New Age Islam
Sun Sep 27 2020, 06:15 AM

Urdu Section ( 26 Jul 2015, NewAgeIslam.Com)

Segregate Religion from Politics دین کو سیاست سے الگ کیا جائے

 

 

 

 

سیما مصطفی

24 جولائی 2015

میں یہ سوچتی ہوں کہ یہ سب کب رکے گا۔ مذہب کے نام پر سیاست کے نتیجے میں ہیرا پھیری، موت اور تباہی کا بازار گرم ہے۔ آج صبح مجھے دو پیغامات موصول ہوئے، ایک جموں و کشمیر سے ہے جہاں راجوری کسی عذر کی بنیاد پر فرقہ وارانہ جھڑپوں کی رپورٹ ہے۔ جبکہ دوسراپیغام جمشید پور سے ہے کہ جہاں لوگ مدد کی التجا کر رہے ہیں اس لیے کہ ضلع کے حکام ان کی باتوں کو نہیں سن رہے ہیں۔ تمام باشندوں کے لیے ایک بار پھر فرقہ وارانہ کشیدگی کا ماحول قائم ہو گیا ہے۔

تمام بڑے فرقہ وارانہ فسادات کا معائنہ کرنے کے باوجود یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کیوں ایک عام انسان کو مذہب کے نام پر قتل کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اور کیوں مذہبی لوگ اپنے مذہب کے بارے میں اس قدر پاگل پن کا شکار ہو جاتے ہیں کہ انہیں اس چیز کی حفاظت کے لئے قتل کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے جو کہ درحقیقت ان کی اپنی نہیں ہے۔ اس جواب کا ایک بڑا حصہ قدامت جماعتوں کی افواہوں کے ذریعے آگ بھڑکانے، جھوٹ بولنے اور حقائق کا چہرہ مسخ کرنے کی صلاحیت میں مضمر ہےجبکہ ایک عام انسان خود کو دوسروں کے زیر تسلط محسوس کرتا ہے۔ اورہندوستان میں فرقہ وارانہ تشدد کے ہر ایک واقعے میں عقل اور منطق پر افواہوں کو فوقیت دے دی جاتی ہے۔ پہلے اس کی شروعات ہوتی ہے اور اس کے بعد پھر یہ دو مختلف کمیونٹیز کے افراد کے درمیان ایک جھگڑے کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جیسا کہ پچھلے ہفتوں کے دوران اغوا، عصمت دری اور قتل کی افواہوں کی مدد سے خوف اور تنازعات کا ایک ماحول قائم کیا گیا ہے۔

ہندوستان کے کچھ حصوں سے معمولی تشدد کی خبریں آ رہی ہیں، معمولی اس معنیٰ میں کہ مہلوکین کی تعداد میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں ہے، لیکن اگر خوف اور صدمے کا اعتبار یا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تشدد کے یہ واقعات انتہائی شدید ہیں۔ ان کی املاکیں لوٹی جا رہی ہیں، ان میں آگ لگائی جا رہی ہے، لوگ زخمی ہو رہے ہیں، اور لوگ اپنے سامنے درپیش خطرات اور بدسلوکی کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ گزشتہ سال مظفر نگر میں قتل و غارت گری کا ایک رجحان قائم ہو گیا تھا، لیکن اس کے بعد بھی وہاں تشدد کے ایسے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں پورا کا پورا مسلم گاؤں اپنی جان بچا کربھاگا ہے۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اب اکثر حملہ آوران کے پڑوسی ہیں، جس کی بنیاد پر ایک نئے سرے سے حملوں کے خوف کی وجہ سے ان کے لیے اپنے گھروں کو واپس ہونا اوربھی مشکل ہو گیا ہے۔

سیاستدان پہلی بار ہمسایوں کے خلاف ہمسایہ کو بھڑکانے میں کامیاب ہو رہے ہیں، اور اس طرح وہ ان ہندوستانی گاؤں کے ہم آہنگی کے ڈھانچے کو تباہ کر رہے ہیں جو برسوں سے شہری فرقہ واریت کے پھیلاؤ کو روک رہا ہے۔

بھارت اور پاکستان جیسے ممالک کی صورت حال اسرائیل کی طرح نہیں ہے۔ ہندوستانی آئین سازوں کو شاید اس بات کا ادراک دوسروں سے کہیں زیادہ بہتر تھا اسی لیے انہوں نے ہندوستان کو ایک یک مذہبی ریاست بنانے کی کوششوں کے تمام راستوں کو مسدود کر دیا ہے۔ اب تک ہندوستان کے تحفظ اور اس کی بقا کی وجہ اس کی وفاقیت، رواداری، اور حقوق پر مبنی اس کی آئینی ساخت ہے اور ایسے اداروں کی تعمیر کے لئے ابتدائی جوش و جذبہ ہے جس نے اس کی حفاظت کی ہے۔ یہ ملک متنوع ہے، اور یقینی طور پر یہاں حقوق میں صرف ہندؤں کو ہی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ اس ملک کے لوگوں نے ان تنوعات کے درمیان جو آئین ہند نے ایک اتحاد کے قالب میں ڈھال کر انہیں پیش کیا ہے، اپنی تعمیر و ترقی کی بنیادیں رکھیں اور اس طرح وہ ہندوستان کی طاقت بنے۔ شاید اب مذہبی بنیاد پر ہندوستان کو تقسیم کرنے کی کوششیں یہاں کے اتحاد پر اثر انداز ہوئی ہیں، اور ان عناصرر نے ایک ایسا علیحدگی پسند ڈھانچہ پیش کیا ہے جس کا ہندوستانی عوام کی وفاقی امنگوں سے تصادم ہو گا۔

فرقہ واریت،ذات پات، نفرت اور تقسیم و تفرقہ پر مبنی لوگوں کے ذہنی رجحان نے ایک قوم کی بنیادی وحدت کو ریزہ ریزہ کر دیا ہے، اور اس کا اثر سب سے زیادہ ہندوستان پر ہوا ہے جو کہ واقعی احترام، وقار اور رواداری کے وفاقی نظریے پر قائم ہے۔ یہاں اگر ماحول بگڑتا ہے تو اس کا اثر یہاں کے تمام لوگوں پر پڑے گا، اس لیے کہ تشدد کو کسی بکس میں مقید نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اکثر اس کا نتیجہ غیر متوقع شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ قوموں کو کمزور کر دیتا ہے جس کی مثال ہمیں تاریخ میں بار بار ملتی ہے۔

موجودہ ماحول میں ہندوستان میں مسلمان اور عیسائی دونوں اقلیتیں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں۔ اس میں دلت بھی شامل ہیں جو آزاد ہندوستان میں بھی ہمیشہ غیر محفوظ رہے ہیں، جس کی وجہ سے اچھوت کی بدنامی سے نمٹنے کے لئے قوانین وضع کیے گئے، لیکن یہ قوانین بھی اتنے مؤثر طریقے سے اس سماجی لعنت کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے جتنی ان سے امید کی گئی تھی۔ اس میں عورتیں شامل ہیں، خاص طور پر شمالی ہندوستان میں جن کے خلاف انہیں پیدا ہونے سے پہلے ہی امتیازی سلوک برتا جاتا ہے۔ جنسی طور پر ہراساں کیا جانا، عصمت دری اور زنائے محرمی شاید اس سے کہیں زیادہ ایک نوجوان لڑکی کی زندگی کا حصہ ہیں، جتنا معاشرہ تسلیم کرنا پسند کرتا ہے، یا جتنی اس کی اطلاع ملتی ہے۔ لہٰذا، یہاں قابل توجہ امر یہ ہے کہ ملک میں چاروں طرف بدامنی، مایوسی اور دکھ کا عالم ہے اور ہماری حکومت ان پریشانیوں کا سامنا کرنے کے بجائے اس میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔

سرحدی ریاستوں میں بدامنی میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے۔ اور غیریبی میں، خواہ اس کا اعداد و شمار کچھ بھی ہو، دن بہ دن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

آج روز مرہ کی زندگی میں یہاں کے شہریوں کو درپیش مسائل سے نمٹنے میں اس سے کہیں زیادہ وقت درکار ہے جتنا وقت نفرت اور کینہ اگلنے والوں نے اس میں صرف کیا ہے۔ یہاں شرح نمو کی کوئی اعداد و شمار نہیں ہے، یا مالدار مزید مالدار ہی ہوتے جا رہے ہیں۔ ترقی مساوات، حقوق اور انصاف سے عبارت ہے ؛ اس لیے کہ ان کے بغیر قوموں کی تعمیر ناممکن ہے۔

ماخذ:

http://www.freepressjournal.in/segregate-religion-from-politics/

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam-and-politics/seema-mustafa/segregate-religion-from-politics/d/104014

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/seema-mustafa,-tr-new-age-islam/segregate-religion-from-politics--دین-کو-سیاست-سے-الگ-کیا-جائے/d/104034

 

Loading..

Loading..