New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 11:22 PM

Urdu Section ( 31 Dec 2017, NewAgeIslam.Com)

Taliban's Wish: To Make India Bleed طالبان کا ارمان ، لہولہان ہو ہندوستان

 

 

 

شکیل شمسی

29دسمبر،2017

جب روس نے افغانستان پر قبضہ کیا اور اس کے خلاف افغانستان کے عوام نے جد و جہد شروع کی تو امریکی ایجنسی سی آئی اے نے افغانیوں کا جذباتی استحصال کرتے ہوئے، پاکستان کے سرحدوں پر چل رہے مدرسوں میں ان افغان مہاجرین کو تلاش کیا جو بے وطنی کے عالم میں بھی علم حاصل کرنے کی کوشش کے تحت ان مدارس میں بھرتی ہوئے تھے ۔ مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے افغانی طالبان علم کو مذہب اور دین کے نام پر ٹریننگ دے کر سی آئی اے نے ہمیشہ کے لیے جنگجو بنا دیا۔ ان لوگوں نے بہت جواں مردی کے ساتھ روس کی طاقتور فوج کوافغانستان سے نکال باہر کیا اور افغانستان کوامریکی کالونی جیسا بنانے میں سی آئی اے کی مدد کی، مگر کچھ ہی دن بعد طالبان نے امریکہ کی ڈوریاں تڑالیں اور اسلام کے نام پردہشت گردی کاکھیل شروع کردیا۔جوکل تک خود کو طالبا ن علم کہتے تھے وہ طالبان دنیابن کر مختلف ممالک میں وہی نسخہ آزمانے میں لگ گئے جس کے ذریعہ انہوں نے روس کو شکست دی تھی۔

انہوں نے امریکی مفادات پر بھی حملے کرناشروع کردئے جس کے بعدان کو دنیا کی بدترین مخلوق قرار دے دیا گیا اوروہی لو گ جن کو کسی زمانے میں وہائٹ ہاؤس میں لنچ اورڈنر کاموقع دیا جاتاتھا وہ دنیا کے سب سے بڑے لوگ قرار پائے۔ پھر نائن الیون کا واقعہ ہوا ۔ اس میں 19لوگوں نے حصہ لیاجس میں سے 15سعودی عرب کے شہری تھے او رکوئی بھی افغانی نہیں تھا،لیکن امریکہ کی پارکھی نظروں نے افغانستان میں بیٹھے طالبان اورالقاعدہ کے ممبروں پر نشانہ لگانا شروع کیا۔ اس کے بعد کی ساری کہانی آپ کو معلوم ہے۔ آپ یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ طالبان او ران ہی کے جیسے عقائد او رنظریات رکھنے والے دہشت گردوں نے دنیا بھر میں اسلام کے نام پر کیسے کیسے غیر انسانی کام کئے ، دین محمدی کے نام پر قتل و غارتگری کاننگا ناچ کیا اور مسلمانوں کوتہہ تیغ کر کے اللہ اکبر کے نعرے بلندکئے۔ اب طالبان نے دہشت گردی کے ذریعہ اورہندوستان کے مختلف شہروں میں خون خرابہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔

طالبان کا کہنا ہے کہ کشمیر کو ہندوستان اسی وقت آزاد کرے گا جب اس کے دوسرے شہر غیر محفوظ ہو جائیں گئے، اسی لئے انہوں نے ایک نیا ویڈیو جاری کر کے اپنے نام نہاد جہاد کو ہندوستان کی سرحدوں میں منتقل کرنے کی دھمکی دی ہے۔ویسے ہی یہ بھی ممکن ہے کہ ہتھیاروں کے کارخانے چلانے والے کسی اسرائیلی یا امریکی صنعت کار نے اپنے ایجنٹوں کی معرفت یہ دھمکی جاری کروائی ہوتا کہ ہندوستان اپنے ضروری اخراجات میں کمی کر کے مزید ہتھیار خریدنے پر مجبور ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دھمکی طالبان نے ہی جاری کی ہو، اگر یہ دھمکی واقعی طالبان نے جاری کی ہے تو پھر مسلمانان ہند کوبہت زیادہ سرگرمی کے ساتھ طالبان کے ارادوں کو ناکام کرنے کے لئے جد و جہد کرنا ہوگی، کیونکہ کوئی بھی دہشت گردانہ کارروائی لوکل سپورٹ کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی ، اس لئے طالبان کے ایجنٹ مسلم نوجوانوں کو اپنے مقاصدکے لئے استعمال کرنے کی کوشش کریں اس کا پورا امکان ہے۔

یقیناًوہ چاہیں گے کہ ملک کے موجودہ حال کا فائدہ اٹھا کر مسلم نوجوانوں کا جذباتی استحصال کرکے ان کو اپنے نجس مقاصد کیلئے استعمال کریں۔ اس لئے تمام مسلمان نوجوان ہوشیا ر رہیں ،بالخصوص سوشل میڈیا پر سرگرم رہنے والے نوجوان کسی سے بھی بات کرتے وقت اس بات کو یقینی بنالیں کہ ان سے انٹر نیٹ پر جو شخص تبادلۂ خیال کرتا ہے اس کو وہ جانتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے بھی ہوشیار رہیں جو مسلمانوں پر ظلم ڈھائے جانے کے ویڈیوز یا نام نہاد علماء اورمبلغین کی اشتعال انگیز تقاریر پرسوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں ۔ ہوسکتا ہے اس وقت سنگھی ،بجرنگی ، سینائی اور فسطائی عناصر کی بھڑکانے والی حرکتوں کا استعمال مسلم نوجوانوں کو بھڑکانے کیلئے کیا جائے اور ان کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے طالبان جیسی بدنام زمانہ جماعت استعمال کرے ۔ ہمارے خیال میں طالبان کی دھمکی کو محض دھمکی سمجھ کر ہوا میں اڑانے کے بجائے ہم سب کو مل جل کر اس ممکنہ خطرے کامقابلہ کرنے کی تیاری کرنا چاہئے ۔ اس خطرے سے نمٹنے میں مساجد کے امام، خطباء او رعلمائے کرام اسلام کی اصل تعلیمات کو عام کر کے نوجوانوں کوبھٹکنے سے بچاسکتے ہیں ۔ ہمیں امید ہے کہ ہر ہندوستانی مسلمان اسلام دشمن طاقتوں کے منصوبوں کو ناکام کرنے میں اپنا اپنا رول ادا کرے گا۔

29دسمبر،2017 بشکریہ : انقلاب ، نئی دہلی

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..