New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 08:12 PM

Urdu Section ( 30 Apr 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Hindu-Muslim Friendship and Love is Centuries Old ہندو مسلم دوستی اور محبت صدیوں پرانی ہے


شکیل شمسی

30 اپریل 2020

 یہ خبر ہندوستان سے محبت کرنے والے ہر شخص کے لئے باعث شرم ہے کہ دنیا بھر میں مذہبی آزادی کی نگرانی کرنے والے امریکہ کے سرکاری ادارےـ’’ دی یو ایس کمیشن آن انٹر نیشنل ریلیجیس فریڈم‘‘ نے مذہبی آزادی کے معاملے میں ہندوستان کو بلیک لسٹ کئے جانے کی سفارش کی ہے، حالانکہ اس بات کی کوئی توقع نہیں ہے کہ امریکی سرکار اپنے ادارے کی سفارش پر عمل در آمد کرے گی، کیونکہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ہندوستان کے ساتھ بہت بہتر تعلقات ہیں، مگر اس سفارش سے ان کروڑوں ہندوستانیوں کا شرم سر جھک گیا ہے، جو ہمیشہ سے اس بات پر فخر کرتے آئے ہیں کہ ہندوستان میں سب کو مذہبی حاصل ہے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ہندوستانی عوام کی اکثریت بہت وسیع القلب ہے اور ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ہم ہندوستانیوں کو کسی سے اس بات کا سرٹیفیکیٹ نہیں چاہئے کہ ہمارے یہاں مذہبی آزادی نہیں ہے۔ ہر ہندوستانی جانتا ہے کہ یہاں کتنے ہی ہندو ایسے ہیں جواذان کے و قت اپنی تقریر روک دیتے ہیں اور کتنے ہی ایسے مسلمان ہیں جو ہندو بہنوں سے اپنی کلائی پر راکھی بندھواتے ہیں۔ یہ دوستی، یہ محبت آج کی نہیں ہے، صدیوں پہلے رحیم ، رسکھان اور ملک محمد جائسی نے اس ہندو مسلم دوستی کی بنیاد رکھی تھی۔ اسی دوستی نے سنت کبیر جیسے لوگ اس ملک کو دئے جن کو ہندو ہندو اور مسلمان مسلمان سمجھتے رہے۔ اس ملک کو مسلمانوں نے اس طرح اپنایا کہ بابر نے حملہ کیا تو ابراہیم لودھی کی قیادت میں ہزاروں مسلمان اس ملک پر مر مٹے۔ تیمور نے حملہ کیا تو تغلق نے لوہا لیا، ہمایوں سے ٹکرانے کی ذمہ داری شیر شاہ سوری نے اٹھائی تو نادر شاہ کے خلاف اودھ کے نواب وزیر برہان الملک نواب سعادت نے مغل فوج کی سربراہی کی۔

 اکبر کے خلاف مہارانہ پرتاپ نے معرکہ آرائی کی تو مہارانہ پرتاپ کے ساتھ دس ہزار پٹھان نکلےاور دوسری طرف اکبر کا ساتھ دینے والوں میں راجپو ت راجہ مان سنگھ کا اہم رول رہا۔ تاریخ کے ہر دور میں ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کا بھائی بن کر ساتھ ساتھ رہے۔ اس ملک کا عجیب نظام رہا، فساد بھی ہوئے جھگڑے بھی ہوئے، مگر پھر سب ایک ہوگئے۔ مگر اس بات میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ کچھ لوگ اس ملک کی صدیوں پرانی روایات کو ختم کردینے کے درپئے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ مذہبی منافرت پھیلا کریہ لوگ اس ملک کا بھلا کر سکیں گے، کچھ لوگوں کو لگ رہا ہے کہ وہ اقلیتوں پر حملے کرکے اپنے مذہب کا نام روشن کر سکیں گے۔ کچھ فتنہ پرور اس خام خیالی میں مبتلا ہیں کہ وہ دوسرے فرقے کی لاشوں پر کھڑے ہو کر اپنے مذہب کو اونچا کر سکیں گے۔ ان ہی فرقہ پرست عناصر کی وجہ سے امریکی ادارے نے ہمارے ملک کو بھی ان پندرہ ملکوں کی فہرست میں کھڑا کر دیا ہے جہاں پاکستان بھی کھڑا ہے۔ جبکہ سچ تو یہ ہے کہ ہندوستان میں جیسی آزادی سب فرقوں کو آج بھی حاصل ہے ویسی آزادی شاید ہی کسی دوسرے ملک کے لوگوں کو حاصل ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فرقہ پرستوں کا ایک چھوٹا سا طبقہ مسلسل اس ملک میں منافرت پھیلانے کی کوشش کرتا رہا ہے، مگر وہ اس ملک کو بدنا م نہیں کرسکا، کیونکہ عام ہندوستانی سیکولر ہیں، مگر جب سے صاحب اقتدار پارٹی سے تعلق رکھنےوالے لوگوں نے زہر اگلنا شروع کیا ہے تب سے اس ملک کے سیکولرازم پر انگلیاں اٹھنے لگی ہیں۔

 بی جے پی کا کوئی ممبر کہتا ہے ہم  بنگلہ دیش، افغانستان اور پاکستان جیسےمسلم ممالک کو ملا کر اکھنڈ بھارت بنائیں گے، کوئی کہتا ہے مسلمانوں کو باہر کریں گے، کوئی مسلمانوں کو غدار کہتا ہے اور گولی مارو سالوں کا نعرہ لگاتا ہے ،کوئی مسلمانوں سے سامان نہ خریدنے والا ویڈیو وائرل کرتا ہے ، کوئی کپل مشرا کی طرح زہر اگلتا ہے، کوئی کورونا کے بہانے مسلمانوں کے خلاف نفرتیں پھیلاتا ہے، یہاں تک کہ نیوز چینل بھی مسلسل زہر افشانی میں لگے ہیں جس کی وجہ سے کئی جگہوں پر مسلمانوں کو زیادتیوں کا نشانہ بننا پڑ رہا ہے۔ کیاحکومت ہند کو یہ معلوم نہیں ہے کہ مسلمانوں کےشہری حقوق چھیننے اور ان کی شہریت کو منسوخ کرکے حراستی مرکزوں میں بھیجنے کی افواہیں کن لوگوں نے پھیلائی ہیں؟ کیاحکومت کو یہ بھی علم نہیں ہے کہ مسلمانوں کو خوف میں مبتلا کرنے کی کوشش کون لوگ کر رہے ہیں اور کن لوگوں کی وجہ سے آج اس بہترین ملک کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے؟ حکومت ہند امریکی ادارے کی رپورٹ کو بھلے ہی خارج کردے، مگر ساری دنیا میں تو اس سفارش کی وجہ سے غلط پیغام جائے گا ہی۔ لہٰذا حکومت ہند ان طاقتوں کی سرزنش کرے جن کی وجہ سے حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ کئی مسلم ممالک ہم سے خفا ہیں؟ ہمارا تو یہی مشورہ ہے کہ اس ملک کو بدنام کروانے کی کوشش میں لگے ہوئے فرقہ پرستوں کو حکومت ہند سمجھائے کہ وہ فرقہ پرستی کے کنویں سے باہر نکلیں اور سیولرازم کے ساحلوں پر بھی کچھ دیر کھلی ہوا میں سانس لیں۔

30 اپریل 2020    بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/hindu-muslim-friendship-love-centuries/d/121720

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism




Loading..

Loading..