New Age Islam
Fri Sep 24 2021, 04:19 PM

Urdu Section ( 11 Aug 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Wisdom, Not Zeal is the Need of the Hour جوش سے زیادہ ہوش کی ضرورت ہے

شکیل شمسی

12اگست،2021

محرم الحرام کا آغاز ہوچکا ہے اور اسی کے ساتھ شہیدان کربلا کی یاد میں جگہ جگہ سالانہ مجالس اور خصوصی اجتماعات کا اہتمام بھی ہو رہا ہے۔کورونا کی وبا کے دوران یہ دوسرا  محرم ہے۔خدا کا شکر ہے کہ کورونا کی ہلاکت خیزی کسی حد تک کم ہو چکی ہے، حالانکہ آج بھی ہمارے ملک میں  تقریباً ۳۹؍ ہزار لوگوں کے کورونا میں مبتلا ہونے کی خبر آئی ہے، اس لئے جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس ہلاکت خیز وبا سے نجات مل گئی ہے وہ غلط فہمی کا شکار ہیں۔دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ کچھ جوشیلے اور عقل سے بے بہرہ نوجوان ویڈیو جاری کرکے محرم میں کورونا کی پابندیوں پر عوام کو عمل پیرا ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جذباتی باتوں اورجوشیلے نعروں سے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرنے والے نوجوان کئی شہروں میں سرگرم ہیں۔ کچھ لوگ اس معاملے کو فرقہ واریت کے چشمے سے بھی دیکھ رہے ہیں، جبکہ سب دیکھ چکے ہیں کہ ہری دوار سے شروع ہونے والی کانوڑ یاتر ا کو منسوخ کیا گیا، یہ کانوڑ یاترا  ساون کے مہینے میں تین ہفتوں تک چلتی تھی اور اس دوران تقریباً تین کروڑ لوگ اس مذہبی اجتماع کا حصہ بنتے تھے۔ اسی طرح امرناتھ یاترا جو اس سال ۲۸؍ جون سے ۲۲؍ اگست تک ہونے والی تھی محض کورونا کی وجہ سے منسوخ کی گئی۔ ایودھیا میں ہر سال ساون جھولا کے نام سے جو بہت بڑا میلہ ہوتا تھا  وہ ۱۸؍ اگست سے ۲۲؍ اگست کے درمیان ہونا تھا لیکن اب اس میں بھی عقیدت مندوں کو آنے سے منع کیا جارہا ہے۔اس لئے محرم کے اجتماعات ، جلوسوں اور مجلسوں پر پابندی کو فرقہ واریت کی عینک سے دیکھنا بالکل غلط ہے۔ اس وقت حالات کچھ ایسے ہیں کہ انسانوں کی زندگی کو مذہبی تقاریب پر ترجیح دینا لازمی ہے۔محرم کے ساتھ تو ویسے بھی صبر کا بہت گہرا رشتہ ہے ، اس لئے جو لوگ شہیدان کربلا کی یاد مناتے ہیں ان پر واجب ہے کہ وہ صبر سے کام لیں۔ اس بات پر بھی دھیان دیں اور اللہ کا شکر ادا کریں کہ گزشتہ برس تو جلسوں اور مجلسوں میں صرف پانچ افراد کی شرکت کی اجازت تھی، اس سال پچاس لوگوں کے شریک ہونے کی اجازت مل گئی ہے۔ جیسا کہ آپ کومعلوم ہے کہ  ابھی کیرالا میں عید قرباں کے موقع پر حکومت نے ذرا سی چھو ٹ کیا دی کہ وہاں اچانک  ہر دن  بیس ہزار سے زیادہ لوگ کورونا میں مبتلا ہونے لگے، حالانکہ وہاں کورونا کی لہر آنے کا عید قرباں سے کوئی تعلق نہیں تھا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو سب مسلمان ہی کورونا میں مبتلا ہوتے، ہر قوم کے لوگوں کا کورونا میں مبتلا ہونا یہ بتاتا ہے کہ چوک کہیں اور ہوئی تھی مگر فرقہ پرست گودی میڈیا کو موقع مل گیا کہ وہ کیرالا کی سیکولر حکومت کو بدنام کرے۔خدا نخواستہ محرم کے ایام میں کہیں بھی کورونا کے مریضوں میں اضافہ ہوا تو پھر گودی میڈیا مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے میں لگ جائے گا تاکہ ملک کے عوام کا دھیان اصل پریشانیوں کی جانب سے ہٹایا جا سکے۔کورونا کے علاوہ بھی ایک سنگین مسئلے سے اس وقت ملت دوچار ہے اور وہ ہے فرقہ پرست عناصر کی جانب سے  فساد کروانے کی سازش۔

 ہم سب کو اس مورچے پر بھی خبردار رہنا ہے او ر کسی بھی بھڑکانے والی کارروائی یا مشتعل کرنے والی حرکت کا شکار ہونے سے بچنا ہوگا۔ اپنے نوجوانوں کو بتانا ہوگا کہ وہ فرقہ پرستوں کی ہر سازش کو نظر اندا ز کریں۔اپنے محلے میں رہنے والے ہندو بھائیوں کو اپنے اجتماعات میں مدعو کریں، ان کو بتائیں کہ ہمارے مذہبی پروگراموں میں کسی کی دل شکنی نہیں کی جاتی بلکہ انسانیت کا پیغام دیا جاتا ہے۔ایک بات یہاں پر کہنا چاہوں گا کہ ہو سکتا ہے کہ کسی تھانے یا کسی پولیس چوکی پر تعینات کوئی پولیس اہلکار یا افسر آپ کے ساتھ زیادتی کرے، یا فرقہ پرستوں کی شکایتوں پر آپ کے پروگراموں کو رکوانے کی کوشش کرے، کہیں پر پچاس سے زیادہ آدمیوں کا بہانہ بنا کر تلخ کلامی کرے تو بہتر تو یہی ہوگا کہ ان سے بحث مباحثہ کرنے کےبجائے اپنے سیاسی ، سماجی اور مذہبی لیڈروں کو موقع پر بلائیں، ان کی معرفت مسئلے کو حل کروائیں۔خاص طور پر یوپی کے لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ اس بات کو دھیان میں رکھیں کہ کچھ ہی مہینوں کے بعد الیکشن ہونے والا ہے اور جو لوگ فرقہ پرستی کی بنیاد پر الیکشن لڑتے ہیں وہ کسی نہ کسی بہانے سے کشیدگی پیدا کروانے کی کوشش کریں گے،اس لئے تمام عزاداروں،ماتم داروں اور سوگواروں کو بہت دانش مندی کے ساتھ اپنے مذہبی فرائض ادا کرنے ہوں گے۔عشرۂ محر م کے درمیان ہی یوم آزادی بھی پڑے گا ، اس سلسلے میں جگہ جگہ سرکاری اور غیر سرکاری تقریبات منعقد ہوں گی، اس دن بھی محرم منانے والے تمام افراد کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگاکہ یوم جمہوریہ کی کوئی تقریب متاثر ہونے نہ پائے۔آخر میں پھر عرض کرتا چلوں کہ جب آپ کسی بھی پروگرام میں جائیں بھلے ہی وہاں پچاس آدمی ہوں برائے کرم ماسک ضرور لگائیں اور فاصلے سے بیٹھیں۔

12اگست،2021،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/wisdom-zeal-hour/d/125208


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..