New Age Islam
Wed Sep 30 2020, 09:06 AM

Urdu Section ( 6 Apr 2020, NewAgeIslam.Com)

Corona, Tablighi Jamaat and Indian Muslims کورونا ، تبلیغی جماعت اور ہندوستانی مسلمان


شیش نارائن سنگھ

6 اپریل 2020 

دنیا کے متعدد ممالک کی صورتحال کورونا وائرس کےپھیلنے کی وجہ سے انتہائی تشویشناک ہے۔ سنگاپور ، جنوبی کوریا ، جاپان جیسے کچھ ممالک میں وائرس پھیلنے سے قبل اس پر قابو پالیا گیا۔ لیکن ان ممالک میں جہاں حکومتیں اس پر قابوپانے میں ناکام رہی ہیں،وہاں کورونا کے ولن کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔ امریکہ میں آزاد میڈیا کی طاقت کی وجہ سے اس ملک نے حقیقی ولن کی شناخت کرلی ہے اور اب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کورونا وائرس کی وبا میں ایک خاص ولن کے طور پر پہچانے  جارہے ہیں۔ عالمی شہرت یافتہ فلسفی نوم چومسکی نے انہیں ایک غیر سماجی جوکر قرار دیا ہے۔ اب یہ خیال کیا جارہا ہے کہ ٹرمپ کے فضول کے بیانات کی وجہ سے امریکہ کی حالت مزید خراب ہوگئی ہے۔امریکہ میں اس وائرس کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔ اگر مناسب وقت پر ضروری اقدامات کئے جاتے تو شاید معاملہ زیادہ خراب نہ ہوتا۔ ٹرمپ یہ ماننے کو تیار نہیں تھے کہ کورونا سے ایک سنگین خطرہ ہے۔ صرف دو ہفتے قبل تک وہ کورونا ویکسین پر ریسرچ کا دعویٰ کررہے تھےکہ کورونا ویکسین کوڈیڑھ سال میں فروغ دے دیا جائے گا۔ جب انہیں یاد دلایاگیا کہ ابھی بھی جنگ جیسی صورتحال موجودہے اورانہیں اس کی فکر کرنی ہوگی اور کوروناکے علاج اور روک تھام کے فوری طریقوں پر دھیان دینا ہوگا ، ویکسین کی ابھی کوئی اہمیت نہیں ہے ، تب جاکر وہ زمین پرآئے اور کچھ حقیقت کی باتیں کرنے لگے۔ اس کے باوجود اس میں کوئی خاصی بہتری نظر نہیں آتی ہے۔ آج ان کا بیان آیا ہے کہ کھیلوں کی سرگرمیاں شروع کی جاسکتی ہیں۔امریکا کے پاس دسمبر۲۰۱۹ءمیں ہی کوروناکے بارے میں معلومات تھیں۔ فروری کے آخری ہفتے میں اخبارات میں بڑے پیمانے پر کورونا وائرس کے مریضوں کے بارے میں معلومات سامنے آنا شروع ہوگئیں ، لیکن صدر ٹرمپ بے فکرتھے۔ وہ فروری کے آخری ہفتے میں ہی ہندوستان آئے تھے اور اپنے استقبال میں جمع ہجوم کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے تھے۔ اب انہوں نے قبول کیا کہ اس بیماری سے امریکہ میں تقریباًڈھائی لاکھ افراد کی موت واقع ہوسکتی ہے۔ اس سب کے بعد انہوں نے کورونا کا مقابلہ عظیم جنگ کی طرح کرنے کا فیصلہ کیا۔ میڈیا ہمیشہ ان کو گھیرتا رہتا ہے، لیکن ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی میڈیا بریفنگ میں جب ایک امریکی صحافی نے ان سے پوچھا ’آپ مسلسل جھوٹ بولتے رہے اور آپ کے جھوٹ کی وجہ سے پورے ملک کو نقصان پہنچ رہاہے ، لوگ مر رہے ہیں‘ تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

۱۱؍ مارچ کو عالمی ادارہ صحت نے کورونا کو ایک خوفناک وبائی بیماری قرار دیا ، لیکن امریکی صدر اس کے بعد بھی شیخی بگھارتے رہے ، اور یہ دعوی کیا کہ ان کے ملک کو کوئی خاص نقصان نہیں ہوگا۔ تقریبا ً یہی حالت اپنے ملک کی بھی ہے۔ ایک طویل عرصہ تک ہندوستانی حکومت نے کورونا کو سنجیدگی سے لینے سے انکار کردیا۔ ۱۱؍ مارچ کو کورونا کو ایک خطرناک وبا قرار دیا گیا ہے ، لیکن ۱۳؍ مارچ کو حکومت ہند کی وزارت صحت کی جانب سے ایک بیان دیا گیا تھا کہ ہمارے ملک میں کوئی میڈیکل ایمرجنسی نہیں ہے۔ کورونا وائرس ہندوستان میں کسی خاص پریشانی کا سبب نہیں بنے گا۔ دنیا کے متعدد ممالک میں اس بیماری سے دہشت  پھیل گئی ہے ، لیکن وزارت داخلہ کے تحت کام کرنے والی دہلی پولیس نے۱۳؍ مارچ کو دہلی کے حضرت نظام الدین تھانے سے متصل مسجد میں کورونا سے متاثرکئی ملکوں کے لوگ ایک پروگرام میں شامل ہوئے۔ یہ تبلیغی جماعت کا پروگرام تھا۔ تبلیغی جماعت ایک مذہبی تنظیم ہے، جو تقریباً سو سال سے سرگرم عمل ہے۔ تبلیغی جماعت مسلمانوں کا ایک بہت بڑا ادارہ ہے۔ ان کے مرکز میں لوگ آتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب کورونا وائرس کے پازیٹومعاملوں کی بھی خبر آئی تھی تب بھی اجتماع چل رہا تھا۔ اجتماع کے دوران ہر ریاست سے ہزاروں افراد آتے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ میڈیا کورونا کے ولن کو تلاش کرنے کی مہم میں مصروف تھا۔ نظام الدین میں تبلیغی جماعت کی کانفرنس کو ہی کورونا کے ولن کی طور پر پیش کرنے کا موقع مل گیا۔ یہ کوشش جاری ہے۔ کانفرنس کے منتظمین کا کام یقینا غیر ذمہ دارانہ ہے۔ ان کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کی وجہ سے ہی میڈیا کو تمام مسلمانوں کو لپیٹنے میں آسانی ہورہی ہے۔مارچ کے مہینے میں مختلف ریاستوں سے لوگ اجتماع کے لئے آئے تھے۔ جس میں بہت سارے غیر ملکی بھی موجود تھے۔ کورونا وائرس کے بحران کے دوران تلنگانہ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی ریاست میں پائے جانے والے کچھ مریض وہ تھے جنہوں نے دہلی میں تبلیغی جماعت کے پروگرام میں حصہ لیا تھا۔ اس کے بعد ملک کے ٹی وی چینلوں نے آسمان سر پر اٹھالیا۔ تبلیغی جماعت کو ہی ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں یہ رائے عامہ بن گئی کہ تمام مسلمان تبلیغی جماعت کے حامی ہیں اور وہ کورونا کے پھیلاؤ کے ذمہ دار ہیں۔ چینلوں پر ہونے والے شور و غل میں تبلیغی جماعت کا موقف رکھنے کی زحمت تک نہیں اٹھائی۔

 بی بی سی نے ان کے موقف کو  نمایاںکیا۔ صحافت کے بنیادی اصولوں میں سبھی فریق کی گفتگو کو شامل رکھنا شامل ہے ، لیکن یہ بدقسمتی ہے کہ ٹی وی صحافت میں اس کا خیال نہیں رکھا جارہا ہے۔ بی بی سی کے مطابق  تبلیغی جماعت نے ایک پریس نوٹ جاری کیا ، جس کے مطابق ایک سال پہلے ہی ان کاپروگرام طے کرلیا گیاتھا۔حکام سے اجازت لی گئی تھی۔جب وزیراعظم نے جنتاکرفیو کا اعلان کیا تو تبلیغی جماعت نے اپنے یہاں پروگرام کو فوری طور پر روک دیاتھا۔ مکمل لاک ڈاؤن کے اعلان سے پہلے ہی کچھ ریاستوں نے اپنی طرف سے ٹرین اور بس سروس بند کردی تھی۔ اس دوران جماعت کی انتظامیہ نے لوگوں کو واپس بھیجنے کے لئے مکمل انتظام کیا جہاں وہ واپس جا سکتے تھے۔ اس کے فوری بعد ہی وزیر اعظم نے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا۔ جس کی وجہ سے بہت سارے لوگ واپس نہیں جاسکے اور وہ اسی جگہ پر رہ رہے تھے۔

یہ سچ ہے کہ تبلیغی جماعت میں شامل افراد میں کورونا کی علامات پائی جارہی ہیں۔بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ملائیشیا کے کوالالمپورکی  ایک مسجد میں نظام الدین کی طرح ۷؍فروری سے یکم مارچ تک پروگرام ہو اتھا۔ اس واقعے میں شامل لوگوں سے کورونا وائرس جنوب مشرقی ایشیاء کے بہت سارے ممالک میں پھیل چکا ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ملیشیامیں کوروناکے جس قدر معاملے پائے گئے ان میں  دو تہائی تبلیغی جماعت کے پروگرام کا حصہ تھے۔ برونائی میں کل۴۰؍ میں سے ۳۸؍ افراد اس مسجد کے پروگرام میں شریک ہونے پر کورونا سے متاثر ہوئے تھے۔ سنگا پور ، منگولیا سمیت متعدد ممالک میں تبلیغی جماعت سے ہی لوگوںمیں کورونا پھیلاتھا۔ پاکستانی اخبارڈان کے مطابق تبلیغی جماعت کے پروگرام  میں شامل متعدد لوگوں میں بھی کورونا پایا گیا تھا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کورونا وائرس کے لئے سبھی مسلمان ہی ذمہ دار ہیں۔ جو بھی چینل اس طرح کا ماحول پیدا کررہے ہیں وہ غیر ذمہ دارانہ کام کررہے ہیں۔

تبلیغی جماعت کے مسلمان دیوبندی نظریہ کے لوگ ہیں۔ جمعیت علمائے ہند ان کی مرکزی تنظیم ہے۔ بریلوی اور شیعہ مسلمانوں کے دو بڑے طبقے کاتبلیغی جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔ وہیں ، نظام الدین میں عظیم صوفی بزرگ خواجہ نظام الدین اولیا کی درگاہ ہے ، جو چشتیہ سلسلہ کے بڑے بزرگ ہیں۔ایسے لوگوں کی ملک میں ایک بڑی تعداد موجود ہے جو تصوف کی پیروی کرتے ہیں۔ تبلیغی گروپ کا ان سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دیوبندیوں کا ایک بہت بڑا طبقہ تبلیغی جماعت کا موقف قبول نہیں کرتا ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں کل مسلمانوں میں سے صرف پانچ فیصد تبلیغی جماعت کے ہوں گے۔ ایسی صورتحال میں ملک کیسی بھی مسلمانوں کو تبلیغی جماعت سے جوڑنا درست نہیں ہے ۔

6 اپریل 2020    بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sheesh-narayan-singh/corona,-tablighi-jamaat-and-indian-muslims--کورونا-،-تبلیغی-جماعت-اور-ہندوستانی-مسلمان/d/121503

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..