New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 04:12 AM

Urdu Section ( 8 Apr 2015, NewAgeIslam.Com)

The Reality of Religions مذاہب کی حقیقت

 

 

 

 

 

 

 

شیخ راشد احمد

مذہب کا تصور مفاد پرست انسانوں کے ذہن کا تراشیدہ ہے، جن کا مقصد یہ تھا کہ وہ دوسرے انسانوں کی کمائی پر عیش کی زندگی بسر کریں۔ اور یہ کچھ اس انداز سے کریں کہ یہ مفاد پرست مذہبی خرکار انہیں لوٹین اور وہ ظلم کا شکار انہیں دعائیں دیں، یہ اِنہیں دھتکاریں اور وہ اِن کے پاؤں پڑیں، یہ اِنہیں بلا جُرم و قصور گالیاں  دیں اوروہ گڑگڑا کر معافیاں مانگیں ، یہ بھری محفل میں اِنہیں  بے عزت کریں لیکن وہ اپنے کمرے کے تنہائیوں میں اپنے دل کے اندر بھی اِن کی شان گستاخی کا خیال تک نہ لاسکیں، یہ اِن سے ہر قسم  کی خدمت او ربے گار لینا اپنا حق سمجھیں اور وہ اِن کے ہر حکم کی تعمیل کو اپنی زندگی  کا مقدس ترین فریضہ قرار دیں ۔ اِن کے ادنیٰ سے اِشارے پر اپنے سینے  میں خنجر گھونپ لیں،اپنے بچوں کے گلے پر چھری پھیر دیں ، آگ میں کود پڑیں ۔ پہاڑ کی چوٹی سے سر کے بل نیچے آگریں، تختہ دار پر ہنسی خوشی چڑھ جائیں، اِن کی گاڑیوں کے آہنی پہیوں کےنیچے آکے کچلے جائیں ۔ یہ اپنے جس حریف  کے خلاف چاہیں  اِنہیں کھڑا کردیں ۔ اور وہ اتنا جانے اور پوچھے بغیر کہ ہمیں ان کے خلاف کیوں لڑایا جارہا ہے، اُن کی جانیں لیتے اور اپنی جانیں دیتے جائیں ۔ وہ خود بھوکے رہیں اور اِن  کے خادموں کو نعمتیں کھلائیں، اپنے بچوں کو فاقے سے رکھیں اور اِن کے کتوں کو گوشت کھلائیں ۔ خود ننگے رہیں اور ان کے پتھروں کو سونے چاندی  کے جڑے لباس پہنائیں ۔ خود جھونپڑیوں میں زندگی کے دن کاٹیں اور ان کی ہڈیوں کی راکھ تک پر سنگ مرمر کی فلک بوس عمارات  تعمیر کریں ۔ زندگی تو ایک طرف ، ان کی موت کے بعد بھی اِن کے دل پر ان کا خوف اس طرح طاری رہے کہ وہ اِن کےتصور سے ڈرتے ، کانپتے ، لزرتے ، سہمے رہیں ۔ غرض یہ کہ یہ ہر وقت ان بے چاروں کے اعصاب پر چھلاوے کی طرح سوار اِن کے  ذہن پر بھوت بن کر چھائے رہیں اور لوگ اِن کے پنجہ کی آہنی  گرفت  سے  کبھی نہ نکل پائیں ۔ یہ ہے ہر مذہب کے وہ چند گوشے جسے مفاد پرست انسانوں کی عقل فریب کار نے تراشا اور جسے کمزوروں  کا خون چوسنے کے لئے ایک موثر ترین حربہ کے طور پر استعمال کیا ۔ اس میں شبہ نہیں کہ اہل اقتدار اور سرمایہ داری کا ظلم و تشدد بھی کچھ کم خونی واقع نہیں ہوا، لیکن اِنہیں اپنے غلبہ و تسلط کی زنجیریں مستحکم رکھنے کےلئے سینکڑوں قسم کی قوتیں فراہم اور ہزار قسم حربے استعمال کرنے پڑتے ہیں ۔ اور پھر بھی اِنہیں  ہر وقت دھڑ کالگا رہتا ہے کہ کسی وقت   شکار اُن کے جال سے نہ نکل جائے ۔ لیکن مذہبی  فریب کاریوں  کا تو یہ عالم ہے کہ اگر اِس راستے میں کوئی دیدہ ور اِن غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لئے آگے بڑھے تو یہ اربابِ مذہب کے غلام آگے بڑھ کر اُس دیدہ ور کا گلا گھونٹ دیتےہیں، اور اگر کسی وقت کسی کوئی زنجیر اتفاقاً خود ٹوٹ جائے تو یہ لوگ اِس ٹوٹی ہوئی زنجیر کے ٹوٹے ہوئے حصوں کو بصد عقیدت و احترام  چوم کر اپنے گلے  میں دو بارہ ڈال لیتے ہیں ۔

ارباب مذہب نے اپنی تمام سحر انگیز یوں کے لئے صرف ایک بنیادی حربہ استعمال کیا اور وہ یہ کہ انہوں نے جو کچھ کرنا چاہا اسے اللہ کی طرف منسوب کردیا۔ مذہب کی تمام تر گرفت کا راز اِسی حربے میں ہے، اس کےلئے انہوں نے پیش بندی یہ کی کہ لوگوں کو سوچنے سمجھنے سے دُور رکھا جائے اور عقل و فکر کے قریب لوگوں کو نہ آنے دیا جائے، کوئی مذہب پرست  جنتی  زیادہ جہالت آمیز باتیں کرے اُسے اتنا زیادہ اللہ کا مقرب سمجھا جائے ۔ ارباب مذہب کی طرز ادا ( ٹیکنیک) ہی یہ ہوتی ہے کہ اپنے عقیدت مندوں کو جہالت کے گھڑےسے باہر نہ نکلنے دیا جائے ، تو ہم پرستیوں پر ایمان کا انحصار اور عجوبہ پسندیوں کو صداقت کا شعار قرار دیا جائے ۔ اِن کی طرف سے پیش کردہ عقائد پر ایمان لایا جائے تو بلا علم و دلیل اور اِن کے اِحکام کی تعمیل کی جائے تو یہ پوچھے بغیر کہ اِس سے بلآخر مقصد کیا ہے؟ مذہب کی طرف سے جو کچھ پیش کیا جاتا ہے ، اس کے حق میں اِس کے پاس ایک ہی دلیل اور ایک ہی سندہوتی ہے اور وہ یہ کہ ایسا کچھ پہلے سے ہوتا چلا آرہا ہے او رہمارے بزرگوں کا یہی مسلک تھا ۔اگر کوئی شخص مذہب کے پیش کردہ کسی عقیدے یا مسلک پر اعتراض  کرے تو عوام کو یہ کہہ کر بھڑ کادیا جائے کہ یہ شخص تمہارے اسلاف کی توہین کرتا ہے ۔ اربابِ مذاہب کی طرف عوام کے جذبات کو بھڑکاکر جس قدر دنیا میں فتنہ فساد برپا کیا گیا مذہب کی تاریخ  کا ایک ایک ورق اس پر گواہ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں جس قدر خوں ریزیاں اور فساد انگیزیاں مذہب کے نام پر ہوئی ہیں، ہلاکوں اور چنگیز خان کے حصہ میں اِن کا عشرِ عشیر بھی نہیں آیا ہوگا ۔ یہی وہ حربہ ہے جس سے ارباب مذہب اپنے مخالفین کو ڈرا دھمکا کر رکھتے ہیں کہ وہ اِن کے خلاف ایک  لفظ تک کہنے کی جرات نہیں کرسکتے ۔ مذہب کا تمام کاروبارعوام کے جذبات پر ہے، اس کے لئے اربابِ مذاہب اِس قسم کے مواقع پیدا کرتے اور ایسی تقریبات مناتے اور تراشتے رہتے ہیں جن کے عوام کے جذبات میں شدت پیدا ہوتی رہے ، اور اِن  کی لگائی ہوئی یہ آگ بجھنے نہ پائے ۔

یہ ہے مذہب کا مختصر تعارف ، جو پہلے دن سے آج تک انسانیت کی گردن پر پھانسی کا پھندا بن کر پڑا ہے ۔ اور جس نے نوعِ انسان کی نس نس کو اس طرح اپنی گرفت میں لے رکھا ہے کہ وہ اس کی مرضی کے خلاف ذرا سی حرکت بھی نہیں کرسکتی ۔ او ریہی ہے اس کی وہ آہنی گرفت جس نے نوعِ انسان کو چھڑا نے کے لئے اللہ کی طرف سے خالص دین ( اجتماعی نظام زندگی ) کو بار بار دہرایا گیا ۔اللہ کا عطا کردہ نظام زندگی کے  پیامبر حضرات انبیاء کرام تھے جو مذہب کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے انسانوں کو آزادی کی دعوت دیتے تھے ۔ وہ انسانوں کو مذہب کے چنگل سے آزاد ہونے کی دعوت دیتے اور ارباب مذہب اپنی پوری قوتوں کو یکجا کرکے، انبیاء کرام علیہ السلام کےخلاف اٹھ کھڑے ہوتے تھے ۔ اِس جنگ میں ارباب اقتدار ، ان کے پشت پناہ اور سرمایہ دار طبقہ ان کا حماعتی ہوتا تھا اور آج تک وہی سلسلہ جاری ہے ۔ اس لئے کہ اللہ کا عطا کردہ دین ( نظام) ان کے حق میں بھی موت کا پیغام تھا اور آج  بھی ہے وہ دِین ( نظام) کو مغلوب اور مذہب کو غالب رکھنے کی انتہا ئی کوشش کرتے تھے ۔ کیونکہ مذہب کے غلبہ میں خوداِن  کی اپنی زندگی کا راز مضمرتھا ۔ دین او رمذہب کی یہی وہ کش مکش  ہے جو پہلے دن سے آج تک دنیا کے ہر ملک ، ہر قوم ، اور ہر زمانے میں مسلسل چلی آرہی ہے ۔ مذہب کاراستہ انسانیت کے لئے بد ترین لعنت اور اللہ کے غضب کو دعوت ہے۔ اللہ اپنی عظیم کتاب قرآن  میں فرماتے ہیں  یہ قوانین جن کی رُو سے انسانوں کی سعادتوں او رنا کامیوں فیصلے ہوتے ہیں کوئی پہلی مرتبہ سامنے نہیں لائے گئے ۔ انہیں ہم شروع ہی سے مختلف انبیاء کی معرفت دیتے چلے آرہے ہیں لیکن ہوتا  یہ رہا کہ وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (22:52) ہمارا رسول و نبی آتا  لوگوں تک ہمارا پیغام پہنچا تا ، اس کے چلےجانے کے بعد شیطان صفت لوگ اللہ کی آیات  میں اپنی طرف سے آمیز ش کرکے اسے کچھ سے کچھ بنا دیتے ہیں،آیتوں  میں جو سر کشی پیش کی جاتی پس اللہ اُسے منسوخ کرتا دوبارہ اللہ آیتوں کے ذریعے حکم  دیتا، اللہ علم والا اور حکم دینے والا ہے، یعنی اِس آخری نبی  سے قبل کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے ساتھ یہ بات نہ ہوئی ہو کہ اس کی وفات کے بعد دین کے مخالف شیاطین نے نبی کی پیش کردہ ‘‘ وحی’’ میں آمیزش نہ کردی ہو، شیطان کا مطلب ہی تقسیم کرنے والاہے، تفریق انسان کا سب سے بڑا عیب اور تقسیم انسانیت  کےلئے سب سے بڑی آفت ،وحی میں آمیزش سےاِنسانی معاشرے میں جو آگ بھڑکتی ہے وہی جہنم ہے اور جو بھڑکاتا ہے وہ شیطان ہے ۔ ہر آمیزش کے بعد اللہ ایک اورنبی بھیج دیتا ہے اور اس کی طرف بھیجی ہوئی وحی کے ذریعے اُس آمیزش کو زائل کرکے اپنی ہدایت کو پھر سے واضع او رمحکم کردیتا ہے ۔نبی کے چلے جانے کے بعد وحی میں  ملاوٹ کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ اللہ دین ، مذہب میں تبدیل ہوجاتا تھا ۔ دین نام تھا احکام و اقدار اِلہٰی کو معاشرہ میں قانونی حیثیت  سے نافذ کرنے کا ۔ اس کے برعکس، مذہب اللہ اور بندے کے درمیان پرائیویٹ تعلق  تھا جو بندگی پرستش یا مختلف رسوم کی رُو سے انفرادی طور پر قائم ہوجاتا تھا ۔ دُنیا میں جتنے مذاہب پائے جاتے ہیں ان کے متعلق  کہا جاسکتا ہے کہ وہ ابتداء میں دین ہی تھے ۔ قرآن حکیم میں ہے کہ اللہ نےہر قوم کی طرف ہادی اور رسول بھیجے تھے ، مگر مفاد پرست گروہوں نے جن کی  سرکردہ مذہبی پیشوا تھے  ، اُن انبیاء کی تعلمات کو مذہب میں تبدیل کردیا، اِن مذہبی پیشواؤں کی کیفیت یہ تھی کہ :۔

يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَٰذَا مِنْ عِندِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۖ فَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا يَكْسِبُونَ (2:79) سو  اُن کے لئے حسرت ہے جو اپنے ہاتھوں سےکتاب لکھتے ہیں پھر کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہےتاکہ اس کے عوض تھوڑی  قیمت لے لیں، پس ان کے لئے حسرت ہے اس کی وجہ سےکے ہاتھوں نے لکھا   اور اُن کےلئے حسرت ہے اس کی وجہ سے کماتے ہیں،اِس آیات میں مذہبی پیشہ واروں کا ذکر ہے یہ مذہبی پیشہ وار خود شریعت بناتے او رلوگوں سےکہتے کہ یہ شریعت اللہ کی طرف سے ہے، او ریہ سب کچھ یہ لوگ پیشے کمانے کے لئے کرتے ہیں کیونکہ مذہب ان کا پیشہ بن جاتا تھا ۔ یعنی مذہبی پیشوا کرتے یہ ہیں کہ شریعت کے اِحکام خود اپنے ذہن سے اپنی مرضی کے مطابق بنا لیتے ہیں اور اِن اَن پڑھ لوگوں سےکہہ دیتے ہیں کہ یہ سب ارشادات اللہ کے ہیں ، اور اِس طرح اُن سے ناجائز  فائدہ حاصل کرتے رہتے ہیں، یہ لوگ اتنانہیں سمجھتے کہ اُن کی یہ خود ساختہ شریعت اور اُس  کے ذریعے کمائی ہوئی دولت سراسر تباہی اور بربادی کا موجب ہے۔

قرآن حکیم دین او رمذہب کی اس کش مکش کے مختلف گوشوں کو بار بار سامنے لاکر اس کی اہمیت کو اُجاگر کرتاہے ۔ وہ اس کش مکش کی ابتداء حضرت نوح علیہ السلام کی انقلابی دعوت سے کرتاہے جس کی رو سے انہوں نے مذہب کی زنجیروں میں جکڑی  ہوئی قوم سے کہا کہ  يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ (23:23) اے میری قوم کے لوگو تم مذہب کے ان اجارہ داروں کی اطاعت او رمحکومیت  کی زنجیروں کو توڑ دو اور صرف ایک اللہ کے اطاعت کرو، یاد رکھو اس کے سوا کوئی ہستی ایسی نہیں  جس کی اطاعت اختیار کی جائے ، اِس آزادی کی آواز کےخلاف، ارباب مذہب اور ان کے پشت پناہ اہل اقتداریعنی قوم کے سردار ان جو دوسروں کی کمائی پر عیش کرتےتھے، یلغار کر کے آگے بڑھے ۔ انہوں نے عوام کو اکٹھا کیا اور ان سے کہا کہ  مَّا سَمِعْنَا بِهَٰذَا فِي آبَائِنَا الْأَوَّلِينَ (23:24) جو کچھ یہ شخص کہتا ہے وہ تمہارے آباواجداد کے مسلک کے خلاف ہے۔ یہ تمہیں تمہارے بزروگوں کی نقشِ قدم سے برگشتہ کرنا چاہتا ہے۔ إِنْ هُوَ إِلَّا رَجُلٌ بِهِ جِنَّةٌ ( 23:25) یہ پاگل ہے اس کی کوئی بات نہ سنے ۔ اِس کے بعد قرآن حکیم نے سلسلہ انبیاء کرام علیہ السلام کی ایک ایک کڑی کا ذکر کیا ہے او رکہا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی دعوت یہی تھی کہ کسی انسان کو اس کاحق   حاصل نہیں  کہ وہ دوسرے انسان کو اپنا محکوم  اور اطاعت گزار بنائے ۔ اطاعت صرف اللہ کی کتاب کی جاسکتی ہے ۔ انبیا ء کرام یہ دعوت دیتے رہے اور ان کے خلاف ہر زمانہ میں اور ہر مقام پر مذہبی پیشوائیت اور اربابِ ثروت و اقتدار متحدہ  محاذ بنا کر کھڑے ہوتے رہے ۔ ان کے پاس عوام کے جذبات کو مشتعل  کرنے کےلئے ایک ہی سلوگن تھا ۔ اور یہ کہ مَا هَٰذَا إِلَّا رَجُلٌ يُرِيدُ أَن يَصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُكُمْ ( 34:43) یہ شخص چاہتا ہے کہ تمہیں تمہارے اسلاف کےمذہب سےبرگشتہ کردے ، اِس لئے اُٹھو اِسے پکڑو ۔ اِسے زندہ جلادو اور اس طرح اپنے خداؤں کا بول بالا کرو (29:24) (21:68)

اِنجیل سےمعلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ز مانے میں مذہبی پیشوائیت کااقتدار انتہا کو پہنچ چکا تھا ۔ بنی اسرائیل  کے احبار و رہبان نے ایک متوازی حکومت  قائم کر رکھی تھی، جس میں انہیں ہر قسم کے اختیار ات حاصل تھے ۔ صرف سزائے موت کے لئے انہیں  رومی حکام سے توثیق کرانی پڑتی تھی ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت ، مظلوم انسانیت کو ارباب مذہب کے اِس پنجہ استبدار سے چھڑا نے کے لئے  تھی ۔ یروشلم کاہیکل اِن مذہبی پیشواؤں کا مرکز تھا ۔ داعی انقلاب آسمانی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام  اسی ہیکل  کی سیڑھیوں  پر کھڑے ہوجاتے اور انہیں للکار کر کہتے کہ ‘‘ اے ریاکار فقیہوں اور فریسیو ! تم پر افسوس  ہے کہ آسمان کی بادشاہت لوگوں پر بند کرتے ہو۔ نہ تو آپ داخل ہوتے ہو اور نہ ہی داخل ہونے والوں کو داخل ہونے دیتے ہو ......! اے ریاکار فقیہو اور فریسیو ! تم پر افسوس ہے کہ ایک مرید کرنے کے لئے خشکی  اور تری  کا دورہ کرتے  ہو اور جب وہ مرید ہوچکتا تو اسے اپنے سے دونا جہنم کا فرزند بنا دیتے ہو ۔۔۔ اے ریا کار فقیہو اور فریسیو! تم پرافسوس ہے کہ تم سفیدی پھری ہوئی قبروں کی مانند ہو جو اوپر سے تو خوبصورت دکھائی دیتی  ہیں ۔ مگر اندر مردوں کی ہڈیوں اور ہر قسم کی نجاست سے بھری ہوئی ہیں، اسی طرح تم بھی ظاہر  میں لوگوں کو راستباز دکھائی دیتے ہو مگر باطن میں ریاکاری او ربے دینی سےبھرے ہوتے ہو ۔۔۔۔ اے سانپو ! اے افعی  کے بچو! تم جہنم کی سزا سے کیونکر بچو گے ( انجیل متی ۔ باب نمبر 23)

ظاہر ہے کہ مذہبی اجارہ دار ، جو اپنی خدائی مسندیں بچھا کر عوام کو لوٹتے اور ان پر حکومت کرتے تھے ، اس انقلابی دعوت کو کس طرح برداشت کرسکتے تھے ۔ وہ اس دعوت کو اپنی مفاد کو اپنی مفاد پرستیوں کے لئے موت کا پیغام سمجھتے تھے ، اس کااندازہ اُن کی اس چیخ و پکار سے لگ سکتاہے، جسے انجیل برنباس  میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اس میں لکھا ہے ‘‘تب ان لوگوں نے کاہنوں  کے سردار کے ساتھ مشورہ کیا او رکہا کہ اگر یہ آدمی بادشاہ ہوگیا تو ہم کیا کریں گے ۔۔ اس جیسے آدمی کی حکومت  کے ماتحت ہمارا کیا انجام ہوگا ۔ یقیناً ہم اور ہماری اولاد سب تباہ ہوجائیں گے  اس لئے کہ ہم اپنی خدمت سےنکال دیئے جائیں گے تو ہم مجبور ہوں گے کہ اپنی روٹی عطیہ کے طور پر مانگیں ، حالانکہ اس وقت خدا کا شکر ہے کہ ہمارا بادشاہ او رحاکم دونوں ہماری شریعت  سے اجنبی  ہیں اور ہماری شریعت کی کچھ پروا نہیں کرتے، جیسے ہم ان کی شریعت کی کچھ پروانہیں کرتے ۔ او راس سبب سے ہم قدرت رکھتے ہیں کہ ہم جو چاہیں کرلیں ۔ اگر ہم نے غلطی کی تو ہمارا اللہ رحیم ہے اور قربانی اور روزے کے ساتھ اس کو راضی کر لینا ممکن  ہے۔ لیکن  اگر یہ آدمی  بادشاہ ہوگیا ۔۔ تو ہر گز راضی نہ کیا جاسکے گا ۔ جب تک خدا کی عبادات ویسے ہی ہوتے نہ دیکھے جیسے موسیٰ علیہ السلام  نے لکھی ہے ( انجیل برنباس صفحہ 124)۔ آپ نے غور  فرمایا کہ اس آسمانی دعوت کی اس قدر شدید مخالفت کی وجہ کیا تھی ؟ بس ایک ہی وجہ! یعنی اگر اللہ کا عطا کردہ ضابطہ حیات رائج ہوگیا تو ہم اپنی اِن مسندوں سےالگ کردیئے جائیں گے او رچونکہ ہمیں کوئی کام آتا نہیں جس سے ہم اپنی روٹی کما سکیں ا س لئے ہمیں اپنی روٹی عطیہ کے طور پر مانگنی پڑے گی۔آپ یہ دیکھئے کہ جسے مذہب کہہ کر پیش کیا جاتا ہے وہ درحقیقت یکسر معاشی مسئلہ ہوتاہے ۔ انجیل برنباس کے اس بیان سے آپ نے یہ بھی دیکھا کہ مذہبی پیشوائیت ہمیشہ اس اندازِ حکومت کو پسند کرتی ہے جسے آج کل کی اِصلاح میں سیکولر کہتے ہیں ۔ یعنی امور مملکت حکومت کے پاس رہیں اور اُمور شریعت ( پرسنل لاز) مذہبی پیشوائیت  کی تحویل میں دے دئیے جائیں ۔ نہ مذہبی پیشوائیت  ،حکومت کے معاملات میں دخل دے او رنہ ہی حکومت ان کے حیطہ اقتدار میں مداخلت کرے ۔

آخر  میں اُس عظیم و جلیل داعی ‘‘انقلاب ’’ کی طرف آئیے جس پر سلسلہ نبوت کا خاتمہ ہوگیا ۔ محمد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عطا کرنے کا مقصد ہی یہ بتا گیا ہے کہ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ (7:157) وہ نوعِ انسان کو اُن زنجیروں سے آزاد کردے گا جن میں جکڑے چلی آرہی ہے او ران کے سر سے وہ بوجھ اُتار دے گا  جس کے نیچے وہ بُری طرح دبی اور کچلی ہوئی ہے، چنانچہ اس مقصد کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی دعوت پیش کی جو حضرت نوح علیہ السلام  سےحضرت عیسی علیہ السلام تک مسلسل و متواتر  پیش ہوتی چلی آرہی تھی او رمخالفین کی طرف سے اس کا جواب بھی وہی ملا جو شروع سے ملتا چلا آرہا تھا، یعنی مَا سَمِعْنَا بِهَٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ ( 38:7) جو بات یہ شخص کہتا ہے اسے ہم نے اسلاف کے مذہب میں کہیں نہیں سنا لہٰذا إِنْ هَٰذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ ( 38:7) یہ غلط جھوٹی اور بنائی ہوئی بات ہے ،یعنی  اس کے غلط ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ہمارے اسلاف میں سے کسی نے یہ بات نہیں کہی ۔ اس کے بعد اس طبقہ کی طرف سےجو کچھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے ساتھیوں کے ساتھ ہوا اِس پر تاریخ کے اوراق گواہ ہیں ۔ اِس مقام پر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ جب حضرات انبیاء کرام علیہ السلام  کا سچا دین انسانوں کو دے کر چلے جاتے تھے تو اُن کے بعد  اس دین (نظام) کے ساتھ کیا بیتی تھی کہ بعد میں آنےوالے نبی کے وقت، سابقہ نبی کے پیش کردہ دین کی آواز کہیں سے بھی سنائی  نہیں دیتی تھی ۔اس نبی کی اولین مخالف ( بالعموم) وہی قوم  ہوتی تھی جو اپنے آپ کو سابقہ نبی کی پیروکار کہتی تھی ۔ پھر یہ کیا تھا کہ آنے والا نبی اُس قوم کے مسلک کو باطل قرار دیتا تھا او ریہ قوم اس نبی کی دعوت کی اس قدر شدید مخالفت کرتی تھی ۔ ہوتا یہ تھا کہ جب ایک  نبی دِین اِلہٰی  ( اللہ کا نظام) دے کر چلا جاتا تو اس کے بعد اس قوم میں ایسے مفاد پرست لوگ پیدا ہوجاتے جو اِس دین کو اپنے خیالات کی آمیزش سے مذہب میں تبدیل کردیتے ۔ لیکن لوگوں سے کبھی یہ نہ کہتے کہ ہمارے خیالات  ہیں ۔ وہ اِس مذہب کو اللہ کی  سچی تعلیم ( صلوۃ)  کہہ کر پیش کرتے يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَٰذَا مِنْ عِندِ اللَّهِ  وہ اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ( وہ شریعت خود وضع کرتے ) او رکہتے کہ اللہ کی طرف سے ایسا کیوں کرتے لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا (2:79) تاکہ اس سے کچھ پیسے کما لئے جائیں ، چنانچہ اس طرح اللہ کا دین ( نظام) مذہب ( رسومات کے مجموعے) میں تبدیل ہوجاتا ۔ بلآخر دِین اِسلام کےساتھ بھی یہی کچھ ہوا ۔

آج مسلمانوں کا ہر فرقہ اپنے فقہ کی بنیاد پر ایک الگ مکمل مذہب ہے، کسی فقہ کا ماننے والا اصل میں فقہی  مذہب کا پیروکار ہے،موجودہ زمانے میں کوئی بھی شخص جو خود کو مذہب اسلام کا پیروکار کہتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہوتاہے کہ وہ اِن ہی چار پانچ بڑی بڑی فقہ میں سے کسی ایک کا ماننے والا ہے، اِن  چار پانچ میں سے کسی ایک فقہی  مذہب کا  پیروکار ہے لیکن فقہ یا اس سے متعلقہ مذہب کا نام لینے کی بجائے وہ صرف سہولت اور آسانی کے لئے اسلام کا نام استعمال کرتاہے ۔ اسی لئے اسلام کو بھی مذہب کہا جانےلگا ۔ خود کو مذہب اسلام کا پیروکار کہنے والا اصل میں مذہب ابوحنیفہ  یا مذہب شافعی  وغیرہ کا پیروکار ہے ، خود کو مسلمان کہلانے والا اصل میں حنفی  ، شافعی، مالکی حنبلی یا جعفری وغیرہ ہے۔ پچھلے ہزار سال سے اِن ہی فقہوں یا مذاہب کو ہی اجتماعی طور پر مذہب اسلام کا نام دیا جارہا ہے اور اس ہی فقہی  مذہب کے پیروکار وں کو مسلمان کہا جارہا ہے ۔ جس طرح کیتھولک ازم ، پروٹسٹنٹ ازم اور اِن کا پیروکار عیسائیوں کا عیسیٰ ابن مریم اور اُن کی پیش  کردہ صلوۃ ( درس /  تعلیمات) سےکوئی سروکار نہیں بالکل اسی طرح اس مروجہ  مذہب اسلام اور اس کے پیروکار مسلمانوں کا محمد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم او ران کےدین اسلام اوراس کے مآخذقرآن سےکوئی تعلق نہیں ۔ جیسے عیسائی اپنے مذہب کے لئے عیسیٰ ابن مریم کا نام استعمال کرتے ہیں ،ویسے ہی مسلمان بھی اپنے اپنے فقہی مذہب کےلئے محمد مصطفےٰ کا نام لیتے ہیں ۔ اسلام کی چھتری تلے بنائی  جانے والی ہر فقہ اصل میں شیاطین  کی بنائی ہوئی روایات ہی کا تسلسل ہے، اُن ہی گھسی پٹی پرانی روایات کو فقہ کا نام دے دیا گیا ، اسی لئے راویوں کو اتنا مقدس مقام اور روایات کو اتنی تقدیس حاصل ہے، اس مروجہ مذہب اسلام کی پوری عمارت ان ہی بوسیدہ روایات پر استوار ہے، اہم ترین عبادت تک اِن ہی روایات سے مستعار ہے، بنو اُمّیہ  اور بنو عباس  کا تراشیدہ یہ مروجہ مذہب اسلام ان روایات سے ماخوذ ہے کہ جن کے اپنے ماخذ بڑے مشکوک ہیں ، ان  ہی مشکوک  روایات سے قرآن کو رد کرنے کےلئے حدیثوں کے چشمے اُبلے اور فقہ کی ندیاں پھوٹیں  اور ان ہی فقہوں سے دین اسلام سے منسوب مختلف  مذاہب و مسالک تشکیل پائے ان ہی مذاہب و مسالک کا اجتماعی نام مذہب اسلام رکھا گیا ۔

اپریل، 2015  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ،کراچی

URL: http://newageislam.com/urdu-section/shaikh-rashid-ahmad/the-reality-of-religions--مذاہب-کی-حقیقت/d/102367

 

Loading..

Loading..