New Age Islam
Sat Dec 04 2021, 04:20 AM

Urdu Section ( 12 Apr 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Maulana Saad should come out and explain مولانا سعد صاحب سامنے آئیں تو بہتر ہوگا


شکیل شمسی

11 اپریل 2020

گزشتہ گیارہ دنوں سے ملک کے متعصب نیوز چینل اور مسلم دشمن صحافی ہاتھ دھوکر تبلیغی جماعت کی آڑ میں ہندوستانی مسلمانوں کے پیچھے پڑے ہیں۔ حالات یہ ہے کہ آپ اگر چینل بدل رہے ہوں اور کسی چینل کا ایک لفظ بھی سنائی پڑے تو وہ لفظ’’ تبلیغی‘‘  ہوگا۔ پورے ملک میں ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جیسے اس ملک میں اس وبا کو مسلمانوں نے پھیلایا ہے اور وہ  Victim  نہیں مجرم ہیں۔ظاہرہے کہ مسلمانوں پر نشانہ لگانے کا بہانہ تو تبلیغی جماعت نے ہی دیا ہے، جس نے اپنی مجلس شوریٰ کی رائے نہیں مانی، جس نے یہ نہیں دیکھا کہ تین مارچ کو سعودی حکومت نے عمرہ پر پابندی لگادی، ۴؍ مارچ کو بیت اللہ میں مطاف کو  بند کرنے کا فیصلہ لیا گیا اور مسجد نبوی میں نماز جماعت کا سلسلہ موقوف کیا گیا۔ادھر ملیشیا میں ۲۸؍ فروری سے ۳؍ مارچ تک چلنے والے تبلیغی اجتماع میں شریک ہونے والے ۷۰۰؍ لوگوں کے کورونا میں مبتلا ہونے کی خبر بھی آئی۔مگر تبلیغی جماعت نے حالات کی سنگینی کو نہیں سمجھا اور ملک و بیرون ملک سے آنے والے ہزاروں لوگوں کو مرکز میں یکجا کر لیا۔ظاہر ہے جماعت کی نیت پر کوئی شک نہیں کیا جاسکتا کیونکہ جان بوجھ کر تو کوئی اپنی تنظیم کےاراکین کو ہلاکت میں نہیں ڈالے گا۔اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مرکز میں  جلسوںکا انعقاد ہوتا رہا ہے۔ان حقائق کے باوجود لاک ڈاون کے ایک ہفتے بعد بستی نظام الدین میں واقع تبلیغی جماعت کے مرکز میں ڈھائی ہزار لوگوں کے پھنسے ہونے کی خبروں کو نیوز چینلوں نے اچانک فرقہ واریت  کے زہر میں تبدیل کردیا جس کی وجہ سے ہندووں میں اتنا خوف پھیل گیا کہ بہت سے علاقوں کے باشندوں نے اپنے حلقے میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگا دی۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ گیارہ دن سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے مگر خو د مولانا سعد کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی بیان نہیں دیا جارہا ہے اور اب تک کسی وضاحت کی زحمت موصوف نے گوارہ نہیں کی ہے۔

نیوز چینل والے نہایت بدتمیزی کے ساتھ ان کا نام ایسے لے رہے ہیں کہ جیسے وہ کوئی مفرور مجرم ہیں اور سارے ملک کی پولیس ان کو تلاش کر رہی ہے ۔ان حالات میں ہمارا تو یہی ماننا ہے کہ مولانا سعد صاحب کو اپنا موقف ملک کے لوگوں پر واضح کرنا چاہئے تھا۔ضروری نہیں تھا کہ وہ کوئی پریس کانفرنس کرتےیا اخبار والوں سے ملتے، وہ ایک ویڈیو میسیج کے ذریعہ سب کو بتا سکتے تھے کہ اس جلسےکے انعقاد کے پیچھے ان کی کیا مجبوری تھی؟ کیوںوہ اس کو منسوخ نہیں کر سکے؟ جب دہلی میں اسکول کالج بند کئے جانے کا اعلان ہوچکا تھا، جب ہولی کی عوامی تقریبات سے ملک کے تمام سیاستداں دور رہنے کا اعلان کر رہے تھے، جب عالمی پیمانے پر وائرس کی بازگشت سنائی دے رہی تھی  اور جب ملک میں خطرے کی گھنٹی بج چکی تھی تب بھی اس عالمی جلسے کو منسوخ کرنے کا فیصلہ انھوں نے کیوں نہیں کیا؟  اس بات سے تو مولانا سعد صاحب انکار نہیں کرسکتے کہ اس اجتماع میں شریک ہونے والے سیکڑوں جماعتی آج کورونا میں مبتلا ہیں؟ اور اسی وجہ سے آج پورے ملک کے مسلمانوں کو میڈیا کے طوفان بدتمیزی کا سامنا ہے مگر خود جناب سعد صاحب نے اس معاملے میں مکمل طور پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے،جبکہ یہ ان کا فرض تھا کہ وہ اس پروگرام کو منسوخ نہ کئے جانے کی وجوہات کی وضاحت کرکے فتنے کو رفع کرتے۔ہمارے خیال میں مولانا سعد صاحب کی یہ بھی اخلاقی ذمہ داری تھی کہ وہ ملک بھر میں قائم اپنی جماعتوں کے سرگرم اراکین کو اس بات کے احکامات جاری کرتے کہ وہ دہلی کے اجتماع میں شامل ہونے والے تمام لوگوں کو میڈیکل جانچ کے لئے  طبی مراکز پر لےجائیں ۔ ہمیں لگتا ہے کہ یہ مولانا سعد صاحب کا یہ بھی دینی فرض  تھا کہ وہ اجتماع کے انعقاد کے غلط فیصلے پر معافی مانگ کر اس معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کرتے۔ گھر میں بیٹھنے یا اعتکاف میں جانے سے کہیں زیادہ بہتر ہوتااگر مولانا سعد صاحب اور ان کے  رفقاء کورونا سے متاثر ہونے والوں کی مدد کے لئے کوئی مہم چلاتے۔  اگر وہ  اہل وطن کو یہ بتاتے کہ ان کی جماعت کے لوگ اس بری بلا کا شکار ہوگئے ہیں انھوںنے کسی کو شکار نہیں بنایا تو شاید ماحول خراب کرنے والوں کو اتنی کامیابی نہ ملتی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ خود مولانا سعد صاحب اس پورے معاملے کی جانچ کے لئے کسی عدالتی کمیٹی کے قیام کا مطالبہ کرتے اور حکومت سے کہتےکہ وہ پتہ لگائے کہ اتنی بڑی تعداد میں ان کی جماعت کے لوگ کرونا کا شکار کیسے ہوگئے؟ مگر افسوس کہ تبلیغی جماعت نے حالات کا مقابلہ کرنے کے بجائے سرنڈر کرنے کا فیصلہ کیا۔کتنی حیرانی کی بات ہے کہ وہ مسلمان جو تبلیغی جماعت کے ممبر نہیں ہیں وہ تو سوشل میڈیا پر تبلیغی جماعت کے دفاع میں لگے ہیں، مگر خود جماعت کے سربراہ کی طرف سے مخالفین کے اعتراضات کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا گیا۔

11 اپریل 2020    بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-saad-come-explain-/d/121556

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..