New Age Islam
Wed Jun 10 2026, 07:34 AM

Urdu Section ( 26 Nov 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Taliban Fatwa on Terrorism دہشت گردی کی حمایت میں طالبانیوں کے ذریعہ جاری کیا گیا فتویٰ مسترد کیا جانا چاہئے: ایسے حالات جن میں کافروں کےعوام الناس کا قتل بھی جا ئز ہے۔۔حصہ 4

کچھ مسلمان حالت نفی میں ہی جیناپسند کرتے ہیں ۔وہ اخبارات پڑھتے ہیں ،ٹی وی دیکھتے ہیں ،طالبان اور دوسرے جہادیوں کو اسلام کے نام پر نا قابل بیان دہشت پھیلا تےہوئے دیکھتے ہیں ، اور ان کے جواز کے لئےہمیشہ قرآن کی آیتوں کا حوالہ دیتے ہیں ۔لیکن توجہ دلانے پر بھی  یہ مسلمان اسلام کی ایک مخصوص عدم روا دارانہ تعبیر اور اپنے بزدلانہ عادات و اطوار کے درمیان   پائے جانے والے  باہمی ربط پر غور کرنے سے انکار کرتے ہیں ۔ اسلام کی یہ عدم روادار انہ تعبیروتشریح ہمارے ساتھ کسی نہ کسی صورت میں  یا کسی نہ کسی نام کے تحت تاریخ کی 14 صدیوں سے موجود ہے ۔ایسے لوگوں کو پہلے خوارج  یا خارجی (اسلام سے نکل جا نے والے ) کہا جا تا تھا ،اور آج انہیں وہابی کہا جاتا ہے ،اگر چہ وہ اپنے آپ کو سلفی (اسلام کے اس بنیادی نظریہ پر ایمان رکھنے والے جس پرمسلمانوں کی اولین  نسلوں نے عمل کیاتھا  ) اور مؤحد (خدا کی وحدانیت میں پختہ یقین رکھنے والے) کہلانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ میڈیا میں ان کی حامی بھرنے والے  چاہتے   ہیں کہ انہیں صرف ایک عام مسلمان سمجھا جائے ، تا کہ ان کی   ان مذموم اور نا جائز سر گرمیوں  کے زمرہ میں تمام مسلمانوں کو شامل کیا جا سکے ۔ بہرحال مسلمان جو اس پورے کھیل سے واقف ہیں اور  ان کے نظریات اور سرگرمیوں سے خود کو الگ کرنا چاہتے ہیں۔ خدا  کا شکر ہے کہ وہابی  فرقہ ابھی بھی مسلم قوم کا ایک  چھوٹا سا گروہ  ہے ،حالانکہ گزشتہ چار دہائیوں میں انہوں  نے  پٹروڈالر کی  بھاری مدد سے  اپنے نظریات کی  اشاعت کے ذریعہ  اپنے   اثرورسوخ  میں قابل قدر اضافہ کیا ہے ۔  یہ بات  اہم ہے کہ ہم مرکزی دھارے  کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان کے نظریات کو طشت از بام کرتے رہیں  ،انہیں نمایاں کریں اور  ان کا رد کریں   تاکہ  وہابیت، سلفیت ،اور اس سے متعلقہ نظریات مثلاً اہل حدیثیت ، قطبیت ، مودودیت   ، دیوبندیت  وغیرہ کے حامیوں اور مبلغوں کو اسلام کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا دعوی کرنے سے روکا جا سکے ۔

اسی اہم ضرورت کے پیش نظر نیو ایج اسلا م طالبان کے ترجمان نوائے افغان جہاد  (جولائی ۲۰۱۲ ) میں شائع شدہ مضمون کوپیش کررہا  ہے۔یہ اس  ماہانہ رسالہ کے مسلسل مضمون کا پہلا حصہ ہے جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ کیوں وہابیوں کا یہ  ایمان ہے کہ     کا فروں یعنی تمام غیر وہابی مسلم، سابقہ مسلم  اور اہل کتاب سمیت غیر مسلموں کے بے گناہ مردوں ، عورتوں اور بچوں کو مارنا  ان کے اسلام میں جائز ہے ۔مرکزی دھارے  میں شامل مسلمانوں کے لئے  ضروری ہے  کہ وہ طالبانیوں کی  حقیقی خونی فطرت کو سمجھیں  اور امن  عالم اور اسلام کی نیک نامی کی حفاظت کے لیے قرآن و سنت کی بنیاد پر یک آوازہوکر اس نظریہ کی مذمت کریں۔ اور وہابیوں کے اس طبقہ کو جو ان متشدد نظریات کی حمایت نہیں کرتا جن کے بانی ابن عبد الوہاب اور اس کے نظریاتی معلم ابن تیمیہ ہیں، اس جماعت سے مکمل طور پر منقطع ہو جا نا چائے ۔اگر آ پ وہابی  محض اس لئے کہلاتے ہیں کیوں کہ آپ  صوفیوں کے مزارات پر حاضری دینے اور صوفی بزرگوں کا احترام کرنے سے نفرت کرتے ہیں ،  نہ کہ اس لئے کیوں کہ آپ عدم رواداری اور اس نظریہ کی انتہا پسندی کے  قائل اورقدردان ہیں،  تو آپ کو سمجھنا چاہپے کہ مزارات پر حاضری سے احتراز کرنے کے لئے آپ کووہابی ہونے کی  چنداں ضر ورت نہیں ۔ ایسے بہت سے دوسرے فرقوں  کے مسلمان ہیں جو مزارات کی زیارت نہیں کرتے ،  پھر بھی وہ وہابی نہیں ہیں ۔  آپ کو مؤحد ہونے کے لئے وہابی یا سلفی ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔سلطان شاہین ، ایڈیٹر،  نیو ایج اسلام

------------------------------------------------

وہ حالتیں کہ جن میں کفار کے عام لوگوں کا قتل جائز ہوتا ہے (قسط چہار م)

شیخ یوسف العییری رحمۃ اللہ تعالیٰ

آج جو مشاہدہ میں آرہا ہے کہ امریکہ مسلمان نوجوانوں ، خواتین اور ضعیف العمر ا فراد کو بغیر کسی گناہ کے قتل کررہا ہے ،انہوں نے ایک طویل عرصہ سے عراق کا محاصرہ کیا ہوا ہے کہ جس کے نتیجے میں صرف عامۃ المسلمین ہی قتل ہورہے ہیں ۔ جب عراق پر امریکہ اور اُس کے اتحادیوں نے بم باری کی تو عراقی حکومت کو تو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا یا البتہ مسلمانوں کو شدید نقصان پہنچا یا گیا، لاکھوں لوگوں کو قتل کیا گیا اور اگر مسلمان امریکہ کے ساتھ بالمثل کا معاملہ کریں تو ان کے لیے بھی کئی لاکھ امریکی لوگوں کو قتل کرنا جائز ہے ۔ خلیجی جنگ کے دوران میں بغداد کے علاقہ ‘‘ عامریہ’’ کی پناہ گاہ میں امریکہ نے صرف ایک میزائل سے پانچ ہزار سے زائد مسلمانوں کو قتل کیا تھا ۔

لہٰذا امریکہ میں ہونے والی کارروائیاں تو  امریکہ پر عائد صرف اس قرضے کا بدلہ ہیں جس میں ‘‘عامر یہ ’’ کی پناہ گاہ پر حملہ کر کے مسلمانوں کو زخم  لگائے گئے تھے ۔ جب کہ اُن پابندیوں کاقرض تو ابھی باقی ہے جن کی وجہ سے عراق میں بارہ لاکھ مسلمان زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے ۔ امریکیوں کا یہ ظلم تو اب  بھی عراق کے معصوم لوگوں پر جاری ہے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکیوں کی طرف سے ہلاکت خیز اسلحے کے استعمال نے مسلمانوں کی اس سرزمین میں ایسی تباہی و بربادی پھیلائی کہ وہاں یورینیم زدہ گردو غبار کی وجہ سے لاکھوں بے گناہ مسلمان عجیب و غریب امراض میں مبتلا ہوئے ہیں۔ یہ امراض جو بڑے پیمانے پر پھیل چکے ہیں ’ میں سب سے زیادہ خطرناک اور جان لیوا خون کا سرطان ہے۔ ان سالوں کے دوران میں امریکی حملوں اور پابندیوں کے سبب دس لاکھ معصوم بچے موت کا شکار ہوئے ۔ بلاشبہ گیارہ ستمبر کے مبارک حملہ کی تباہی ’ عراق میں برپا کیے جانے والے امریکی فساد سے سیکڑوں گنا کم ہے۔

اس کے علاوہ اگر امریکہ کی افغانستان کے خلاف لگائی گئی پابندیوں کو دیکھا جائے تو صورت حال مزید بھیانک ہوجاتی ہے ۔ ان پابندیوں کا شکار ہونے والوں کی تعداد ستر ہزار سے زائد ہے ۔ رہیں و بائیں ، امراض اور فقر .... تو 95 فیصد افغان مسلمان ان مصائب سے دو چار ہیں اور ان سب کا سبب امریکہ ہے۔ امریکہ کی طرف سے افغانستان پر میزائلوں کی بارش کی گئی مگر ہمیں اس دہشت گردی اور معصوموں کے قتل کی زبانی مذمت تک کرنے والا کوئی نظر نہیں آیا ۔

اب ذرا فلسطین کو بھی دیکھئے ! امریکہ کی پشت پناہی میں یہود کی مسلمانوں کے خلاف پچاس سال سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ پر بھی نظر ڈالیں ۔ اس جنگ کے نیتجے میں پچاس لاکھ افراد بے گھر ، دو لاکھ باسٹھ شہید ، ایک لاکھ چھیاسی ہزار زخمی اور ایک لاکھ اکسٹھ ہزار معذورہوئے ۔ امریکہ ہی کے تعاون سے دس ماہ سے زائد عرصے سے ہمارے فلسطینی بھائیوں کا حصار (گھیراؤ) جاری ہے۔ صومال میں امریکہ ‘‘انسانی ہمدردی’’ کی آڑ لے کر داخل ہوا لیکن اصلاً تو زمین میں فساد برپا کرنا ہی مقصد تھا ۔ لہٰذا اس نے وہاں تیرہ ہزار مسلمانوں کو قتل کیا اور جلایا ۔ امریکی فوجیوں نے وہاں مسلمان خواتین کی عزتوں کو پامال کیا۔ سرزمین صومال میں امریکہ نےاپنے ایٹمی فضلے کو دفن کیا جس کی وجہ سے اب تک وہاں مسلمان مختلف النوع جان لیوا امراض کا شکار ہیں۔

سوڈان پر کئی سالوں سےامریکہ نے پابندیاں لگا رکھی ہیں جو کہ ابھی تک جاری ہیں اور اس نے خرطوم کے باسیوں کو قتل کرنے کے لیے اُن پر میزائلوں سےحملہ کیا۔ ان حملوں کو وجہ جواز فراہم کرنے کے لیے اُس نے یہ دعویٰ کیاکہ یہاں کیمیائی اسلحے کے گودام ہیں اور اگر واقعتاً ایسا ہوتا تو ان حملوں کے سبب یہ (کیمیائی ) گیسیں نکل کر پھیل جاتیں اور تمام اہل خرطوم کو ہلاک کردیتیں ۔ امریکہ اب بھیف اعلانیہ طور پر جنوبی سوڈان کے صلیبیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور اس جنگ کو بھڑ کا رہا ہے کہ جس کا شکار مسلمان اور ان کی معیشت ہے۔

یہ  تو مسلمانوں کے اُن مسائل کاذکر ہے جن میں امریکہ نے مسلمانوں کی سر زمینوں میں فساد پھیلانے اور معصوم لوگوں کے قتل کے لیے اعلانیہ اور براہ راست مداخلت کی ۔ ان کے علاوہ فلپائن ،انڈونیشیا ، کشمیر، مقدو نیا اور بوسنیا وغیرہ میں مسلمانوں پر جو کچھ بیت رہی ہے اس کے پیچھے بھی امریکہ کا ہاتھ ہے۔لہٰذا کسی بھی مسلمان کے لیے یہ کہنا ممکن ہے کہ آج جتنی بھی مصیبتیں مسلمانوں پر آئیں ہیں اُن میں امریکہ کا براہ راست  یا بالواسطہ کردار ہے ۔ امریکہ کو تو محض اپنے مفادات کی حرص ہوتی ہے چاہے اُن مفادات کے لیے اُسے ساری انسانیت کا خون کرناپڑے ۔ امریکہ کے پوری دنیاپر مسلط ہونے سے لے کر اب تک ( یہ عرصہ نصف صدی پر محیط ہے) کروڑوں افراد اس کا شکار ہوئے ہیں۔ ایسی صورت میں امریکہ سے یہ توقع کیونکر کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی حدود کا پابند رہے گا اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والے اپنے ظلم و ستم کے سلسلے کو روکے گا؟

بلاشبہ اسلامی شریعت ہر نقص اور ہر عیب سےپاک ہے ۔ شریعت میں حد سے تجاوز کرنے اور فساد برپا کرنے والوں کے لیے قصاص کا حکم دیا۔ ایک جانب تو امریکہ مسلمانوں کو مسلسل قتل کررہا ہے جب کہ دوسری جانب کمزور مسلمانوں کے لیے ممکن ہی نہیں کہ وہ اُسے اُس کے کیے کی سزا دے سکیں کیونکہ وہ کسی کے سامنے آکر وار نہیں کرتا بلکہ دور سےحملہ کرتا ہے یا گھیراؤ کرتا ہے۔ ان جیسے طواغیت کا یہی علاج ہے کہ انہیں بھی ویسے ہی زخم لگائے جائیں جیسے یہ مسلمانوں کو لگاتے ہیں اور اُن کے ساتھ ظلم و زیادتی روا رکھتے ہیں ۔

ایسی صورت میں امریکہ کو کیونکر کھلی چھٹی دی جاسکتی ہہے کہ وہ جب اور جہاں چاہے ہمارے بچوں اور خواتین کو قتل کرے اور اپنی مرضی و منشا کے مطابق جب اور جہاں چاہے اُن پر حملہ کرے۔ اور جواب میں مسلمانوں کو پابند کیا جائے کہ اُن پر امریکہ کے خلاف اقدامی اور انتقامی کارروائی کرنا سرے سے حرام ہے ۔ بلا شبہ جو شخص بھی یہ کہتا ہے وہ یا تو جاہل ہے یا پھر وہ مسلمانوں سے کھلی دشمنی کرتے ہوئے امریکہ کی حمایت کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ مسلمانوں میں مزید قتل و غارت کرے اور انہیں در بدر کرے۔ با لمثل کے شرعی اصول کے تحت ہم امریکہ پر اسی طرح تباہی مسلط کریں گے جس طرح اُس نے ہم پر کی ۔

امریکہ نے صدام اور اُس کی بعث پارٹی کو بہانہ بنا کر عراق میں اپنے مہلک ہتھیار وں اور ظالمانہ پابندیوں کے ذریعے لاکھوں عراقی مسلمانوں کا قتل عام کیا ۔

شیخ اسامہ بن لادن کو پناہ دینے کے ‘‘ جرم’’ میں امریکہ نے افغانوں پر پابندیاں لگائیں اور اُن پر میزائلوں سے حملے کیے جس سے دسیوں ہزار مسلمان مارے گئے ۔

ایک خیالی کیمیائی فیکٹری کو ختم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے امریکہ نے سوڈان پر حملہ کیا اور وہاں ادویات کی فیکٹری تباہ کردی جس میں کئی مسلمان قتل ہوئے ۔

اب ہم کہتے ہیں کہ ہم بالمثل کا معاملہ اختیار کریں گے اور امریکہ ہی کے اپنائے گئے طریقے یعنی افراد کے سبب عوام کو سزا دینا ’ کے مطابق امریکی حکومت کے جرائم کے سبب اس کی عوام کو سزادیں گے!

ا س صورت حال میں امریکہ اور اس کے چیلے کیوں غضب ناک ہوتے ہیں جب ہم اُسے بالمثل سزا دیتے ہیں ۔ کیا یہ وہی امریکہ نہیں جو جس پر چاہے دہشت گرد ہونے یا دہشت گردی کا معاون ہونے کا حکم صادر کرتا ہے اور پھر اس پر حملہ کرتا ہے ، معصوم او ربے گناہ لوگوں کو قتل کرتا ہے اور پھر اپنے اس فعل پر ادنیٰ سی شرم بھی محسوس نہیں کرتا!

ہم بھی اسی کے قاعدے کے مطابق عمل کرتے ہوئے اور اسی کو بنیاد بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہود دہشت گرد ہیں جب کہ امریکہ فلسطین میں صیہونی دہشت گرد ی کا معاون ہے۔توکیا ہمیں یہ حق حاصل نہیں کہ ہم اس پر اسی کے اصول کے مطابق حکم لاگو کریں؟ بلاشبہ ہمارا حق ہے ، تو پھر امریکہ پوری دنیا کو کس چیز پر غصہ ہے؟ اگر ہم اس کے ساتھ بالمثل معاملہ کرنا چاہیں تو امریکہ پرہونے والے حملے شرعی طور پر جائز ہیں۔ اور اگر ہم اس کے ساتھ اسی کےقانون کے مطابق برتاؤ کرناچاہیں تو بھی یہ کارروائیاں اس کے اپنے نظام ‘‘ نیوور لڈ آرڈ’’ کےمطابق جائز ہیں !!!

اس چیز میں کسی قسم کےشک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ امریکی بوڑھوں ، بچوں اور عورتوں اور ان جیسے دوسرے غیر محاربین کا قتل کرنا جائز اور حلال ہے بلکہ یہ جہاد کی اُن اقسام میں سے ایک ہےجن کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

فَمَنَ اُ عْتَدَیٰ عَلَیکُمْ فَاُ عْتَدُ و ا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اُ عْتَدَیٰ عَلَیْکُمْ (البقرہ : 194)

‘‘لہٰذا اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس پر اتنی ہی زیادتی کرسکتے ہو جتنی اس نے تم پرکی ہے’’۔

اور اس کا فرمان ہے کہ

وَ إِ نْ عَا قَبْتُمْ فَعَا قِبُوا بِمِثلِ مَا عُو قِبْتُم بَہِ ( النحل :126)

‘‘اور اگر تمہیں بدلہ لینا ہو تو اتنا ہی بدلہ تو جتنی تم پر زیادتی ہوئی ’’۔

لیکن مسلمان ہر حال میں شریعت کے عطا کردہ قوانین کے پابند ہیں لہٰذا اُن کے لیے کسی طرح بھی جائز نہیں کہ وہ چالیس لاکھ غیر محارب امریکیوں سے زیادہ  کو قتل کریں اور ایک کروڑ سے زیادہ امریکیوں کو بے گھر کریں۔ اسی صورت میں وہ حد سے بڑھ کر ایسی سزا دینے والوں میں شمار ہوں گے جو بالمثل سے زیادہ ہوجائے ۔ واللہ اعلم

(جاری)

ماخز: نوائے افغان جہاد  (اکتوبر، 2012 )

URL for English article: https://www.newageislam.com/islam,terrorism-and-jihad/taliban-fatwa-on-terrorism-that-needs-to-be-refuted--circumstances-in-which-the-slaughter-of-common-people-among-the-infidels-is-justified---part-4---shariah-proposes-retribution/d/9399

URL: https://newageislam.com/urdu-section/taliban-fatwa-terrorism-/d/9440

Loading..

Loading..