا جارہا ہے ۔ انسانوں کو بموں میں تبدیل کیا جارہا ہے اور انہیں خود کشی کے زرہ بکتر سے لیس کر کے بے قصوروں کی بھیڑ میں جھونک دیا جارہا ہے۔

آج تو اسلام اور کفر کے درمیان کوئی جنگ بھی نہیں ہورہی پھر بھی جہاد کا پرچم بلند ہے اور طبل جنگ مسلسل بجے جارہا ہے ۔ اس یکطرفہ جنگ میں کھڑے ہوئے فوجیوں کے بالمقابل ان کے اپنے ہی لوگ ہیں اور وہ اپنوں کی ہی لاشوں سے گزر تے ہوئے جنت میں داخلے کا راستہ تلاش کررہے ہیں۔القاعدہ  ، طالبان ،جماعت الدعوی ،لشکر جھنگوی ،سپاہ صحابہ ،تحریک جعفر یہ پاکستان ،تحریک نفاذ شریعت محمدی ،سنی تحریک ،سپاہ محمد پاکستان اور الگ الگ مسلکوں کے لیٹر ہیڈ پر قائم متعدد تنظیمیں ہیں جو اس کشت وخون کی ذمہ داران ہیں۔

اسلام کے ان نام نہاد ٹھیکیداروں نے اپنی خون کو آشام معرکہ آرائیوں سے اسلام کو بھی بدنام کیا ہے، جہاد کو بھی رسوا کیا ہے اور انسانیت کو بھی شرمسار کیا ہے۔ ان کی انہی حرکتوں کے سبب پوری دنیا کے مسلمانوں کی پیشانی پر دہشت گرد ہونے کی مہر لگادی گئی ہےاور جہاں بھی دہشت گرد ی کاکوئی خونی واقعہ ہوتا ہے اغیار کی دزدیدہ نظریں مسلمانوں کی جانب اٹھ جاتی ہیں ۔ نئے برانڈ کے ان مسلمانوں کا کہنا ہےکہ وہ ان طاقتوں کے خلاف صف آرا ہیں جو اسلام اورمسلمانوں کےدشمن ہیں اور اسی لیے وہ ان کے ٹھکانوں کونشانہ بنارہے ہیں ۔لیکن یہ کہا ں کی دانشمندی ہےکہ اس جنگی جنون کی آگ میں اپنے ہی اسلامی بھائیوں اور ان کی املاک اور ان کے اثاثوں کو ایندھن کےطور پر استعمال کیا جائے ۔اگر ان کے دشمن امریکہ، برطانیہ اور دوسرے مغربی ممالک ہیں تو نشانہ مسلمانوں کو کیوں بنایا جاتا ہے۔

مسلکی اختلافات کے تئیں عدم برداشت کے رویے کا مظاہرہ کر کے دوسرےمکاتب فکر کےلوگوں کو کیوں تہہ تیغ کیا جاتا ہے۔ کیا اسلام دشمن طاقتوں کا مقابلہ اپنے ہی لوگوں کو مار کر ہوسکتا ہے ۔ جب کوئی انسانی بم پھٹتا ہے تو وہ مسلم نوجوان تو اپنی جان گنواہی دیتا ہے ، دوسرے بے قصوروں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے ۔دوسری طرف ان لوگوں سے انتقام لینے کی کوشش میں یا ان کو نیست ونابود کرنے کے عزائم کی تکمیل میں جو کارروائیاں ہوتی ہیں ان کی زد میں بے قصورمسلمانوں پر ہی پڑتی ہے۔ لیکن ان کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔آخر یہ کیسا انتقامی چکر ہے جو دونوں طرف چل رہا ہے اور دونو ں جانب سے مسلمان ہی پس رہے ہیں۔

القاعدہ اور طالبان کے وجود اوران کے ابھار کے سلسلے میں بعض دیگر طاقتوں کو موردالزام ٹھہرایا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پہلے ان کو استعمال کیا اور اب ان کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیسے مسلمان ہیں جو دوسروں کے ہاتھوں استعمال ہوجاتے ہیں اور ان کی یہ کیسی مومنانہ فراست ہے کہ بار بار اسی ایک ہی سوراخ سے ڈسے جارہے ہیں اور پھر بھی خود کو ہی اصلی مسلمان ہونے کا دعوی کرتے ہیں بلکہ خود کو قرن اولی کا اصل جانشین تصور کرتے ہیں۔ جب ہم دوسروں پر یہ الزام لگاتے ہیں تو کیا اس کے آئینے میں اور کوئی چہرہ نظر نہیں آتا ۔کیا اس میں ہم اپنے آپ کونہیں دیکھ پاتے اور کیا اس آئینے میں ایسی مسلم سیاسی طاقتیں نظر نہیں آتیں جو دہشت گردی مخالف جنگ میں Selective Approach اپنا تی ہیں اور اس طرح ان طاقتوں کی بشت پناہی اور پرورش وپرداخت کرتی ہیں۔

آج ایسے طبقات پیدا ہوگئے ہیں جو ان عناصر کے ہمنوا اور حمایتی ہیں ۔جن کی آنکھوں پر مغربی طاقتوں کی اندھی دشمنی کی عینک چڑھی ہوئی ہے اور جو یہ دیکھ ہی نہیں پارہے کہ دراصل اس دشمنی کا رخ اب خود اپنوں کی جانب ہی مڑگیا ہے ۔ یہ کیسے مسلمان ہیں جواپنے ہی بھائیوں کو مارکر مسروروشاداں ہوتےہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ اسلام دشمن طاقتوں سے انتقام لے رہے ہیں ۔کیا ایسی حرکتوں کو شرعی جواز حاصل ہوسکتا ہے اور کیا یہ اقدامات اسلام کی میزان میں تولے جاسکتے ہیں ۔بہر حال جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ القاعدہ کے سربراہ کی ہلاکت کے بعد یہ سلسلہ رک جائے گا وہ سخت قسم کے غلط فہمی کے شکار تھے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ اب بھی ایک طوفان کشت وخون ہے جو جاری ہے اور جس کی شدت میں کمی کا سروست کوئی امکان بھی نہیں ہے۔ مغرب دشمنی میں یہ لوگ بھول گئے ہیں کہ دنیا کہا ں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور ہم ہیں کہ خون کی ہولی کھیلنے میں مگن ہیں۔

ضرورت دور جدید کی ترقیات کے دوش بہ دوش چلنے کی ہے اور تنگ نظری اورعصبیت کے خول سے باہر آنے کی ہے۔ یہ دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کا دور ہے اور مسلمان چاہیں تواس انقلاب کا سہارا لے کر پوری دنیا میں اسلام کی دعوت وتبلیغ کا کام کرسکتے ہیں اور اسلام کی تعلیمات کو عام کرسکتے ہیں ۔لیکن اس کے لیے اس ذہنیت کو خیر باد کہنا ہوگا جو مسلمانوں کو مسلمانوں کا ہی دشمن بنائے ہوئے ہے۔ اورجس کی وجہ سے وہ اس قیامت خیز بھنور میں پھنسے جارہے ہیں۔

URL for this article:اپنوں-کے-خون-کاپیاسا-یہ-کیسا-انتقام/d/4827