New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 01:13 AM

Urdu Section ( 13 Apr 2013, NewAgeIslam.Com)

Tarek Fatah and Jamia Episode طارق فتح اور جامعہ کا واقعہ

 

شمشاد الہی شمس

13 اپریل، 2013

بنگلہ دیش اور ہندوستان کی  آزادی سے متعلق سوالات پر ایک کتاب لکھنے کے سلسلے میں طارق فتح  ان دنوں کنیڈا سے ہندوستان  کے دورے پر ہیں۔   دو دن پہلے دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ان کا ایک سوال جواب کا  پروگرام  ہونا طے تھا جسے مبینہ اسلامی انتہا پسندوں کے دباؤ کے چلتے منسوخ کر دیا گیا۔   ہندوستان اور اس کی  جمہوریت کو  لے کر طارق فتح جیسے بہت سے دانشور اکثر الجھن میں رہتے ہیں لیکن جیسے ہی کڑوی حقیقت سے دو چار ہوتے ہیں تب انہیں زمینی حقیقت کا پتہ چلتا ہے۔

میرا واضح طور پر ماننا  ہے کہ طارق فتح ہندوستان میں کسی بھی جگہ مسلمانوں کے درمیان آزادانہ  طور پر اپنے خیال عوامی طور پر نہیں رکھ سکتے۔  ہندوستان کے مسلمانوں میں تنقید سننے کی ہمت  نہ تو پہلے تھی نہ اب ہے۔  علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہو یا جامعہ ... دونوں کے کیمپس  میں اسلام کے تئیں کسی تنقیدی آواز کو سننا ممکن ہی نہیں ہے۔

دو سال قبل میرٹھ یونیورسٹی کے کیمپس  میں نیو ایج اسلام ڈاٹ کام کے بانی اور صوفی اسلام کے ترجمان سلطان شاہین کو جماعتی مسلمان طلباء نے تین منٹ بھی نہیں بولنے دیا تھا،  اسی کیمپس میں  اسلام کے عالمی شہرت یافتہ  عالم مولانا وحيدالدین  خان صاحب کے ہاتھ سے مائک چھین لیا گیا تھا اور انہیں بے عزت کر کے  کیمپس چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔   اب حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ اسلام کی سیکولر تشریح کرنے والے دانشوروں تک کے لیے کوئی جگہ  نہیں چھوڑی  جا رہی ہے۔  اس وقت ہندوستان میں طارق فتح جیسے بے باک اور سیاسی اسلام کے تلخ ناقد کو بھلا کیسے سنا جا سکتا ہے؟ مزے کہ بات یہ ہے کہ یہ تینوں لوگ مسلمان ہیں۔  اسلام پر کوئی مادّہ پرست، تشکیک پرست،  حقیقت پسند،  ملحد، معقولی یا مارکسی بولے اس کا تو تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔  جب مسلمانوں کے مبینہ تعلیمی اداروں کی دانشورانہ سطح اس حد تک گر چکی  ہو، تب آپ مسلم سماج کی فکری  سطح  کا  اندازہ خود ہی لگا سکتے ہیں۔   یہ بھی سچ نہیں ہے کہ سو فیصد مسلم آبادی کی سوچ ان فاسسٹ  نظریہ رکھنے والوں سے ملتی ہو؟  لیکن تاریخی اعتبار سے  بنیاد پرست مسلم طاقتوں نے معتدل  فکر کے مسلمانوں  پر اپنے خوف کی گرفت بنائے رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے، جس کے سبب  یہ بڑا طبقہ اپنی مجرمانہ خاموشی کے ذریعے ہتھیار ڈال چکا ہے۔   جامعہ جیسے واقعات  کے ذریعے اسلام کی سیاسی فسطائیت کا ہندوستان سمیت عالمی کردار آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے جس کے خلاف طارق فتح کی آواز کو دنیا میں ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔

ہندوستان کے مسلمانوں کی طرف سے انتہا پسند اسلام کے سلفی تصور کے پیچھے پوشیدہ  وجوہات کا سماجی، سیاسی اور اقتصادی جائزہ بھی لینا ہوگا اور اس کی سرکاری جانچ بھی کرنا اتنا ہی ضروری ہے۔   اظہار  کے بنیادی حقوق اور مذہبی جذبات کو بھڑکانے جیسے محاوروں کو اگر غور سے دیکھیں تو پائیں گے کہ ایک طرف اس موضوع پر عوامی طاقتوں کی طرف سے اسلامی انتہا پسند طاقتوں کے سامنے مجرمانہ  طور پر ہتھیار ڈالنا  نظر آئے گا دوسری طرف مسلمانوں کے اندر  فسطائی طاقتوں کے ذریعہ  جمہوری حقوق  کے  پردے  میں  پورے مسلم معاشرے پر  اپنی پکڑ بنانے کا مسلسل عمل دکھائی پڑے گا جس کے تار سعودی عرب اور ایران تک سے وابستہ نظر آئیں گے۔

طارق فتح کے معاملے پر بائیں بازو کی طاقتیں ٹھیک اسی طرح خاموش ہیں جیسے انہوں نے ماضی میں سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کے معاملے پر اختیار کی تھی۔   آزادی اظہار کے لیے جدوجہد کرنے سے بڑا  کام  شاید اب ان کا خاموش رہ کر ان مسلم فرقہ پرست طاقتوں کا غیر اعلانیہ  طور پر حمایت کرنا رہ گیا ہے۔   لگتا ہے تاریخ سے کوئی سبق سیکھنے کی عادت اب ان میں نہیں رہی،  نہ ہی سمجھ۔  ایران میں تدے  پارٹی نے خمینی کے شانے بشانے جدوجہد کی اور ایران کی حکومت  ملائوں  کے ہاتھ میں آتے ہی سب سے پہلے تدے پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کا قتل عام اسلام کے نام پر کیا گیا جس میں تقریبا بیس ہزار کمیونسٹوں نے شہادت دی۔  آج بھی یہ عمل رکا نہیں ہے۔  اسی طرح دوسرے اسلامی ملكو میں کمیونسٹوں کوغذہ، ٹيونيسيا اور مصر میں قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے اور آج بھی بنایا جا رہا ہے۔  کیا سیاسی اسلام کے اس فسطائی کردار کا پردہ فاش سوشلسٹ یا عوامی طاقتیں  کریں گی؟  کیا اس سوال پر کانگریس جیسی موقع پرست طاقت کے لڑنے کے بھروسے بیٹھا جائے گا؟

حالات جس تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اسے دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو شام کے نقشے قدم پر دھکیلنے کی تیاری مکمل طور سے چل رہی ہے۔  مرکزی حکومت ہندوستانی مسلمانوں کے سلفی نظریہ  کے زیر اثر آنے  کے مسائل پر خاموش بیٹھی ہے۔  اس  انتہائی خطرناک کھیل میں جیت کسی بھی فریق کی نہیں ہوگی اگر ہو گا تو ہر طرف تبا ہی  ہوگی جس میں  کوئی بھی نہیں  بچے گا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہندوستان کی عوامیت پسند  سیاسی تنظیمیں  اس سوال پر اپنیا موقف  واضح کریں کہ کیا عوامی زندگی میں مذہب  پر مبنی  سیاست کو اجازت دی جانی چاہیے؟ یا انہیں  خاموش رہنے  کو کہہ کر گھر بیٹھنے کے لئے مجبور کیا جائے؟  ظاہر ہے یہ کام قانون سے نہیں ہوگا اس کے لیے سخت سیاسی جدوجہد کرنے اور مضبوط  قوت ارادی  کی ضرورت ہے۔  اس سے پہلے کی بہت دیر ہو جائے یہ کام بہت جلد کیا جانا چاہیے۔  طارق فتح پر جامعہ میں ہوئے اس تنازعہ نے مجھے 1991 میں وہاں کے لمپن طلباء کی طرف سے پروفیسر مشيرالحسن کی مخالفت کی یادیں تازہ کر دی ہیں جسے موجودہ وزیر  خارجہ سلمان خورشید کی سر پرستی حاصل تھی۔  آج اگر ایسے موقع پرست لوگ  ملک کے اقتدار کے اعلی عہدوں پر بیٹھے ہیں تو ان کی حکومت سے اسلامی فسطائیت کے خلاف کوئی جنگ تیز ہو اس غلط فہمی میں کون رہ سکتا ہے؟

شمشاد الہی "شمس" یوں تو کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔  اتر پردیش کے میرٹھ ضلع کے چھوٹے سے قصبے 'موانا' ميں پیدا ہوئے۔ 'شمس' نے میرٹھ کالج میرٹھ سے فلاسفی میں پوسٹ گریجوئیشن  کیا ہے۔   پی ایچ ڈی کے لیے رجسٹریشن تو ہوا  لیکن  کسی  وجہ سے  پوری نہ ہو سکی۔   طالب علمی کی زندگی سے ہی بائیں بازو کے نظریات سے وابستہ ہوئے تو یہ سلسلہ آگے بڑھتا ہی گیا۔

بشکریہ : ہستکشیپ

URL for Hindi article:

http://www.newageislam.com/hindi-section/shamshad-elahee-shams-शमशाद-इलाही-शम्स/tarek-fatah-and-jamia-episode-तारेक-फतह-और-जामिया-प्रकरण--इस्लामी-ताकतों-का-जनवाद-पर-हमला/d/11132

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/shamshad-elahee-shams,-tr-new-age-islam/tarek-fatah-and-jamia-episode-طارق-فتح--اور-جامعہ---کا-واقعہ/d/11134

 

Loading..

Loading..