New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 06:50 AM

Urdu Section ( 9 Nov 2014, NewAgeIslam.Com)

Urdu: The Language !...اردو ہے جس کا نام

 

شاہد الاسلام

9 نومبر، 2014

اردو زبان کے شیدائیوں  کیلئے آج  جشن کا دن ہے؟  ہمیں نہیں معلوم  مگر ہم نے برسوں یہ روایت ضرور دیکھی  ہے کہ شاعر مشرق علامہ اقبال کے یوم ولادت کی مناسبت اردو برادری  اُردو کا مرثیہ نہیں پڑھتی بلکہ اس کی عظمت اور مقبولیت کا خواہ مخواہ ڈنکا بھی بجاتی ہے ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ دراصل یہی وہ دن بھی ہے، جب اردو کے ادیبوں  ،شاعروں، دانشوروں او رمفکروں  کو بزم سجانے اور اردو کی کسمپرسی  کا قصہ بیان کرنے کابہترین موقع دے دیا جاتا ہے ۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر ہمیں ذرا بھی حیرت  نہیں ہوگی، اگر ایک بار پھر محبان اردو آج مجمع لگائیں اور حسب روایت اردو کے  ماتمی  اجلاسوں کے انعقاد کے ذریعہ اردو نوازی کا دم نہ بھریں کیونکہ یہ دن اُن  کا ہے! البتہ یہ سوال ضرور کھڑاہوجاتا ہے کہ ‘‘ یوم اردو’’ اردو والوں کی عیاریوں ، مکاریوں، فریب کاریوں اور اردو کے تئیں اُن کی تمام تر بداعمالیوں پر پردہ ڈالنے کاذریعہ ہے یا پھر اردو کے حق میں نعرے بازیوں سے دو قدم آگے بڑھ کر خود احتسابی کا ایک موقع اور عملی دنیا آباد کرنے کا وسیلہ ؟ یوم اردو کے انعقاد کے جواز  پر کوئی تبصرہ کئے بغیر ہم یہ ضرورکہناچاہیں گے کہ اردو زبان بہ حیثیت مجموعی زوال کے دور سے گزررہی ہے اور اس کی دنیا بہ سرعت تمام محدود ہوتی چلی جارہی ہے ۔ ‘ اردو ادب’ اور ‘اردو زبان’ کی دنیا چونکہ الگ الگ ہے ،اس لئے ادب اور زبان کی نشو و نما کاعمل بھی الگ الگ انداز میں جاری ہے، جس کےفرق کو سمجھے بغیر گفتگو کے سلسلے کو دراز کیا جانا مناسب نہیں ۔ اردو ادب اگر عروج کی راہ پر گامزن ہے؟  تو اس سوال کا جواب یقیناً ادیب اور نقاد زیادہ مناسب انداز میں ہی دیں گے لیکن اردو زبان کی صورتحال کیا ہے ، اس سوال کا جواب اردو کا ہر وہ طالب علم دینے کا مجاز کہلاسکتا ہے ، جو اس زبان سے واقف ہو اور زبان کے فروغ کی صورتحال کامشاہد ہو۔ چنانچہ جب ہم اردو زبان کے ایک طالب علم کی نگاہ سےاردو زبان کی نشو و نما کو دیکھنے کی کوشش کرتےہیں تو ادب کے برخلاف ‘اردو زبان’ اور ‘ اردو صحافت ’ زوال کی راہ پرگامزن دکھائی دینے لگ جاتی ہے۔ چنانچہ  مشاہد ے کی بنیاد پر یہ رائے قائم کرسکتے ہیں کہ اردو زبان اگر زندہ ہے تو اس میں فضل  خداوندی کا کمال ہے یا پھر اسے اردو کی کرشمہ سازی کا عرفان کہہ لیجئے کہ تمام تر  نا مساعد حالات کے باوجود یہ زبان سخت جان واقع ہوئی اور اردو کے نمک خواروں کو منہ چڑھانے پر مجبور بھی کہ دیکھو تمہاری عیاریوں  اور مکاریوں کے باوجود ہم زندہ ہیں!

ایک زمانہ وہ تھا جب حضرت داغ نے اس زبان کی غیر معمولی  مقبولیت کانقشہ کھینچتے ہوئے کہا تھا کہ :

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ

ہندوستان میں دھوم ہماری زباں کی ہے

اور ایک زمانہ وہ بھی آیا جب اردو سیاست کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا دی گئی اور نتیجہ  یہ سامنے آگیا کہ اردو مذہباً مسلمان بن گئی ! یہ صورتحال اُن اردو نواز وں کے لئے باعث  اذیت بھی بن گئی ، جنہوں نے ‘‘ محبت’’ کی علامت سمجھ کر اردو کو گلے لگایا ہوا تھا اور جن کا دین و دھرم یہ تھاکہ زبان کاکوئی مذہب نہیں ہوتا لیکن جب پھر بھی اردو کو مسلمان بنا دیا گیا تو صدا امبالوی جیسے شاعر کو یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑ گیا کہ:

اپنی اردو تو محبت کی زباں تھی پیارے

اب سیاست  نے اسے جوڑ دیا مذہب سے

حقیقت یہ نہیں ہے کہ اردو اب صرف  مسلمانوں کی زبان بن گئی ،بلکہ تلخ سچائی یہ بھی ہے کہ اُن مسلمانوں نے بھی اُردو ادب صرف بے گھر کردیا ہے جن کے یہاں کبھی اردو زبان کا سکہ رائج الوقت  کا درجہ حاصل تھا ۔ کہا جاسکتا ہے کہ وطن عزیزی  کی تقسیم کے فوراً بعد اردو کے لئے عرصہ حیات  تنگ کرنے کی جو شعوری  کوشش کی گئی ، اُس میں خود ہماری حکومت بھی  کہیں نہ کہیں شریک رہی ، جس کا واضح ثبوت یہ بھی ہے کہ ملک کی سب سے بڑی ریاست  اتر پردیش  میں اردو کی جڑیں کاٹنے  کیلئے باضابطہ ایک  حکم نامہ  جاری کیا گیا،  جس کے تحت  اردو کی تعلیم  کا برسوں پرانا روایتی نظام قصہ پار ینہ بن گیا اور نتیجتاً وہ گہوارہ علمی جہاں چراغ اردو مسلسل روشن رہا کرتاتھا،  خزاں رسیدہ بن گیا۔ اردو بہ حیثیت زبان آج کس حد تک زندہ ہے اور اس کی بارگاہ  میں حاضری  دینے والے لوگ ہیں، یہ تجزیہ  کا بہت بڑا موضوع ہے ، کیونکہ عمومی طور پر جب ہم صورتحال   پر ایک طائرانہ نگاہ دوڑاتے ہیں تو اندازہ یہی ہوتا  کہ متوسط طبقہ کی مسلم آبادی سے تعلق رکھنے والی نئی نسل بھی  فی زمانہ اردو سے بے گانہ ہوچکی ہے ، جب کہ فی ز مانہ غیر مسلم اردو آبادی کا اب کہیں کوئی نام ونشان ہے ہی نہیں جہاں  اردو بہ حیثیت زبان فروغ پارہی ہو۔ ایسے ماحول میں جب کہ ما بعد آزادی غیر مسلم اردو والوں نے فرض سے فرار  اختیار کیا اور موقع کی نزاکت کو سمجھتےہوئے اردو کے کاز کو اپنا مسئلہ نہیں سمجھا ، یہ سوال بھی کھڑا ہوجانا فطری ہے کہ کیا ہندوستان میں غیر مسلم اردو آبادی  کا کہیں کوئی تصور موجود ہے؟ اردو میں آج بھی غیر  مسلم قلم کاروں کی موجودگی  ہمیں دیکھنے کو مل جاتی ہے، مگر غیر مسلم عوام جو کہ اردوسے متعلق ہو اور جسے ہم ‘‘ غیر مسلم اردو آبادی’’ کہہ سکیں ، شاید ایسا معاشرہ اب ڈھونڈ نے سے بھی   ہمیں نہیں مل سکتا کیونکہ  یہ ایک بہت بڑی اور کڑوی حقیقت ہے کہ آزادی  کے بعد کے تبدیل شدہ منظرنامہ  میں غیر مسلم عوام نے اردو زبان سے خود کو اس طرح دور کرلیا کہ عوامی سطح پر اردو زبان مسلم حلقے  میں سمٹتی  چلی گئی ۔ چنانچہ بہ حیثیت زبان اردو اب پسماندہ  مسلمانوں کی زبان قرار پا چکی ہے، جس کی بہ ظاہر جھٹلا نے کی کوشش ہورہی ہے۔

‘‘ یوم اردو ’’ کاانعقاد اور اس موقع سے منعقدہونے والی تقاریب میں اردو زبان کے تحفظ  سے متعلق  کئے جانے والے قول و قرار کی عملی جہت کیا ہے، یہ بھی قابل غور اور لائق تجزیہ موضوع ہے لیکن اس مسئلہ پر اظہار خیال قبل ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اردو زبان کا عصری منظر نامہ کیا ہے؟ کسی بھی زبان کاتحفظ اور اس کی بقاء اس وقت  تک ممکن نہیں ، جب تک کہ اس زبان کا تعلیمی نظام چست اور درست نہ ہو۔ جب اس ضمن  میں صورتحال  کا جائزہ لینے کی کوشش کی جاتی ہے تو مایوسی اور محرومی چہار سو اپنے  وجود کا احساس  دلاتی ہے۔ آج کےتعلیمی  منظر نامہ  پر نگاہ دوڑانے اور عصری تعلیم گاہوں  پر ایک  نگاہ دوڑانے کے بعد یہ حقیقت واضح صورت  میں ابھر کر سامنے آجاتی ہے کہ ملک بھر میں پرائمری اور ثانوی سطح پر اردو زبان کا تحفظ ممکن ہیں ہو پارہا ہے ۔ بالفاظ دیگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اردو زبان کی تعلیم کیلئے کوئی ایسا معقول بندوبست نہیں کیا جاسکا ہے، جس سے اردو کے بقا  ء کی صورت پیدا ہوسکے۔ مثلاً اُن طلبا کے لئے ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے شعبوں میں حصول تعلیم کے مواقع موجود نہیں ہیں، جو اردو کو باضابطہ ذریعہ تعلیم بنانے کے خواہشمند ہوں ۔ یہاں اُن چند اردو اسکولوں کا تذکرہ نہیں کیا جارہا ہے ، جہاں  اردو ذریعہ تعلیم کی سہولت دستیاب  ہے بلکہ اُن تعلیم گاہوں کا عمومی  طور پر تذکرہ کیا جارہا ہے، جو ریاستی حکومت کے ذریعہ  چلائے جارہے ہیں یا جن کی براہ راست سرپرستی مرکزی حکومت  کررہی ہے۔ خصوصاً سنٹرل اسکولوں میں وغیرہ میں اردو  کی تعلیم کی گنجائش ہے آیا نہیں، یہ لائق تجزیہ ہے ۔ اس پس منظر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پرائمری اور ثانوی  سطح پر عمومی  منظر نامہ میں اردو کیلئے کوئی جگہ  نہیں رکھی گئی ہے۔ اسےالمیہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ ابتدائی اور ثانوی  سطح پر باضابطہ اردو کی جڑیں کاٹ دی گئیں  اور ظاہری طور پر اردو والوں  کی تسکین کا سامان فراہم کرانے کےلئے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اردو کی باضابطہ تعلیم کا بندوبست کیا گیا ۔

 اردو کے روشن خیال طبقہ میں بھلے ہی یہ صورتحال اطمینان  بخش قرار پائی لیکن اس مسلمہ سچائی  سے انکار یا فرار کی گنجائش نہیں کہ چونکہ ابتدائی  اور ثانوی سطح پر اردو کیلئے کوئی گنجائش باقی نہیں رکھی گئی ، اس کی بنا پر اعلیٰ تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل طلبا علمی لحاظ سے اعلیٰ صلاحیت کے مالک بن کر سامنے نہیں آسکے۔ اس کا نتیجہ کچھ یوں سامنے آتا گیا کہ بڑی بڑی ڈگریاں اور اسناد رکھنے کے باوجود اردو کا ایک ایسا خواندہ معاشرہ وجود میں آتا گیا کہ جس کی علمی صلاحیت اور لیاقت پر سنگین نوعیت کے سوالات قائم کئے جاسکتے ہیں لیکن ستم ظریفی یہ بھی رہی کہ آگے چل کر ‘‘ اردو خواندہ معاشرہ’’ کی ترجمانی کرنے والے ‘‘ اہل علم’’ مختلف یونیورسٹیوں میں پہلے بحیثیت لیکچرار مقرر کئے گئے او ربعد ازاں شعبہ ہائے  اردو کے صدور کے طور پر بھی ان کی تقرریاں عمل میں آگئیں ۔ اردو کے ممتاز دانشور شمس الرحمٰن فاروقی  کا یہ خیال صد فیصد درست معلوم ہوتاہے جس میں انہوں نے اس قلق  کا اظہار کیا ہے کہ ‘‘ یونیورسیٹی کے اردو شعبوں میں انہی  جاہل طالب علموں  کی بھرتی بطور استاد  شروع ہوئی پھر ان استاتذہ کے شاگردوں کو کھیپیں تیار ہونا شروع ہوئیں اور جاہل در جاہل کا یہ سلسلہ اب خدا جانے کب رکے۔یونیورسٹیوں کے  اردو شعبوں میں برسر کار اساتذہ کرام کو ناگوار گزرے لیکن سچ اس حقیقت کی چغلی  کھا رہی ہے کہ فی زمانہ مختلف یونیورسٹیوں کے ذریعہ درس و تدرس کے حوالہ سے اردو کی بقا کےلئے جو خدمات انجام دی جارہی ہیں، وہ سوالات کے گھیرے  میں ہے۔ البتہ یہ ضرور کہا جاسکتاہے کہ جس طرح کوئلوں  کے درمیان سے ہیرا  تلاش کیا جانا ناممکن نہیں ہوا کرتا ٹھیک اسی طرح یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل طلبا کے درمیان چند ایسے ہونہار اور با کمال  دانشور یا اسکالر ضرور سامنے آرہے ہیں جن کی علمی صلاحیتوں  پر آج بھی اردو معاشرہ فخر کرسکتا ہے لیکن ایسے ہونہار اور با کمال فارغین کی تعداد یقیناً آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

اردو پر قسطوں میں ستم ڈھایا گیا اور ارباب اقتدار  وصاحبان سیاست نے وقتاً فوقتاً اردو کشی کاعملی  ثبوت بھی دیا، یہ ایک مسلمہ سچائی تو ہے لیکن اسےمکمل سچ ہر گز نہیں کہا جاسکتا ۔ کیونکہ جب ہم اردو معاشرہ کی بے حسی  پر ایک طائرانہ نگاہ دوڑاتے ہیں اور آزادی کے بعد کے مختلف ادوار کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت واضح شکل و صورت میں سامنے آجاتی ہے کہ اردو کی مٹی پلید کرنے میں خود اردو والے بھی نہایت خلوص کے ساتھ ہاتھ بٹاتے رہے ۔ صرف یہ کہہ کر جان چھڑانے کی گنجائش نہیں نکلتی کہ اردو کے تعلق سے ارباب اقتدار یا سیاستدانوں کا رویہ منافقانہ یا دشمنانہ رہا بلکہ اس بات کا تجزیہ بھی کیا جانا ناگزیر معلوم ہوتا ہے کہ اردوکو زندہ درگور کرنے کی جو کوشش عہد بہ عہد کی جاتی رہیں  ، ان میں اردو والوں کا رول کیا رہا۔ ظاہری طور پر جو نکتہ ابھر کر سامنے آتاہے ، اس سےاس حقیقت کی قلعی  کھل جاتی ہے کہ اردو کا جو طبقہ اشرافیہ کسی زمانہ میں زبان کی ترویج و ترقی کے  حوالہ سے ہر اول دستہ میں شمار ہوا کرتا تھا ، اس نے تبدیل شدہ منظر نامہ میں نہایت ایمانداری کے ساتھ اس منافقانہ روش پر آگے بڑھنا ضروری سمجھ لیا کہ ‘‘ اردو کو حصول آمدنی کا ذریعہ تو بنا یا جائے لیکن خود اپنے معاشرہ میں بھی اردو کی ترویج و ترقی کی کوشش نہ کی جائے’’۔ آج کے اردو معاشرہ پر نگاہ دوڑانے کے بعد یہ حقیقت اپنے سیاق  و سباق کےساتھ سامنے آجاتی ہے کہ اردو کے وہ اتالیق  جو مختلف دانش گاہوں  میں شعبہ اردو کی سر پرستی کا بھی  فریضہ انجام دیتے رہے ہیں، خود ان کےبچے اور بچیاں بھی اردو رسم الحظ  سے نا واقف اور نا بلد ہیں ۔ فرد خاص پر کسی طرح  کی الزام تراشی  کے بغیر یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اردو کی سر برآور دہ شخصیتوں  نے اردو زبان کی ترقی کا معاملہ مفلوک الحال اردو معاشرہ پوری طرح  چھوڑ دیا اور اس طرح اردو عملاً مسلمانوں کے مفلوک الحال  طبقہ کی نمائندہ زبان بن کر رہ گئی ۔ آج بھروسہ کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اردو کا عصری منظر نامہ اس حقیقت کا گواہ ہے کہ  اس وادی کی سیاحی  وہی لوگ کررہے ہیں ، جنہیں  عرف عام میں  ستم رسیدہ  طبقہ کہا جاسکتاہے ۔ طبقہ  اشرافیہ  کی نئی نسل کو اردو سے کوئی سروکارنہیں  رہ گیا ہے ۔

 جہاں تک اردو کو مسلمانوں کی زبان قرار نہ دینے والوں کاتعلق ہے تو بلا خوف ترودیہ  بھی کہا جاسکتا ہے کہ آج ہندوستان میں اردو کا عصری منظر نامہ ہمیں یہ کہنے کی اجازت نہیں دیتا  کہ یہ عام ہندوستانیوں  کی زبان ہے۔ کیونکہ ہم بھروسہ کے ساتھ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ابھی کی نئی نسل نے اردو سے اپنا رشتہ پوری طرح  منقطع کررکھا ہے ۔ جو چند صاحبان  قلم مذہباً  مسلمان نہیں  ہیں  ، لیکن جرأت اظہار کا ذریعہ اردو کو بنائے ہوئے ہیں، وہ انگلیوں  پر گنے جانے کے لائق  ہیں۔ خود ان کے بچے بھی اردو زبان اور رسم الحظ سے اسی طرح نا واقف اور تا بلد ہیں جس طرح شمالی ہند کے طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے مسلم طبقہ کی نئی نسل اردو سے پوری طرح لاعلم ہے ۔ ایسے میں یہ سوال فطری طور پر کھڑا ہوجاتا ہے کہ کیا اردو زبان ( ادب نہیں) کے مستقل  پر منڈلاتے خطرات کا مقابلہ کرنے کی  ہم میں صلاحیت  ہے؟ اب تک کی کارگزاریوں پر ایک عمومی نگاہ   دوڑانے کے بعد یہ کہا جاسکتاہے کہ اردو والوں  کو صرف اور صرف جذباتی  تسکین  کا سامان تو فراہم کرایا جاتا رہا ہے لیکن اردو زبان کو صحتمند اور توانابنانے کیلئے اردو والے جو کوششیں کر بھی سکتے تھے ، وہ انہوں نے نہیں کئے ۔ جو لوگ اردو زبان کی تنزلی  کے قائل نہیں ہیں، انہیں چاہئے کہ اپنی آنکھوں پر لگی نظریاتی پٹیوں کو کھول کر کربناک  صورت حال  کا خود مشاہدہ کریں کہ آج  جو زبان  ہمارے  درمیان رواج پارہی  ہے ، وہ کیسی ہے، املوں کی غلطیاں، صرفی و نحوی قواعد سے انحراف اور اردو زبان کا قیمہ بنانے والی کیفیتیں کس طرح اپنے جلوے دکھا رہی ہیں،  اس کی تصویر دیکھنی ہوتو کسی بھی اردو اخبار پر ایک نگاہ  دوڑالینا  شاید کافی ہوگا کیونکہ عہد حاضر  کی زبان کی حقیقی  تصویر کشی  اردو کے اخبارات سے زیادہ بہتر او رکہیں ہو بھی نہیں سکتی ۔ ویسے ایک بات یہ ضرور کہی جاسکتی ہے کہ اردو کے مستقبل کے حوالہ سے خواص و عوام دونوں سطح پر اندیشہ  ہائے دراز کا جو اظہار کیا جاتا رہا ہے جس پر اردو کے علمبرداروں  کو آج ذرا ٹھہر کر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ شاعر نے خوب کہا ہے:

میری اللہ  سے بس اتنی  دعا ہے راشد

میں جو اردو میں وصیت لکھوں بیٹا پڑھ لے

9 نومبر، 2014  بشکریہ : روز نامہ ہندوستان ایکسپریس، نئی دہلی  

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/shahidul-islam/urdu--the-language--!اردو-ہے-جس-کا-نام/d/99936

 

Loading..

Loading..