New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 05:10 AM

Urdu Section ( 7 Jun 2017, NewAgeIslam.Com)

You Terrorists Are Shameless! !بے شرم تم ہو دہشت گردو

 

 

شکیل شمسی

7جون،2017

کشمیر کے بدنام ترین دہشت گرد ذاکر موسیٰ نے ایک بیان میں ہندوستانی مسلمانوں کو بے شرم، بے غیرت اور بے حیا جیسے القاب سے یاد کیا ہے۔اسلام کے نام پر انسانوں کا خون بہانے والے اس درندے نے ہندوستان میں ہونے والے جرائم کو فرقہ پرستی کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ اس انتہا پسندنے اپنا ایک ریکار ڈ بیان ہندوستانی مسلمانو ں کیلئے جاری کیا ہے، جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ غزوۂ ہند میں شامل ہوکر ہندوستان میں ایک اسلامی حکومت کے قیام کی جد وجہد میں شامل ہوجائیں۔ کشمیر جنت بے نظیر کو جہنم میں تبدیل کرنے والے دہشت گردوں کے اس سرغنہ نے اپنے بیان میں ہندوستانی مسلمانوں کی غیرت اور حمیت کو للکار کر ان کو بھرکانے کی کوشش کی ہے۔ اس نے ٹرین میں ایک مسلم لڑکی کی مبینہ عصمت دری کو مسلمانوں او راسلام پر ایک وار قرار دیا ہے اور اس کا انتقام لینے کی ضرورت پر زوردیاہے۔ اس نے گاؤ بھکتوں کی حرکتوں کے خلاف بھی مسلمانوں کو کھڑے ہوجانے کی آواز دی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ مسلمان اپنی بزدلی کو یہ کہہ کر چھپاتے ہیں کہ اسلام امن و آشتی کامذہب ہے؟ اصل میں ذاکر موسیٰ جیسے تمام انتہا پسند تشدد کو ہی مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل قرار دیتے ہیں او راسی وجہ سے آج ساری دنیا کے مسلمان خاک و خون میں غلطاں ہیں ۔

 ہم سب جانتے ہیں کہ دہشت گرد انتقام کس سے لیتے ہیں ؟بازاروں میں بم رکھ کر ،عبادتگاہوں میں خود کش دھماکے کر کے اور عصمت دری کو اسلام پر حملہ قرار دینے والے دہشت گرد 300اسکولی لڑکیوں کو ایک ساتھ اغوا کرنے کو بالکل اسلامی کام سمجھتے ہیں ۔ جہاد النکاح کے نام پر ایک ایک لڑی کے ساتھ کئی کئی دہشت گرد ہم بستری کرتے ہیں تب ان کو اسلام پر ہونے والے حملے خوبصورت لگتے ہیں ۔ ذاکر موسیٰ ہندوستانی مسلمانوں کو بھڑکا کر اپنا الّو سیدھا کرناچاہتا ہے ، وہ چاہتا ہے کہ ہندوستان بھر میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھیں اور اس کے آقاؤں کا کام آسان ہوجائے۔ وہ ہندوستانی مسلمانوں کو طعنے دے کر ہندوؤں کے خلاف بھڑکانے کی سازش اس لئے رچ رہا ہے کہ اس کو پتہ چل گیا ہے کہ وہ اور اس کے ساتھی کشمیر میں اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اسلام کے نام پر مسلمانوں کو بھڑکانے کا کام کرنے والے اسی ذاکر موسیٰ نے پچھلے مہینے میں حریت کے لیڈروں کا سرقلم کرنے کو کہا تھا جس کے بعد اس کو بدنام زمانہ دہشت گرد گروہ حزب المجاہدین کی سربراہی چھوڑنا پڑی تھی ۔ اسلام کی دہائی دینے والے اسی ذاکر موسیٰ نے اپنے حریف گروہ کے دہشت گرد زسبزار بھٹ کومروانے کے لئے مخبری بھی کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کی تھی ۔ہم ہندوستانی مسلمان کشمیری دہشت گردوں کے منصوبوں کو اچھی طرح جانتے ہیں ، ہم کو معلوم ہے کہ اس ملک میں وہ سب سے زیادہ محفوظ ہیں ۔

جس پاکستان کے ساتھ کشمیر ی دہشت گرد الحاق چاہتے ہیں اسی پاکستان میں عالم یہ ہے کہ وہاں 2003ء سے 2017ء کے درمیان 62ہزار 116لوگ دہشت گردی کی وجہ سے مارے گئے ہیں ۔ ان میں 21ہزار 753عام شہری،6ہزار 741سیکورٹی اہلکار اور 33ہزار 622دہشت گرد مارے جاچکے ہیں او رمرنے والے بھی سب مسلمان مارنے والے بھی ۔ اس کے علاوہ ہر دن ٹارگٹ کلنگ میں جو شیعہ ،صوفی، بریلوی، قادیانی ،عیسائی اور ہندو مارے جاتے ہیں ان کا تو کوئی شمار نہیں ہے، کیونکہ ان کو روز مرہ کے جرائم کی فہرست میں ڈال دیاجاتا ہے۔ پاکستان کی حمایت کرنے والے د ہشت گرد ہمیں بتائیں کہ اس عرصہ میں ہندوستان میں کتنے مسلمانو ں کا قتل ہوا؟ ہم مانتے ہیں کہ یہاں ہندوؤں میں بھی انتہا پسندی پنپ رہی ہے مگر اللہ کا شکر ہے کہ اس کے خلاف ہندو بھی آواز اٹھاتے ہیں ۔ ایک اور سچ یہ ہے کہ ہندوستان میں دہشت گردی کے الزام میں آزادی کے بعد سے اب تک صرف تین مسلمانوں کو پھانسی دی گئی لیکن پاکستان میں 2014ء سے لے کر آج تک 400مسلمانوں کو دہشت گردی کے الزام میں پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جاچکا ہے، مگر پھر بھی کشمیر کے بے غیرت دہشت گرد پاکستان کے خلاف نہیں ہندوستان کے خلاف زہر اگلتے ہیں ۔ اسلام کے نام پر کلنک بن کر ابھرنے والے یہ بندوق بردار دہشت گرد ہندوستانی مسلمانوں پر طعنہ زن ہیں جب کہ دنیا کے سب سے بڑے بے حیا اور بے غیرت وہی دہشت گرد ہیں جو اسلام کو خاک و خون میں غلطاکررہے ہیں ۔

7جون،2017 بشکریہ : انقلاب، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/shakeel-shamsi/you-terrorists-are-shameless!--!بے-شرم-تم-ہو-دہشت-گردو/d/111451

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..