سہیل انجم
22نومبر،2023
نشریاتی ادارے الجزیرہ کے
نمائندے عثمان ایفراح نے یوروپی یونین کے خارجہ امور کے نمائندے جوزف بوریل سے
انٹر ویو کے دوران سوال کیا کہ کیا غزہ پر اسرائیلی بمباری جنگی جرم نہیں ہے، تو
انہوں نے کہا کہ وہ قانون داں نہیں ہیں او ریہ کہ عالمی فوجداری عدالت اس کی جانچ
کرسکتی ہے۔ ان کے بقول کئی ملکوں نے عالمی عدالت سے کیس شروع کرنے کو کہاہے۔ لیکن
جب نمائندے نے سوال کیا کہ کیایوروپی یونین سات اکتوبر کے حماس کو جنگی جرم سمجھتی
ہے تو انہو ں نے برجستہ کہا کہ ہاں ہم سمجھتے ہیں کہ حماس کی جانب سے بلاسبب
شہریوں کی ہلاکت جنگی جرم تھا۔ اس پر نمائندے نے کہا کہ ابھی جب ہم نے اسرائیل کے
حملے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے کہا کہ میں قانون داں نہیں ہوں،لیکن حماس کے حملے
کے بارے میں آپ قانون داں بن گئے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ آپ اس معاملے میں دوہرا
معیار اپنائے ہوئے ہیں، لیکن انہوں نے دوہرا معیار اپنانے کی تردید کی۔ جب کہ
نمائندے کے مطابق یہ یوروپی یونین کاکھلا دوغلہ پن ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق حماس
او راسرائیل کے تنازعے پر مغربی ملکوں او ریوروپی یونین کے دوہرے رویے کی یہ واحد
مثال نہیں ہے۔ متعدد صحافی، قلمکار، تجزیہ کار اور انسانی حقوق کے کارکن بار بار
یہ الزام عاید کرتے آئے ہیں۔ اس حوالے سے مختلف عالمی اخبار وں میں مضامین شائع ہو
رہے ہیں۔ ان مضامین میں جہاں عرب اور اسلامی ملکوں کے رویے پر تنقید کی جارہی اور
اسے بے حسی سے تعبیر کیا جارہاہے، وہیں مغرب کی پالیسیوں کی بھی شدید مذمت کی
جارہی ہے۔
جدہ سے شائع ہونے والے
روز نامہ عرب نیوز کی ایک حالیہ اشاعت میں متحدہ عرب امارات کے سرکردہ تاجر،
کامرشیل بینک دبئی کے سابق چیئر مین اور دیگر کئی اداروں کے سربراہ نمائندے خلف
احمد الحبطور نے ایک تجزیاتی مضمون قلمبند کیاہے، جس میں انہوں نے سوال کیا ہے کہ
غزہ پر اسرائیلی حملے کے تعلق سے عالمی ضمیر کہاں سویا ہوا ہے۔ انہوں نے اس حوالے
سے سابق امریکی صدر براک اوبامہ کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے حماس کے
حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں اس بات کا اعتراف کرنا چاہئے کہ حماس
اسرائیل کے تعلق سے کسی کا ہاتھ صاف نہیں ہے۔ ہم سب کسی نہ کسی طرح اس معاملے میں
ملو ث ہیں۔ خلف نے اس واقعہ کو بھی یاد کیا جب امریکی کانگریس کے ارکان کے ایک
گروپ نے وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن کے نام ایک خط میں اسرائیل کے حق دفاع کی حمایت
تو کی لیکن غزہ میں انسانی امداد اور
اسرائیل کی جانب سے عالمی قوانین کے احترام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق
یہ باتیں کہنے اور سننے میں تو بہت اچھی لگ رہی ہیں لیکن زمین پر کیا ہورہاہے، یہ
دیکھنے کی ضرورت ہے۔ عمل کی آواز الفاظ سے زیادہ بلند ہوتی ہے۔ زمین پر عمل کرنے
کی ضرورت ہے جو دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ انہوں نے اس تعلق سے امریکہ کی جانب سے
اسرائیل کی حمایت میں بحری بیڑہ بھیجنے کا بھی ذکر کیا اور مغرب کی جانب سے
اسرائیل کی بے روک ٹوک حمایت کو بے شرمی کا مظاہرہ قرار دیا۔ انہوں نے برطانیہ کے
وزیر اعظم رشی سونک کے دورے اور جرمنی کے چانسلر اولاف شولز کے اسرائیل حامی
بیانات پر بھی تنقید کی۔ ان کے بقول یہ دوہری پالیسی پر مبنی ایک ایسی جنگ ہے جو
اس سے قبل کبھی نہیں دیکھی گئی۔ یہ عرب او رمسلمانوں کے خلاف بعض مغربی ملکوں کے
پوشیدہ جنون کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے۔ ان کے بقول یوروپی باشندوں کا جنون بھی
سامنے آگیاہے۔
عرب نژاد یوروپی فٹ بال
کھلاڑیوں کی ایک بڑی تعداد کو فلسطینی عوام کی حمایت کرنے کی پاداش میں ظلم وستم
کا سامنا ہے۔جرمن ٹیم نے فلسطینی عوام کی حمایت کی وجہ سے اپنے کھلاڑی انور الغازی
کا معاہدہ منسوخ کردیا۔ فرانس کے سیاست دانوں نے کریم بنزیما سے فلسطینیوں کی
حمایت کی وجہ سے ایوارڈ او رفرانسیسی شہریت چھین لینے کا مطالبہ کیا۔ خلف سوال
کرتے ہیں کہ مغربی ملک اظہار خیال کی آزادی کابہت ڈھنڈورا پیٹتے ہیں، لیکن کہاں ہے
آزادی اظہار او رکہاں ہے بولنے کی آزادی کا حق۔ کیا آزادی اظہار کانعرہ لگانے
والوں کے نزدیک ان حکومتوں کے اقدامات قابل نفرت نہیں ہیں یا انہیں اس میں کوئی
دوہرا معیار نظر نہیں آتا۔ فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائی ویسی ہی بے رحم
ہے جیسی کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی جرمنی کی کارروائی تھی۔ جرمن چانسلر کا
کہناہے کہ ہالوکاسٹ کی تاریخ نے ہمارے اوپر یہ ذمہ داری عاید کی ہے کہ ہم اسرائیل
کے وجود اور سلامتی کے قیام میں اس کی مدد کریں۔ خلف سوال کرتے ہیں کہ کیا تاریخ
کی غلطی کاانتقام بے قصور فلسطینیوں سے لیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے 193/ میں سے
139 / ارکان نے فلسطینی علاقے کو فلسطینی عوام کا اسٹیٹ قرار دیا ہے۔ جبکہ امریکہ،
برطانیہ اور فرانس نے اس وقت تک فلسطینیوں کے پرامن اسٹیٹ کو تسلیم کرنے سے انکار
کردیا جب تک کہ تنازع حل نہ ہوجائے۔ کیاعالمی طاقتوں کے درمیان اس بڑے او رنمایاں
فرق کی موجودگی میں پر امن انداز میں مذاکرات کیے جاسکتے ہیں۔ ان کے بقول جب تک
فلسطینی عوام کو آزادی، سلامتی اور عزت نفس کے ساتھ زندگی گزارنے او راپنے بارے
میں فیصلہ کرنے کا حق نہیں ملتا اور جب تک انہیں اپنے سے کہیں بڑی طاقت کے ساتھ
نبرد آزما رہناپڑتاہے، ہم فلسطینیوں کو مجبور نہیں کرسکتے کہ وہ ہماری بات سنیں۔
وہ سوال کرتے ہیں کہ کہاں ہے عالمی ضمیر، وہ زندہ بھی ہے یا بالکل ہی مرچکا ہے۔
خلف احمد الحبطور واحد
ایسے دانشور اور تجزیہ کار نہیں ہیں جو عالمی ضمیر کے مرجانے کی بات کرتے او رمغرب
کے دوہرے معیار کے شاکی ہیں۔دنیا میں ایسے امن پسند افراد کی بہت بڑی تعداد ہے جو
بلاخوف وخطر اسرائیلی کارروائی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ لوگ سڑکوں پر نکلے ہوئے
ہیں اور اسرائیل کو جنگی مجرم قرار دے رہے ہیں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ آسٹریلیا کا
ایک نوجوان وین جانس ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والے کرکٹ کے فائنل
مقابلے میں میدان میں کود پڑا تھا۔ اس نے فلسطینی عوام کی حمایت میں ٹی شرٹ پہن
رکھی تھی جس پر فلسطین کو آزاد کررنے کا نعرہ لکھا ہوا تھا۔ وہ نہ تو فلسطینی ہے
او رنہ ہی مسلمان ہے۔ وہ ایک امن پسند انسان ہے۔ ایسے لاکھوں اور کروڑوں لوگ ہیں
جن کا فلسطینی عوام سے کوئی ناطہ نہیں،کوئی رشتہ نہیں۔لیکن وہ ان حمایت میں سڑکوں
پر اتر آئے ہیں۔ فلسطینیوں سے ان کا ناطہ انسانیت کاہے۔ اسی لیے وہ اسرائیلی
کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے فلسطینی سرزمین کو آزاد کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ اسرائیل فلسطینی علاقے کو خالی کرنا تو دور وہ مکمل غزہ
پر کنٹرول چاہتا ہے۔ وہ اس تعلق سے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو کے اس بیان
کا حوالہ دیتے ہیں جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیلی کارروائی کے اختتام کے بعد
غزہ کی سیکورٹی کا انتظام اسرائیل کے پاس رہے گا۔ اس دوران اس نے اپنی کارروائیاں
تیز کردی ہیں جس کے نتیجے میں اب تک تیرہ ہزار سے زائد فلسطینی شہری ہلاک ہوچکے
ہیں جن میں چھ ہزار سے زائد بچے ہیں۔ اسرائیل نے غزہ کے ہسپتالوں کو یکے بعد دیگرے
نشانہ بنانا شروع کردیاہے تاکہ فلسطینی عوام کو یہ پیغام دے سکے کہ ان کے لیے کہیں
جائے پناہ نہیں ہے او راس سے اس کا مقصد یہ ہے کہ فلسطینی عوام دوبارہ متحدہ نہ ہو
سکیں۔ ایک تجزبہ کار کرس ڈوئلے نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ مغرب کی جانب سے
اسرائیلی کارروائی کی مذمت نہ کرنے، اسے نسل کشی قرار نہ دینے اور ان کے متعصبانہ
رویے نے عرب اور مسلمانوں کے خلاف نسل پرستی کو بے نقاب کردیا ہے۔
22 نومبر،2023، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی
--------------
URL:
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism