New Age Islam
Mon Apr 12 2021, 12:53 PM

Urdu Section ( 2 Aug 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Do not Talk of Unity Here نہ اتحاد کی باتیں کرو یہاں شمسی


شکیل شمسی

30 جولائی،2020

 چار دن قبل میں نےآنحضورؐ کی ایک حدیث کو بنیاد بنا کر اتحاد ملت کی دعوت دینے والاجو مضمون لکھا تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ پچانوے فیصد قارئین نے اس کو پسند کیا، مگر میرے کچھ قارئین نے نہ صرف یہ کہ اس دعوت اتحاد کو اختلاف کا باعث قرار دیا، بلکہ مجھ سے یہ فرمائش بھی کر ڈالی کہ میں مذہبی معاملات پر قلم نہ چلاوں بلکہ اپنی تحریروں کا دائرہ صرف سماجی اور سیاسی موضوعات تک ہی محدود رکھوں۔افسوس کہ کچھ لوگوں کو اتحاد کی باتیں بھی ناگوار ہوتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بچپن سے جو نفرتیں مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے پیدا کی جاتی ہیں وہ مرتے دم تک ساتھ نہیں چھوڑتیں ۔بچپن سے ایسی ایسی جھوٹی باتیں ایک دوسرے سے منسوب کر دی جاتی ہیں کہ بچے تک مسلکی بخار میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس معاملے کی جڑیں اتنی گہری ہوں اس پر رائے زنی کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ مجھے یہ بات معلوم ہے کہ مسلمانوں کے اختلافات ختم نہیں ہو سکتے، کیونکہ اختلاف کرنا یا اختلافی بات کہنا انسان کی فطرت میں شامل ہے، اسی لئے دنیا کے ہر مذہب میں اختلافات موجود ہیں۔ اسلام نے بھی انسانوں کی اس فطری جبلت کو پہچانا اور ان کو اختلاف کرنے کا حق دیا۔علماء نے اختلافی مسائل میں بڑی بڑی کتابیں لکھیں ، یہ بھی ہوا کہ دین کا علم رکھنے والوں نے اختلافات کو دور کرنے کے لئے جو کتابیں لکھیں، ان پر بھی اختلاف ہوگیا۔

لہٰذا اختلافات کودور کرنے کی کوئی مہم چلانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ۔مگر اس بات کا حق تومجھے حاصل ہی ہے کہ اختلافات کو جو لوگ نفاق، فساد اور لڑائی جھگڑے میں بدلنے کی کوشش کرتے ہیں اور مسلکی اختلافات کو عصبیت اور منافرت میں بدلنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے خلاف اپنی زبان کھولوں۔ میرے ایک دوست نے تو میری فیس بک وال پر لکھا بھی کہ آپ اتحاد کی دعوت دےکر صرف گالیاں کھائیں گے، لیکن خوشی کی بات ہے کہ گالیاں کھانے کی نوبت نہیں آئی۔ ہر چند کہ کچھ لوگوں نے اعتراضات کئے مگر انھوں نے اپنی بات شستہ لہجے میں کہی۔ ایک آدھ نے لکھا کہ ان تحریروں سے میری کم علمی کا اظہار ہوتا ہے (یعنی دبی زبان میں انھوں نے مجھے جاہل کہا) دو تین لوگوں نے الزام لگایا کہ میں نے رسولؐ کی حدیث کو آدھا بیان کیا، جبکہ اس حدیث کے آگے کے جملے ان کے فرقے کو جنت میں جانے کی کھلی یقین دہانی کرواتے ہیں۔ ایک صاحب نے لکھا کہ آپ نے یہ کیسے لکھ دیا کہ سب کو قرآن و حدیث کی تفسیر اپنے اپنے حساب سے کرنے کا حق حاصل ہے؟میرے ایک پاکستانی قاری نے یہ بھی لکھا کہ یہ حدیث رسول کی ہے ہی نہیں اور انھوں نے مجھے ایک لنک بھی بھیجا ہے جس میں اس حدیث کے غیر معتبر ہونے کے بارے میں کچھ جید علماء کی رائے کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ظاہر ہے کہ اسلام میں فرقہ بندی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہر فرقے کی کتابوں میں قرآن کے ترجمےاور تفسیر سے لے کر حدیثوں اور اسلامی تاریخ کے واقعات تک میں کچھ نہ کچھ فرق ہے اورہر فرقہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اس کے علماء نے جو کچھ علم ان تک پہنچایا ہے وہی صحیح ہے۔

 اگر ہر فرقے کے علماء نے اپنے حساب سے قرآن کی تفسیر نہ کی ہوتی اور اپنے حساب سے احادیث کی تشریح نہ کی ہوتی تو یہ فرقہ بندی کیوں ہوتی؟ یہ بھی ایک ناقابل انکا ر حقیقت ہے کہ ہر فرقہ اپنے حق پر ہونےکے سلسلے میں تفسیر قرآن، تشریحات احادیث ،ارشادات اصحابؓ اور فرمودات اہل بیتؑ کا اپنا Version پیش کرتا ہے، ان ہی ٹھوس دلائل کی بنیاد پر ہرفرقہ خود کو فرقۂ ناجیہ قراردیتا ہے اور دوسرے فرقوں کی کتابوں میں لکھی باتوں کو غلط ٹھہراتے ہوئے ان کے عقائد کو باطل قرار دیتا ہے۔ اپنے اپنے Version  کی وجہ سے ہی سب فرقوں کو اس بات کا یقین ہے کہ ان کو جنت میں جانے کا لائسنس ملا ہوا ہے ۔ جن دوستوں کو لگ رہا ہے کہ صرف ان کو ہی فرقہ ٔ ناجیہ قرار دیا گیا ہے تو ان کے لئے عرض کردوں کہ اگر کسی فرقے پر اجماع ہوگیا ہو،تا کہ وہی فرقۂ ناجیہ ہے تو پھر ۷۳؍ فرقے رہتے ہی نہیں سب اسی میں شامل ہوجاتے ۔ بہرکیف آخر میں یہ بتاتا چلوں کہ مجھے یقین ہے کہ وہی مسلمان جنت میں جائیں گے جو نیک ہیں، جوانسانوں پر رحم کرنے کے قائل ہیں، جوعمل صالح انجام دیتے ہیں، بے ایمانی اور بدعنوانی سے دور ہیں، جوبے گناہوں کو قتل کرنے والوں اور عورتوں و بچوں پر ظلم ڈھانے والوں سےنفرت کرتے ہیں، جو بیماروں اور کمزوروں کا خیال رکھتے ہیں اور جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کون جنت میں جائے گا اور کون جہنم میں اس کا فیصلہ صرف اللہ تعالیٰ کو کرنا ہے۔ ہمیں تو بس اتنا کرنا ہے کہ ہم مسلمانوں کے اختلافات کو نفاق اور فساد میں بدلنے نہ دیں ا ور اس پر آشوب دورمیں مسلمانوں کو متحد رہنے کا مشورہ دیں۔

30جولائی،2020، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/shakeel-shamsi/do-not-talk-of-unity-here-نہ-اتحاد-کی-باتیں-کرو-یہاں-شمسی/d/122524


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..