New Age Islam
Fri Nov 26 2021, 04:02 PM

Urdu Section ( 17 Dec 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sangh Parivar Is Scaring the Majority from the Minority اقلیت سے اکثریت کو ڈرا رہا ہے سنگھ پریوار

شکیل شمسی

13 دسمبر 2020

دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھئے، کسی بھی ملک میں اکثریتی فرقہ کبھی اقلیتی فرقہ سے خائف نہیں ہوا ہے، مگر ہمارے ملک میں الٹی گنگا  بہانے کا ناٹک کیا جا رہا ہے۔ یہاں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت سنگھ پریوار کے لوگ اکثریتی فرقے کو اقلیتوں سے ڈرانے میں لگے ہیں۔کبھی کہتے ہیں کہ دھرم پریورتن کرکے ہندوئوں کو اقلیت میں لانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ ہندولڑکیوں کو مسلمان لڑکے اپنے جال میں پھنسا کر ان کا زبردستی مذہب تبدیل کروانے کی مہم چلا رہے ہیں۔ کبھی آئی اے ایس اور دوسری بڑی ملازمتوں میں گھس کر مسلم نوجوانوں پر جہاد کا الزام لگتا ہے۔ کبھی یہ جھوٹ بولا جاتا ہے کہ زمین کا جہاد چل رہا ہے اور اگر مسلمانوں کو روکا نہیں گیا تو ہندووں کے پاس مستقبل میں رہنے کی جگہ نہیں رہے گی اور یہ الزام تو بہت عام ہے کہ مسلمان چار چار شادیاں کرکے آٹھ دس بچے پیدا کر رہے ہیں اور اگر ان پر قدغن نہیں لگایا گیا تو ۲۰۵۰ء تک مسلمانوں کی آبادی ہندوئوں سے زیادہ ہو جائے گی۔مگر سنگھ پریوار اس بات کو چھپاتا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں میں لڑکیوں کا تناسب کیا ہے؟ کیا مسلمانوں میں لڑکیاں کم نہیں ہیں؟ بچے تو ہر سال اتنے ہی ہوں گے جتنی عورتیں ہوں گی، تو مسلمان چاہے ایک شادی کریں یا چار، آبادی کیسے بڑھ جائے گی؟ دوسری بات یہ ہے کہ سنگھ اس بات کے اعداد و شمار فراہم کردے کہ کتنے مسلمانوں نے ایک سے زیادہ شادی کی اور کتنے ہندوئوں کی ایک سے زیادہ بیوی ہے؟ مگر جن لوگوں نے پروپیگنڈے کو ہی دھرم بنا لیا ہو ان سے بحث کون کرے۔ سادہ لوح ہندوئوں کو خوف میں مبتلا کرنے کا یہ سلسلہ پہلے تو صرف مسلمانوں تک ہی محدود تھا۔ اس کے بعد عیسائی بھی لپیٹے میں آگئے اور اب سکھوں کو بھی خالصتان کے نام پر ہندووں کا دشمن قرار دینے کی کوششیں تیز ہوگئیں اور اپنے فریب کو سچ ثابت کرنے کے لئے اب نئے قوانین بنائے جا رہے ہیں۔ دنیا کے سامنے سنگھ پریوار اپنے مذہب کی جو تصویر پیش کر رہا ہے، اس پر ساری دنیا ہنسنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتی، کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ اکثریتی فرقے کے لوگ ہی اقلیتوں کو خوف و دہشت میں مبتلا کرسکتے ہیں۔ اصل میں سنگھ پریوار مظلوم بن کرظلم کرنے کے بہانے ڈھونڈ تا رہا ہے اور اب وہ یہ کام زیادہ بڑے پیمانے پر کر رہا ہے۔ ہر ہندوستانی جانتا ہے کہ ہندوازم کو نہ تو کسی سے کوئی خطرہ ہے اور نہ کوئی اقلیتی طبقہ اس کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مسلمانوں نے آٹھ سو سال تک اس ملک پر حکومت کی، مگر ہندوازم کو نہ تو کوئی خطرہ محسوس ہوا اور نہ ہی کبھی ہندووںکا قتل عام ہوا۔ جو مسلمان لشکری اور سپہ سالار یہاں آئے ان میں سے بیشتر کا سامنا تو یہاں کے مسلمانوں نے ہی کیا۔ کوئی ذرا سنگھ پریوار سے پوچھے کہ جن مسلمانوں کو اس کے غنڈے بابر کی اولاد کہتے ہیں، ان ہی مسلمانوں نے بابر کا مقابلہ کیا تھا کہ نہیں؟ ابراہیم لودھی کی فوج میں شامل ایک لاکھ مسلمانوں نے کیا اس ملک کے لئے اپنی قربانی نہیں دی تھی؟ سنگھ پریوار بتائے کہ تیمور سے کس نے لوہا لیا تھا؟ نادر شاہ درانی کے مقابلے میں کون اترا تھا؟ اسی طرح عیسائیوں نے یہاں نوے سال تک حکومت کی مگر انھوں نے نہ تو ہندو دھرم کو ختم کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی زبردستی عیسائی بنانے کی مہم چلائی تو اچانک آزادی کے بعد ان کو کیا ہوگیا، جو وہ دھرم پریورتن کروانےوالے بن گئے؟ سنگھ پریوار کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھے کہ اس نے اقلیتی فرقوں کو کتنا ہراساں کیا، کتنے مظالم کئے اس نے، مگر کسی مسلمان ، عیسائی یا سکھ نے یہ بات نہیں کہی کہ ان کے مذہب کو خطرہ ہے۔ہمارا تو یہی ماننا ہے کہ سنگھ پریوار کا صرف اور صرف ایک مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کو وہ ایک مذہبی ریاست بنائے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ہندووں اور تمام اقلیتی فرقوں کے درمیان منافرت کی ایسی گہری کھائی کھودی جائے جس کو کوئی پار نہ کر سکے۔ اسی لئے ہندوستان کی اس تاریخ کو بدلنے کی کوشش ہو رہی ہے جس میں گنگا جمنی ایکتا کے رنگ بھرے ہیں۔ ہندوئوں میں جھوٹ موٹ کا خوف پیدا کرکے ان کو مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں سے دور کیا جا رہا ہے۔ اس سازش کو ہمیں اور آپ کو سمجھنا ہوگا اور نفرت کی آگ پر محبت کا گنگا جل ڈالنا ہوگا۔فرقہ پرستوں کے حوصلوں کو پست کرنے کے لئے ہم سب کو اتحاد و یکجہتی کی بات کرنا ہوگی۔ اگر ہم سنگھ پریوار کے جال میں پھنس کر ہندوئوں کو برا کہنے لگیں گے تو سنگھ پریوار کامیا ب ہوجائے گا، کیونکہ اس کی خواہش تو یہی ہے کہ دونوں فرقے ایک دوسرے سے سخت نفرت کریں۔آخر میں ہم پھر کہیں گے کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم فرقہ پرستی کو مٹائیں لیکن فرقہ پرستی کو مٹانے کی کوشش میں اگر ہم خود ہی فرقہ پرست ہوگئے تو ہم نہیں سنگھ پریوار کامیاب ہوگا۔

13 دسمبر 2020،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/sangh-parivar-scaring-majority-minority/d/123793


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..