New Age Islam
Sat Dec 04 2021, 03:11 PM

Urdu Section ( 3 Aug 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Dr. Ayub's Communal Inflammatory Actions ڈاکٹر ایوب کی مفسدانہ حرکت

شکیل شمسی

3 اگست 2020

پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب گرفتار ہوگئے ہیں، ان پر الزام ہے کہ ان کی پارٹی کے وکرروں نے محلے محلے جاکر اشتعال انگیز پرچے تقسیم کئے جس کی وجہ سے کئی جگہوں پراتنی کشیدگی ہو گئی کہ پولیس کو فلیگ مارچ کرنا پڑا۔ ظاہر ہے کہ ایک ذمہ د ار سیاسی پارٹی سے کوئی ایسی امید نہیں کرسکتا ہے کہ وہ سماج میں اشتعال پھیلانے والی کوئی حرکت کرے گی۔عید الاضحی سے ایک دوروز پہلے اشتعال انگیز پرچے بٹوانا یقینی طور پر ایک مفسدانہ حرکت ہے اور اس سے حالات کے بگڑ جانے کا خطرہ تو تھا ہی۔ ہمیں تو اس بات کا بھی بہت افسوس ہے کہ ڈاکٹر ایوب نے ہمارےاخبار کو بھی اپنے غلط مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ واضح ہو کہ ان کی پارٹی کے اشتہارات ہمارے اخبار میں برابر چھپتے رہے ہیں اور ہم نے کبھی ان میں کوئی ایسی بات نہیں پائی کہ جن سے سماج میں تفرقہ پھیلے، البتہ ان اشتہاروں کے ذریعہ وہ حریف پارٹیوں کو برا کہتے رہے۔ جہاں تک انقلاب کا تعلق ہے تو ہم سیاسی پارٹیوں کے اشتہارات چھاپتے وقت مطمئن رہتے ہیں کہ وہ کوئی ایسا کام نہیں کریں گی جس سے ملک میں بد امنی پیدا ہو۔

 اسی لئے سیاسی پارٹیوں کے اشتہارات کی اسکریننگ کرنے کا رواج نہیں ہے۔ حالانکہ ہم دوسرے تمام اشتہاروں پر نگاہ رکھتے ہیں اور کوئی بھی چیز اگر ملت کے خلاف یا قومی مفادات کے خلاف نظر آتی ہے تو ہم اس کو ہٹا دیتے ہیں۔ مگر گزشتہ دنوں ڈاکٹر ایوب کی پارٹی کا ایسا اشتہار ہماری نظروں میں آئے بغیر شائع ہوگیا جو نہایت غلط اور گمراہ کن تھا۔ افسوس کا مقام ہے کہ اس پر آشوب دورمیں بھی ڈاکٹر ایوب نے بہت گھٹیا سیاست اختیار کی اور علمائے کرام کو دو طبقوں میں بانٹنے کی کوشش کی ۔ ایک طبقے کو سرکاری علماء کا لقب دیا اور دوسرے کو نظام مصطفیٰ قائم کرنے میں دلچسپی رکھنے والا قرار دیا گیا۔ انھوں نے اپنے اشتہار میں ڈاکٹر امبیڈکر، لوہیا اور نہرو کی بھی توہین کی، جس کی ہر ہندوستانی مسلمان مذمت کرے گا۔ انھوں نے نظام مصطفیٰ کی بات کرکے پاکستان کے سابق آمر جنرل ضیا ء الحق کے ناکام تجربے سے استفادہ کرنے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر ایوب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ چندلوگوں کومحض ٹوپی پہنا کران کے نام کے آگے مولانا لکھ دینے سے قوم گمراہ ہونے والی نہیں ہے۔ قوم کو یہ بھی معلوم ہے کہ یہ ہندوستان ہے اور یہاں کے مسلمانوں کی بقا صرف سیکولرازم کے اصول میں ہی مضمر ہے۔ یہاں آٹھ سو سال تک مسلم حکمرانوں نے حکومت کی، مگر کسی نے نظام مصطفیٰ کی بات نہیں کی، کیونکہ یہ ملک کسی ایک قوم کا ملک نہیں بلکہ گنگا جمنی روایتوں کے گہوارے میں جھولا جھول کر جوان ہونے والے ان بچوں کا ہے جنھوں نے نفرت کی نہیں محبت کی زبان میں گفتگو کی ہے۔ ہم اسی کالم میں کئی بار لکھ چکے ہیں کہ فرقہ پرستی کی کاٹ کے لئے فرقہ پرستی اختیار  نہیں کی جا سکتی، بلکہ فرقہ واریت کا مقابلہ صرف سیکولر ازم سے کیا جا سکتا ہے۔

 آخر میں ہم ڈاکٹر ایوب کا مختصر سا تعارف بھی پیش کردیں تو لوگوں کو ان کے بارے میں سمجھنے میں آسانی ہوجائے گی۔ ڈاکٹر ایوب پچھلی دو تین دہائیوں سے یو پی کی سیاست میں اپنا مقام بنانے اور ایک مسلم لیڈر کی حیثیت سے اپنی شناخت قائم کرنے کی فکر میں لگے ہوئے ۔ ۲۰۰۸ء میں انھوں نے پیس پارٹی کے نام سے ایک سیاسی پارٹی بھی بنائی ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اپنی ابتدائی جد وجہد میں وہ صرف مسلمانوں کے دم پر سیاست کرنے نکلے تھے، لیکن جب اس میں ان کو کامیابی نہیں ملی تو انھوں نے اپنی پارٹی کو سیکولر ازم کا جامہ پہنایا جس کے نتیجے میں ۲۰۱۲ء میں ان کی پارٹی اسمبلی کی چار سیٹیں جیتنے میںکامیاب بھی ہوئی ،مگر کچھ ہی عرصے کے بعد ان کے خلاف عصمت دری کا ایک پرانا معاملہ اٹھ گیا، مگر اس کیس نے رنگ اس وقت پکڑا جب عصمت دری کا شکار ہونے والی لڑکی نے۲۴؍ فروری کو ٹراما سینٹر میں دم توڑ دیا ۔ ریپ کے اسی کیس میں ان کو۲۳؍ مئی ۲۰۱۷ء کو گرفتار کیا گیا۔ جس کی وجہ سے ان کا کردار مشکوک ہوگیا ۔ شاید اسی وجہ سے ان کو ۲۰۱۷ء کے الیکشن میں زبردست ہزیمت اٹھانا پڑی ۔ یو پی اسمبلی کے گزشتہ انتخابات میںانھوں نے ۱۵۰؍ سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے تھے، مگر ان کا ایک بھی امیدوار کامیاب نہیں ہوا، بلکہ ان کے ووٹ شیئر میں بھی زبردست گراوٹ آئی اور ان کی پارٹی کے ووٹوں کا تناسب ۲؍ اعشاریہ ۳؍ سے گھٹ کر صرف اعشاریہ تین فیصد رہ گیا۔ کافی دن سے وہ خاموش تھے کہ حیرت انگیز طور پر انھوں نے اچانک اپنے سر سے سیکولرازم کا چولا اتار پھینکا اور مسلم فرقہ پرستی کالبادہ اوڑھ کر نکل پڑے۔ انھوںنے محلے محلے پرچے بانٹ کر اور اخبار میں اشتہار دے کر نہ صرف یہ کہ مسلم علماء کے ایک طبقے کو نشانہ بنانا شروع کیا ،بلکہ صوبے کی فضا کو مکدر کرنے کی کوشش بھی کی جس کے نتیجے میں وہ ایک بار پھر جیل پہنچ گئے ہیں۔

3 اگست 2020، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/dr-ayub-communal-inflammatory-actions/d/122534


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..