New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 04:13 AM

Urdu Section ( 25 Apr 2017, NewAgeIslam.Com)

Will This Appeal Effect کیا اس اپیل کا اثر ہوگا؟





شمیم طارق

21اپریل،2017

بی جے پی کی مجلس عاملہ کی میٹنگ کے دوسرے دن اپنی پارٹی کے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریند مودی نے کہا کہ ’’ ہمیں یہ ہنر سیکھنا چاہئے کہ کب کیا بولنا ہے کیوں کہ متنازع بیانات کئی کاموں پر پانی پھیر دیتے ہیں‘‘ ۔ ظاہر ہے ان کا اشارہ ان رہنماؤں او رکارکنوں کی طرف تھا جو اشتعال انگیزی کرتے ہیں۔ اس سے چار پانچ روز قبل دارالعلوم دیو بند کے مہتمم نے علماء اور مسلم دانشوروں سے اپیل کی تھی کہ عائلی مسائل پر گفتگو کرنے کے لئے میڈیا کے پروگراموں کا بائیکاٹ کریں ۔ چپ رہنے کا مشورہ دینے والے نریندر مودی اس حد تک با اختیار ہیں کہ حکومت او رحکمراں جماعت دونوں ان کے اشارے پر کام کرتی ہیں ۔ میڈیا کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کرنے والے مہتمم دارالعلوم دیوبند کی حیثیت یہ ہے کہ وہ اچھی باتوں او راچھے کاموں کی ترغیب تو دے سکتے ہیں کسی کو اچھے کام کرنے پر آمادہ نہیں کر سکتے ۔ مودی جی نے اپنے بیان میں جہاں اپنی پارٹی کے کارکنوں کو یہ یاد دہانی کی ہے حکمرانی کی کچھ نزاکتیں ہوتی ہیں او رحکمراں جماعت یا حکومت کے لوگوں کی موقع بے موقع کہی ہوئی اشتعال انگیز باتیں حکومت کی بدنامی کا سبب بنتی ہیں وہیں دارالعلوم کے مہتمم کی اپیل میں اس شکایت کے ساتھ کہ میڈیا عائلی مسائل پر گفتگو کے نام پر کھیل کھیل رہا ہے یہ اعتراف بھی شامل ہے کہ مسلمان دانشور، علماء یا علماء جیسی وضع قطع اختیار کرنے والے اشخاص کیمرے کے سامنے گل افشانی گفتار کامظاہرہ کرنے کے لئے تو بے تاب رہتے ہیں مگران میں سے بیشتر اس کے اہل ہی نہیں اس لئے ملت کی شبیہ متاثر ہوئی ہے۔یہ بات کوئی او رکہتا تو اس کو یہ کہہ کر معتوب کیا جاتا کہ وہ علماء کادشمن ہے اس لئے سب سے پہلے تو مہتمم دارالعلوم دیوبند کا شکر یہ ادا کیا جانا چاہئے کہ انہوں نے ڈھکے چھپے لفظوں ہی سہی، مگر ایک سچی بات کہی، واقعی علماء او رعلماء جیسی وضع قطع اختیار کرنے والوں میں بیشتر اس کے اہل ہی نہیں ہیں کہ عائلی یا دوسرے مسائل پر ملت کی ترجمانی کرسکیں۔ لیکن اپنی جماعتی یا خاندانی حیثیت کے سبب بیان دینا ضروری سمجھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ حقیقت بھی اب مخفی نہیں رہ گئی ہے کہ میڈیا ہی نہیں ملی پلیٹ فارم سے مسلمانوں کی ترجمانی کے نام پر ایسے جملے بولنے کے لئے جن سے مسلم دشمن طاقتوں کوفرقہ وارانہ صف آرائی کاموقع ملے ایک خاص وضع قطع کے لوگوں کو خاص معاوضہ ملتا ہے جب کہ دوسرے لوگوں کے مسلمانوں کے جذبات کوٹھیس پہنچانے والے بیانات کی بھی خوب پذیرائی کی جاتی ہے۔ غیر علماء انگریزی تعلیم یافتہ اور عام لوگوں میں شرعی قوانین او رعلماء کا احترام کرنے والوں کی ہی اکثریت ہے۔ ایسے بدتوفیق لوگ چند ہی ہوں گے جنہیں شرعی قوانین اور علماء سے کد ہوگا۔ ہاں چند لوگ انہیں دنیاداری سے بچنے ، سیاسی قوتوں کا آلۂ کار بننے سے گریز کرنے اور مسلک و جماعت یا کسی اور بنیاد غیر ضروری بیان بازی سے دور رہنے کی ترغیب دے کر عتاب مول لیتے رہتے ہیں حالانکہ ان کا ایسا کرنا شریعت یا علماء کی دشمنی کے سبب نہیں ہوتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اس طبقے اور علماء میں دوری بڑھتی گئی ہے اور اب صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ شریعت اور مسلمانوں کی اجتماعیت کوترچھی نظر سے دیکھنے والوں کو مسلمانوں میں سے ہی آلۂ کار ملنے لگے ہیں ۔

مسلم معاشرہ کس حد تک ابتری اور اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوچکا ہے اس کا اندازہ ملی قیادت کو نہیں ہے۔ بھیک مانگنے والوں میں ہر چوتھا شخص مسلمان ہے ۔ جسم فروشی کرنے والوں میں مسلمانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔ قبرستان اور اوقاف کو غصب یا ان کے مال میں غبن کرنے والوں میں مسلمان سب سے زیادہ ہیں ۔ مسلمانوں کاکوئی ادارہ یا ٹرسٹ جھگڑے فساد سے خالی نہیں ہیں دادری جیسے کتنے واقعات ملک میں ہوئے؟ مسلمانوں کی کتنی صنعتیں تباہ ہوئیں یہ سب جاننے کے لئے دوسروں کی محتاجی ہے۔مسلمان اپنے طور پر اپنی معاشی، سماجی، تعلیمی پستی کا اندازہ بھی نہیں لگا سکے ہیں ۔ ان کی بستیوں میں امیر و غریب او ر اعلیٰ و ادنیٰ کی خلیج بڑھ رہی ہے۔ جو دولتمند ہے وہ سمجھتا ہے کہ وہ ہمیشہ دولتمند رہے گا جو پریشاں حال ہے اس کو یقین دلادیا گیا ہے کہ پریشانی ہی اس کا مقدر ہے جس سے اس کو کبھی نجات نہیں ملے گی۔ مساجد و مدارس کی تعمیر اور غیر مسلمانوں کی اعانت کے لئے بدیس سے لائی ہوئی رقوم پر عیش کرنے کے واقعات بھی لوگوں کے سامنے آرہے ہیں ۔ دوسروں کی برائیوں کی تشہیر او راپنی نیکی پر غرور عام بات ہوگئی ہے ایسے میں مسلمانوں میں سے ہی مسلم دشمن طاقتوں کو خوراک فراہم ہونا حیرت کی بات نہیں ہے۔ رہی سہی کسر وہ لوگ پوری کررہے ہیں جو مسئلہ کی نوعیت کو صحیح طریقے سے سمجھتے ہیں نہ اسلامی احکام کو، مگرٹی وی پر رائے دینا اور اخباروں میں بیان چھپواناضروری سمجھتے ہیں ۔ مثال کے طور پر طلاق ثلاثہ کے واقع ہونے کے سلسلے میں ایک مسلک پروار کرنے والے یہ کبھی نہیں بتاتے کہ طلاق ہی نہیں نکاح کے وجوب و شرائط میں بھی مختلف مسائل میں اختلاف ہے۔اس لئے طلاق ہی نہیں نکاح کے بارے میں بھی ان کو رائے دیناچاہئے کہ ایک مجلس میں تین طلاق کے واقع ہونے کے قائلین جس طرح نکاح پڑھتے یا پڑھاتے ہیں وہ صحیح ہوتا ہے یا نہیں؟ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم نے اچھا کیا کہ ان کے نام اپیل جاری کی، مگر یہ اپیل ادھوری معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس میں مائک ، ٹی وی اور اخبار سے بہر طور رشتہ قائم رکھنے کی کوشش کرنے والے علما، یا علماء جیسی وضع قطع کے لوگوں کی کم فہمی اور شہرت پسندی کی طرف اشارہ نہیں ہے۔ یہ تو وہ لوگ ہیں جن کی شدید ترین لفظوں میں مذمت ہونی چاہئے ۔

یہ لوگ اگر اپنی روش پر قائم رہے تو آنے والے دنوں میں مسلمانوں کی شبیہ اور حالت مزید بگڑ ے گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت میں ان کی پارٹی یا پارٹی کے تائید یا فتہ لوگ جو بیان دے رہے ہیں یا کر رہے ہیں اس کی دھمک بیرون ہند میں بھی محسوس ہورہی ہے۔ حکومت اور حکمراں جماعت کی نظر میں مسلمانوں کی آبادی یا قیادت کا کوئی بھرم نہیں رہ گیا ہے۔ وہ خوب سمجھتی ہے کہ ان تلو ں میں تیل نہیں ہے مگر بیرون ہند ہندوستانی حکومت کی جو شبیہ بن رہی ہے اس سے وزیر اعظم یا آر ایس ایس بے نیاز نہیں ہے اور وہ عالمی برادری میں اپنی شبیہ خراب کئے بغیر اپنا وہ ایجنڈا نافذ کرناچاہتی ہے جو 1925ء سے ہی اس کے پیش نظر رہا ہے ۔ اسی لئے ایک خاص حکمت عملی کے تحت حکومت سازی سے پہلے حکمراں جماعت کے لوگ ایسے بیانات دیتے ہیں جن سے فرقہ وارانہ صف آرائی شروع ہو اور اقتدار میں آنے کے بعد ایسے بیانات دیتے ہیں جن سے عالمی برادری میں ان کی حکومت کی ساکھ قائم رہے۔ معلوم نہیں کیوں عام مسلمان اور ان کی مذہبی سیاسی قیادت نے اس سوال کو کبھی قابل اعتنا نہیں سمجھا کہ ایسا کیوں ہے کہ مسلمان ہی ستم رسیدہ بھی ہیں اور بدنام بھی ۔ ایسا ہوا ہوتا تو مہتمم دارالعلوم دیوبند نے بہت پہلے یہ محسوس کیا ہوتا کہ کچھ لوگوں کو تبرکاً مائک دے دینے یا ان کو ملت کا ترجمان سمجھ لئے جانے کے کتنے مضر نتائج سامنے آئے ہیں اور انہوں نے شاید میڈیا کے بائیکاٹ کی اپیل کرنے کے بجائے یہ اپیل کی ہوتی کہ مسلمان دانشور اور علماء ٹی وی کے مباحثے میں ضرور شرکت کریں مگر پہلے وہ اتنی معلومات حاصل کرلیں او رمباحثے کی زبان و بیان سے واقف ہوجائیں کہ اینکر کے داؤ سے چت ہونے کے بجائے اس کو اسی کے داؤ سے چت کرسکیں ۔

21اپریل، 2017 بشکریہ : انقلاب ،نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/shamim-tariq/will-this-appeal-effect--کیا-اس-اپیل-کا-اثر-ہوگا؟/d/110904

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..