New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 12:51 PM

Urdu Section ( 9 Apr 2015, NewAgeIslam.Com)

The Great Poet Hazrat Allama Muhammad Iqbal شاعرِ اعظم حضرت علامہ محمد اقبال

 

  

شاہینہ خانم

یہ حقیقت ہے، جس سے کسی کو بھی انکار نہیں ہوسکتا کہ مسلمانانِ ہند کی تقدیر بدلنے کا بنیادی سبب جناح اور اقبال کا ایک نظریئے اور ایک مقصد پر متفق ہونا تھا ۔ جناح اور اقبال کی ابتدائی زندگی ( بلکہ یوں سمجھئے کے بیسیوں صدی کے چوتھے عشرہ سے پہلے کی زندگی) ایک دوسرے کی ضد تھی۔ ان متضاد عناصر میں اس قدر اتفاق او رہم آہنگی کس طرح پیدا ہوگئی یہ وہ مقام ہے جہاں آنکھوں کے سامنے حیرت کے سوا کچھ نہیں آتا ۔مسٹر جناح ، یوں کہہ لیجئے کہ پیدائشی نیشنلسٹ انہوں نے 1925ء میں قانون ساز اسمبلی (LEGISLATIVE COUNCIL) میں ایک تقریر کے دوران کہا تھا کہ ‘‘ میں اوّل بھی نیشنلسٹ ہوں ۔۔۔۔۔دوم بھی نیشنلسٹ اور آخر بھی نیشنلسٹ ’’۔ اور علامہ اقبال کے نزدیک نیشنل اِزم کفر اور شرک تھی ، وہ اسے عصر حاضر کے تازہ خداؤں میں سب سے بڑا بت قرار دیتے تھے۔ لہٰذا ان دونوں میں ملاپ کی کیا صورت ہوسکتی تھی؟ عملی سیاست میں اِختلاف کا یہ عالم کہ علامہ اِقبال دوسری گول میز کانفرنس جو 1931ء میں منعقد ہوئی تھی اس میں مسلم ڈیلی گیشن کے ممبر کی حیثیت سے لندن تشریف لے گئے تو فیڈرل کمیٹی کے ایک فیصلے کے خلاف ، جو مسٹر جناح اور سر محمد شفیع کی تائید سے عمل میں آیا تھا احتجاج کے طور پر آپ نےوفد سے علیحدگی اختیار کرلی اور واپس وطن تشریف لے آئے ۔ لیکن مشیت الہٰی کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

مسٹر جناح ہندو مسلم اتحاد کے لئے مسلسل جہاد کرتے رہے ۔ اس سلسلے میں اُن کی سرگرمیوں کا یہ عالم تھا کہ میثاق لکھنو پر مسز سرؤجنی نائیڈو نے انہیں ‘‘ہندو مسلم اتحاد کے پیامبر’’ کے خطاب سے نوازا ۔ لیکن ایک عمر کی کوششوں کے بعد ان پر یہ حقیقت ظاہر ہوئی کہ ہندو مسلم اتحاد نا ممکن ہے اور ان کی ساری کوششیں بیکار ہیں ۔وہ اس تلخ تجربہ سے اس قدر دِل برداشتہ ہوئے کہ سیاست ہی نہیں، وطن تک چھوڑ کر لندن میں رہائش اختیار کرلی۔ لیکن دیدار اقبال کی نگہ بصیرت کو داد دیجئے کہ اس قدر فکر و نظر کے فرق کے باوجود، علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی اگر کوئی شخص صحیح راہ نمائی کرسکتا ہے تو وہ صرف جناح رحمۃ اللہ علیہ ہے ۔ اپنے اس فیصلے کے بعد انہوں نے مسٹر جناح کو تبدیل (CONVERT) کرنے کی کوشش شروع کردی ۔ جو لوگ مسٹر جناح کے مزاج اور طبعیت سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ انہیں (CONVERT) کرنا یا اُن کی رائے کوبدلنا ...... اور وہ بھی ایسے مسئلہ میں جس کےخمیر سے اُن کی شخصیت کی تعمیر ہوئی تھی، کس قدر مشکل بات تھی ۔ علامہ اقبال ان حقائق سے بخوبی واقف تھے ۔ لیکن اِس کے باوجود علامہ رحمۃ اللہ علیہ کو اپنے موقف کی صداقت اور اپنے دلائل کے محکم ہونے پر اس قدر پختہ یقین تھا کہ وہ اِس مقصد کے حصول کے لئے مسلسل جد و جہد کرتے رہے یہاں تک کہ مسٹر جناح رحمۃ اللہ علیہ اُن کے موقف کی صداقت سے متفق ہوگئے ۔ یہ حقیقت شاید ایک راز ہی رہتی اگر ہیکٹر بولیتھو (HECTOR BOLITHO ) اپنی کتاب JINNAH کے صفحہ نمبر 90 پر نقاب کشائی نہ کرتے وہ اس میں لکھتے ہے ‘‘مسٹر جناح نے لندن میں سر محمد اقبال سے بہت سی ملاقاتیں کیں ، وہ بڑے اچھے دوست تھے، مسٹر جناح اگر چہ ( اپنے سابقہ سیاسی مسلک کے متعلق ) اب کسی غلط فہمی میں نہیں تھے ، بایں ہمہ وہ اقبال کے دلائل سے ( اتنی جلدی) متفق نہیں ہوئے ۔ اس میں قریب دس سال کا عرصہ لگ گیا تھا ( صوت الحق کا موقف ہے کہ اتنا زیادہ عرصہ نہیں لگا تھا) کہ ہندوستان کی سیاست کے گہرے مطالعہ کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچ گئے ہیں کہ اقبال کا نقطہ نظر صحیح ہے’’۔اِس تبدیلی فکر و نظر کے بعد جب مسٹر جناح واپس وطن آئے تو ہیکٹر بولیتھو نے ان کی اس وقت کی کیفیت کا نقشہ اِن الفاظ میں صفحہ نمبر 114 پر کھینچا ہے ‘‘مسٹر جناح اپنے بمبئی کے مکان میں بالکل تنہا تھے، ان کے پاس کوئی ذاتی اسٹاف نہیں تھا ۔ حتیٰ کہ کوئی سیکریٹری بھی نہیں جو اُن کے خطوط کی نقلیں رکھ سکتا اور ان کے کاغذات کو باقاعدہ فائل کرتے چلا جاتا، اس بے قاعدگی کے باوجود، ان کے دراز میں خطوط کی نقلیں رکھ سکتا اور ان کے کاغذات کو باقاعدہ فائل کرتے چلا جاتا ، اس بے قاعدگی کے باوجود، ان کے دراز میں خطوط کا ایسا بنڈل تھا جن سے وہ تسکین خاطر حاصل کیا کرتے تھے جو ( علامہ اقبال نے) انہیں انگلستان میں 1932 ء کی گئی ملاقات کےبعد لکھے تھے ۔ اقبال نے 28 مئی 1937ء کے ایک خط میں لکھا تھا کہ ہندی مسلمانوں کے مسائل کا واحد حل یہی ہے کہ جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ، انہیں باقی ماندہ ملک سے الگ کرکے، ان میں آزاد مملکت یا مملکتیں قائم کردی جائیں ، کیا آپ کا خیال نہیں کہ اس کے لئے مناسب وقت آ پہنچا ہے؟

آپ سوچئے کہ علامہ اقبال کے خطوط کا وہ بنڈل جس کی طرف JINNAH کے مصنف بولیتھو نے اشارہ کیا ہے، ملت کے لئے کس قدر قیمتی اثاثہ تھا ۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ اُن خطوط کا کوئی پتہ نشان نہیں ملتا او رنہ ہی اُن خطوط کا جو قائد اعظم نے جواب میں علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کو لکھے تھے ۔اقبال کے خطوط جناح کے نام کا جو مجموعہ شائع ہوا تھا اس میں مئی 1936ء سے نومبر 1937ء کے خطوط ہیں ۔ مسٹر بولیتھو نے جن خطوط کا ذکر اپنی کتاب میں کیا ہے وہ 1932ء سے 1936ء کے درمیانی عرصے کے معلوم ہوتے ہیں ۔ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے 20 جون 1937 ء کو قائد اعظم کے نام جو خط لکھا ، اس نے ہماری تاریخ کے دَھارِے کا رخ بدل دیا، اُنہوں نے اُس خط میں لکھا تھا ‘‘ میں جانتا ہوں کہ آپ مصروف ہیں لیکن مجھے معلوم ہے کہ میرا آپ کو بار بار لکھنا گراں نہیں گزرتا ہوگا ( میرے اس تکرار اور اصرار کی وجہ یہ ہے کہ ) میری نگاہوں میں اس وقت ہندوستان بھر میں آپ ہی وہ واحد مسلمان ہیں جس کے ساتھ ملت کواپنی اُمیدیں وابستہ کرنے کا حق ہے کہ آپ اُس طوفان میں جو یہاں آنے والا ہے، مسلمانانِ ہند کی کشتی کو ثابت و سالم، بہ امن و عافیت ساحل مراد تک لے جائیں گے’’ ۔ اِن کوائف سے آپ سوچئے کہ ملتِ اسلامیہ کے آسمان پر اِن دو درخشندہ ستاروں کا ‘‘بہم ملنا’’ کیسے ہوا تھا او راس ملن نے کس طرح اس ملت کی تقدیر بدل دی؟

آل انڈیا مسلم لیگ نے 1937ء کے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے ایک سینٹرل پارلیمنٹری بورڈ اور مختلف صوبوں میں پراونشل بورڈ بنائے ۔ پنجاب میں ایک بورڈ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی صدارت میں متشکل ہوا ۔اس بورڈ کی طرف سے مئی 1936 ء کو مسلمانانِ پنجاب کے نام ایک اپیل مسلم لیگ او رمسٹر جناح کی حمایت میں علامہ اقبال اور دیگر مسلم راہ نماؤں کے دستخطوں سے شائع ہوئی ، اپیل کے سرنامہ پر علامہ کا یہ شعر درج تھا ( گیارہ دورِ سرمایہ داری گیا ۔۔۔۔۔۔ تماشا دکھا کرمداری گیا) تمہیدی جملوں کے بعد اس اپیل میں کہا گیا تھا ‘‘ بطل جلیل مسٹر جناح اُن قابل فخر مسلم راہنماؤں میں سے ہیں جن کی سیاسی دانش ہمیشہ مسلمانوں کے لئے صبر آزما وقتوں میں مشعل راہ کا کام دیتی رہی ہے ۔ جس خلوص اور عزیمت سے انہوں نے مسلمانانِ ہند کی تمام اہم اور نازک موقعوں پر خدمت کی ہے اس کے لئے مسلمانوں کی آنے والی نسلوں کے سرعقیدت و احترام سے جھکے رہیں گے ( گفتار اقبال صفحہ 203)’’۔ مارچ 1940 ء میں بزمِ اقبال کے سالانہ اجلاس میں سر عبدالقادر ( مرحوم) نے علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے ایک خط کے کچھ حصے پڑھ کر سنائے جو انہوں نے ایک دوست کے خط کے جواب میں بستر علالت سے 1935 ء میں لکھا تھا اس دوست نے علامہ کی صحت کی دُعا کی تھی ۔علامہ نے لکھا تھا ‘‘ میرا وقت پورا ہوچکا ہے او رمیرا پیغام ملت تک مکمل صورت میں پہنچ چکا ہے ۔ میرے لئے صحت کی دُعا مانگنے کے بجائے آپ قائد اعظم محمد علی جناح اور کمال اتاترک کےلئے درازی عمر کی دُعا کیجئے کہ اِنہیں ابھی اپنا مشن پورا کرنا ہے’’ ( بحوالہ نوائے وقت 9 مارچ 1977ء)

1935ء میں پنڈت جواہر لعل نہرو ، علامہ اقبال سے ملنے کےلئے آئے تو میاں افتخار ( مرحوم) بھی اُن کے ساتھ تھے مسلم لیگ کی تنظیم اور مسلمانانِ ہند ........ کی قیادت کے موضوع پر گفتگو کے دوران میاں افتخار الدین نے حضرت علامہ سے کہا کہ لیگ کی قیادت آپ خود اپنےہاتھ میں کیوں نہیں لیتے ؟اس پر انہو ں نے ایک لمحے کے توقف کے بغیر فرمایا ‘‘ میں مسٹر جناح کے ایک سپاہی کی حیثیت سے خدمت انجام دینااپنے لئے باعث فخر سمجھتا ہوں’’۔ یہ تھی علامہ اقبال کی نگاہ میں قائد اعظم کی قدر و منزلت اب قائد اعظم کی طرف آئیے اور دیکھئے کہ ان کے دل میں علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا کس قدر احترام تھا اور وہ انہیں کیا سمجھتے تھے ۔ علامہ اقبال کی وفات کے پر قائد اعظم نے انہیں اپنا رفیق ، راہ نما او رمفکر کہہ کر یا د کیا اور فرمایا کہ ‘‘تحریک پاکستان کی تاریخ میں جو تاریک ترین دور تھا وہ اس میں ایک چٹان کی طرح محکم کھڑے رہے اور ان کی ثابت قدمی میں ایک لمحہ کےلئے بھی لغزش نہیں آئی’’ اسی سال دسمبر 1938 ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کا مشہور اجلاس پٹنہ میں منعقد ہوا تو اُنہوں نے پھر علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں اِن الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ‘‘ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی وفات مسلمانانِ ہند کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے، مسلم لیگ ان کی وفات پر پہلے ہی اظہار تعزیت کر چکی ہے ، وہ میرے ذاتی دوست تھے اور ان کا شمار دنیا کے عظیم شاعروں میں ہوتا ہے ، وہ اُس وقت تک زندہ رہیں گے جب تک اسلام زندہ رہے گا ، ان کی بلند پایہ شاعری ، مسلمانانِ ہند کی تمناؤں اور آرزؤں کی ترجمان ہے، وہ ہمارے اور ہماری آنے والی نسلوں کے دلوں میں تازہ روح پھونکتی رہے گی ’’ ( بحوالہ تقاریر محمد علی جناح صفحہ 76)

قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ نے 1940 ء میں یومِ اقبال کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ، علامہ اقبال کو ان الفاظ میں یاد فرمایا ‘‘ اقبال میرا دوست تھا، آپ جانتے ہیں کہ آل انڈیا مسلم لیگ ابتداء میں ایک علمی سی جماعت تھی، 1936 ء میں ہم میں سے بعض نے خیال کیا کہ اس جماعت کو صحیح پارلیمانی جماعت میں بدل دیا جائے ۔ جب میں اپریل 1936ء میں ہم میں سے بعض نے خیال کیا کہ اس جماعت کو صحیح پارلیمانی جماعت میں بدل دیا جائے ۔ جب میں اپریل 1936 ء میں پنجاب آیا تو پہلا شخص جسے میں ملا وہ اقبال تھا ، میں نے اپنے خیالات ان کے سامنے پیش کئے ، اُنہوں نے فوراً لبیک کہا او راس وقت سے تادمِ مرگ وہ میرے ساتھ مضبوط چٹان کی طرح کھڑے رہے ۔ علامہ اقبال عظیم انسان اور بلاشبہ بہت بڑے فلاسفر تھے ۔ جب تک مشرقی زبانیں موجود رہیں گئیں اقبال کا کلام زندہ رہے گا ۔ وہ خود ہندوستانی تھے ، لیکن دنیا میں شاعرِ اعظم کی حیثیت سے متعارف تھے ۔ اُنہوں نے مسلم سیاسی شعور پیدا کرنے میں گراں بہا خدمات انجام دیں ۔ میں اِس کی ایک مثال بیان کرتا ہوں کہ ایک مرتبہ میں علی گڑھ میں ریل کا سفر کررہا تھا ، راستے میں ایک چھوٹے سے اسٹیشن پر گاڑی ٹھہری تو سینکڑوں کی تعداد دیہاتی جمع ہوگئے، میں حیران تھا کہ ان کے اجتماع کا مقصد کیا ہے کہ اچانک ان سب نےاقبال کا یہ ترانہ پڑھنا شروع کردیا ( چین و عرب ہمارا ہندوستان ہمارا )، شعرا اقوام میں زندگی پیدا کرتے ہیں، ملٹن شیکسپیئر ، بائرن وغیرہ نے قوم کی بے بہا خدمت کی ہے، لیکن جہاں تک اسلام کاتعلق ہے ، اقبال نے سب سے زیادہ خدمت کی ہے، کار لائل نے شیکسپیئر کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے ایک انگریز کا ذکر کیا ہے کہ اُسے شیکسپیئر اور دولت برطانیہ میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا تو اس نے کہا ‘‘ میں شیکسپیئر کو کسی قیمت پر نہ دوں گا’’ ..... گو کہ میرے پاس سلطنت نہیں لیکن اگر سلطنت مل جائے اور اقبال اور سلطنت میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کی نوبت آئے تو میں اقبال کو منتخب کرو ں گا۔ ( بحوالہ انقلاب 29 مارچ 1940ء )۔ اِس کے علاوہ اِن اقتباسات کی تیاری میں آغا حسین ہمدانی صاحب کی کتاب ‘‘قائد اعظم ’’ سے استفادہ کیا گیا ہے۔

قائد اعظم نے 1941 ء کو یوم اقبال کے تقریب میں تقریر کرتےہوئے فرمایا تھا ‘‘ اگر میں اس تقریب میں شامل نہ ہوتا تو اپنی ذات کے ساتھ بڑی نا انصافی کرتا، میں اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ مجھے اس جلسہ میں شریک ہوکر اقبال رحمۃ اللہ علیہ کو عقیدت کے پھول پیش کرنے کا موقع ملا ہے۔ اقبال کی ادبی شہرت عالم گیر ہے، وہ مشرق کے بہت بڑے بلند پایہ شاعر اور مفکر اعظم تھے ، مرحوم دور حاضر میں اسلام کی تاریخ تھے اس زمانہ میں اقبال رحمۃ اللہ علیہ سےبہتر اسلام کسی اور شخص نے نہیں سمجھا ، مجھے اس کا فخر ہے کہ میں نے اس کی قیادت میں بحیثیت ایک سپاہی کے کام کیا ہے ۔ میں نے اس سے زیادہ وفادار اور اسلام کا شیدائی نہیں دیکھا ۔ جس بات کو وہ صحیح خیال کرتے، یقیناً وہ صحیح ہوتی تھی اور وہ اس بات پر مضبوط چٹان کی طرح قائم رہتے تھے ۔ ( بحوالہ ہفتہ وار حمایت اسلام 4 مارچ 1941ء) ۔ انہوں نے 1942ء میں یوم اقبال کئے موقعہ پر حضرت علامہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا ‘‘ میں اس دن جب کہ ہمارے عظیم ملی شاعر اور مفکر اقبال کا یوم منایا جارہا ہے ، خلوص دل سے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ان کی روح کو بے پایاں رحمت سے ابدی سکون عطا فرمائے ( بحوالہ کتاب قائد اعظم صفحہ 54)۔

قائد اعظم نے یوم اقبال کی تقریب منعقد لاہور دسمبر 1944 ء پر حسب ذیل الفاظ میں پیغام فرمایا ‘‘ اس تقریب سعید کے موقعہ پر جو ہمارے عظیم ملی ، مردِ درویش حکیم الامت او رمفکر کی حسین یاد منانے  کے لئے منعقد کی جارہی ہے ، میں مرحوم کی بارگاہ میں قلبی خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں ۔ وہ اگرچہ آج ہم میں زندہ نہیں لیکن ان کی شاعری ، جو یقیناً لافانی ہے، ہماری راہ نمائی اور روح پروری کےلئے ہر وقت ہمارے پاس ہے ۔ ان کی شاعری ، جس کا انداز نہایت حسین اور زبان نہایت شیریں ہے اس عظیم شاعر کے قلب و دماغ کی صحیح تصویر ہمارے سامنے پیش کرتی ہے۔ا س سے ہمیں نظر آتا ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات سے کس قدر سرشار اور اس کے کس حد تک وفا شعار تھے ۔ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سچے اور پر خلوص پیروکار تھے ۔۔۔ وہ اوّل بھی مسلمان تھے اور آخر بھی مسلمان ، وہ ترجمان الاسلام ، بلکہ صورت الاسلام تھے ۔ علامہ اقبال ایک نظری مبلغ او رمفکر ہی نہیں تھے، وہ جرأت اور عمل، استقامت اور خود اعتمادی کی محکم چٹان تھے ۔ اور ان سے بھی بلند ، اللہ پر غیر متزلزل یقین اور اسلام کے ساتھ بے  پناہ عقیدت کے پیکر تھے ، ان کی شخصیت میں ایک شاعر کے تخیلات اور ایک ایسے انسان کے خواص مجتمع تھے جو حالات کا عملی نقطہ نگاہ سےجائزہ لیتا ہے ۔ ‘‘ عمل پیہم اور اللہ پر یقین محکم ’’ یہ ہے اُن کے پیغام کا خلاصہ ۔ اور اس سے وہ ایک سچے مسلمان کی حیثیت سے دنیا کے سامنے نمودار ہوتے ہیں ۔ اسلامی اُصولوں کےاٹل ہونے پر انہیں غیر متزلزل یقین تھا ۔ کامیابی سے ان کی مراد ، تعمیر خودی تھی اور ان مقاصد کے حصول کا ذریعہ ، اسلامی تعلیمات کا اتباع ۔۔ تعمیر خودی اور عمل پیہم ، نوع انسان کے نام اُن کاپیغام تھا ۔ وہ اگر چہ ایک عظیم شاعر تھے، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ ایک عملی سیاستداں بھی تھے ۔ وہ اسلامی اُصولوں پر ایمان کامل اور یقین مستحکم کی بنا پر اُن چند افراد سے تھے جنہوں نے سب سے پہلے یہ خیال پیش کیا کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی علاقوں کو الگ کر کے ایک اسلامی مملکت متشکل کی جاسکتی ہے ۔ یہ علاقے مسلمانوں کے تاریخی ورثہ بھی ہیں۔ میں اِقبال رحمۃ اللہ علیہ ڈے کی اس تقریب میں دِل کی گہرائیوں سے شریک ہوں ۔ اور دُعا کرتا ہوں کہ ہم اپنے ا س ملی شاعر کے پیش کردہ نظریات پر عمل پیرا ہوں تاکہ جب مملکت پاکستان قائم ہوتو ہم اُن کے نظریات کو عملی قالب میں ڈھال سکیں ( یہ پیغام)اپنی اصلی شکل میں ، مرکز یہ مجلس اقبال رحمۃ اللہ علیہ ،لاہور کی طرف سے شائع کردہ کتاب (IQBAL THE POET OF TOMORROW) میں موجود ہے۔

اپریل، 2015 بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی

URL: https://newageislam.com/urdu-section/shahina-khanum/the-great-poet-hazrat-allama-muhammad-iqbal--شاعرِ-اعظم-حضرت-علامہ-محمد-اقبال/d/102373

 

Loading..

Loading..