New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 08:58 PM

Urdu Section ( 20 Jun 2012, NewAgeIslam.Com)

Fatwa and Women فتوٰی اور عورت


سونیکا رحمٰن، نیو ایج اسلام

جب کبھی بھی میں عورتوں کی ترقی، آزادی اور ان کے حق کے بارے میں سوچتی ہوں تو ایک خیال میرے ذہن میں آتا ہے کہ ایسی کون سی بات ہے جو ان کی اس ترقی میں رکاوٹ ہے شاید یہ کوئی فتوٰی تو نہیں کیونکہ جس طرح سے عورتوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے اس سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کی نا تو ہم قرآن کی تعلیم کا صحیح استعمال کر رہے ہیں نا ہی اس میں لکھی باتوں پر عمل کر رہے ہیں۔ لیکن ہمیں پتہ ہونا چاہیئے کہ قرآن ایک ایسا ذریعہ ہے جس نے عورتوں کے احترام اور اس کی عزّت کا ذکر کیا ہے اور عورتوں کو مردوں کے برابر درجہ دیا ہے اور دنیا کو عورت کی عزت و احترام کا سبق اسلام نے دیا ہے۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بار انسانیت کو عورتوں کی عظمت سے واقف کرایا۔  دنیا کو سبق دیا کہ لڑکے اور لڑکیوں کی پرورش میں تفریق نہ کریں، لڑکیوں کو تعلیم دینے کا حکم دیا۔ ماں کے قدمو کے نیچے جنت قرار دیا۔  اسلام عورت کو قدر اور عزت کی نگاہ سے دیکھنے کے لئے کہتا ہے۔  پھر کیوں بار بار ایک نیا فتوٰی جاری کر کے ہم ان کے عزت نفس کو ٹھیس پہنچاتے ہیں اور ان کی ترقی میں ركاوٹ بنتے ہیں؟

 میں سمجھتی ہوں کہ شاید اسلام میں اتنی پابندیاں نہیں بتائی گئیں ہوں گی، جتنی آج کے مولوی فتوٰی کی شکل میں اسلام کا واسطہ دے کر تقریبا ہر دن جاری کر رہے ہے۔ کچھ مولوی کہتے ہیں کہ اسلام میں فتوٰی کا مطلب شرعی حکم ہے، جب کہ کچھ مذہبی رہنمائوں کا ماننا ہے یہ انسانی رائے ہے۔ یہاں یہ لکھنا بھی ضروری ہے کہ انسان کئی بار خود بھی غلط ہو سکتا ہے اور اس مہذب معاشرے میں کیا کسی کو مذہب کے نام پر اپنی رائے کے بوجھ میں دبایا جا سکتا ہے؟ دیکھا جا رہا ہے کہ مسلم سماج میں گزشتہ کئی برسوں سے ہر معاملے میں مذہب کی آڑ لینے کا دستور سا بن گیا ہے اور اس کے لئے بس ضرورت ہوتی ہے ایک موقع کی۔

آئے دن دارالعلوم العلوم دیوبند اور ملک کے دیگر مفتی اور مولانا حضرات کے ذریعہ مسلم سماج کے سماجی امور کو لے کر فتوٰی دئے جاتے ہیں۔ لیکن یہ فتوٰی خاص طور پر  مذہب کا خوف رکھنے والے اور  جاہل مسلمانوں کی ترقی میں نہ صرف رکاوٹ پیدا کرتے ہیں بلکہ عام مسلمانوں کو ملک کے قومی دھارے میں شامل ہونے اور ہم آہنگی قائم کرنے میں رکاوٹ ثابت ہوئے ہیں۔  جیسے خواتین کے ماڈلنگ کے خلاف فتوٰی، حکیم کی اجازت سے ہی ہو اسقاط حمل، عورتیں مردوں  سے دوری رکھیں، فیس بک کے خلاف فتوٰی، سیکس پر فتوٰی، كیلا چھونے پر فتوٰی، حمل روکنے والی دوئوں پر  فتوٰی، گھر سے باہر کام عورتیں اپنے ساتھ کام کرنے والے مردوں کو دودھ پلائیں، عصمت دری کی شکار لڑکی کو 200 کوڑے مارنے پر فتوٰی، کیا کھائیں، کس طرح کھائیں، کیا پہنیں، کیسے چلیں؟  یہ عورتوں کے اپنے ذاتی فیصلے ہونے چاہیئے ہیں۔

جانور بھی اپنے جینے کا حق رکھتا ہے،  یہ تو اللہ کی بنائی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے جس پر دنیا قائم ہے۔ مسلم سماج کی سب سے ریگولیٹری اداروں کا کہنا ہے کہ ہزاروں سال پہلے یہ قائدے قانون بنے ہیں، ایسے میں انہیں تھوپے گئے بتانا غلط ہے۔ تاہم، اب سماج کے دانشوروں اور کچھ مذہبی رہنمائوں کے درمیان اس بات پر بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا فتوٰی عورتوں کی ترقی میں رکاوٹ بن رہے ہیں؟ ویسے فتوٰی کی تعریف بھی خود مسلم سماج میں بحث کا موضوع ہے۔ خود را فضیحت دیگراں را نصیحت  کا معاملہ  یہاں بھی چل رہا ہے۔ مثلا، دارالعلوم دیوبند کا ایک فتوٰی ہے کہ بینک میں اکاؤنٹ كھلوانا شریعت کے خلاف ہے۔ لیکن خود دیوبند کے کئی بینکوں میں اکاؤنٹ چل رہے ہیں، جبکہ اسلام میں سود لینا حرام بتایا گیا ہے۔ ان تمام باتوں پر صورت حال صاف ہونا ضروری ہے۔

کچھ مسلم رہنماوں کو اس بات پر اعتراض ہے کہ کئی سنجیدہ موضوعات جیسے سماجی برائیوں کے موضوعات پر کوئی مولوی فتوٰی جاری کیوں نہیں کرتے ہیں؟ ناخواندگی کی مار اور الزامات کی گرمی سے جھلس رہے مسلم سماج کو عورتوں کے لئے تعلیم حاصل کرنے کا فتوٰی بہت ضروری ہے، جس سے عورت اپنے ان حقوق کو حاصل کر سکتی ہے جس کی وہ حق دار ہے۔

جو لوگ فتوٰی کے بارے میں نہیں جانتے، انہیں لگے گا کہ یہ کیسی قوم ہے، جو ایسے فتوٰی پر جیتی ہے۔ فتوٰی عربی کا لفظ ہے۔ اس کا معنی ہوتا ہے - کسی معاملے میں عالم دین کی شریعت کے مطابق دی گئی رائے۔ یہ رائے زندگی سے متعلق کسی بھی معاملے پر دی جا سکتی ہے۔ فتوٰی یوں ہی نہیں دے دیا جاتا ہے۔ فتوٰی کوئی مانگتا ہے تو دیا جاتا ہے، فتوٰی جاری نہیں ہوتا ہے۔ ہر علماء جو کچھ بھی کہتا ہے، وہ فتوٰی نہیں ہو سکتا ہے۔ فتوٰی کے ساتھ ایک اور بات توجہ دینے والی ہے کہ ہندوستان میں فتوٰی ماننا لازمی نہیں ہے۔ فتوٰی محض ایک رائے ہے۔ ماننا یا نہ ماننا، فتوٰی مانگنے والے کی نیت پر منحصر کرتا ہے۔ لیکن ہندوستان میں فتوٰی مسلمانوں کے لیے ہندوستان کے آئین سے بھی زیادہ اہم ہیں۔

URL for Hindi article:

http://www.newageislam.com/hindi-section/fatwa-and-women--फतवा-और-औरत/d/7691

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/fatwa-and-women--فتوٰی-اور-عورت/d/7693

 

Loading..

Loading..