ڈاکٹر عبید الرحمن ندوی
(آخری قسط )
24 اکتوبر 2024
ان کے طرز ِ تحریر اور ’تہذیب الاخلاق‘ پر کافی انگلیاں اٹھیں اور اعتراضات کیے گئے، یہاں تک کہ ان کی تحریر اور ان کے پرچے کو ادب سے باہر قرار دیا گیا لیکن دھیرے دھیرے مخالفت کے بادل چھٹتے گئے اور اردو ادب اور صحافت کا ایک نیا سورج طلوع ہوا جہاں ادب اور صحافت ایک دوسرے سے مشترک ہوگئے، یہ سر سید کی بطور صحافی اور بطور ادیب سب سے بڑی کامیابی ہے، اردو صحافت کی تاریخ میں تہذیب الاخلاق کو اس لئے بھی اہم مقام دیا جائے گا کہ پہلی بار خالص مقصدی صحافت کا آغاز اس پرچے سے ہوتا ہے،۔ آج کے صحافی حضرات اس پیشے میں صرف اور صرف پیسے کے لیے آتے ہیں جبکہ آج کے حالات میں بھی سر سید کی کوششیں اور ان کی حکمت عملی یاد آتی ہے، ملک کو سر سید جیسے صحافیوں کی ضرورت ہے جو صحافت کے اعلی معیار کے ساتھ ساتھ ملک وقوم کی اصلاح کا بیڑا اٹھا سکیں،۔ سر سید نے جس طرح سے قوم کی اصلاح کی اور ساتھ ہی ساتھ صحافت کے قوانین کی کبھی خلاف ورزی بھی نہیں کی، یہ یقینا سر سید کی صحافت کا درخشاں باب ہے۔‘‘
مولانا شبلی نے اپنی مثنوی’’صبح امید‘‘میں سر سید کی کوششوںکا ذکر کرتے ہوئے،اس نئی زندگی اور عام بیداری کا خوب نقشہ کھینچا ہے۔
باتوں میں اثر تھا کس بلا کا
ایک بار جو رخ پھرا ہوا کا
امید کی بڑھ گئی تگ و تاز
اونچی ہوئی حوصلوں کی پرواز
خواہش کے بدل گئے ارادے
ہمت نے قدم بڑھائے آگے
وہ دوڑ چلے جو بگل تھے
آندھی ہوئے جوفسردہ دل تھے
تھا وہ عجیب جوش میں تھا
مخمور بھی اب تو ہوش میں تھا
اب ملک کے ڈھنگ تھے نرالے
اخبار کہیں،کہیں رسالے
یم کے جا بجا وہ جلسے
گھر گھرمیں ترقیوں کے چرچے
بے تاب ہرایک جزوکل تھا
ہربار’’بڑھے چلو‘‘کاغل تھا
(تاریخ ندوۃ العلماء حصہ اول ص ۵۱۔۵۲)
جدید تعلیم کی پہلی درس گاہ کا قیام
سر سید احمد خاں نے ۲۴؍ مئی ۱۸۷۵ء کو مد رسۃ العلوم (ایم۔ اے۔ او۔ ہائی اسکول ) قائم کیا جس کا افتتاح سر ولیم کے ہاتھوں ہوا۔ سر سید اس زمانے میں بنارس میں تھے۔ جولائی ۱۸۷۶ء میں پینشن پاکر علی گڑھ میں مقیم ہوئے، یہ مدرسہ ۸؍ جنوری ۱۸۷۷ء میں کالج میں تبدیل ہوا،جس کا افتتاح لارڈ لٹن وائسرائے و گورنر جنرل ہند نے کیا، سر سید احمد خاں ۲۸؍ مارچ ۱۸۹۸ء میں اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ سر سید کی وفات کے بعد نواب محسن الملک نے علی گڑھ کالج کو یونیور سٹی بنانے کی بڑی کوشش کی تھی، ان کی زندگی میں سات آٹھ لاکھ روپے جمع ہوئے، ان کی وفات کے بعد ہز ہائنس سر آغاخاں نے اس کام کے لئے بڑی محنت کی ، بیس ۲۰لاکھ روپے جمع کئے، اور ۱۹۲۰ء میں اس کو یونیور سٹی کا درجہ دے دیا گیا۔
مدرسہ کے قیام کے موقع پر سر سید نے ایک تقریر میں فرمایا:’’جہاں تک ہوسکا ہر موقع پرمیں نے قومی ترقی کی تدبیروں پرغوٖر کیا۔ سب سے اول یہی تدبیر سوجھی کہ قوم کے کئے قوم ہی کے ہاتھ سے ایک مدرسۃ العلوم قائم کیا جائے جس کی بنیاد آپ کے شہر میں اور آپ کے زیر سایہ پڑی ہے‘‘(ماخوذ از حیات جاویدص۱۳۱)
کالج کا قیام کا اصل مقصد مسلم نوجوانوں کی تعلیم و تربیت تھی مگر اس کے دروازے غیر مسلموں پر ہمیشہ کھلے رہیں، چناچہ ابتدا ہی سے مسلم اور غیر مسلم طلباء کالج کے بورڈنگ ہاؤس میں رہتے اور ایک دوسرے کے رنج و راحت میں شریک ہوتے تھے۔ ایم۔ اے۔ او۔ کالج کا سب سے پہلے بی۔اے۔ پاس کرنے والے طالب علم ایک ہندو یعنی بابو ایشوری پرشاد تھے۔(سر سید اور علی گڑھ تحریک ص ۱۰)
مقام ِعلی گڑھ کا انتخاب
سر سید احمد خاں اپنے خود نوشت ’’حیات ِ سر سید ‘‘ میں لکھتے ہیں ’’ میں نے علی گڑھ کو اس کے لئے پسند کیا ۔ علی گڑھ میرا وطن نہیں تھا اور نہ وہاں سے مجھ کو کچھ تعلق تھا مگر صرف اس خیال سے کہ وہ ایسا مقام ہے جو چاروں طرف سے مسلمان رئیسوں سے گھرا ہوا ہے، میرٹھ، بلند شہر، مظفر نگر سہارن پور ، آگرہ، ایٹہ، اور ایک بڑا مخزن مسلمان رئیسوں کا یعنی روہیل کھنڈ، جس میں معزز خاندانوں کے لوگ بستے ہیں ، اس سے ملے ہوئے ہیں اور اس لئے مسلمانوں کی تعلیم کے لئے علی گڑھ نہایت مناسب مقام ہے‘‘۔ ( ص ۲۲۳)
سر سید کی تعلیمی پالیسی:
سر سید ایک بیدار مغز انسان تھے، انہوں نے مدرسۃ العلوم (ایم۔ اے۔او ۔کالج )کا قیام اس وجہ سے کیا تھاتا کہ مسلم قوم جدید علوم کو سیکھ کر مستشرقین اور اسلام مخالف دشمنوں کا منہ توڑ جواب دے سکے، کالج کے متعلق انکا ذہن بالکل صاف تھا، ان کا قول تھا: ــ’’ فلسفہ ہمارے دائیں ہاتھ میں ہوگا اور نیچرل سائنس ہمارے بائیں ہاتھ میں اور کلمۂ لا الہ الا اللہ کا تاج ہمارے سر پر ‘‘۔
گورداس پور میں جنوری ۱۸۸۴ء میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا: ’’ کوئی قوم جس کو اپنے بچوں اور قوم کی تعلیم کی خواہش ہو جب تک وہ تعلیم اپنے ہاتھ میں نہ لیوے، اس کا پورا ہونا غیر ممکن ہے ۔ ہندوستان کی ترقی صرف اس وقت ہوگی جب وہ اپنے باہمی چندے ، اپنے انتظام، اپنی قوت سے بلا مداخلت گورنمنٹ اور اس کے افسروں کی، اپنی مرضی کے موافق اپنے بچوں کی تعلیم کا انتظام کریں‘‘۔ (لکچر بمقام مدرسہ گورداس پور ۔ لکچروں کا مجموعہ)
۲۳جنوری ۱۸۸۳ء کو لدھیانہ میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا: ’’ میں تم سے سچی بات کہتا ہوں کہ قومی تعلیم اور قومی عزت ہم کو اس وقت تک حاصل نہیں ہونے کی جب تک ہم اپنی تعلیم کا کام خود اپنے ہاتھ میں نہ لیں گے، گورنمنٹ کی قدرت سے خارج ہے کہ وہ ہمارے تمام مقاصد کی تکمیل کر سکے‘‘۔ ( لکچر کا مجموعہ)
لکھنؤ میں ایک بار تقریر کرتے ہوئے سیر سید نے کہا تھا: ’’ اے دوستوں ,!! مجھے یہ بات کچھ خوش کرنے والی نہیں ہے کہ کسی مسلمان نے بی۔اے۔ یا ایم۔ اے ، کی ڈگری حاصل کر لی ہے ، میری خوشی قوم کو قوم بنانے کی ہے ‘‘۔( لکچروں کا مجموعہ ) صفحہ ۲۵۹ )۔در اصل سیر سید نے تنہا وہ کام کیا جو ایک اکیڈمی بھی اتنے بہتر اور کامیاب طریقے پر نہیں کر سکتی ۔
سر سید احمد ایک نامور مصنف تھے انہوں نے متعدد موضوعات پر مختلف کتابیں لکھیں،انکی اہم کتابیں مندرجہ ذیل ہیں۔
(۱)قواعدصرف و نحو زبان اردو (۱۸۴۰ء)(۲)جلاء القلوب بذکر المحبوب (۱۸۴۳ء)(۳)تسہیل فی جزالثقیل (۱۸۴۴ء(۴) تحفۂ حسن (۱۸۴۴ء)(۵)فوائد الافکار فی اعمال الفرجار (۱۸۴۶ء)(۶)آثار الصنادید (طبع اول)(۱۸۴۷ء)(۷)قول متین فی ابطال حرکت زمین (۱۸۴۸ء)(۸)کلمۃ الحق (۱۸۴۹ء)(۹)راہ سنت در در ِبدعت (۱۸۵۰ء)(۱۰)سلسلہ الملوک (۱۸۵۲ء)(۱۱)نمیقہ در بیان مسلۂ تصورِشیخ(۱۸۵۲ء)(۱۲)ترجمہ کیمیائے سعادت (۱۸۵۳ء)(۱۳)آثار الصنادِید (طبع دوم) (۱۸۵۴ء)(۱۴)سرکشی ضلع بجنور (۱۸۵۸ء)(۱۵)اسباب سرکشی ہندوستان (۱۸۵۹ء)(۱۶)لائل محمڈ نز آف انڈیا(رسالہ خیر خواہانِ مسلمانان) (۱۶۔۱۸۶۰ء)(۱۷)تصحیح تاریخ فیروز شاہی (۱۸۶۲ء)(۱۸)تبین الکلام فی تفسیر التوراۃ و الانجیل(۶۵۔۱۸۶۲ء)(۱۹)احکام طعام اہل کتاب (۱۸۶۶ء)(۲۰)ہندوستان کے طریقۂ تعلیم پر اعتراضات (انگریزی) (۱۸۶۹ء)(۲۱)خطبات ِ احمدیہ (انگریزی) (۷۰۔۱۸۶۹ء)(۲۲)ریورڈاکٹر ہنٹر کی کتاب پر (۱۸۷۱ء)(۲۳)قدیم نظام دیہی ہندوستان (۱۸۷۸ء)(۲۴)تفسیر القرآن (۱۸۸۰ء تا ۱۸۹۵ء)(۲۵)تصانیفِ احمدیہ(۱۸۸۰ء تا۱۸۹۵ء)(۲۶)خطبات ِ احمدیہ (اردو)(۱۸۸۷ء)(۲۷)النظر فی بعض المسائل الامام الغزالی(۱۸۸۹ء)(۲۸)ازالتہ الغین عن ذی القرنین ۱۸۹۰۰)(۲۹)ترقیم فی قصہ اصحاب الکہف و الرقیم (۱۸۹۰ء)(۳۰)تفسیر الجّن و الجان علیٰ مافی القرآن (۱۸۹۲ء)(۳۱)تحریر فی اصول التفسیر(۱۸۹۲ء)(۳۲)فضائل الامام مِن رسائل حجۃ الاسلام (۱۸۹۳ء)(۳۳)تبریت الاسلام عن شین الامۃِو الغلام(عربی)(۱۸۹۵)(۳۴)تہذیب الاخلاق (جلد دوم)(۱۸۹۵ء)(۳۵)تفسیر السمٰوات (۱۸۹۷ء)(۳۶)ازواجِ مطہرّات(۳۷)جام جم (۱۸۴۰ء)(۳۸)آئین اکبری(تصحیح)(۱۸۵۵ء)(۳۹)شکریہ (۱۸۵۹ء)(۴۰)کتاب فقرات(درسی)(۱۸۶۰)(۴۱)تحقیق لفظ نصاری(۱۸۶۱ء)(۴۲)توزک جہانگیر(تصحیح)(۶۴۔۱۸۶۳ء)(۴۳)خلق الانسان علیٰ مافی القرآن(۱۸۹۳ء)(۴۴)ابطال غلامی(۱۸۹۳ء)
سرسیداحمد خاں تقریبا۸۱سال کی عمرپاکر۲۸؍مارچ۱۸۹۸ءکو خالق حقیقی سے جاملے،تدفین مسلم یونیور سٹی علی گڑھ کے کیمپس میں ہوئی،مولانا حالی نے سر سید کے انتقال کے موقع پر سوگوار مجمع کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا:
’’حضرات دل کی کسک کون دیکھ سکتا ہے جو میں دکھا نے کی کوشش کروں۔سر سید کیا گئے ایک برگشتہ قسمت ملت کا سرمایاایک نادارملک کا گنج بے بہااور میرا مرشد،دوست اور رہبرجاتارہا۔ہم نے اس سے قومی خدمت کا مفہوم سیکھادوسرں کے لئے اپنی زندگی کے عیش و آرام کوقربان دینے کا سبق پڑھاجب وہ قومی خدمت کے دشوار گزار راستہ پر آگے بڑھاتو بہت سے لوگ جو اس کے ساتھ چلے تھے تھک کر بیٹھ گئے بہت سے افتاں وخیزاںآگے بڑھے لیکن ہونٹوں پرپپڑیاں جم گئیں،اور پیروں میں چھالے پڑگئے دم چڑھ گیااور چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں لیکن وہ الوالعزم انسان اسی طرح تازہ دم رہانہ اسے راستہ کی تکان نے مضمحل کیا اور نہ ساتھیوں کے چھوٹ جانے سے ہمت ٹوٹی نہ منزل کی دوری نے اس میں ہراس پیدا کیا‘‘
اسی موقع پر محسن الملک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
’’مجھے صرف ان کی ذات ہی سے محبت نہ تھی بلکہ پچاس سالہ تجربہ نے میرے دل پریہ بات نقش کر دی تھی کہ قومی درد اور بہی خواہی کوحب خدا تعالیٰ نے ایک جسم اور ایک شکل دینی چاہی توسید احمد اس کا نام رکھ دیا۔‘‘
24 اکتوبر 2024 ،بشکریہ:روزنامہ آگ، لکھنؤ
-----------------
Part-1: Sir Syed Ahmed Khan: An Epoch-Making Figure- Part-1 سر سید احمد خان: ایک عہد ساز شخصیت
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism