New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 01:10 AM

Urdu Section ( 17 Dec 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Boko Haram Terrorism and the Helplessness of Muslims بوکو حرام کی دہشت گردی اور مسلمانوں کی بے بسی

شکیل شمسی

16 دسمبر 2020

چار دن قبل نائیجیریا کےکستینا ضلع کے گورنمنٹ سائنس سیکنڈری اسکول کے ۵۲۰؍ طالب علم  اسکول پربوکو حرام کے حملے کے بعد غائب ہوگئے تھے ، پہلے سمجھا جا رہا تھا کہ طلباء بوکو حرام کے خوف سے پاس کے جنگلوں میں چھپ گئے ہیں مگر اب بوکو حرام  نے خود اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ طلباء اس کے قبضہ میں ہیں۔بوکوحرام کے قبضہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہونے والے طلبا ء نے بتایا کہ اب ۳۳۳؍  طلباء  بوکو حرام کے قبضے میں ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل۲۰۱۴ء میں  چیبوک شہر کے ایک گرلس اسکول پر حملہ کرکے بوکو حرام کے دہشت گردوں نے   ۲۷۶؍ لڑکیوں کو اغوا کر لیا تھا۔ان میں سے کچھ بھاگنے میں کامیاب ہوئیں تو ان کے والدین کو معلوم ہوا کہ بوکو حرام کے اراکین نے ان کا جنسی استحصال کیا تھا جس کی وجہ سے وہ حاملہ ہوگئی تھیں۔چھ سال گزر جانے کے بعد بھی بیشتر لڑکیوں کو نائیجیریا کی نا اہل حکومت ڈھونڈ نہیں پائی ہے۔واضح ہو کہ نائیجیریا کی کل آبادی تقریباً ۲۰؍ کروڑ ہے ، اس میں ۵۲؍ فیصد مسلمان اور ۴۶؍ فیصد عیسائی ہیں۔ نائیجیریائی مسلمانوں کی اکثریت مالکی اور شافعی فقہ کی پیروی کرنے والوں پر مشتمل ہے۔مگر ۱۸؍ برس قبل وہاں اچانک تکفیری گروہ پیدا ہو گیا  اور استاذ محمد یوسف نام کے ایک سخت گیر ملا نے’’ جماعۃ اہل السنۃ للدعوة والجہاد ‘‘ کے نام سے ایک نیا فرقہ بنایا اور نائیجیریاکے تمام مسلمانوں کو کافر کہنا شروع کردیا۔ اس تکفیری  فرقےنے ہی سب سے پہلے ’’بوکوحرام‘‘ کا نعرہ دیا اس نے نائیجیریا کے مسلمانوں سے کہا کہ مغربی تعلیم، مغربی طر ز حیات، مغرب کا جیسا معاشرہ اور اہل مغرب کا جیسا لباس پہننا حرام ہے۔ اس کی خاص دشمنی اسکولوں سے رہی کیونکہ نائیجیریا کے مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی انگریزی میں تعلیم دینے والے اسکولوں کی تعداد بہت ہے۔ یہ گروہ لڑکیوں کو اسکول بھیجنے کے بھی خلاف ہے۔مگر اس گروہ کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ اس کے ممبران مغربی ممالک میں بنی گاڑیوں میں سواری کرنے، اہل مغرب کے ایجاد کردہ ہتھیاروں سے قتل و غارت گری کرنے ، مغربی ممالک کی فیکٹریوں میں بنے فوجی لباس او ر جوتے پہننے کو بوکو حرام کے نعرے سے مستثنیٰ سمجھتے ہیں، یعنی جب خون بہانا ہو تو بوکو حرام کا نعرہ یاد نہیں رہتا۔  سب سے افسوس کی بات یہ ہے کہ منافقوں اور مفسدوں کی اس جماعت پر نائیجیریائی حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔  ۲۰۰۹ء میں استاذ محمد یوسف نام کے سربراہ کے واصل جہنم ہونے کے بعد سے اس گروہ کی کارروائیوں میں بہت شدت آگئی ہے ۔ ذرا سوچئے کہ ان والدین پر کیا گزر رہی ہوگی جن کی بچیوں کو اٹھا کر لے گئے یہ درندے اور جن کا پتہ آج تک نہ چل سکا کہ وہ کہاں ہیں۔ ۳۳۳؍ بچوں کو بندوق کی نوک پر اغواکئے گئے والدین کے دلوں پر اس وقت کیا گزر رہی ہوگی اس کا اندازہ لگانا بھی محال ہے اور ان سب کی خطا کیا ہے؟ صرف یہی کہ یہ لوگ اپنے بچوں کو سائنس کی تعلیم دینا چاہتے تھے؟ وہ سائنس جس میں پیچھے ہونے کی وجہ سے ہی آج مسلمانوں پر دنیا تنگ ہوگئی ہے۔۲۰۰۹ء کے بعد سے بوکوحرام کی کمان ابوبکر شیخائو نام کے ایک شقی القلب درندے کے ہاتھ میں ہے اور اب ابو مسعب البرناوی نام کا ایک خونخوار بھیڑیا اس تنظیم کا نائب سربراہ بن گیا ہے۔ ہمیں تو پورا یقین ہے کہ بوکو حرام کے جیسے ظالم ، بے رحم، سفاک اوربربریت پسند لوگوں کو  اسلام دشمن طاقتوں نے اسلام کی شبیہ کو خراب کرنے کا ٹھیکہ دیا ہے۔ اس کی ذہنیت کا اندازہ آپ ابو بکر شیخاو کے ایک جواب سے لگا سکتے ہیں، جو اس نے گرلس اسکول کی لڑکیوں کو اغوا کر کے ان کو بیچنے کی غیر انسانی اور غیر اسلامی  حرکت کے بارے میں دیا تھا’’  یہ لڑکیاں اللہ کی ملکیت تھیں،  مجھےاللہ نے حکم دیا اور میں نے اللہ کی ملکیت ان لڑکیوں کو بیچ دیا۔‘‘  اس کے اس جواب سے بھی لگتا ہے کہ وہ خود کو پیغمبر یا نبی بھی سمجھتا ہے کیونکہ اللہ کا حکم تو ان ہی کے پاس آتا ہے۔ آپ کو یہ جان کر بہت افسوس ہوگا کہ بوکو حرام نے اب تک  ۳۶؍ ہزار مسلمانوں کو قتل کیا ہے، بوکو حرام کے حملوں سے بچنے کے لئے اب تک ۲۰؍ لاکھ مسلمان محفوظ مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہوچکے ہیں ۔ ہرچند کے نائیجیریا اور آس پاس کے ممالک نے بوکو حرام کے خلاف ایک مشترکہ  فوجی مہم بھی چلا رکھی ہے اور اس سے بوکو حرام کا تصادم ہوتا رہتا ہے ، مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ بوکو حرام اور اس کے جیسے نظریات رکھنے والے دوسرے بدبخت گروہ جب تک  باقی رہیں گے اسلام کے اصولوں، آنحضورؐ کی سنت اور قرآن پاک کی تعلیمات کا یہ لوگ یونہی مذاق اڑاتے رہیں گے۔ مسلمانوں کی یہ کیسی بے بسی ہے کہ ایک طرف تو مشرکین آنحضور اور اسلام کی توہین کر رہے ہیں اور دوسری جانب کچھ داڑھی ٹوپی والے اسلام دشمن عناصراہانت رسولؐ، توہین اسلام اور تکذیب قرآن میں لگے ہیں اور مسلمانوں کا ہی خون بہا رہے ہیں اور اسلام کو ہی بدنام کر رہے ہیں۔

16 دسمبر 2020،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/boko-haram-terrorism-helplessness-muslims/d/123795


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..