New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 09:27 AM

Urdu Section ( 30 Oct 2015, NewAgeIslam.Com)

Women in Islam – Subjugated or elevated? اسلام میں خواتین محکوم یا سر بلند؟

 

 

 

سراج قریشی

26 اکتوبر، 2015

محکوم، مظلوم، مغلوب، کم تر اور بدنام یہ کچھ ایسے صفات ہیں جنہیں غلط طریقے سے مسلمان عورتوں کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ اس کے بر عکس اسلام خواتین کو سب سے ارفع و اعلیٰ مقام عطا کرتا ہے۔ میں علمی بنیاد پر ایسا نہیں کہہ رہی ہوں بلکہ میں اپنے ذاتی تجربات کی بنیاد پر ایسا کہہ رہی ہوں، اس لیے کہ ایک مسلمان عورت گزشتہ 40 سال سے لنکن میں میرے خاندان کے ساتھ رہ رہی ہے۔

عام غلط فہمیوں کے برعکس، اسلام میں مردوں اور عورتوں کی قدر و منزلت خدا کی نظر میں برابر ہے۔ اس کا بہترین ثبوت یہ ہے کہ قرآن دونوں کو ایک ساتھ مخاطب کرتا ہے؛ ان دونوں کے لیے ایک ہی مذہبی ذمہ داری مشروع کرتا ہے، اور ان کی الگ جسمانیات اور حیاتیاتی ضروریات یا ذمہ داریوں کے مطابق چند مستثنیات کے ساتھ ان کے لیے بھی نماز، روزہ حج زکوٰۃ اور صدقات و خیرات کا وہی حکم دیتا ہے۔

خواتین کو تعلیم کا مساوی حق حاصل ہے۔ آخری نبی پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) کا فرمان ہے کہ "علم حاصل کرنا ہر مسلمان (مرد اور عورت) پر فرض ہے۔"سب سے پہلی وحی الٰہی کے الفاظ یہ تھے"اے حبیب!) اپنے رب کے نام سے (آغاز کرتے ہوئے) پڑھئے جس نے (ہر چیز کو) پیدا فرمایا"(96:1)۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے زمانے کی سب سے زیادہ تعلیم یافتہ لوگوں میں سے ایک تھیں اور ان کے پاس عورتیں اور مرد بھی دور دراز کے مقامات سے سفر کر کے علم حاصل کرنے کے لیے ان کے پاس آتے تھے۔

کسی عورت کو اس کی اجازت کے بغیر شادی کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن میں بہت ساری ایسی آیتیں ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ شادی مرد اور عورت کے درمیان ایک برابر کی شراکت داری کا نام ہے مثلاً: ‘‘اور یہ (بھی) اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان کی طرف سکون پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی، بیشک اس (نظامِ تخلیق) میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں’’(30:21)۔

تاہم، ان کا کردار مختلف ہو سکتا ہے اس لیےکہ خاندانی زندگی میں ہم آہنگی، جسے اسلام میں بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے –ایک اچھے اور تندرست معاشرے کی بنیاد ہے۔ مالی انتظام و انصرام اور خاندان کی حفاظت کی ذمہ داری مرد کے کندھوں پر ہے، جبکہ خاندان کو اچھی طرح سے پروان چڑھانے کی ذمہ داری خواتین کے کندھوں پر ہے، لیکن، شوہر اور بیوی اپنی اپنی ذمہ داریوں کو آپس میں تقسیم کر کے ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں۔

انتہائی سنگین حالات میں جب شادی ناکام ہو چکی ہو تو بیوی کو بھی اس عقد نکاح کو ختم کرنے کا حق ہے جبکہ بعض مذاہب میں طلاق کا حق صرف مرد کے لیے خاص ہے۔

ایک ماں کی حیثیت سے ایک عورت کو انتہائی اعلی مرتبہ اور خصوصی اعزاز حاصل ہے۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ "جنت تمہاری ماؤں کے قدموں میں ہے"، اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ماں کی دیکھ بھال کرنے اور اس کا احترام کرنے میں اجر عظیم مضمر ہے۔

ایک اور موقع پر ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا کہ: ‘‘اے اللہ کے رسول اس دنیا میں کون شخص میرے اچھے اخلاق کا سب سے زیادہ حقدار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘‘تمہاری ماں’’، اس مرد نے پوچھا اس کے اس کے بعد کون تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘‘اس کے بعد تمہاری ماں’’، اس مرد نے پھر پوچھا اس کے اس کے بعد کون تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘‘اس کے بعد تمہاری ماں’’۔ اس کے بعد پھر مزید اس مرد نے پوچھا اس کے بعد کون؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘‘اس کے بعد تمہارا باپ’’۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں ماں کی عزت کرنے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کی کتنی سخت تاکید کی گئی ہے۔

قرآن کا مزید فرمان ہے(17:23) ‘‘اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ”اُف“ بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کرو’’۔

بعض معاشروں میں 20ویں صدی تک خواتین کو ان کے معاشی حقوق سے محروم رکھا گیا تھا۔ انہیں جائیداد، دولت یا وراثت کی ملکیت کا کوئی حق حاصل نہیں تھا۔

اسلام نے خواتین کویہ حق چودہ صدیاں پہلے ہی عطا کر دیا تھا! انہیں اس وقت تک کام کرنے کی اجازت حاصل ہے جب تک ایک ماں کی حیثیت سے ان کا کردا متاثر نہ ہو اور ان کام ان کے مذہب سے متصادم نہ ہو۔

مثال کے طور پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ ایک بہت ہی کامیاب اور انتہائی معزز خاتون تاجر تھیں۔ سیاسی طور پر، خواتین کو انتخابات لڑنے اور امور عامہ میں شرکت کرنے اور دفتروں میں عہدہ دار بننے کا بھی حق حاصل ہے۔ مثال کے طور پر، جب شہر یثرب (موجودہ مدینہ) کے لوگوں نے نبی صلی اللہ وسلم کی بیعت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح مردوں سے عہد لیا اسی طرح خواتین سے بھی عہد لیا، تاکہ عوامی معاملات میں خواتین کی شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے۔

مسلمان خواتین کے ڈریس کوڈ کو بھی اکثر ان کی محکومی کو ظاہر کرنے کے لیے غلط طریقہ سے استعمال کیا گیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ اس کے وقار کی علامت ہے۔ اسلام مردوں اور عورتوں دونوں کو ایک مہذب انداز میں کپڑے زیب تن کرنے کا حکم دیتا ہے۔

مسلم مردوں کو داڑھی بڑھنا اور ڈھیلے لباس پہننا مستحب ہے، جبکہ خواتین کو بھی ڈھیلے کپڑے پہننا اور عوامی مقامات پر جانے سے پہلے اپنے بالوں کا پردہ کرنا ضروری ہے۔ یہ خود ان کی حفاظت اور عزت و وقار کے لئے ہے؛ یہ انہیں لوگوں کی بری نظروں سے بچانے اور پر وقار بنانے کے لیے ہے۔ یہ اس لیے بھی بہتر ہے کہ جن کے بال خراب ہوں انہیں دن کے اجالے میں بارے نکلنے سے فکر مندہونے کی ضروت نہیں ہے!

مسلم ممالک میں سے یہ خبر ملنا کہ وہاں بعض عورتوں کے ساتھ برا سلوک کیا جا رہا ہے بہت بڑی بدقسمتی کی بات ہے۔ تاہم، آپ کو واضح طور پر یہ معلوم ہونا چاہیے کہ خواتین پر ظلم و ستم کرنا اسلامی تعلیم نہیں ہے! اسلام خواتین کو جو حقوق اور جو مرتبہ فراہم کرتا ہے اس کا صحیح فیصلہ کرنے کے لیے قرآن اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تعلیمات کا مطالعہ کرنا ضروری ہے!

ایک مسلمان عورت کی حیثیت سے میں ہمیشہ خود کو پر اعتماد اور مطمئن محسوس کرتی ہوں –مجھے صرف اس بات کی فکر ہے کہ میں اپنے خدا کی نظر میں کیسی ہوں۔ میری کامیابیوں اور اہمیت کا فیصلہ مردوں کے ساتھ موازنہ کر کے اور یا اس معیار کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا جس کی بنیا اس نظریہ پر ہے کہ عورتوں کو مردوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

اس کے بجائے ایک مسلمان عورت کی حیثیت سے میری زندگی کی بنیاد مندرجہ اصول پر ہے:

کائنات کا صرف ایک واحد خالق عبادت کے لائق ہے ، اور اپنی مرضی اور محبت کے ساتھ اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کا صلہ آخرت میں دیا جائے گا، یہی ایک مسلمان کا ایمان ہے۔ "جو کوئی نیک عمل کرے (خواہ) مرد ہو یا عورت جبکہ وہ مومن ہو تو ہم اسے ضرور پاکیزہ زندگی کے ساتھ زندہ رکھیں گے، اور انہیں ضرور ان کا اجر (بھی) عطا فرمائیں گے ان اچھے اعمال کے عوض جو وہ انجام دیتے تھے۔" (16:97)

 ماخذ:

goo.gl/06qw5J

URL for English article: http://newageislam.com/islam,-women-and-feminism/siraj-qureshi/women-in-islam-%E2%80%93-subjugated-or-elevated?/d/105071

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/siraj-qureshi,-tr-new-age-islam/women-in-islam-–-subjugated-or-elevated?--اسلام-میں-خواتین-محکوم-یا-سر-بلند؟/d/105112

 

Loading..

Loading..