New Age Islam
Sat Apr 17 2021, 12:24 AM

Urdu Section ( 25 Oct 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Madrassas Accusation Of Terrorism And BJP مدرسوں پر دہشت گردی کا الزام اور بی جے پی


شکیل شمسی

23اکتوبر،2020

تین دن قبل مدھیہ پردیش کی وزیر ثقافت اوشا ٹھاکر نے اندور میں ایک پریس کانفرنس میں بہت بے غیرتی کے ساتھ یہ الزام لگایا کہ سارے دہشت گرد مدرسوں میں پلتے ہیں اور ان ہی لوگوں نے جموں و کشمیر کو دہشت گردی کی فیکٹری میں تبدیل کردیا ہے۔انھوں نے مدرسوں کو ختم کئے جانے کی وکالت بھی کی اور بہت فخریہ انداز میں کہا کہ بی جے پی نے آسام میں مدرسوں کو بند کرکے دکھا بھی دیا۔ ویسے مدرسوں پر بی جے پی کا عتاب کوئی نیا نہیں، اس کی تو پوری سیاست ہی مسلمانوں سے نفرت پر مرکوز ہے۔اوشا ٹھاکر سے کوئی پوچھے کہ اس ملک میں جو لوگ دہشت گردی کے الزام میں پکڑے گئے ہیں ان میں سے کتنے مدارس میں پڑھتے تھے؟ وہ بتائیں کہ  جرنیل سنگھ بھنڈران والے نے کس مدرسے میں تعلیم حاصل کی؟اوشا ٹھاکر کو تو پتہ ہوگا کہ سری لنکا سے لے کرتمل ناڈو تک دہشت گردی کی آگ بھڑکانے والے  پربھاکرن کا تعلق کس مدرسے سے تھا؟ اوشا ٹھاکر کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ بھوپال سے منتخب ہونے والی ممبر پارلیمنٹ پرگیہ ٹھاکر نے کس مدرسے میں داخلہ لیا تھا؟ اوشا ٹھاکر ہی بہتر طریقے سے بتا سکتی ہیں کہ کرنل پروہت، سوامی اسیما نند اور دیا نند پانڈے کا تعلق کن مدارس سے رہا ہے؟ اوشا ٹھاکر اور ان کے ہمنوا شاید جانتے ہوں کہ آسام کی دہشت گرد تنظیم الفا کون سا مدرسہ چلاتی ہے؟ اوشا ٹھاکر سے کوئی اتنا تو معلوم کرے کہ نکسلائٹ کس مدرسے سے پڑھ کر نکلتےہیں؟  ان کو  اگرمعلوم نہ ہو تو مرکزی وزارت داخلہ میں فون کرکے معلوم کریں کہ بوڈو لینڈ کی آزادی کا مطالبہ کرنے والے انتہا پسندوں نے کس مدرسے میں نام لکھوایا تھا؟دہلی کی سڑکوں پر سکھوں کا قتل عام کرنے والے کس مدرسے کے طالب علم تھے؟  اوشا ٹھاکر یہ بھی بتائیں کہ گلی گلی میں ماب لنچنگ کرنے والے گئو بھکت کسی پاٹھ شالہ سے پڑھ کر نکلتے ہیں یا کسی مدرسے سے؟ پال گھر میں سادھووں کی ماب لنچنگ کرنے والے لوگ کسی مدرسے سے فارغ ہو کر نکلے تھے یا کسی پاٹھ شالہ سے؟  راجستھان میں ایک سادھو کو زندہ جلا دینے والوں کا تعلق کس علمی درسگاہ سے تھا؟ دلتوں پر ستم ڈھانے والے کسی مدرسے میں پڑھتے ہیں یا آر ایس ایس کی تعلیم گاہوں میں؟ آج دلت جو احتجاجاً ہندو مذہب چھوڑ کر بودھ دھرم اختیار کرنے کی بات کر رہے ہیں اوشا جی بتائیں کہ کسی مدرسے والے نے ان کو ستایا ہے یا پھر ان کے ہی بھائیوں نے ان کو مجبور کیا ہے؟ کسی ایک سوال کا تو جواب دے دیں بی جے پی کے پھٹے منھ والے وزراء۔۔۔۔ اصل میں جب کسی سیاسی پارٹی کے عہدیداروں کے پاس کوئی ایشو نہ رہ جائے تو وہ ایسے ہی مسائل کی طرف لوگوں کا دھیان موڑنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ خود اپنا دامن دیکھیں تو داغ ہی داغ نظر آئیں گے۔ یہ فخر دنیا بھر میں صرف بی جے پی کو ہی حاصل ہے کہ اس نے ایک ایسی عورت کو الیکشن لڑوا کر ایم پی بنوایا جس پر دہشت گردی کے الزامات تھے اور جس کو ابھی تک عدالتوں سے کلین چٹ نہیں ملی ہے۔ اس بات کا افتخار بھی بی جے پی والوں کو ہی حاصل ہے کہ انھوں نے ماب لنچنگ کرنے والوں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ جیل سے چھوٹنے کے بعد ایسے لوگوں کی پذیرائی بھی کی جو بے گناہوں کی ماب لنچنگ کرنے کے بعد ضمانت پر رہا ہوئے تھے۔مگر جب ملک کے میڈیا کا ایک حصہ پوری طرح سے چمچہ بن چکا ہوتو اہل اقتدار سے کڑوے سوالات کرنے کی ہمت کون کرے گا؟ اس لئے اس پر بھی حیران ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کہ بیشتر نیوز چینلز تو اوشا ٹھاکر  کے جھوٹے الزام کو سچ قرار دینے میں لگ گئے تھے۔آخر میں کہنا چاہوں گا کہ یہ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ وہی بی جے پی جس نے اپنے کو ہندوتو کا علمبردار کہہ کر ملک کی سیاست میں قدم رکھا تھا اب ہندوتو کو کنارے کرکے مسلمانوں کی مخالفت کرنے کو اپنا سیاسی دھرم بنا چکی ہے۔وہ اپنے ہر عمل سے یہی تاثر دینے کی کوشش کرتی ہے کہ وہ مسلمانوں کو ذہنی کوفت اور جسمانی اذیتوں میں مبتلا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ بی جے پی والوں کو یہ لگتا  ہے کہ ملک میں نفرتیں پھیلا کر ہی وہ سب کا وکاس کرسکتے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ ہندو مسلم کشیدگی پیدا کرکے ذات پات کے تفرقے کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ مگر ہم اوشا ٹھاکر اور ان کے جیسے دوسرے لوگوں کو بتانا چاہیں گے کہ یہ نفرت کے شجر بو کر وہ سکھ کا سایہ نہیں پا سکتے۔ زمین پانی سے سینچی جائے تب ہی سبزہ اگتا ہے خون سے سینچی جانے والی کوئی سر زمین آج تک پھلی پھولی نہیں۔ اس لئے مدھیہ پردیش کی ۲۸؍ سیٹوں پر جیت حاصل کرنے کے لئے  اوشا ٹھاکر نفرتیں پھیلانے کا جو گیم کھیل رہی ہیں ہو سکتا ہے وقتی طور پر بی جے پی کے چمن میں پھول کھل جائیں مگر بعد میں کانٹے تو مادر ہند کے بدن میں ہی چبھے ہوئے نظر آئیں گے ۔

23اکتوبر،2020،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/shakeel-shamsi/madrassas-accusation-of-terrorism-and-bjp-مدرسوں-پر-دہشت-گردی-کا-الزام-اور-بی-جے-پی/d/123263


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..