شگفتہ حسن
24 دسمبر،2021
جمال ہمنشیں درمن اثر کرد
شیخ سعدی شیرازی کا نام
شرف الدین لقب مصلح الدین او روالد کا نام عبداللہ تھا۔ انہیں’’ حکیم مشرق ‘‘ کے
لقب سے یاد کیا جاتاہے اور سعدی ان کا تخلص ہے۔ ان کی صحیح تاریخ پیدائش معلوم
نہیں ہے،البتہ ایران کے جدید تاریخ نگاروں کا کہنا ہے کہ شیخ سعدی کی پیدائش 1184
ء میں ایران کے شہر شیزار میں ہوئی اور ان کی وفات سن 691 ہجری سے سن 694 ہجری کے
درمیان ہوئی۔ آپ ایک بہت بڑے معلم مانے جاتے ہیں اس لئے’’ معلم اخلاق ‘‘ بھی
کہلاتے ہیں ۔آپ کے والد عبداللہ، شیرازی کے حکمران سعد بن زنگی کے ملازم تھے ۔شیخ
سعدی شیرازی کا تعلق شیراز کے ایک پڑھے لکھے گھرانے سے تھا جو اپنے علم اور قابلیت
کی وجہ سے مشہور تھا۔ سعدی نے ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی سے حاصل کی، پھر یہ
سلسلہ زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکاکیونکہ بچپن میں ہی ان کے والد صاحب انتقال
کرگئے۔ والد کی وفات کے بعد شیخ سعدی شیرازی نے شیراز کے مشہور و معروف علماء سے
تحصیل علوم کی اور پھر مزید تعلیم کے لئے جامعہ بغداد آئے۔ آپ نے المدرسۃ
التظامیہ میں داخل لیا اور شیخ شہاب الدین سہروردی سے مزید تعلیم حاصل کی۔

شیخ سعدی شیرازی
-----
شیخ سعدی نے طویل عمر
پائی او رزندگی کا بیشتر حصہ سیر و سیاحت میں گزارا کیونکہ آپ کو سرو سیاحت کا بے
انتہائی شوق تھا۔ایک انگریزی مورخ لکھتاہے کہ شیخ سعدی ابن بطوطہ کے بعد مشرق کے
دوسرے بڑے سیاح ہے۔ آپ نے فلسطین ، شام، مصر، عراق، مکہ مکرمہ، مدینہ،ایشیا،
شمالی افرایقہ ،ہندوستان اور ترکستان کا سفر کیا۔ کہا جاتاہے کہ آپ نے چودہ حج
کئے ۔سفر کے دوران شیخ سعدی نے بہت سے مشکلات کا سامنا کیا ۔ لیکن انہوں نے اپنے
اخلاق ، اعمال ، ہمت اور بہادری سے زندگی کے تمام مشکلات کا مقابلہ کیا۔ شیخ سعدی
شیرازی نے فارسی اور عربی دونوں زبانوں میں مہارت حاصل کی، اور دونوں زبانوں میں
شاعری کی اور نثر بھی لکھا۔
شاعری میں ان کی مثنوری
’’بوستان‘‘ شائع ہوئی اور نثری کتابوں میں ’’گلستان‘‘ شائع ہوئی اور دونوں کتابوں
کو بہت زیادہ شہرت اور اہمیت ملی۔ ’’گلستان‘‘ اپنی فکری تازگی اور دانش و حکمت کے
بنا پر ادب عالیہ میں شمار کی جاتی ہے۔ دنیا میں پائی جانے والی تمام زبانوں میں
اس کے تراجم (Translation) ہوچکے ہیں۔ بوستان میں سعدی نے قناعت پسندی، احساس مندی، فیاضی
اور عاجزی جیسے مضامین کے بارے میں بیان کیا ہے۔ جب کہ گلستان میں خاموشی ،تاثیر و
تربیت ، آداب ، اخلاقیات، بوڑھاپے کی آزمائشوں ، قناعت کی کہانیوں کے ساتھ ساتھ
حکمت و دانش سے بھر پور ان کے اقوال شامل ہیں۔ آپ کو ان اقوال زریں کی وجہ سے بہت
شہرت حاصل ہے۔ ایک جگہ وہ کہتے ہیں تا دنیا کی ذلیل ہستی شمار ہوتا ہے ،مگر حق
شناس کتا نا شکر انسان سے بہتر ہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ جو کچھ انسان کے پاس ہے اس
کے لئے اسے مشکور ہوناچاہئے او راس کی قدر کرنی چاہئے۔
ان کا کہنا ہے کہ حاسد کے
لئے بددعا کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ پہلے ہی حسد کی آگ میں جل رہا ہوتاہے۔
سعدیؒ اپنا واقعہ یوں
بیان فرماتے تھے کہ ایک دفعہ میرے پاؤں میں جوتا نہ تھا اور جیب میں کوئی پیسہ
بھی نہ تھا کہ اس سے جوتا خرید سکوں ۔ننگے پاؤں جارہا تھا او ردل ہی دل میں کہہ
رہا تھا کہ خدا نے میرے نصیب کتنے خراب بنائے ہیں۔ اسی حالت میں چلتے چلتے کوفہ کی
جامع مسجد میں جا پہنچا ،وہاں ایک آدمی کو دیکھا، جس کے پاس پاؤں ہی نہ تھے۔ میں
فوراً خدا کے حضور سجدے میں گر گیا او رخدا کا شکر ادا کیا کہ جوتا نہ سہی ، خدا
تعالیٰ نے مجھے پاؤں تو دے رکھے ہیں۔
اپنے بچپن کا ایک اور
واقعہ شیخ سعدیؒ کچھ اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ ایک شب کو میں اپنے والد صاحب کے
ساتھ مسجد میں گیا، میرے والد ساری رات وہاں عبادت کرتے رہے، ان کے ساتھ میں بھی
نماز میں مشغول ہوگیا۔ہمارے نزدیک چند آدمی گہری نیند سورہے تھے۔ میں نے والد
صاحب سے کہا کہ یہ لوگ ایسے سو رہے ہیں ،جیسے مر گئے ہوں۔ کسی نے نماز پڑھی او رنہ
دعا کی۔ والد نے کہا بیٹے اگر تو بھی نوافل نہ پڑھتا ،ذکر نہ کرتا او ران لوگوں کی
طرح سو جاتا تو اس سے بہتر ہوتا کہ تو ان کی برائی بیان کررہا ہے (یعنی غیبت کررہا
ہے وغیرہ)۔
جہاں تک شیخ سعدی کی
غزلوں کا تعلق ہے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان میں جدت پسند تھے، ان میں سب سے
زیادہ تخلیقی جذبات شامل ہیں، صوفیانہ جذبے کے ساتھ، ان میں وہ جس حد تک پہنچے
ہیں، کوئی دوسرا شاعر نہیں پہنچا ۔ اگر چہ شیخ سعدی کی کہانیوں او راس کے حکم سے
یہ بات واضح ہے کہ وہ صوفیوں گروہ میں شامل ہوگئے تھے، لیکن وہ ان لوگوں میں سے
نہیں جنہوں نے زندگی کے معاملات سے ہاتھ توڑے او رنہ ہی ان لوگوں میں سے جنہوں نے
رہبانیت کا سہارالیا ۔ ان کے خیالات کی مہربانی ، ان کی روح کی چمک ، ایک معتدل
زندگی اور ایک متوازن کام تھا۔
اخلاقی اور ادبی دونوں
سطحوں پر شیخ سعدی کا اثر نہ صرف فارس بلکہ پوری دنیا میں بے حد ہے۔
خطے کے نامور شاعر ہونے
کے باوجود شیخ سعدی نے محسو س کیا کہ انہوں نے اپنی زندگی ابھی تک ضائع کی ہے اور
کوئی خاطرخواہ قابل ذکر کام نہیں کیا۔ اس وجہ سے انہوں نے اپنی باقی ماندہ زندگی
خاموشی کے ساتھ گزارنے کاعہد کرلیا۔
لیکن پھر ایک دوست کے
اصرار پر انہوں نے اپنی قسم توڑ دی ۔ وہ شیرازی میں موسم بہار کا زمانہ تھا اور
دونوں دوست باغ بہشت میں سیر کے لئے نکلے تھے۔
حیرت انگیز طور پر پھول
اورجڑی بوٹیاں جمع کرنے کے بجائے سعدی نے شاعر اور فلسفی خیام کے انداز میں ان
اشیا کی بے ثباتی کا ذکر کیا او راپنے دوست سے کہا کہ وہ ایک ایسی کتاب لکھیں گے
جو تعلیمی بھی ہو اور دلچسپ بھی ہو، اس کا نام گلستان ہوگا جس کے صفحات ہمیشہ رہیں
گے۔
سعدی نے لکھا:
بنی آدم اعضا ی یک پیکر
ند
کہ در آفرینش زیک گوہر
ند
یعنی انسان ایک جوہر سے
تخلیق ہوا ہے اور وہ ایک ہی جسم کے اعضا ہیں۔ یہ آج نہ صرف ان کی سب سے زیادہ نقل
کی جانے والی نظم ہے بلکہ یہ فارسی زبان بولنے والی دنیا کی سب سے مشہور نظم بھی
ہے۔ اس کے آگے وہ کہتے ہیں :
جو عضوی بہ درد زد روز
گار
دگر عضو ہار انمائد قرار
تو کز محنت دیگر ان ہی
غمی
نشاید کہ نامت نھند آدمی
یعنی اگر کسی عضو کو
تکلیف ہو تو باقیوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔ جو دوسروں کی تکلیف پر کوئی رنج و غم
محسو س نہیں کرتے انہیں انسان نہیں کہا جاسکتا ۔ ان کاکہنا ہے کہ جو برُی صحبت میں
بیٹھتا ہے ،اس کی سوچ کبھی اچھی نہیں ہوگی۔ اسی طرح سعدی نے گلستان میں لکھا علم
حاصل کرنے کے لیے خود کو شمع کی مانند پگھلاؤ‘‘۔
درحقیقت شیخ سعدی کے یہ
چھوٹے چھوٹے واقعات اپنے اندر اخلاقی تربیت کا بہت بڑا خزانہ رکھتے ہیں۔ ہمیں یہ
سبق ملتا ہے کہ ہمیں برُی صحبت میں بیٹھنے سے بچنا چاہئے، فضول باتوں سے پر ہیز
کرناچاہئے ، ہم سب کو غیبت جیسے گناہ کبیرہ اور خدا تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کی
ناشکری سے بچنا چاہئے او راپنے بڑے بزرگوں کی باتوں پر عمل کرناچاہئے۔ شیخ سعدی نے
تقریباً 691 ہجری کو شیرازی میں داعی اجل کو لبیک کہا اور شیراز میں ہی سعد یہ کے
مقام پر مزارشریف مرجع خلائق ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں شیخ شیرازی کے نصیحت آمورز
اقوال پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا
تھا
ہمیں سو گئے داستان کہتے
کہتے
24 دسمبر،2021 ، بشکریہ: روز نامہ چٹان، سری نگر
URL:
New Age Islam, Islam Online, Islamic
Website, African
Muslim News, Arab
World News, South
Asia News, Indian
Muslim News, World
Muslim News, Women
in Islam, Islamic
Feminism, Arab
Women, Women
In Arab, Islamophobia
in America, Muslim
Women in West, Islam
Women and Feminism