New Age Islam
Sun Sep 27 2020, 06:33 PM

Urdu Section ( 11 Jun 2015, NewAgeIslam.Com)

Debate over Yoga یوگا پر مباحثہ

 

 

شکیل شمسی

10 جون، 2015

ان دنوں سارے ملک میں یوگا پر زبردست بحث چل رہی ہے کیونکہ 21 جون کو یوگا عالمی دن منایا جارہا ہے اور اس دن ہندوستانی حکومت گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اس بات کو درج کروانا چاہتی ہے کہ ایک دن میں بیک وقت اتنے لوگوں نے یوگا کیا ۔ یہ تو ایک دن کی بات ہے، لیکن اسکولوں اور دفتروں میں یوگا کو لازمی قرار دئے جانے کی بھی کوششیں ہورہی ہیں جس کی وجہ سے کئی مسلم تنظیمیں بشمول آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ یوگا کی مخالفت کرنے میں لگ گئی ہیں،یعنی موضوع گفتگو یوگا ہے تو میں کیسے خاموش رہ سکتا ہوں؟ یہاں پر میں اپنے قارئین کے سامنے کچھ اہم باتیں پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ پہلی بات تو یہ کہ اصل لفظ یوگا نہیں بلکہ یوگ ہے۔ جس طرح انگریزوں نے اشوک کو اشوکا ، رام کو راما اور کرشن کو کرشنا کردیا اسی طرح انہوں نے یوگ کو یوگا کردیا ۔ یوگ کا مطلب ہوتا ہے جوڑنا جیسے ایک اور ایک دو ۔ یوگ اصل میں صرف ایک ورزشی عمل نہیں ہے بلکہ ہندو ازم کا ایک فلسفہ ہے جس میں آتما ( روح) پرماتما ( خدا) اور شریر ( جسم) کو دھیان ( مراقبہ) کے ذریعہ ایک ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔یوگ ویسے تو کئی قسم کا ہوتا ہے لیکن اس میں دو طریقے زیادہ مشہور ہیں پہلا تو ہے ‘‘ ہٹ یوگ’’ جس کے موجد ہندوؤں   کے بھگوان شنکر جی تھے ۔ دوسرے قسم کے یوگ کو ‘ راج یوگ’’ کہا جاتا ہے، اس کا موجد پتا نجلی نام کے یوگ گرو کو بتایا جاتا ہے ۔ یوگ ہندوؤں کے علاوہ بدھ مذہب کے لوگوں میں بھی صدیوں سے رائج ہے، مگر یہ صرف ایک ورزش ہو ایسا نہیں ہے۔ اس کی مذہبی حیثیت بھی رہی ہے اور مذہبی کلمات کی ادائیگی بھی اس کا اہم حصہ رہا ہے ۔مسلمانوں کو اس کے بارے میں گیارہویں صدی میں علم ہوا جب ابوریحان البیرونی نام کے ایک مسلم سیاح نے ہندوستان میں 16 سال تک قیام کیا اور یہاں کے سادھوؤں کو سویرے سویرے ایک خاص قسم کی ورزش کرتے ہوئے دیکھا تو اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ البیرونی نے پتانجلی کی کتاب یوگ سوتر کا ترجمہ بھی کیا جس سے معلوم ہوا کہ یوگ صرف ایک ورزش کا طریقہ نہیں ہے بلکہ ایک مذہبی فلسفہ بھی ہے۔

ا س کے علاوہ ہجرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ برسوں بعد جب ہندوستان میں صوفیائے کرام اور مبلغین اسلام کی آمد و رفت بڑھی اور انہوں نے یہاں اپنے قیام کے دوران یوگ کرنے والے یوگیوں سے ربط و ضبط بڑھایا تو انہوں نے بھی یوگ کو اختیار کیا، لیکن صرف یوگ کے ورزشی حصہ کچھ تاریخی حوالوں میں ملتا ہے کہ مغل بادشاہ اکبر نے یوگ کی تعلیم کی سرپرستی کی اور اس میں کافی گہری دلچسپی دکھائی ، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ عام مسلمانوں نے یوگ کو اختیار نہیں کیا، شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ پانچ وقت کی جو نماز ان پر فرض کی گئی تھی اور جو سنت نمازیں وہ ادا کرتے تھے ان کے دوران ہی اتنی ورزش ہوجایا کرتی تھی مزید کسی قسم کی ورزش کی ضرورت نہیں تھی ۔ خود ہندوؤں میں بھی یوگ عام آدمیوں کی زندگی سے دور تھا اور اس کو صرف سادھوں سنتوں اور اعلیٰ ذات کے لوگوں کی زندگی کا حصہ تصور کیا جاتا تھا ۔ اسی لئے یوگ کی روایت تقریباً ختم ہوگئی ۔ بیسویں صدی کے اوائل میں مشہور آریہ سماجی رہنما سوامی وویکا نند نے اس کے احیاء کی کوششیں شروع کیں ۔ آزادی کے بعد جب حکومتوں میں سادھو سنتوں اور یوگیوں کا عمل دخل بڑھا تو پھر یوگ کو سرکاری طور پر فروغ دئے جانے کی مہم شروع ہوئی ۔ یوگ آشرم وغیرہ قائم ہونے لگے اور پھر ملک کے باہر آباد مذہبی رہنماؤں اور یوگ گروؤں نے ذہنی تناؤ میں گھر ے ہوئے مغربی ممالک کے لوگوں کو ٹینشن سے نجات دلانے کے نام پر یوگ کو یوگا   کلا سز کے نام سے متعارف کروایا اور شدید دماغی تناؤ کا شکار ہوچکے مغربی ممالک کے لوگوں کو سکون بخش کر اربوں روپئے بھی کمائے ۔ یوگ کو فروغ دینا سنگھ پریوار کی بنیادی پالیسیوں کا حصہ بھی رہا ہے، اس لئے جہاں جہاں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی وہاں یوگ کو اسکول کے بچوں کے لئے لازمی قرار دینے کا سلسلہ بھی شروع کردیا، اس میں سب سے زیادہ متنازہ معاملہ ‘‘ سوریہ نمسکار’’ کا تھا کیونکہ مسلمانوں کے نزدیک سورج کوئی دیوتا نہیں ہے بلکہ خدا کی تخلیقات میں سے ایک ہے، اس کے علاوہ یوگ کے دوران منتروں او رمذہبی کلمات کی ادائیگی بھی مسلمانوں میں جائز نہیں ہے۔

ورزش کے دنیا بھر کیں لاکھوں طریقے موجود ہیں ان میں سے ایک یوگ بھی ہے ۔ اس کو اختیار کرنے یا نہ کرنے پر بحث کی صرف ایک وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ منتروں او رپوجا پاٹھ کے بغیر یوگ نہیں ہوسکتا ، خود میرے ساتھ ایساہی کچھ ہوا۔ مجھے 1997 میں ایک دوست نے یوگ کرنے کا مشورہ دیا اور اس کی اتنی تعریفیں کیں کہ مجھے بھی لگنے لگا کہ میرے تمام مسائل کا حل یوگ کے آسنوں میں ہی مضمر ہے ۔ انہوں نے سری فورٹ کے اسپورٹس کا کمپلیکس میں ایک یوگا گرو سے متعارف بھی کروایا اور میں دوسرے ہی دن خود کو فٹ رکھنے کی غرض سے نماز فجر پڑھ کر یوگ استھل پر پہنچ گیا ۔ میں نے یوگ گرو کی ہدایات سنی لیکن جیسے ہی انہوں نے سورج کی طرف آنکھیں بند کر کے سارے لوگوں کو بٹھایا اور اوم اوم جپنے کے لئے کہا میں نے چپکے سے چپل اٹھائی اور ان کی بند آنکھوں کا فائدہ اٹھا کر نکل لیا ۔ جب میرے دوست نے اس فرار کی وجہ پوچھی تو میں نے کہا کہ سوریہ نمسکار یا اوم کی صدا لگانے کی میرے مذہب میں اجازت نہیں ہے تو انہوں نے کہا کہ بھاگنے کی کیا ضرورت تھی تم ان دونوں چیزوں کے بغیر بھی یوگ کرسکتے تھے ۔مگر پھر بھی دوبارہ یوگ کرنے نہیں گیا ۔ اس کے بعد یوگ کرنے کی میری رہی سہی ہمت اس وقت ٹوٹ گئی جب لکھنؤ دور درشن میں میرے ایک دوست سنتوش سیٹھ کے انتقال کی خبر موصول ہوئی ۔ سنتوش اچھے خاصے صحت مند تھے لیکن ایک دن چھت پر اکیلے میں یوگ کرتے ہوئے ان کو دل کا دورہ پڑا اور انتقال ہوگیا مگر یوگ کے میدان میں میرے تجربات کے برعکس میری اہلیہ کو یوگ میں زبردست یقین ہے ، انہوں نے ٹی وی پر رام دیو کے پروگرام دیکھ دیکھ کر یوگ کے بہت سے آسن سیکھ لیے ، لیکن میری اہلیہ نے یوگ کے دوران نہ تو کبھی سوریہ نمسکار کیا اور نہ اوم کا جاپ کیا کیونکہ  بابا رام دیو نے اس معاملے کو حل کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلمان اوم لفظ کہنے کے بجائے اللہ کا نام لیں اور سوریہ نمسکار نہ کریں یعنی مسلمان اس کو صرف ایک ورزش کی شکل میں اختیار کریں ۔ اب حال یہ ہے کہ ہماری اہلیہ ہماری ہر بیماری کا علاج یوگ کے ذریعہ سے ہم کو بتاتی ہیں          لیکن ہم کپال بھارتی ، انولوم ولوم اور دوسرے آسن آج تک نہ کرسکے ۔

 یہ بھی سچ ہے کہ یوگ کی وجہ سے ہماری اہلیہ کے نماز روزے میں بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔ ویسے بھی کئی مسلم ممالک میں اب یوگ کی کلاسز ہونے لگی ہیں اور کئی مسلمان ایسے بھی ہیں جو یوگ گرو بن گئے ہیں ۔ فیس بک پر میرے ایک دوسرے ہیں جو دہرہ دون کے کسی یوگ آشرم میں یوگ   کی تعلیم بھی دیتے ہیں ۔ اس لئے یہ الزام لگانا  کہ تمام مسلمان یوگ کی مخالفت کررہے ہیں سراسر غلط ہے، کیونکہ بہت سے مسلم گھروں میں یوگ آج ورزش کا ایک اہم ذریعہ بن گیا ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ مسلمان یوگ کی نہیں بلکہ یوگ پر مذہبی لبادہ چڑھائے جانے کی مخالفت کررہے ہیں ، مگر اس پر سنجیدگی سے گفتگو کرنے کے بجائے یوگی آدتیہ ناتھ جیسے لوگ زہریلے بیانات دے کر یوگ کو متنازعہ بنانے کی فکر کررہے ہیں ۔ ہمارا ماننا ہے کہ جس طرح آیورویدک علاج کے طریقے ویدوں میں بتائے گئے ہیں جو ہندوؤں کی مذہبی کتابیں ہیں اس کے باوجود کبھی کسی مسلمان نے نہیں کہا کہ وہ آیورویدک علاج نہیں کرے گا ہمارے خیال میں یوگ پر بھی مذہب کا لیبل نہیں لگایا جانا چاہئے ۔ یوگ انسانوں کی فلاح کا ایک ذریعہ ہے اس کو کسی مذہب سے وابستہ کر کے اس کی اہمیت گھٹا نا نہیں چاہئے ۔ خوشی کی بات ہے کہ حکومت ہند اس بات پر راضی ہوگئی ہے کہ سوریہ نمسکار اب نہیں ہوگا اس کو منتروں کے جاپ کے سلسلے میں بھی وضاحت کردینا چاہئے کہ جو لوگ چاہیں اوم کہیں اور جو لوگ چاہیں اللہ اللہ کریں ۔ کئی یوگ گرو یہ بھی کہتے ہیں کہ نماز کے دوران قیام، رکوع اور سجود بھی یوگ کی تعلیمات کا حصہ ہیں اور ایک قسم کا آسن ہیں ۔ بی جے پی کے سینئر ممبر مرلی منوہر جوشی نے بھی یہ بات کہی تھی کہ نماز ایک قسم کا یوگ ہے اس لئے حکومت ہند کو چاہئے کہ یوگ گروؤں کی مدد لے کر سارے ہندوستانیوں کو رکوع و سجود و قیام کے فائدوں سے روشناس کروائیں اس طرح یوگ پر کسی مذہب کا لیبل نہیں لگے گا اور سب اس کو دل کی گہرائی سے اپنائیں گے ۔

10 جون ، 2015 بشکریہ : انقلاب ، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/shakeel-shamsi/debate-over-yoga--یوگا-پر-مباحثہ/d/103458

 

Loading..

Loading..