New Age Islam
Sun Apr 11 2021, 11:57 AM

Urdu Section ( 27 Jan 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Republic day: A Dawn Battered by Night یوم جمہوریہ: یہ شب گزیدہ سحر


شمیم اکرم رحمانی

26 جنوری ، 2021

۱۵؍اگست۱۹۴۷ء کو گرچہ وطن عزیز میں آزادی کا سورج طلوع ہو چکا تھا لیکن ہزاروں آرزوؤں کے بعد طلوع ہونے والا یہ سورج وطن اور اہل وطن کے لئے باضابطہ نفع بخش نہیں تھا، اس لئے کہ گورنمنٹ آف انڈیاایکٹ ۱۹۳۵ءہی ملک میں نافذ تھا، یہاں تک کہ ۲۶؍جنوری ۱۹۵۰ء کی صبح نے وطن عزیز میں دستک دی اور گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵ءکو ہٹاکر ملک میں آئین ہند کا نفاذ عمل میں آیا جس کے نتیجے میں نہ صرف بھارت ایک خود مختار ریاست اور مکمل طور پر ریپبلکن  یونٹ میں تبدیل ہوا بلکہ حقیقی معنوں میں آزاد ہوا  جہاں سب کچھ وطن اور اہل وطن کا تھا جہاں ذات ،برادری، مذہب اور دھرم کی تفریق نہیں تھی اور جہاں ہر فرد کو ’’ہندی ہیں ہم وطن ہیں ہندوستان ہمارا‘‘ کہہ کر جینے کا حق حاصل تھا ،آزادی کے بعد باشندگان ہند کو جو دستور ملا تھا وہ دنیا کا سب سے ضخیم تحریری دستور تھا، چونکہ ملک کی آزادی میں ہر مذہب، دھرم اور برادری کے لوگوں نے حصہ لیا،تھا اس لیے دستور میں سب کو برابر حق دیا گیا تھا، ہرمذہب سے تعلق رکھنے والے شخص کو اپنے مذہب پر عمل اور اس کی تبلیغ کی مکمل آزادی فراہم کی گئی تھی ،اپنی  پسند کے ادارے کھولنے کا اختیار دیا گیاتھا، مذہب کی بنیاد پر نہ سہی؛ لیکن پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن کی سہولت بھی رکھی گئی تھی؛ تاکہ اگر کوئی قوم معاشی یا تعلیمی پسماندگی کی شکار ہو تو اس کے حالات ٹھیک ہو سکیں، کل ملا کر بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر اور ان کے رفقاء کار کی انتھک جد جہد کے بعد تیار ہونے والا دستور کچھ خامیوں کے باوجود اتنا شاندار تھا کہ اگر اسے زمین پر انصاف سے اتار دیاجاتا تو سچ مچ ہندوستان جنت نظیر ہوتالیکن بات وہی ہے چیزیں استعمال کرنے والوں پر منحصر ہواکرتی ہیں تلواریں بازوؤں کی قوت و ضعف کی بنیاد پر کار گر ہواکرتی ہیں بابا صاحب امبیڈکر کو شدت کے ساتھ اس بات کااحساس تھا اسی لئے قانون ساز کی حیثیت سے انہوں نے اپنے پہلے انٹرویو میں کہا تھا کہ’ آئین خواہ کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں اگر وہ لوگ جنہیں آئین پر عمل درآمد کرانے کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں خراب نکل جائیں تو یقینی طور پر آئین خراب ثابت ہوںگے، اسی طرح آئین خواہ کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں اگر وہ لوگ جنہیں آئین پر عمل درآمد کرانے کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں اچھے ہوں تو آئین درست ثابت ہو ں گے‘۔

 وطن عزیز کی بدقسمتی تھی کہ آزادی کے بعد سے ہی زمام اقتدار ان لوگوں کے ہاتھوں میں رہی جنہوں نے یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کے موقع پر تقریبات میں آئین کی دہائیاں تو خوب دیں لیکن آئین کی بالادستی کے لیے جدوجہد کرنے کے بجائے ذات، برادری، ووٹ، خوف اور مفادات کی سیاستیں کیں جن کے نتائج تو تباہ کن ثابت ہونے ہی تھے سو ہوئے اور سینکڑوں ترقیاتی کاموں کے باوجود ملک آئین کی حکمرانی سے حقیقی معنوں میں محروم ہی رہا، نتیجتاً ذاتی ،گروہی، دھارمک اور دوسرے اغراض و مفادات کے حصول کے لیے دستور ہند سے کھلواڑ ہوتارہا، دستور کے الفاظ ومعانی اور نتائج کو بازیچہ اطفال بنایاگیا اورطاقت کے نشے میں دستور ہند کے ساتھ وہ سارے کام کیے گیے جو شاید دنیا کے کسی اور دستور کے ساتھ نہیں کیے گئے ہوںگے۔یہاں تک کہ۲۰۱۴ءکا وہ دور آیا جب آئین کے محافظ ہی وہ لوگ قرار پائے جن کے سامنے آئین کی کوئی حیثیت نہیں تھی، پھر کیا تھا نفرت و عداوت کا جن پوری طرح بوتل سے باہرآگیا اور وہ لوگ جنہوں نے دھارمک بنیادوں پر بی جے پی کی حکومت کے قیام کیلئے محنتیں کی تھیں ان کے حوصلے بے انتہا بلند ہوئے جس کا اظہار اس طرح ہوا کہ سینکڑوں اخلاق، پہلوخاں،جنید اور تبریز ہجومی دہشت گردیوں کی نذرہوئے؛ لیکن معاملہ یہاں بھی تھم نہیں گیا بلکہ اسی دوران گھر واپسی، لوجہاد ،لینڈ جہا،د ٹرپل طلاق اور نہ جانے کتنے الٹے سیدھے شوشے چھوڑ کر ملک کی فضا کو مزید زہر آلود کرنے کوششیں کی گئیں اور بالآخر اہل وطن کی نگاہوں نے وہ وقت بھی دیکھا جب سپریم کورٹ کے چار سینئر ججز نے جسٹس دیپک مشرا کے خلاف پریس کانفرنس کرکے بھارت کی جمہوریت کے سلسلے میں تحفظات کا اظہار کیا؛ لیکن اتنے حساس معاملے نے بھی اسلام اور مسلم مخالف شوشوں پر قدغن لگانے میں اپنا رول ادا نہیں کیا  اور سب کچھ اسی طرح چلتا رہا جس طرح چل رہاتھا۔ یہاں تک کہ۲۰۱۹ء کے لوک سبھا انتخابات کے نتیجوں کا اعلان ہوگیا اور پھر بی جے پی کو ہی حکومت سازی کا موقع ملا، وزیر اعظم مودی نے نے حلف اٹھاتے ہوئے اپنے شلوگن سب کا ساتھ سب کا وکاس میں سب کے وشواس کا اضافہ ضرور کیا جس سے مسلمانوں نے چند دنوں کے لیے راحت کی سانسیں لیں؛ لیکن پھر وہی سارے کام ہونے شروع ہوئے جوپہلے ہورہے تھے، بلکہ مزید شدت کے ساتھ اقلیت مخالف ایجنڈے پروان چڑھنے لگے ،جس کی اہم ترین کڑی سی اے اے مجوزہ این پی ار اور مجوزہ این آرسی تھی، حکومت نے مذکورہ قوانین کے ذریعے مسلمانوں کے وجود پر سوالیہ نشان کھڑاکرنے کی ناپاک کوشش کی جس کی وجہ سے مسلمانوں میں مزید مایوسیاں پھیلنے لگیں، عدم تحفظ کا احساس شدید تر ہونے لگا، آنکھیں آنسوؤں میں نہاکر شکوہ کناں ہونے لگیں ،اور سینکڑوں سوالات کے ساتھ لب جنبش کرنے لگے کہ   ؎

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

(فیض احمد فیض)

تجارت کے میدان میں مضبوطی سے قدم بڑھانے ہونگے اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا مزاج پیداکرناہوگا، جبکہ اجتماعی طور مسلک و مشرب سے بالاتر ہو کر بہتر سیاسی حکمت عملی اپنانی ہوگی ۔آزادی سے قبل بہار میں حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد ؒنے جو کامیاب حکمت عملی آپناء تھی کم از کم صوبائی سطح پر وہی حکمت عملی اس دور میں بھی کارگر ثابت ہوسکتی ہے اور اسی سے دستور ہند کو تحفظ بھی فراہم ہوسکتا ہے۔ اب گرچہ مسلم لیگ نہیں ہے ؛لیکن بی جے پی ، کانگریس اور متعدد سوکالڈ سیکولر پارٹیاں ہیں، جنہیں سبق سکھانے کی ضرورت ہے، بالکل اسی طرح جس طرح مولانا رحمۃاللہ علیہ نے سکھایا تھا۔ سبق سکھانا بچوں کا کھیل نہیں ہے، بلکہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہے؛ لیکن جو لوگ یہی کام کررہے ہیں وہ بیٹھ کر سوچیں تو سہی ورنہ کام کیسے چلے گا؟؎

کوئی تو سود چکائے کوئی تو ذمہ لے

اس انقلاب کا جو آج تک ادھار سا ہے

(کیفی اعظمی)

26 جنوری ،2021،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/shamim-akram-rahmani/the-republic-day-a-dawn-battered-by-night-یوم-جمہوریہ-یہ-شب-گزیدہ-سحر/d/124161


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..