New Age Islam
Thu Mar 12 2026, 08:07 PM

Urdu Section ( 18 March 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Report of the US Commission on Conversion Law تبدیلی مذہب قانون پر امریکی کمیشن کی رپورٹ

سراج نقوی

17مارچ،2023

امریکہ کے ادارے ’بین الاقوامی مذہبی آزادی کمیشن‘ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ ہندوستان کی 12ریاستوں میں لائے گئے تبدیلی مذہب مخالف قوانین مذہب یا عقیدے کی آزادی کے حق کے لیے بین الاقوامی حقوق انسانی قانون کے تحت حاصل تحفظ کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تبدیلی مذہب سے متعلق یہ قوانین ہندوستان کے ذریعہ تسلیم کیے گئے اور دستخط کئے گئے بین الاقوامی معاہدوں کے خلاف ہیں۔مذکورہ رپورٹ 14مارچ کو جاری کی گئی ہے اور اس میں ہمارے ملک کی ان 12 ریاستوں میں متعارف کرائے گئے یا پھر مجوزہ ایسے قوانین کا جائزہ لیا گیا ہے جو ’حقوق انسانی کے عالمی اعلانیہ‘ اور شہری و سیاسی حقوق پر بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ ادارہ ’یوایس اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ‘ کی مالی امداد سے چلتا ہے اور امریکی فیڈرل سرکاری ادارہ ہے جو مذہبی پالیسیوں کی نگرانی اور اس تعلق سے اپنی سفارشات کو ماننے کی پابند نہیں ہے۔ یعنی یہ اپنے آپ میں ایک خود مختار ادارہ ہے۔ یہ ادارہ مسلسل دوبرس سے ہندوستان کی مذہبی آزادی کے تعلق سے پالیسی او راس آزادی پر مبینہ قدغن کے تعلق سے رپورٹ پیش کررہا ہے۔ لیکن امریکہ نے اس کی رپورٹوں سے اخذ نتائج پر ہندوستان پر کسی تنقید سے گریز کیا ہے۔ رپورٹ میں اس حوالے سے سرکاری استحصال تشدد اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف مبینہ تفریقی رویے کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سے حکومت کومذہبی آزادی سے متعلق معاملوں میں کارروائی کاموقع اور حوصلہ ملتاہے۔

ہندوستان کے غیر جانبدار او ربچے کچھے حوصلہ مند میڈیا دیگر حکومت مخالف موضوعات کی طرح اس مو ضوع پر بھی لب کشائی سے دامن بچاتا رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے قوانین کامقصد ملک کی مذہبی اقلیتوں کو آہستہ آہستہ اور قانون کے زور پر ہندوتو کی طرف دھکیلنے کے سوا کچھ نہیں۔ ان قوانین کا ایک سرسری جائزہ بھی یہ بات ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ انہیں ہندو تو کے اس ایجنڈے کو سامنے رکھ کر وضع کیا گیا ہے کہ جس میں ملک کو ایک خاص نظریے کے ہندوؤں کی اجارہ داری بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہر چند کہ یہ بات باعث اطمینان بھی ہے اور ہماری مذہبی رواداری کی روایت کو دیکھتے ہوئے قابل فخر بھی کہ ملک کی ہندو اکثریت بھگوا ٹولے کے اس عمل کو پسند یدگی سے نہیں دیکھتی،حالانکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے اقتدار حاصل کرنے کے لیے ہندوتو نہیں بلکہ ’سب کا ساتھ او رسب کا وکاس‘ کانعرہ دیکر حکومت پر قبضہ کیا،اور اب ایسے تمام حربے اختیار کیے جارہے ہیں کہ جن سے مذہبی اقلیتوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا جائے۔مختلف ریاستوں میں متعارف کرائے گئے تبدیلی مذہب قوانین بھی ایسا ہی ایک حربہ ہے کہ جس کامقصد ہے کہ مذہبی آزادی کو ایک خاص سمت میں جانے سے روکا جائے۔جبکہ دوسری طرف ’گھر واپسی‘ کے بہانے مسلمانوں کو مذہب تبدیل کراکے انہیں ہندو بنانے کے منصوبہ بند عمل میں اس سے کسی طرح کی رکاوٹ نہ آئے۔ جہاں تک مذکورہ امریکی ادارے کی رپورٹ کاتعلق ہے تو یہ ادارہ مسلسل تین برس سے ہندوستان میں تبدیلی مذہب کے تعلق سے ایسی رپورٹیں دے رہا ہے۔ حالیہ رپورٹ اس سلسلے کی چوتھی رپورٹ ہے۔ 2022 کی رپورٹ میں اس بات کا خاص طور پر ذکر کیا گیاتھا کہ 2021 میں حکومت ہند نے ایسی پالیسیوں کی تشہیر کی جن کا مسلمانوں،عیسائیوں، سکھوں، دلتوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں پر منفی اثر پڑا۔حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذہبی آزادی کی بدتر ہوتی صورت حال کو روکنے کے لیے تبدیلی مذہب سے متعلق ان قوانین  میں تین باتیں یکساں ہیں۔ اوّل تبدیلی مذہب پر پابندی دوسرے ایسا کرنے کے لیے پہلے سے نوٹس دینالازمی کیا جانا اور تیسرے ذمہ داری سے بچنے والے التزام کے تحت تبدیلی مذہب کے ملزم پر ہی خود کو بے قصور ثابت کرنے کا ہار ڈالنا۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ امریکہ یا کسی بھی دوسرے ملک کے ادارے کے ذریعہ اس طرح کی رپورٹ جاری کرنا کس حد تک درست ہے، اور یہ ہماراداخلی معاملہ ہے۔ لیکن گلوبل ولیج کی شکل اختیار کرتے ہوئے دنیا میں ہماری حکومتیں بھی ایسے بے شمار غیر ملکی معاملات ہیں کہ جن میں مداخلت کرتی رہی ہیں۔

بہر حال مذکورہ رپورٹ میں جن تین مشترکہ نکات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے انہیں غلط نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ اس لیے کہ تبدیلی مذہب پوری طرح کسی شخص کا ذاتی معاملہ ہے اور اس پر قانون بنا کر قدغن لگانے کی کوشش ایک جمہوری ملک میں شہریوں کو حاصل بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہی ہے۔ اس کا کوئی جواز نہیں کہ مذہب تبدیل کرنے والا اس کے لیے پہلے سے نوٹس دے۔ آخر کوئی بھی حکومت یا اس کا مقرر کردہ افسر کس بنیاد پر اس بات کا مجاز قرار پاسکتا ہے کہ کسی کے مذہب تبدیل کرنے سے پہلے معاملے کی سرکاری طور پر جانچ ہو او راس کے بعد متعلقہ شخص کومذہب تبدیل کرنے یا نہ کرنے کے سرکاری احکام صادر فرمائے جائیں۔معاملے کا تیسرا پہلو تو ہمارے ملک کے تعزیری قانون او رآئین کی روح کے سراسر منافی ہے لیکن اس کے باوجود یہ بات افسوسناک ہے کہ اس کا کسی عدالت نے ازخود نوٹس نہیں۔ کوئی بھی قانون کسی بھی ملزم پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالتا کہ وہ خود ہی اپنی بے گناہی ثابت کرے۔ تعزیری قوانین کی رو سے Burden of Proof یعنی کسی ملزم کو مجرم ثابت کرنے کے لیے ثبوت پیش کرنا استغاثہ کا کام ہے لیکن تبدیلی مذہبی میں سرکاری افسران کو اس زحمت یعنی مذہب بدلنے والے کاجرم ثابت کرنے سے بچالیا گیا ہے اورمظلوم ملزم کے کمزور کاندھوں پر ہی یہ بوجھ ڈال دیا گیا ہے کہ وہ خود کوبے قصور ثابت کرے۔ سوال یہ ہے کہ جب استغاثہ کسی کوملزم بنارہا ہے تو کیا اس کے پاس اس معاملے میں لامحدود اختیار ہیں یا دیے جاسکتے ہیں کہ وہ محض شبہ یا کسی دوسری وجہ سے کسی کو بھی ملزم بنادے اور پھر اسے ثابت کرنے سے بھی بچ جائے؟ کیا یہ سرکاری افسران کو نامناسب طریقے سے محفوظ کرنے کی کوشش اور تبدیلی مذہب کرنے والوں کو غلط طریقے سے پھنسانے کی کوشش نہیں؟ اگر اب تک کسی عدالت میں یہ معاملہ نہیں پہنچا ہے اور ایسے قوانین کو چیلنج نہیں کیا گیا ہے تو یہ بھی ہماری جمہوریت او رنظام عدل پر سوالیہ نشان ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں اتر پردیش میں نافذ کیے گئے ایسے ہی قانون کاذکر کرتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اس کی غیر واضح زبان اپنی مرضی سے تبدیلی مذہب کرنے والوں کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ اسی طرح ہریانہ کے قانون میں ’لوجہاد‘ کے لفظ کے استعمال کو ’توہین آمیز‘ قرار دیا گیا ہے۔ظاہر ہے اس لفظ کااستعمال قانون سازوں کی اس نیت کی طرف اشارہ کرتاہے جس میں کسی کامذہب بدل کر مسلمان ہوجانا’لوجہاد‘ بن جاتاہے۔حالانکہ ایسے معاملوں کو ہر مذہب میں یکساں طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی وجہ سے ہندو مذہب میں داخل ہوتاہے تو ایسے قوانین اسے ’لوجہاد‘ نہیں بلکہ ’گھر واپسی‘ کے زمرے میں غیر اعلانیہ طور پر رکھ دیتے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی قیادت والی ریاستی حکومتیں ایک خاص ایجنڈے کے تحت ایک طرف تو مسلمانوں کو ہند ومذہب میں آنے کے لیے تبدیلی مذہب قانون کی گرفت سے بچانے کی کوشش اپنے افسران کے ذریعہ کررہی ہیں، جب کہ یہی افسران ہند و سے مسلمان بننے والوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے پر معمور کردیئے گئے ہیں۔امریکی ادارے کی رپورٹ اسی طرف اشارہ کرتی ہے، اور بنیادی حقوق غصب کیے جانے کی بی جے پی حکومتوں کی پالیسی پر کھل کر تنقید کرتی ہے۔

17مارچ،2023،بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

---------

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/report-commission-conversion-law/d/129349

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..