New Age Islam
Wed Apr 14 2021, 09:29 AM

Urdu Section ( 5 Oct 2011, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

School of Success: From Delhi to Mallapuram کامیابی کے اسکول: ملہ پورم سے دہلی کا سفر

 

شاجو فلپ    (انگریزی سے ترجمہ۔ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام ڈاٹ کام)

محمد علی شہاب کے والد کا انتقال تب ہو گیا تھا جب وہ صرف11سال کے تھے۔ انکی ماں غریب تھیں ان کے لئے تعلیم کا خرچ برداشت کرنا مشکل تھا۔اس لئے انہوں نے شہاب اور انکی دو بہنوں کو کیرلہ کے کوزی کوڈ ضلع میں مسلمانوں کے زیر انتظام یتیم خانہ میں داخل کرا دیا۔شہاب نے اسکول چھوڑا،ایک چپراسی کے طور پر کام کیا اوربعد میں ایک اسکول ٹیچر بن گئے۔ملہ پورم ضلع کا یہ انسان پکے ارادوں والا تھا اور اس نے بڑی مضبوطی کے ساتھ سول سروسیز کے اپنے خواب کو پورا کیا۔تین کوششوں کے بعد اس سال مئی میں31سال کے شہاب نے یو پی ایس سی امتحانات میں 226ویں رینک سے کامیابی حاصل کی ۔

ایک دکاندار کے بیٹے تھٹّراتھوڈی جعفر آل انڈیا انجینئرنگ اگزامینیشن میں حاصل اپنی رینک کی بنیاد پرملک کے کسی بھی اعلیٰ انجینئرنگ کالج میں داخلہ لے سکتے تھے،لیکن جعفر نے آئی آئی ٹی میں داخلہ لینے کا ارادہ کیا تھا اور اس کے لئے اس نے ایک سال اور محنت کی۔سال2011میں ریاستی انجینئرنگ انٹرینس اگزامینیشن میں دوسری رینک حاصل کیاور آئی آئی ٹی میں داخلہ لینے کا اس کا خواب پورا ہوا۔

شہاب اور جعفر اس تبدیلی کا حصّہ ہیں جو کیرلہ کے مسلم اکثریتی آبادی والے ملہ پورم ضلع میں واقع ہو رہی ہے۔ خواندگی کے معاملے میں ملہ پورم، ریاست کے دوسرے اضلاع کے مقابلے پسماندہ تھا،لیکن نئی نسل کے مسلمان تعلیم کی حدود کو آگے بڑھا رہے ہیں اور حالات کو تبدیل کر رہے ہیں۔

ایک ایسا علاقہ جہاں اسکول چھوڑنے والے غیر ہنر مند مزدور کی حیثیت سے خلیج ممالک میں جایا کرتے تھے،لیکن اب ملہ پورم امتحانات میں حاصل نمبروں کے معاملے میں دوسری ریاستوں کو چیلنج دے رہا ہے۔10ویں کے امتحانات میں کامیاب ہونے والے بچوں کی تعداد اس کی ترجمانی کرتا ہے۔سال2001میں محض33.24فیصد بچے ہی پاس ہوئے تھے۔سال2002میں41.23اور2004میں58.77فیصد ہو گیا۔اس کے بعد سب سے بڑی تبدیلی2010 میں آئی اور تعداد86.91فیصد ہو گئی اورسال2011میں88.57فیصد بچے کامیاب ہوئے جو پوری ریاست کے اوسط 91.37کے قریب ہے۔گزشتہ کچھ برسوں میں دسویں کے امتحانات میں شرکت کرنے والے بچوں کی تعداد کے معاملے میں ملہ پورم کیرلہ کے14اضلاع میں اوّل ہے۔اس سال کے میڈیکل انٹرنس اگزام میں اوّل(وی عرفان)اور ریاست ہی کے انجینئرنگ انٹرینس اگزام میں دوسری رینک( تھٹّراتھوڈی جعفر)حاصل کرنے والے ،دونوں ملہ پورم ضلع کے ہی ہیں۔

شاید یہ ملک کے کسی مسلم اکثریتی آبادی والے ضلع کی تعلیمی شعبے میں کامیابی کی پہلی کہانی ہو سکتی ہے۔2001کی مردم شماری کے مطابق ملہ پورم ملک کے ان اضلاع میں سے ایک ہے جہاں کی آبادی دس لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔اسکی دو تہائی آبادی مسلمان ہے۔ مغربی بنگال کے مرشدآباد کے بعد اس ضلع میں سب سے زیادہ مسلمانوں کی آبادی ہے۔

تبدیلی کی لہر

ملہ پورم کی تعلیمی ترقی کی کہانی اس لئے بھی خاص ہے کیونکہ ماضی میں یہاں انگریزی اور جدید تعلیم کی مخالفت ہوتی رہی ہے۔اور اس کی شروعات 18ویں صدی کے دوسرے نصف حصہ میں ہوئی جب برطانوی فوج نے ٹیپو سلطان کو ہلاک کر کے مالابار پر قبضہ کر لیا۔

تاریخ داں ایم جی ایس نارائنن کہتے ہیں’کیرلہ کے دوسرے ساحلی علاقوں کی طرح ملہ پورم میں عیسائی مشنریز نے اسکول قائم کئے لیکن یہ اسکول مسلمانوں پر کوئی خاص اثر نہیں ڈال سکے کیونکہ مسلمانوں کے لیڈر انگریزی اور یہاں تک کہ ملیالم کے مخالف تھے۔‘

1948میں مسلمانوں کے زیر انتظام قائم ہونے والے کیرلہ کے پہلے ڈگری کالج، فاروق کالج کا قیام اس علاقے کے تعلیمی میدان میں ایک اہم تاریخی قدم تھا۔1965میں ضلع کے مشرقی حصہ ممباڈمیں ایک اور کالج کا قیام مسلمانوں نے کیا۔

ملہ پورم کی سیاست میں اپنا غلبہ رکھنے والی پارٹی انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) کی پہل پر1968میں ضلع میں کالی کٹ یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا اس نے شمالی کیرلہ میں نئے تعلیمی اداروں کے قیام کا راستہ ہموار کیا۔تاہم آج سے15سے20سال قبل تک ملہ پورم ضلع کے لئے معیاری اسکولی اور اعلیٰ تعلیم پہنچ سے دور تھی۔

مسلم سیاست کے سماجی ناقد اورمبصر پروفیسر حمید چندامنگلور کے مطابق ’گزشتہ تین دہائیوں میں خلیج ممالک سے آئے پیسے نے تعلیمی میدان میں بھی اقتصادی ترقی کی عکّاسی کی ہے۔‘خلیج ممالک میں روزگار کے سبب جانے والے لوگ اپنے بچوں کے لئے معیاری تعلیم چاہتے تھے اور اسی ضرورت کے مدّ نظر اسکول اور کالجوں کا قیام عمل میں آیا۔

گزشتہ15برسوں میں تعلیمی شعبے کو نجی سرمایاکاری کے لئے کھول دینے سے ملہ پورم تعلیمی میدان میں ریاست کے باقی اضلاع سے مقابلہ کرنے کی قابل ہوسکا۔کانگریس کی قیادت والی یو ڈی ایف حکومتوں میں تعلیم کے شعبے کوآئی یو ایم ایل نے سنبھالا اور اس سے ملہ پورم کو کافی مدد ملی۔مسلمان کے زیر انتظام مادھیم اخبار نے ملہ پورم کو تعلیمی میدان میں خودمختاربنانے کی مہم کے لئے مسلم رہنماؤں کے ساتھ ہی سیاست دانوں کو بھی ترغیب دی۔

اپنے ہندو اور عیسائی ہم عصروں سے سبق لیتے ہوئے مسلمانوں کی مذہبی تنظیموں نے90کی دہائی کے اخیر میں ضلع کے ہر حصے میں بغیر سرکاری مدد کے چلنے والے انگریزی میڈیم اسکولوں کا قیام کیا۔کئی سی بی ایس اِی اسکولوں کا بھی قیام عمل میں آیا۔مسلمانوں میں بہتر تعلیم کی خواہش کا اظہار امیر غیر مقیم ہندوستانیوں کے ذریعہ قائم وسیع کالج کیمپس اور مدارس میں مقامی محلہ کمیٹیوں کے ذریعہ غیر الحاق شدہ انگریزی میڈیم اسکول سے ہوتا ہے۔یہ رجحان اب بھی جاری ہے لیکن اب ملہ پورم میں تعلیمی شعبے میں ہو رہی سرمایاکاری بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے اور ان پر اب کوئی مذہبی نشان نہیں ہے۔

تعلیم کے لئے جدوجہد

سرکاری مدد کے بغیر چلنے والے اسکول اور کالجوں کے ملہ پورم میں قیام کے بعد پہلے سے موجود سرکاری اور حکومت سے مدد حاصل کرنے والے تعلیمی اداروں نے خود کو تبدیل کیا اور بنیادی ڈھانچے میں بہتری لائے۔

ملک میں ملہ پورم ایسا پہلا ضلع ہے جس نے تعلیم کے لئے جدید ٹکنالوجی کا ستعمال کیا ہے اور ’اسمارٹ کلاس روم‘ بنائے ہیں۔2001میں پنچایت کے ذریعہ شروع کی گئی ای۔لٹریسی مہم کے بعد ملہ پورم ملک کاپہلاای۔لٹریٹ(خواندہ) ضلع بن گیا۔

آئی یو ایم ایل کے رکن اسمبلی اور ای۔لٹریسی پروجیکٹ شروع کرنے والی ملہ پورم ضلع پنچایت کے نائب صدر عبد الرحیم رنداتھانی کہتے ہیں کہ’گاؤں تک انٹرنیٹ لے جانے کا مقصد یہ تھا کہ ہم لائبریری اور دوسرے پڑھنے کے وسائل کی کمی پر قابو پاسکیں۔یہ بھی خیال تھا کہ ملہ پورم کے وہ لوگ جوخلیج ممالک میں رہتے ہیں اپنے کنبے کے ساتھ انٹر نیٹ کے ذریعہ ویڈیو چیٹ کر سکیں ۔‘

2005 تک ملہ پوورم کے ہائی اسکولوں میں ملٹی میڈیا پروجکشن لیب قائم تھی اور آن لائن پڑھائی کے لئے اسکول ایجوسیٹ(ایجوکیشن سیٹیلائٹ) سے جڑے ہوئے تھے۔ملہ پورم کے اسمارٹ کلاس روم نے ریاستی محکمۂ تعلیم کو بھی اس طرح کے منصوبے پوری ریاست کے لئے بنانے کی تر غیب دی۔

2001 میں ضلع پنچایت نے ہائی اسکول کے طلبہ کی کارکردگی میں بہتری کے منصوبے ’وجے بھیری‘کا آغاز کیا اور اسے دسویں کے امتحانات میں شاندار کار کردگی کا سہرا بھی جاتا ہے ۔رنداتھانی کہتے ہیں کہ یہ طالب علموں،اساتذہ اور والدین کی مشترکہ کوشش ہے جو دسویں کے امتحانات کے نتائج میں خاطر خواہ بہتری درج ہوئی ہے۔ہر سال دسویں کے امتحانات سے قبل کلاس کے اوقات کے بعد والدین اور اساتذہ طالب علموں کو خصوصی تربیت دیتے ہیں۔‘

وجے بھیری کے علاوہ ضلع پنچایت نے انگریزی بولنے میں مہارت حاصل کرنے کے لئے برٹش کونسل کے ساتھ معائدہ کیا ہے۔

عنقریب تبدیلی

اچھی تعلیم کی خواہش نے ہمعصروں کیلئے اچھا کیا ہے۔اس سے تقلید پسندی کے بندھن ڈھیلے پڑے ہیں۔تقریباً ایک دہائی قبل رمضان کے دنوں میں مسلمانوں کے زیر انتظام اور سرکاری مسلم اسکول ایک ماہ کے لئے بند رہا کرتے تھے، لیکن اب کچھ کو چھوڑ کر زیادہ تر عام تعلیمی کیلنڈر کو ہی مانتے ہیں۔

ملہ پورم کے متھرا گاؤں میں مسلمانوں کے اپر پرائمری اسکول میں ٹیچر کے محسن کہتے ہیں ’رمضان کی چھٹیوں کی وجہ سے تعلیم پر اثر پڑتا ہے،جبکہ ایک طبقہ اب بھی عام تعلیم کیلنڈر پر عمل کی مخالفت کرتا ہے۔رمضان کے ایاّم میں بند رہنے والے اسکولوں کے طلبہ کے لئے خصوصی ٹیوشن پروگرام چلائے جاتے ہیں۔‘

مدارس بھی اسی طرح کی توجہہ کا ایک مرکز تھے۔پہلے مدارس میں صبح اور شام میں پڑھائی ہوتی تھی۔زیادہ ترمدارس نے طالب علموں کو اپنے اسکول کے ہوم ورک اور ٹیوشن کلاس کرنے میں مدد کے لئے شام کی پڑھائی کے نظم کو بند کر دیا۔کئی مدارس مذہبی تعلیم کے بعد انگریزی میڈیم اسکول چلاتے ہیں۔کئی مقامات پر مدرسہ تعلیم کو صرف ہفتے کے آخری دنوں میں کچھ گھنٹوں تک محدود کر دیا گیاہے۔سی بی ایس اِی کے کئی رہائشی اسکول مدرسہ تعلیم کی جگہ روزانہ کچھ گھنٹے اخلاقی تعلیم کے لئے وقف کر رہے ہیں۔

کئی اچھے خیالات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ سنّی لیڈر محمد فیضی مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ’مدارس صبح10بجے کے بعد پورے دن کے لئے خالی رہتے ہیں ،ان کو خود روزگار پروگرام کے لئے ہنر مندی سکھانے والے مراکز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔‘

مدرسہ کے سابق استاد مختا ادارمپوئیل کے مطابق مسلم رہنما انگریزی میڈیم مدرسہ شروع کرنے پر غور وخوض کر رہے ہیں۔مذہبی تعلیم کے مراکز شریعت کالج، دعوت کالج اور اصفا العلماء عربی کالج اپنے طالب علموں کو مذہبی تعلیم کے ساتھ ہی عام تعلیم کو جاری رکھنے کے لئے حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ان مین سے کئی کالج میں کئی جدید کورس ہیں جیسے مذہبی تعلیم اور ایم بی اے کو آپس میں جوڑا گیا ہے۔ملہ پورم کے دعوت کالج میں پانچ سال کا کورس مذہبی تعلیم کے ساتھ ہی انگریزی میں گرجوایشن کا بھی پروگرام چلارہا ہے۔ان میں سے کئی انجینئرنگ اور میڈیکل کے داخلہ امتحانات کی تیاریوں کے لئے کوچنگ بھی دے رہے ہیں۔

سول سروسیز امتحانات میں ملہ پورم کے ایک مسلم نوجوان کی کامیابی نے کوچنگ دینے والے انسی ٹیوٹ کی باڑھ لا دی ہے۔فاروق کالج میں سول سروسیز اکیڈمی ہے اور ممباڈو کے ایم ای ایس کالج میں فاؤنڈیشن کورس کرایا جا رہا ہے۔مسلم سروس سوسائٹی اور محمد عبد الرحیم میموریل یتیم خانہ نے اپنے سول سروسیز کوچنگ پروگرام کا اعلان کیا ہے۔

ملہ پورم کی گلیوں میں تبدیلی واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔یہاں سڑک کے کنارے لگے ایک بورڈ میں ان لڑکیوں کی تصویر ہے جنہوں نے انجینئرنگ یا میڈیکل کے داخلہ امتحانات میں کامیابی حاصل کر لی ہے اور اس پر لکھا ہے’برطانیہ میں آئیں،لندن اور آسٹریلیا میں پڑھیں‘۔جب اس طرح کے سائن بورڈ شوارمہ اور شوائی کے اشتہارات کامقابلہ کریں تو یہ ظاہرہوتا ہے کہ ملہ پورم نے ایک نئے باب کا آغاز کر دیا ہے۔

بشکریہ۔انڈین ایکسپریس

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-society/success-school--journey-from-malappuram-to-delhi/d/5404

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/school-of-success--from-delhi-to-mallapuram--کامیابی-کے-اسکول--ملہ-پورم-سے-دہلی-کا-سفر/d/5633


 

Loading..

Loading..