New Age Islam
Thu Sep 24 2020, 01:55 AM

Urdu Section ( 14 Feb 2018, NewAgeIslam.Com)

Dowry a Black Spot on the face of our Society جہیز ہمارے معاشرے پہ ایک بد نما داغ

 

شمس تبریز قاسمی

9فروری،2018

اللہ رب العزت نے اس کرۂ ارضی پر انسان کو پیدا کیا اور آرام و آرائش کے لئے بہت ساری چیزوں کو پیدا فرما کر ہر اس چیز سے اس کو مزین کیا، جن کے ذریعہ ایک انسان اپنے نفس کو اور اپنی زندگی کو سکون بہم پہنچا سکتا ہے، ان سب کے علاوہ خدا علیم و خبیر نے ایک نہایت ہی انمول چیز بنائی ہے،جو بہت ہی اہم اور مہتمم بالشان ہے،جس کے بغیر یہ دنیا کسی کاغذی پھول کی طرح بے رنگ و نور ہے، اور وہ ہے ’ عورت‘ جس کے بارے میں حضور اکرم نے کہا، کہ ایمان کے بعد نیک صالح بیوی بہت ہی بڑی انمول نعمت ہے۔ اس کی ایک مرد کی زندگی میں کتنی اہمیت ہے، اس کا احساس خود خالق کائنات کچھ یوں کہہ رہا ہے ۔ ترجمہ : یعنی اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے، کہ اس نے تمہارے ہی سے ایک جوڑی پیدا کیا ہے تاکہ تم اس سے سکون حاصل کرو او راللہ نے تمہارے درمیان اخوت و ہمدردی پیدا کردی ہے۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے، جو غور کرتے ہو۔

یقیناًنیک صالح بیوی باعث آرام و راحت ہوتی ہے۔ جس کی عدم موجودگی سے زندگی اجیرن ہوجاتی ، اور زندگی ایسے ہوجاتی ہے، جیسے کوئی عذاب ہو۔ اس نایاب کی عظمت اور اہمیت اس شخص سے پوچھئے جس کی شریک حیات یعنی بیوی زندہ نہیں ہے۔ ایک انسان دن بھر کا م کر کے جب تھکا ماندہ شام کو گھر لوٹتا ہے اور گھر کے اندر قدم رکھتے ہی اس کی بیوی اپنے پیار بھری ایک نگاہ ڈال کر سارا غم و پریشانی کومغلوب کردیتی ہے او رکسی جادو کے اثر کی اس کا سارا کا سارا غم اور ساری کی ساری تھکاوٹیں ایک لخت ختم ہوجاتی ہے ، وہ اپنے آپ کو شاداں و فرحاں تصور کرنے لگتا ہے ، چہرے پہ مسکان چھلک پڑتی ہے او رغم و اندوہ سب کے سب کافور ہو جاتے ہیں ، مگر افسوس کہ آج اسے ہی ہمارے سماج ومعاشرہ کے اندر گری نظر وں سے دیکھا جاتا ہے ، طعنہ وتشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، حد تو یہ ہے کہ انہیں مارا او رپیٹا بھی جاتا ہے اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اسے موت کا جام پلا دیا جاتاہے۔ صرف اور صرف اس لیے کہ اس غریب نے جہیز کی کمی یا جہیز نہ لانے کی غلطی کی ہے اور تعجب تو اس وقت ہوتا ہے، جب ایسا گھناؤنا فعل مال دار او ر پڑھے لکھے لوگوں کے بارے میں معلوم ہوتا ہے ۔ مال کی ہوس اس قدر بڑھ گئی ہے کہ لڑکی کی شکل وصورت، تعلیم و تربیت اور دین و اخلاق سب کچھ اس کے مقابلے میں پیچھے رہ گئے ہیں ۔ آج کل سب سے پہلی چیز جو دیکھی جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ لڑکی کتنی دولت اپنے ساتھ لاسکتی ہے ۔ حسن و جمال ہی کی نہیں ، دین و اخلاق کی بھی اس قدر توہین شاید ہی دنیانے کبھی دیکھی ہو۔ دولت نے ہر اعلیٰ قدر کو شکست دے رکھی ہے۔

اس کا نتیجہ ہے کہ بہت سی لڑکیاں لمبی لمبی عمر تک محض اس لیے بیٹھی رہتی ہیں کہ بد قسمتی سے وہ ایسے ماں باپ کے گھر پیدا ہوگئیں جو ان کے لیے جہیز فراہم نہیں کرسکتے ۔ ان میں کتنی ہی مظلوم او ربے زبان زندگی بھر کنواری رہ جاتی ہیں ۔ کچھ نیک بخت صورتحال کی نزاکت کا احساس کرکے از خود شادی سے انکار کردیتی ہیں تاکہ ان کے والدین ان کی شادی کی فکر سے آزاد ہوجائیں او روہ اپنی امنگوں اور تمناؤں کاگلہ گھونٹ دیتی ہیں اپنی معصوم آنکھوں میں بسنے والے رنگین خواب کا خون کردیتی ہیں ، اپنی آرزوں ، تمناؤں اور حسین زندگی کے سپنوں کو جہیز کی آگ میں جلا دیتی ہیں۔

یہ ایک ایسی قبیح رسم ہے جس سے صرف غریب والدین زندہ درگور ہورہے ہیں او راس آس پر زندہ ہیں کہ کوئی فرشتہ صفت انسان اس لعنت سے پاک دو جوڑا کپڑوں میں ان کے لخت جگر کو قبول کرے۔ آپ کے پاس اگر زندہ دل ہے، تو آپ ذرا تصور کریں، کہ کسی غریب کے گھر اگر 5-6لڑکیاں پیدا ہوجائیں ،تو وہ بے چارا کیسے اپنی بیٹیوں کے اچھے گھرانے میں شادی کرسکتا ہے ، اس غریب کے دل میں دن رات کس کرب و پریشانی کا عالم ہوگا، جوں جوں بیٹیاں جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھیں گی، اس ستم زدہ باپ کی رات کی نیندیں اڑجائیں گی ۔ اور اگر کسی بھی طرح سے اپنے خون کو پانی کرکے، اپنی غیرت و شرافت کو پش و پشت ڈال کر ، کسی کے سامنے دست سوال دراز کر کے ظالم و جابر بیٹے والی کی مانگیں پوری کرتے ہوئے جہیز کے مطالبے کوپوری کردے، تو آپ سوچئے ! اس وقت اس قسمت کے مارے ہوئے باپ کے دل پہ کیا گزرے گا ، جب اس کو یہ معلوم ہو ، کہ سسرال والے اب بھی کچھ چیزوں کے نہ دینے کی وجہ سے ، اس کی نازوں پر پلی ہوئی بیٹی کو طعنہ دیتے ہیں ۔ حد تو یہ ہے لڑکے والے یہاں تک بے شرمی کردیتے ہیں ، کہ اگر کسی کو ذرا سا اچھا کپڑا نہ دیا گیا یا من مطابق کھانے میں تھوڑی سی کمی رہ گئی ، تو معصوم لڑکی کو اکثر طعنہ وتشنیع والی باتیں سناتے رہتے ہیں ۔ کبھی شوہر کی طرف سے ہی یہ باتیں ہوتی ہیں اور اگر اس کے اندر ذرا سا انسانیت ہو، تو یہ خدمت قریبی رشتہ دار انجام دینے کو تیار رہتے ہیں ۔ اب اسے اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ جس شخص نے اپنی کمائی سے 1000روپے کا کبھی کپڑا نہیں پہنا ہو، وہ شخص لڑکی والوں سے دس دس ہزار کا صرف جوتا لے اور دس سے پندرہ ہزار روپے کا سوٹ بنوائے۔ بھئی! اگر خواہش ہی ہے ،تو خود کے پیسے سے کرونا! یہ کیا کہ دوسروں سے بھیک مانگو! اور دوسری بات یہ ہے بسا اوقات لڑکے والے کی طرف سے یہ فرمائش کی جاتی ہے، کہ مجھے ناشتے میں ایک ایک انڈا، دو دو مٹھائی اور کولڈ رنگ کا اتنے گرام کی بوتل ہونی چاہئے ۔ نیز اس کے بعد آئس کریم بھی ہوناچاہئے ۔ میرے دوست!آپ اگر ان چیزوں کی فرمائش نہیں کریں گے، تب بھی آپ کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ سوچئے گاکہ آج بھی اپنے گھر پہ ہی کھانا کھارہا ہوں ، اس لیے کہ یقیناًآپ اپنے گھر پہ ہمیشہ یہ ساری چیزیں نہیں کھاتے ہوں گے ۔کیونکہ آپ کی اس فرمائش سے نہ جانے اس غریب باپ پہ کیا گزرتی ہے؟ اس کا اندازہ آپ نہیں لگا سکتے،نیز ایک بات یہ بھی کہنے دیجئے کہ جو بھی چیز لڑکی کو ملے، اس پہ اس کا ہی حق رہنے دیجئے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اس پہ سانپ بن کر بیٹھ جائیں ۔ یہ شاید میری یہ بات لڑکے والوں کے لیے سخت ہو، پر کیا کروں؟ کہ ’ زہر بھی کبھی کرتاہے کار تریاقی‘۔

اگر جہیز کی لعنت کا خاتمہ ہوجائے اور شادیاں سستی ہوجائیں تو کئی نوجوان بچیوں کے چہرے سے انگنت خدشات سے پاک ہوجائیں گے اور غریب والدین ان داخلی زنجیروں اور فرسودہ رسموں کے طوق سے آزاد ہوکر اپنے فرائض کو ادا کرسکیں گے۔ موجودہ دور میں جہاں تعلیم عام ہوتی جارہی ہے لوگوں میں شعور آتا جارہا ہے ۔ پھر بھی جہیز کی لعنت بڑھتی جارہی ہے۔باوجوداس کے کہ سب سمجھتے ہیں کہ یہ ایک اچھا عمل نہیں ہے۔ ہندوستان میں جہیز چیتا کہ بھینٹ چڑھنے والی صنف نازک جو تعداد ہمارے سامنے ہے وہ کسی بھی ہوش منداور حساس انسان کو تڑپا دینے کیلئے کافی ہے۔31جولائی 2015کو ایک انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس (The Indian Express) نے یہ رپورٹ شائع کی ، کہ پچھلے تین سالوں میں جہیز کی وجہ سے 24771(چوبیس ہزار سات سو اکہتر) واقعہ ہوئے ہیں، جب کے ایک دوسرے انگریزی اخبار The Pioneerاگست 2015ہی کی رپورٹ ہے، کہ اپنے ملک ہندوستان میں ہر روز 22ہزار لڑکیاں جہیز کی وجہ سے مار دی جاتی ہیں، اتر پردیش ، بہار او رمدھیہ پردیش بالترتیب جہیز کے کیس میں پورے ہندوستان میں سب سے آگے ہیں ۔

ایک انگریزی اخبار The Hinduنے NCRB(National Crime Buro Records) کو حوالے سے 6اگست 2016کو یہ رپورٹ پیش کی تھی، کہ 1جنوری 2001سے 31دسمبر2012کے دوران 91202جہیز کی وجہ سے موت کی خبر درج کی گئی ہے۔

2005کی رپورٹ کے لحاظ سے ہمارے ملک میں ہر 77منٹ پر ایک عورت جہیز کی سولی پر دم توڑ تی نظر آتی ہے ۔ سرکاری ریکارڈ بیورو کی رپورٹ کے مطابق 2003میں 6208عورتوں کو کم جہیز لانے کی پاداش میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ یوں ہی 2004میں ان بدنصیبوں کی تعداد 7026اور 6787ہے۔ جیسا میں نے پہلے ذکر کیا ہے، کہ صوبہ اتر پردیش اس طرح کے دل سوز جرائم کی دنیا میں سب سے آگے ہے۔ جہاں 2003میں 1322، 2004میں 1708 اور 2005میں 1564عورتوں کو کم جہیز لانے کے جرم میں موت کی نیند سلادیا گیا ۔ اتر پردیش کے بعد دوسرے نمبر پر صوبہ بہار کا نام آتا ہے ،اس کے بعدان صوبوں کا نمبرآتا ہے۔ مدھیہ پردیش ،آندھرا پردیش ، مہاراشٹر، راجستھان، کرناٹک، اڑیسہ ، ہریانہ، تمل ناڈو وغیرہ جہاں اس طرح کے اموات کی شرح کچھ کم نہیں ہے۔ ( روز نامہ راشٹریہ سہارا ،لکھنؤ ۔ ایڈیشن31مارچ 2007۔اگر ہم مذکورہ اعداد و شمار کا مقابلہ ماضی کے ریکارڈ سے کرتے ہیں تو ہمیں اس میں حیرت انگیز طور پر اضافہ ہوتا نظر آتا ہے کیونکہ 1977اور 1978میں اس کے اموات کی شرح 5245اور 1986میں1396،1987میں 1228، 1988اور 1990میں 11000اور 1998میں 1397اس طرح کے واقعات سامنے آئے تھے ۔ (ہفت روزہ عالمی سہارا ۔جنوری 2006)

آئیے ! آج ہم اب مل کر یہ عہد کریں، کہ نہ جہیز لیں گے او رنہیں کسی کو لینے دیں گے او راگر کوئی بازنہ آئے ، تو اس سے ہر قسم کے تعلقات ختم کرلیں گے ! اس لیے کہ اس طرح کا طریقہ کار اپنا بغیر سماج سے جہیز جیسی لعنت کا خاتمہ محال نہیں تو مشکل ضرور ہے۔

9فروری،2018، بشکریہ : روز نامہ میرا وطن، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/shams-tabrez-qasmi/dowry-a-black-spot-on-the-face-of-our-society--جہیز-ہمارے-معاشرے-پہ-ایک-بد-نما-داغ/d/114281

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..