New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 02:46 PM

Urdu Section ( 14 Jul 2014, NewAgeIslam.Com)

Exalted Position of Hazrat Khadija (rta) خدیجۃ الکبریٰ علیہا السلام عالی مرتبہ

 

سید غافر حسن رضوی ’’چھولسی‘‘

8 جولائی، 2014

ہمارے معاشرہ کا مزاج یہ ہے کہ اگر کوئی افسر کسی کی تعریف میں دوچار جملے کہہ دیتا ہے تو وہ جملے ہر اخبار کی سرخی بن جاتے ہیں کہ آج فلاں افسر نے فلاں کی ستائش میں اس انداز سے لبوں کو جنبش دی کہ پورا معاشرہ دنگ رہ گیا اور یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ یہ معمولی سا انسان اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ اس کی تعریف میں اتنے بڑے افسر نے لب کھولے! اسی سے اندازہ لگائیے اس ہستی کا جس کی شان میں معصومین ؑ رطب اللسان نظر آتے ہیں؛ اس میں کوئی شک نہیں کہ معصوم کی زبان مبارک سے نکلاہوا ہر فقرہ صداقت و امانتداری کا منھ بولتا شاہکار ہوتا ہے؛ اگر معصوم کی زبان مبارک سے کسی غیر معصوم کی مدح وستائش ہو تو یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ تا قیام قیامت غیر معصوم کے کردار کی سند مل جاتی ہے،ائمہ اطہارؑ اور ان کی اولادپاک کے نزدیک حضرت خدیجہ کا انتہائی بلندوبالا مقام ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ اہل بیت کرام نے ہر مناسبت سے حضرت خدیجہ کے بارے میں فخر و مباہات کا اظہار کیا ہے اور ان کوہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یادفرمایاہے۔

امام حسن مجتبیٰ، معاویہ سے مناظرہ کرتے ہوئے اس کے محور حق سے گمراہ ہوکر اخلاقی پستی سے دو چار ہونے اور اپنی سعادت و خوش قسمتی کی ایک وجہ، اولاد کی تربیت کرنے میں ماں کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’معاویہ! چونکہ تمہاری ماں ’’ھند‘‘ اور دادی’’نثیلہ‘‘ہے اسی لئے تم اس قسم کے برے اور نا پسند اعمال کے مرتکب ہورہے ہو۔میرے خاندان کی سعادت، ایسی ماؤں کی آغوش میں تربیت پانے کی وجہ سے ہے کہ جو حضرت خدیجہ ؑ اور فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا جیسی پاک و پارسا خواتین ہیں‘‘۔امام حسن ؑ نے اس مبارک فقرہ میں اپنے حسب ونسب پر فخرومباہات کیا ہے اور یہ سمجھانا چاہا ہے کہ ہمارے دشمنوں کی بد طینتی موروثی ہے یعنی ان کو ان کے بزرگوں سے وراثت میں ملی ہے لیکن ہم اعلیٰ ظرف ہیں اس لئے کہ ہمارے بزرگ بھی اعلیٰ ظرف تھے اور ہم نے اعلیٰ ظرفی کو اپنے بزرگوں سے وراثت میں لیا ہے۔اس کے علاوہ حضرت ؑ نے دشمنوں سے مخاطب ہوکر فرمایا:’’کیا تم لوگ جانتے ہو کہ میں تمہارے پیغمبر کی شریک حیات ’’خدیجہ‘‘کا بیٹا ہوں؟‘‘۔

امام حسن ؑ کی زبان مبارک سے صادرشدہ یہ فقرہ اس بات کی عکاسی کررہا ہے کہ امام حسن ؑ کے دل میں جناب خدیجہ ؑ کی بابت کس قدر احترام تھا!اور صرف یہی نہیں بلکہ دشمن کی فوج کے لئے یہ بھی ظاہر فرمارہے تھے کہ دیکھو... ہماری منزلت کو سمجھو... ہم کون ہیں؟ ہم وہ ہیں جن کی نانی، خدیجہ جیسی باکردار خاتون ہے؛ اگر اس کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کی جائے تو مفہوم یہ ہوگا کہ تم ہمارے ساتھ کیسا رویہ اختیارکررہے ہو! کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ ہم احمد مختار کے نواسے ہیں کیونکہ خدیجہ بنت خویلدہماری نانی ہیں۔امام حسین ؑ نے روزعاشور اپنے آپ کو دشمن کے سامنے متعارف کراتے ہوئے ایک خطبہ کے ضمن میں فرمایا:’’تمہیں خدا کی قسم ہے کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ میری نانی خدیجہ ؑ بنت خویلد ہیں؟‘‘امام حسین ؑ کے دہن اقدس سے نکلا ہوا یہ مبارک فقرہ، امام حسن ؑ کے کلام کی مکمل عکاسی کررہا ہے؛ جس طرح امام حسن ؑ نے دشمنوں سے مخاطب ہوکر اپنی نانی پر فخرومباہات کیا اسی طرح امام حسین ؑ نے بھی اپنی نانی پر فخرومباہات کا اظہار کیا اور دشمن کو سمجھادیا کہ خدیجہ کوئی معمولی خاتون نہیں بلکہ جوانان جنت کے سرداروں کی نانی ہیں۔ امام سجادؑ ، شام کی گندی سیاست کے دوران دربار یزید میں خود اسی کے سرداروں اور بزرگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خطبہ ارشاد فرماتے ہیں جس میں اپنے آپ کوکچھ اس انداز سے متعارف کراتے ہیں:’’انا بن خدیجۃ الکبری‘‘میں اسلام کی باعظمت خاتون حضرت خدیجہ کا بیٹاہوں‘‘۔

جہاں امام سجاد ؑ نے اپنے آپ کو مکہ ومنیٰ،صفاومروہ وغیرہ کے فرزند سے تعبیر کیا وہیں اس بات پر بھی فخر ومباہات کیا ہے کہ میں خدیجۃ الکبریٰ کا لخت جگر ہوں، ہم ہی ہیں وہ مخزن الٰہی جو بیت نور سے تعبیر کئے گئے ہیں، ہمیں اپنی طرح معمولی انسان سمجھنے کی غلطی مت کرنا بلکہ ہم اسلام کی باوقار شخصیت ’’خدیجۃ الکبریٰ‘‘ کی ذریت پاک سے تعلق رکھتے ہیں۔اسی طرح جب جناب زینب ؑ ۱۱؍ محرم کو شہیدوں کے پارہ پارہ اجسام طاہرہ کے پاس پہونچیں تو اپنے دلسوز بیان میں پیغمبر اکرؐم اور علی ؑ کا نام لینے کے بعد حضرت خدیجہ کو یاد کرتے ھوئے فرمایا:’’بأبی خدیجۃ الکبری‘‘میرے والد اسلام کی باعظمت خاتون’’ خدیجہ کبری ‘‘پر قربان ہوں‘‘۔کس مقام پر ہے خدیجہ بنت خویلد کی تقدیر کہ ان کو محفوظ ہستی’’زینب ؑ ‘‘ اپنے معصوم والدبزرگوار’’علی ؑ ‘‘ کو ان کا فدیہ قرار دے رہی ہیں!جناب زینب ؑ نے اپنے اس فقرہ سے زمانہ کو سمجھادیا کہ دیکھو جناب خدیجہ کو معمولی خاتون مت سمجھنا بلکہ وہ ایسی ہستی تھیں کہ جن پر معصوم ہستیاں بھی اپنی جان نچھاور کرنے میں فخرومباہات سمجھتی تھیں۔

زید بن علی ؑ نے، ہشام بن عبدالملک کی طاغوتی حکومت کے خلاف پرچم انقلاب لہرایاجس کے نتیجہ میں عروس شہادت سے بغلگیرہوگئے، انھوں نے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرکچھ اس طرح استدلال فرمایا:’’و نحن احق بالمودۃ، ابونا رسول اللہ وجدتنا خدیجۃ...‘‘یعنی ہم مودت اور دوستی کے زیادہ حقدار ہیں، کیونکہ ہمارے باپ رسول خدؐااور ہماری ماں خدیجہ کبریٰ ہیں‘‘۔جناب زید ؑ نے اجررسالت کی جانب اشارہ فرمایا ہے اور مسلمانوں کو اس بات کی جانب متوجہ کیا ہے کہ جو مودت خداوند عالم نے اپنے رسوؐل سے طلب کرنے کے لئے فرمایاتھا وہ اجر رسالت ہماری ہی محبت ہے لہٰذا ہم سے محبت کروکیونکہ آیۂ قرآن کے مطابق ہم ہی وہ ہیں جو مودت کے زیادہ حقدار ہیں۔ دوسرے مقام پر زید بن علی ؑ نے عبداللہ بن زبیراور ابن عباس سے ایک گفتگو کے دوران حضرت خدیجہ ؑ سے اپنے رشتہ کی بات کرتے ہوئے اس عظمت والی خاتون پر اپنی پھوپھی کے عنوان سے فخر و مباہات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:’’لست تعلم ان عمتی خدیجۃ سیدۃ نساء العالمین؟‘‘کیا تم نہیں جانتے کہ میری پھوپھی ’’خدیجہ‘‘دو جہان کی عورتوں کی سردار ہیں؟ اس فقرہ کے ذریعہ آپ نے یہ سمجھادیا کہ ہمارے نظروں میں جناب خدیجہ کی کتنی منزلت ہے، آپ کا رتبہ اتنا بلند ہے کہ کائنات کی کوئی عورت آپ کی گرد پا تک رسائی حاصل نہیں کرسکتی، اگر کسی خاتون کو یہ شرف حاصل ہوجائے کہ خدیجہ ؑ کے پیروں کی خاک حاصل کرلے تو اس کو توتیائے چشم قرار دے۔

امام حسن ؑ کی امامت کے زمانہ میں، معاویہ حالات پر قابوپانے کے بعد کوفہ آگیا اور چند دن وہاں پر قیام کرکے لوگوں سے اپنے لئے بیعت حاصل کرنے لگا؛بیعت مکمل کرنے کے بعد معاویہ منبر پر گیا اور ایک خطبہ دیاجس میں حتی الامکان امیر المومنین علی بن ابیطالب ؑ کی شان والا صفات میں گستاخی اورجسارت کی؛ اوردل کھول کر آپ ؑ کو برا بھلا کہا، اس جلسہ میں امام حسن ؑ اور امام حسین ؑ بھی موجود تھے۔امام حسین ؑ معاویہ کا جواب دینے کے لئے کھڑے ہوئے، لیکن امام حسن ؑ نے اپنے بھائی کو روک کر انھیں صبر و شکیبائی کا مظاہرہ کرنے کی نصیحت کی اور خود کھڑے ہوکر فرمایا:اے علی ؑ کو برائی کے ذریعہ یادکرنے والے! میں حسن ہوں اور میرے باپ علی ؑ ہیں اور تو معاویہ ، تیرا باپ ابو سفیان ہے۔میری ماں فاطمہ ؑ ہیں اور تیری ماں ’’ھندہ جگر خوار‘‘ ہے۔میرے جد رسول ؐہیں اور تیرا جد حرب ہے۔میری جدّہ خدیجہؑ ’’اسلام کی باعظمت خاتون‘‘ہیں لیکن تیری جدّہ ’’نثیلہ‘‘(ایک بد کردار عورت)ہے۔خدا اس پر لعنت کرے جس کا نام پلید و ناپاک ہے؛ جس کا حسب و نسب اور سابقہ برا اور کفر و نفاق سے بھرا ہے‘‘۔

ان چند جملوں میں امام حسن ؑ نے اس آیت کی تفسیر فرمائی ہے جس میں شجرۂ طیبہ اور شجرۂ خبیثہ کا ذکرہوا ہے؛ آپ ؑ نے فرمایاکہ تم شجرۂ خبیثہ کے مصادیق ہو اور ہم شجرۂ طیبہ کے ثمر ہیں، تم ہم سے کہاں کہاں اور کیسے کیسے،آخر کیسے مقابلہ کروگے؟ میں حسن ہوں تو معاویہ! میرا تجھ سے کیا مقائسہ!! ۔میرا باپ علی ؑ ،تیرا باپ ابوسفیان، جس کو خدا نے ہی علی بناکربھیجا ہو اسے کیا نقصان پہونچاسکتا ہے ابوسفیان!۔ میری ماں فاطمہ ؑ ہیں اور تیری ماں ہندجگرخوار! خارکا پروردہ گل کی اہمیت کو کیا سمجھے گا!جگر کھانے والی عورت سے جگرسوز خاتون کا کیا مقابلہ!۔ میرے جد رسول اسلاؐم ہیں اور تیرا جد حرب، جس کا نام ہی ’’جنگ‘‘ کا معنی سمجھا رہا ہو وہ صلح کیا پسند کرے گا! ہمارے نانا نے ہمیشہ صلح وآشتی کی دعوت دی اور تیرے جد نے ہمیشہ فتنہ وفساد پھیلایا، صلح پسند اور شر پسند ایک ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں!۔ ہماری جدّہ خدیجہ ہیں اورتیری جدّہ نثیلہ! یہ دونوں الفاظ بتارہے ہیں کہ خدیجہ اور نثیلہ کا دوردور تک کوئی رشتہ نہیں ہے کیونکہ خدیجہ اسلام کی باعظمت اور پاکیزہ کردارخاتون کا اسم گرامی ہے اور نثیلہ بدکردار عورت کا نام ہے۔تم لوگ نہ تو حسب میں ہمارا مقابلہ کرسکتے ہو نہ ہی نسب میں؛ نہ ہی دنیا میں ہمارے مقابل ثبات قدم کا مظاہرہ کرسکتے ہو نہ ہی آخرت میں۔

 کیونکہ بروزمحشر ہمارے بابا علی ساقی کوثر ہوں گے جو اپنے چاہنے والوں کو اپنے مبارک ہاتھوں سے جام کوثر پلائیں گے؛ ہمارے نانارسول خدؐا شفیع روز جزا ہیں، ہماری والدہ شفیعہ روز جزا ہیں، اور ہم دونوں بھائی جنت کے جوانوں کے سردار ہیں یعنی جنت ہماری ملکیت ہے! اب تم بتاؤ تمہارا ٹھکانہ کہاں ہے؟جنت میں تو ہمارے شیعوں کے علاوہ کوئی نہیں جاسکتا اور محشر میں صرف دومقام ہیں یا تو جنت یا دوزخ! جب جنت ہمارے چاہنے والوں سے مملو ہوجائے گی تو تمہارا ٹھکانہ جہنم ہوگا؛ تم جہنمی ہوگئے تو جنتی انسان کا جہنمی سے کیا مطلب؟ لہٰذا ہمارا مقابلہ کرنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ اپناسا منھ لیکے رہ جاؤگے۔ ہماری نانی خدیجۃ الکبریٰ دوعالم کی خواتین سے افضل ہیں لہٰذا یہ غلط فہمی اپنے ذہن سے نکال دو کہ وہ کوئی معمولی عورت تھیں، اس لئے کہ اگر معمولی عورت ہوتیں تو ہمارے نانا رسول خدؐا کی شریک حیات قرار نہ پاتیں، آپ ؑ نے پہلے سے ہی نوررسالت کو محسوس کرلیا تھا لہٰذا اسی وقت سے رسول خدؐا کی دلدادہ ہوگئی تھیں اور باوجود اس کے کہ آپؑ  ملیکۃ العرب جیسے باعظمت خطاب سے فیضیاب تھیں، عبداللہ ؑ کے یتیم ’’محمدؐ‘‘ کے لئے اپنی جانب سے رشتۂ ازدواج بھیجا اور آپ ؐ نے بقائے اسلام کی خاطرجناب خدیجہ کی خواستگاری کو قبول فرمایا ، کیونکہ اسلام کو احکام کے نفوذ میں مال ودولت بھی درکار تھی لیکن چونکہ آپؐ کے پاس مال دنیا میں سے کچھ بھی نہیں تھا لہٰذا جناب خدیجہ کی ہمسری کو قبولیت کا شرف بخشا اور ان کی دولت کو اسلام کی راہ میں مصرف کیا؛ جناب خدیجہ کی بھی دلی آرزو یہی تھی کہ ان کی محنت سے کمائی ہوئی دولت تاریخی چوروں کے ہاتھوں میں نہ چلی جائے بلکہ کسی امین کے ہاتھوں میں جائے اور اسلام کی راہ میں خرچ ہو؛ لہٰذا آپ ؑ نے اپنی تمام دولت اسلام کی راہ میں خرچ کردی اور اسلام کی محبت ہی تھی جو رسول اسلاؐم کے دل میں جناب خدیجہ اس طرح رچ بس گئیں تھیں کہ آپؐ نے سال وفات خدیجہ کا نام عام الحزن رکھ دیا یعنی غم کا سال۔

اور آپؐ اپنی حیات مبارکہ کے آخری ایام تک جناب خدیجہ کو یاد فرماتے تھے؛ جی ہاں! دولت کے ساتھ ساتھ دل کی دولت بھی ہونی چاہئے ورنہ اس دنیا میں کتنے دولتمند بھرے پڑے ہیں لیکن اسلام کے نام پر ایک پیسہ بھی خرچ کرنے میں دم نکلتا ہے؛ آخر کلام میں رب العالمین سے دعا ہے: ؂گر دولت وثروت دے کسی کو مرے اللہ!        مانند خدیجہ اسے توفیق عطا دے(غافر ؔ رضوی)؛ اے پروردگار عالم! اگر تونے کسی کو اپنی نظر عنایت سے نوازا ہے تو اسے اتنی توفیق مرحمت فرما کہ جناب خدیجہ کی مانند اپنی تمام دولت کو اسلام کے نام پر لٹانے کو ہر آن آمادہ رہے۔ ’’آمین‘‘۔’’ والسلام علی من اتبع الھدیٰ‘‘۔

منابع: (۱)قرآن کریم۔ (۲)شرح نہج البلاغہ: ابن ابی الحدید معتزلی۔ (۳)مقتل الحسین: عبدالرزاق مقرّم۔ (۴)مقتل الحسین: ابو مخنف۔ (۵) اللہوف: سید ابن طاؤس۔ (۶)شرح نہج البلاغہ: ابن میثم بحرانی۔ (۷)منتہی الآمال: شیخ عباس قمی۔ (۸)مقتل خوارزمی: حسین خوارزم۔ (۹)معالی السبطین فی احوال الحسن والحسین۔ (۱۰)بحارالانوار: علامہ مجلسی۔

8 جولائی، 2014  بشکریہ : روز  نامہ عزیز الہند ، نئی دہلی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/seyed--gafir-hassan-rizvi/exalted-position-of-hazrat-khadija-(rta)---خدیجۃ-الکبریٰ-علیہا-السلام-عالی-مرتبہ/d/98113

 

Loading..

Loading..