New Age Islam
Fri Apr 23 2021, 12:42 AM

Urdu Section ( 4 Nov 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Islam Is Religion Of Character, Not The Sword اسلام تلوار نہیں کردار والوں کا مذہب ہے


شکیل شمسی

31اکتوبر،2020

پوری ملت اسلامیہ اس وقت سخت ذہنی کوفت میں مبتلا ہے۔ ایک طرف تو مغربی ممالک اور اسلام دشمنوں کے مسلم ممالک، اسلامی مفادات، دینی تعلیمات اور حضور سرور کائنات کی مقدس ذات پر حملے ہیں اور دوسری جانب خود اس کی صفوں میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو نہتوں کا خون بہانے، خواتین کی گردن کاٹنے اور بے خطا لوگوں کی جان لینے کو اسلامی شریعت کا حصہ بنا دینے پر آمادہ ہیں۔مشکل یہ ہے کہ باہری طاقتوں کے حملوں کا سامنا تو ہم کر سکتے ہیں مگر اندر سے جو وار ہو رہے ہیں ان کا کیا کیا جائے؟ کیسے روکا جائے ان لوگوں کو جو دہشت گردی کو اسلام کی فلاح کا ضامن سمجھتے ہیں؟ کس طرح ان عناصر پر قابو پایا جائے جو ظلم کے بدلے میں ظلم کرنے کو حق بجانب سمجھتے ہیں؟ کس طرح روکا جائے ان سرپھرے مسلمانوں کو جو اسکولوں، مدرسوں، عبادت کدوں اور شاہراہوں پر خود کش حملے کرنے کو عین عبادت سمجھتے ہیں؟ کس طرح ان دہشت گردوں کی روک تھام ہوجو حکومتوں کے قیام یا مختلف ملکوں سے آزادی حاصل کرنے کے لئے بر سرپیکار ہیں اور اپنی جدوجہد کو مقدس قرار دینے کے لئے انھوں نے اپنی لڑائی کو جہاد کا نام دے رکھا ہے؟  کیا ان لوگوں نے اسلامی جنگوں کی تاریخ نہیں پڑھی؟ کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ آنحضور ؐنے کبھی کسی بے گناہ کی جان نہیں لی؟ کیا ان کو خبر نہیں کہ مسلمانوں نے اس بات کو بھی برا سمجھا کہ میدان جنگ سے بھاگتے ہوئے کسی شخص کا پیچھا کیا جائے؟ مسلمانوں کا کردار تو ایسا تھا کہ اگر کسی مد مقابل کے ہاتھ سے تلوار گر گئی تو اس پر وار نہیں کیا تو بھلا سوچئے کہ کسی نہتے پر حملہ کرنے کا تصور بھی کہا ممکن تھا ؟ میدانوں کو چھوڑ کر کسی کے گھر میں گھسی ہوں آنحضور ؐ کی  فوجیں تو ہم کو بتائیں۔ کسی عورت پر ،کسی بچے پر تلوار چلائی ہو رسولؐ کی مقدس افواج نے تو تاریخ کے صفحات ہم کو پڑھوائیں۔ہمیں اس سے غرض نہیں کہ بادشاہوں یا آمروں نے کیا کیا ظلم ڈھائے یا مطلق العنان حاکموں نے کیسے کیسے موت کے بازار گرم کئے ، کیونکہ انھوں نے بھی ملکوں کو فتح کرنے کے لئے وہی کام کئے جو عام بادشاہ کیا کرتے تھے۔ ہم کو تو سیرت رسولؐ کی روشنی میں بحث کرنا ہے اور دہشت گردی اختیار کرنے والوں سے پوچھنا ہے کہ وہ اہانت رسولؐ کرنے کے الزام میں کسی راہ گیر کو کس اسلامی قانون کی  ر و سے مار سکتے ہیں؟ اگر کوئی شخص اہانت رسول ؐ کا مرتکب ہے تو اس کو سزایاب کرنے کے بجائے کیا چرچ میں عبادت میں محو کسی خاتون یا کسی مرد کا گلا کاٹا جا سکتا ہے اور کیا ہر مسلمان کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ جس کو اہانت رسول کا قصور وار سمجھے اس کو قتل کردے؟ کیا کسی عدالت یا کسی قاضی کی کوئی ضرورت نہیں ہے؟آج کی دنیا میں تو اہانت کرنے والوں سے نمٹنے کے سیکڑوں طریقے موجود ہیں، آج تو عالمی پیمانے پر مسلمانوں کی تعداد اتنی ہے کہ اگر متحد ہوکر صرف آواز بھی بلند کریں تو اہانت کرنے والوں کے پسینے چھوٹ جائیں گے ۔ آج تو آپ بائیکاٹ کے ذریعہ بھی ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں جو  آپ کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں۔آج توہر مسلم ملک کے پاس اس کا اپنا میڈیا ہے، ہر مسلم ملک ایک مہم چلا سکتا ہے ان لوگوں کے خلاف جو کسی قوم کے جذبات کو مجروح کرنے اور کسی مقدس شخصیت کی اہانت کئے جانے کو اظہار خیال کی آزادی کا حصہ قرار دیتے ہیں۔اس لئے فرانس کے صدر نے اگر مسلمانوں کا دل دکھایاتھایا اس نے پیغمبرؐ کی اہانت کرنے کو اگر جائز قرار دیاتھا تو میکراں کا تمام مسلم ممالک کو بائیکاٹ کرنا چاہیئے تھا۔ اپنے ملک میں ان کے داخلے پر پابندی لگانا چاہیئے تھا۔ مگر ایک سرپھرے، کم عقل، دیوانے اور جاہل تیونیشیائی نوجوان نے اپنے ایک ہاتھ میں چاقو لے کر اور دوسرے ہاتھ میں قرآن اٹھا کر جب نعرۂ تکبیر بلند کیا تو اس نے نہ صرف تین بے خطا لوگوں کو قتل کرنے کا جرم کیا بلکہ قرآنی آیات کی بھی توہین کی اور نعرۂ تکبیر کے تقدس کو بھی مجروح کیا۔ اس کی وجہ سے مسلمانوں کا مقدمہ کمزور ہوا، کیونکہ فرانس والوں کو دہشت گردی کی آڑ لے کر مظلوم بننے کا موقع مل گیا۔ اہانت رسولؐ پیچھے ہوگئی اور دہشت گردی آگے ہوگئی۔کاش کوئی ان گمراہ لڑکوں کو سمجھائے کہ اسلام کو پھیلانے والے پیغمبر ؐ  کو اللہ نے رحمتہ للعالمین بنا کر دنیا میں اتارا تھا، اس عظیم پیمبر ؐکے نام پر دہشت، نفرت اور ہلاکت کا کھیل نہیں کھیلا جا سکتا۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ عام مسلم نوجوانوں کو گمراہ وہی طاقتیں کر رہی ہیں جو دہشت گردی کا استعمال مسلم ممالک یا اپنے مخالف حکمرانوں کے ملکوں میں انارکی پیدا کرنے کے لئے کرتی آئی ہیں ۔ کیا کبھی  مغربی ممالک نے گنا ہے کہ مسلم ممالک میں اب تک کتنے مسلمانوں کا خون دہشت گردوں نے بہایا ہے؟ اور مسلمانوں کا خون بہانے والوں کو ہتھیار کس نے فراہم کئے تھے؟

31اکتوبر،2020،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/shakeel-shamsi/islam-is-religion-of-character-not-the-sword-اسلام-تلوار-نہیں-کردار-والوں-کا-مذہب-ہے/d/123372


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..