New Age Islam
Sun Sep 19 2021, 07:55 AM

Urdu Section ( 2 Jul 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Prophetic Traditions Are Also the Words of God قرآن کے علاوہ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی وحی ہیں: ایک نقطہ نظر

 

شاہد رضا، نیو ایج اسلام

3جولائی 2014

اطاعت رسول یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و فرامین کو ماننا فرض ہے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت محض ایک ڈاکیہ کی تھی (معاذ اللہ!) بس کتاب پہنچا کر ان کا کام ختم ہو گیا۔اس کے علاوہ اور کوئی ذمہ داری ان پر نہ تھی۔ اسی لیے یہ لوگ نہ تو حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دین میں حجت مانتے ہیں اور نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کو ضروری سمجھتے ہیں، نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو فرض سمجھتے ہیں اور نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو کوئی اہمیت دیتے ہیں۔ یہ منکرین حدیث ہیں۔ در اصل یہ منکرین حدیث ہی نہیں بلکہ منکرین قرآن بھی ہیں۔ کیونکہ قرآن ہی میں اطاعت رسول کو فرض اور حدیث کو حجت قرار دیا گیا ہے، جس کو یہ لوگ نہیں مانتے۔ یعنی یہ قرآن کے حکم کے منکر ہوکر منکرین قرآن بھی ہیں۔ ذیل میں پانچ عنوانات کے تحت یہ ثابت کیا گیا ہے کہ قرآن کی رو سے حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرض ہے۔حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی حجت شرعی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری محض قرآن پہنچانا ہی نہ تھی بلکہ اس کی توضیح و تشریح کرنا اور اس کے احکام کا عملی نمونہ پیش کرنا بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری تھی، جسے آپ نے بہ اہتمام پورا فرمایا جو کہ ہمارے پاس احادیث صحیحہ کی صورت میں موجود ہیں۔ احادیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی وحی کی ایک قسم اور ‘‘منزل من اللہ’’ ہیں۔ اگر ان کو حجت شرعی نہ مانا جائے تو کئی قرآنی احکامات و واقعات اور اصطلاحات کی تشریح بالکل نا ممکن ہو جائے گی اور اللہ کی کتاب آزاد تشریحات کے لیے تختہ مشق بن جائے گی اور جس کے جی میں آئیگا اپنی طرف سے ان اصطلاحات و احکامات کی تشریح کریگا اور دین مذاق بن کر رہ جائے گا۔ منکرین قرآن و حدیث کے ٹولے نے یہی حرکت شروع کر بھی دی ہے!)

اطاعت رسول یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و فرامین کو ماننا فرض ہے۔

قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ (آل عمران:35)

‘‘کہہ دو کہ خدا اور اس کے رسول کا حکم مانو اگر نہ مانیں تو خدا بھی کافروں کو دوست نہیں رکھتا’’۔

وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (آل عمران:132)

‘‘اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے’’

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ (النسا :64)

‘‘اور ہم نے جو پیغمبر بھیجا ہے اس لئے بھیجا ہے کہ خدا کے فرمان کے مطابق اس کا حکم مانا جائے’’۔

مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا (النسا :80)

‘‘جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے پیغمبر تمہیں ہم نے ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا’’۔

وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَاحْذَرُوا (المائدہ :92)

‘‘اور خدا کی فرمانبرداری اور رسولِ (خدا) کی اطاعت کرتے رہو اور ڈرتے رہو’’۔

 وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (الانفال :1)

‘‘ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو’’۔

وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا ۚ وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ (النور :54)

‘‘اور اگر تم ان کے فرمان پر چلو گے تو سیدھا رستہ پالو گے اور رسول کے ذمے تو صاف صاف (احکام خدا کا) پہنچا دینا ہے’’’۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (النور :55)

‘‘اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو اور پیغمبر خدا کے فرمان پر چلتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے’’۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ (محمد: 33)

مومنو! خدا کا ارشاد مانو اور پیغمبر کی فرمانبرداری کرو اور اپنے عملوں کو ضائع نہ ہونے دو

ۚ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (الحشر :7)

‘‘سو جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو۔ اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا سخت عذاب دینے والا ہے’’۔

مزید حوالے: النسا :59، 60۔ الانفال : 20، 46۔ النور : 52، 54، 56۔ الاحزاب : 71۔ الحجرات: 14۔ التغابن: 12۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع یعنی ان کی سنت و طریقے کی پیروی فرض ہے

(منکرین حدیث سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع یعنی ان کے سنت کی پیروی ضروری نہیں ہے، بلکہ اس کی حیثیت محض معاشرتی رواج کی ہے، جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محض عرب کے دستور کے مطابق انہیں اختیار کر لیے تھے۔ حالانکہ قرآن اتباع رسول کو فرض قرار دیتا ہے)

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (آل عمران:31)

‘‘(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم خدا کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو خدا بھی تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے’’۔

وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا (النسا :115)

‘‘اور جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر کی مخالف کرے اور مومنوں کے رستے کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے’’۔

 الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ ۙ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الاعراف :157)

‘‘وہ جو (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) رسول (الله) کی جو نبی اُمی ہیں پیروی کرتے ہیں جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں۔ اور پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹہراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سر) پر (اور گلے میں) تھے اتارتے ہیں۔ تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی۔ اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی۔ وہی مراد پانے والے ہیں’’۔

وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا (الفرقان :27)

‘‘اور جس دن (ناعاقبت اندیش) ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائے گا (اور کہے گا) کہ اے کاش میں نے پیغمبر کے ساتھ رشتہ اختیار کیا ہوتا’’۔

لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا (الاحزاب :21)

‘‘تم کو پیغمبر خدا کی پیروی (کرنی) بہتر ہے (یعنی) اس شخص کو جسے خدا (سے ملنے) اور روز قیامت (کے آنے) کی اُمید ہو اور وہ خدا کا ذکر کثرت سے کرتا ہو’’۔

حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم حجت ہے

الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ ۙ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الاعراف :157)

‘‘وہ جو (محمدﷺ) رسول (الله) کی جو نبی اُمی ہیں پیروی کرتے ہیں جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں۔ اور پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹہراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سر) پر (اور گلے میں) تھے اتارتے ہیں۔ تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی۔ اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی۔ وہی مراد پانے والے ہیں’’۔

 قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ (التوبہ :29)۔

‘‘جو اہل کتاب میں سے خدا پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روز آخرت پر (یقین رکھتے ہیں) اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو خدا اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں’’۔

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا (الاحزاب :36)

‘‘اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے کہ جب خدا اور اس کا رسول کوئی امر مقرر کردیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں۔ اور جو کوئی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہوگیا’’۔

وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ، إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ (النجم:3-4)

‘‘اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں، یہ (قرآن) تو حکم خدا ہے جو (ان کی طرف) بھیجا جاتا ہے’’۔

قرآن کے علاوہ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی وحی ہیں کیونکہ ہر نبی پر کتاب کے علاوہ بھی وحی کا نزول ہوتا تھا!

ا ۗ وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّسُولَ (البقرہ:143)

‘‘اور جس قبلے پر تم (پہلے) تھے، اس کو ہم نے اس لیے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں، کون (ہمارے) پیغمبر کا تابع رہتا ہے’’۔

(اس آیت میں آغاز اسلام میں بیت المقدس کو اللہ کی طرف سے قبلہ بنانے کا ذکر ہےجب کہ یہ حکم قرآن کی کسی آیت میں موجود نہیں ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ کتاب کے علاوہ بھی وحی ہے۔اسی طرح آل عمران آیات 124، 125 میں فرمایا گیا ہے کہ غزوہ احد میں نبی نے صحابہ سے فرمایا کہ اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو اور صبر کرو تو اللہ پانچ ہزار نشان زدہ فرشتے تمہاری مدد کو بھیجے گا۔ جبکہ قرآن میں کہیں بھی یہ بات موجود نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع دی گئی تھی ۔ ثابت ہوا کہ وحی کتاب کے علاوہ بھی ہے)

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نُهُوا عَنِ النَّجْوَىٰ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُوا عَنْهُ (المجادلہ: 8)

‘‘کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ پھر جس (کام) سے منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگے’’۔

مَا قَطَعْتُم مِّن لِّينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَىٰ أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ (الحشر:5)

‘‘(مومنو) کھجور کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے یا ان کو اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا سو خدا کے حکم سے تھا اور مقصود یہ تھا کہ وہ نافرمانوں کو رسوا کرے’’۔

(بنو نضیر کے یہ درخت کاٹ ڈالوں اور یہ مت کاٹو، یہ حکم قرآن میں کہیں موجود نہیں ہے۔اسی طرح التحریم:3 میں ہے کہ ام المومنین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک راز افشاں کر دیا تو اللہ نے اس کی خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی، یہ خبر قرآن میں کہیں مذکور نہیں۔ ثابت ہوا کہ کتاب کے علاوہ بھی وحی ہے)

مزید حوالے: البقرہ:129، 131۔ آل عمران: 124۔ الاحزاب: 34۔ النجم: 3، 4۔ التحریم: 3۔

قرآنی اصطلاحات و واقعات کی تشریح حدیث کے بغیر ممکن نہیں!

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ (البقرۃ: 43)۔ وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ ......... الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ.................. وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ (البقر: 196۔ 197۔ 203)۔ إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا (النسا :103) إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ (التوبہ:36)۔ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ (الحج :28)۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ (الجمعہ:9)۔

قرآن کے مختلف مقامات سے یہ چند آیتیں ہیں جن میں بعض اصطلاحات و احکامات بیان فرمائے گئے ہیں، پہلی آیت میں حکم ہے کہ ‘‘صلوٰۃ قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور جھکنے والوں کے ساتھ جھکو۔’’ یہ صلوٰۃ کیا چیز ہے اور اس کے قائم کرنے سے کیا مراد ہے؟ زکوٰۃ کیا چیز ہے اور اس کی ادائیگی سے کیا مراد ہے، یہ جھکنا کیا ہے اور جھکنے والے کون لوگ ہیں؟ اور کیسے جھکا جائےَ؟ یہ سب تفصیل قرآن میں موجود نہیں ہے۔ اگلی آیت میں فرمایا گیا ‘‘اللہ کے لیے حج اور عمرہ پورا کرو’’ یہ حج کیا ہے اور عمرہ کیا ہے، ان کا پورا کرنا کیا ہے؟ نیز حج اور عمرے میں کیا فرق ہے؟ اس کی تفصیل قرآن میں مذکور نہیں ہے۔ اگلی آیت میں فرمایا گیا ‘‘ان گنے ہوئے دنوں میں اللہ کا ذکر کرو’’۔ یہ گنے ہوئے دن کیا ہیں؟ اور ان میں اللہ کا ذکر کرنے سے کیا مراد ہے؟ اس کی تفصیل قرآن میں وارد نہیں ہوئی۔ اگلی آیت میں فرمایا گیا کہ ‘‘صلوٰۃ مومنوں پر وقت مقررہ پر فرض کی گئی ہے’’۔ یہ اوقات مقررہ کون سے ہیں۔ قرآن میں اس کی تفصیل موجود نہیں ہے۔ اگلی آیت میں فرمایا گیا کہ ‘‘اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ ہے  جن میں سے چار حرام ہیں۔ لہٰذا ان میں اپنے آپ پر ظلم نہ کرو’’۔ یہ بارہ کون سے ہیں اور ان میں چار محترم کون سے کہ ان میں ہم جنگ نہ کریں؟ قرآن میں اس کی تفصیل نہیں ہے۔ اگلی آیت میں فرمایا گیا ہےکہ ‘‘معلوم دنوں میں ان کو عطا کئے گئے جانوروں پر اللہ کا نام لیں’’۔ مگر ان معلوم دنوں کی معلومات قرآن میں نہیں دی گئی۔ اور جانورں پر نام لینے سے مراد کیا ہے؟ اور کس طرح کے جانور پر نام لیا جائے؟ اس کی وضاحت قرآن میں نہیں ہے۔ آخری آیت میں فرمایا گیا کہ ‘‘جمعہ کے روز جب نماز کے لیے ندا لگا دی جائے تو اللہ کے ذکر کے لیے جلدی کرو اور تجارت چھوڑ دو’’ جمعہ کا دن کون سا ہے؟ کس دن کے بعد آتا ہے؟ اس میں اس خاص نماز کا وقت کون سا ہے ؟ ندا لگانے سے مراد کیا ہے؟ اس کی تفصیل قرآن میں نہیں ہے۔ لہٰذا ماننا پڑے گا کہ ان کی وضاحت احادیث میں ہے اور حقیقت بھی یہی ہے۔

 آیئے اب قرآن میں مذکورہ چند واقعات پر غور کریں:۔

 سورہ آل عمران آیات 121 تا 128 میں کفار اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والی کسی جنگ کا ذکر ہے۔ یہ جنگ کب ہوئی۔ کہاں ہوئی، اس کی تفصیل کیا ہے؟ اس کا ذکر قرآن میں مذکور نہیں ہے۔ سورہ انفال آیت 17 میں کفار کو قتل کرنے اور ان پر کنکریاں پھینکنے کا ذکر ہے۔ اس کی تفصیل کیا ہے؟ یہ سب قرآن کے بجائے احادیث میں ہے۔سورہ التوبہ آیت 40 میں نبی علیہ السلام کے ساتھ کسی شخص کا غار میں جانے کا ذکر ہے۔ یہ کیا واقعہ ہے؟ یہ دوسرا شخص کون تھا؟ یہ غار کون سی تھی؟ یہ کس دور کی بات ہے؟اس کی تفصیل قرآن میں نہیں ہے۔ سورہ توبہ کی آیت 118 میں تین آدمیوں کے پیچھے رہ جانے کا پھر ان پر سختی ہونے کا پھر ان کی توبہ کا ذکر ہے۔یہ تین آدمی کون تھے ۔ کس چیز سے پیچھے رہ گئے تھے۔ پھر ان پر کیا سختی کی گئی اور توبہ کیسے ہوئی؟ قرآن میں اس کی کوئی تفصیل موجود نہیں ہے۔ سورہ توبہ کی آیت 120 میں بعض اہل مدینہ کا پیغمبر سے پیچھے رہ جانے کا ذکر ہے۔ یہ کون لوگ تھے۔ رسول سے کس معاملے میں پیچھے رہ گئے تھے؟ کچھ نہیں بتایا گیا۔ سورہ الاحزاب آیت 37 میں کسی شوہر و بیوی میں جھگڑے اور شوہر کو نبی علیہ السلام کی نصیحت کا ذکر ہے۔ شوہر و بیوی کون تھے اور معاملہ کیا تھا؟ قرآن میں اس کی تفصیل موجود نہیں ہے۔ سورۃ الجمعہ آیت 11 میں بعض لوگوں کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیلے چھوڑ کر چلے جانے کا ذکر ہے۔ یہ واقعہ کیا تھا۔ قرآن میں اس کی تفصیل موجود نہیں ہے۔ اسی طرح اور بھی دیگر کئی واقعات ہیں جن کا ذکر قرآن میں اجمالی طور پر ہی ہے یا جن کی طرف فقط اشارہ ہی کیا گیا ہے جن کی تفصیل قرآن میں موجود نہیں ہے۔ ان میں چند یہ ہیں، واقعہ افک (النور) بیت رضوان۔ صلح حدیبیہ۔ فتح مکہ (الفتح) اور کئی غزوات مثلاً، بدر ، احد (آل عمران) خندق، بنی قریظہ (الاحزاب) خیبر۔ تبوک۔ حنین (التوبہ) وغیرہ۔جن کی تفصیل کے لیے ہمیں چار و ناچار احادیث نبوی کی طرف ہی رجوع کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا یہ ‘‘جدیدیت کے کشتہ’’ اور مغربیت زدہ ذہنیت کے حامل، نام کے اہل قرآن اور فی الحقیقت منکرین حدیث و قرآن کہاں تک اپنی باطل تاویلات اور ابلیسی تشریحات اور گمراہ کن مغالطے سے خود بھی گمراہ ہوں گے اور اپنی طرح دیگر بیوقوفوں کو بھی گمراہ کریں گے۔

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/shahid-raza,--new-age-islam/prophetic-traditions-are-also-the-words-of-god---قرآن-کے-علاوہ-احادیث-نبوی-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-بھی-وحی-ہیں--ایک-نقطہ-نظر/d/97878

 

Loading..

Loading..